ارشادِ ربانی ہے:’’ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے ( یہ ) پیغمبر آگئے ہیں‘‘۔ اس بشارت کے بعد کارِ نبوت کا ذکر یوں فرمایا کہ:’’وہ کتاب ( یعنی تورات اور انجیل ) کی بہت سی ان باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو تم چھپایا کرتے ہو ، اور بہت سی باتوں سے درگذر کر جاتے ہیں‘‘۔ یعنی عملی و اعتقادی اعتبار سے نقصاندہ امور کو ظاہر کرکے بے ضرر رسوا کن ہرزہ رسائی سے گریز کیا جائے ۔ حکمتِ دعوت اور بلند اخلاقی کا تقاضہ ہےکہ ہر غیر ضروری شئے کے پیچھے پڑکر اپنا وقت اور توانائی ضائع کرنے کے بجائےجن خیانتوں کا کھولنا اقامتِ دین کے لیے ناگزیر ہوانہیں واضح کر کےغیراہم چیزوں سے چشم پوشی کی جائے ۔ آگے فرمانِ قرآنی ہے:’’ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی آئی ہے ‘‘ قرآن کریم چونکہ نورِ ہدایت ہے اس کے حوالے سےمزید فرمایا:’’ ایک ایسی کتاب جو حق کو واضح کردینے والی ہے‘‘ یعنی اس سے گمرہی کے اندھیرے تو ازخود چھٹ جاتے ہیں مگر اس روشنی سے استفادہ کے لیے حق کا طلبگار ہونا شرطِ اول ہے۔ارشادِ خداوندی ہے: ’’اس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں اور انہیں اپنے حکم سے اندھیریوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے ، اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے ‘‘۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہی احسان اس طرح بھی بیان ہوا ہے کہ :’’جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے‘‘۔مگر منکرین حق کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے کہ :’’ جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے‘‘۔ طاغوتی قوتیں محض انکار پر اکتفا نہیں کرتیں دوسروں کو روکنے کے ساتھ ساتھ راہِ حق کوہی مسدود کردینا چاہتی ہیں۔ ارشادِ فرقانی ہے: ’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں‘‘۔ اس آیت میں پھونک کی مثال طاغوتی کوششوں کی بے ثباتی اور بے اثری کی غماز ہے لیکن اس کے ساتھ یہ یقین دہانی بھی کی گئی کہ : ’’اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘ یعنی درمیانی مراحل کا جو بھی نتیجہ نکلے حتمی فتح و کامرانی تو اہل حق کا مقدر ہے۔ یہی بشارت ایمان والوں کوحزن سے بچاکر غلبۂ دین کی جدوجہد میں سرگرم عمل رکھتی ہے۔ ان پر خلیل الرحمٰن اعظمی کایہ شعر صادق آتا ہے؎
برائے خیر شر سے برسر پیکار ہو جائے
جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے
دین اسلام کو غالب کرنے کی غرض سے : ’’ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو‘‘۔ یعنی مشرکین کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر یہ دین غالب ہوکر رہے گا ۔ دشمنان اسلام کی سازشوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ خود ان پر الٹ دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بابری مسجد کے خلاف چلائی جانے والی رام مندر کی تحریک ہے۔ اس میں مسلمانانِ ہند نے حتی المقدور کوشش کی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی عدالتِ عظمیٰ باطل کے تینوں الزامات کو مسترد کردیا ۔ مندر کو توڑ کر مسجد کی تعمیر کو بلا ثبوت بہتان بتایا۔ مورتی رکھنے اور مسجد کو شہید کرنے والےظلم عظیم کو خلاف ِ آئین و قانون قرار دیا ۔ اس کے باوجودعدل و انصاف کی اقدار کو پامال کرتے ہوئے فاسد عقیدے کی بنیاد پر بابری مسجد کی جگہ مندر کےتعمیر کی اجازت دے دی گئی۔ طاغوتِ وقت نے اسے اپنی بہت بڑی کامیابی مانا مگر قلیل مدت کے اندر یہ شاخِ نازک ٹوٹ کر گر گئی ۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ تو دولت و اقتدار کےحصول کی ایک ناپاک سازش تھی ۔
سیاسی سطح پر اس کا یہ نتیجہ نکلا کے بڑے تزک و احتشام سے رام مندر کا افتتاح تو ہوا مگر ایودھیا سے بی جے پی کے بلڈوزر کو ایک دلت کی سائیکل نے کچل دیا۔ یوگی کے راجپوت ذات بھائی للو سنگھ کو دو مرتبہ کی کامیابی کے بعد تیسری بار ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس طرح مشیت ایزدی نے مندر کے بہانے اپنی سیاست چمکانے والوں کوذلیل و رسوا کردیا ۔ فی الحال رام مندر میں چندہ چوری ذرائع ابلاغ موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ اس طرح سیاسی رسوائی کے بعد مذہبی ذلت بھی ان پر مسلط کردی گئی ۔ ایسے میں بابری مسجد کی شہادت پر جگن ناتھ آزاد کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
تِرے اس فعل سے اسلام کا تو کچھ نہیں بگڑا
مگر گھونپا ہے خنجر تُو نے ہندو دھرم کے دل میں
آر ایس ایس کی صد سالہ تقریب کے ماتھے پر لگا چندہ چوری کا بدنما کلنک مٹایا نہیں جاسکتا۔ ہندو مذہب کے بڑے چھوٹے رہنما لاٹھی ڈنڈا لے کر سنگھ کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔ گودی میڈیا کے اندر جس طرح کی جوتم پیزار چل رہی ہے اس کا تصور بھی محال تھا۔ سوال یہ ہے کہ پارسا ئی اور قوم پرستی کا بلند بانگ دعویٰ کرنے والوں نے آخر یہ کیا کردیا جبکہ بی جے پی کے پاس دھن دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مندرجہ بالا سلسلے کی اگلی آیت بتاتی ہے:’’ اے ایمان لانے والو، اِن اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے‘‘۔ اہل کتاب رہبان کی یہ بات سنگھ پریوار پر صادق آگئی ہے۔ بابری مسجدپر ہونے والے ظلم نے آر ایس ایس کو ننگا کردیا۔فرمانِ قرآنی ہے:’’ بیشک جن لوگوں نے (حضرت عائشہ ؓ پر) بہتان لگایا تھا (وہ بھی) تم ہی میں سے ایک جماعت تھی، تم اس (بہتان کے واقعہ) کو اپنے حق میں برا مت سمجھو بلکہ وہ تمہارے حق میں بہتر (ہوگیا) ہے۔ان میں سے ہر ایک کے لئے اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا، اور سب سے زیادہ حصہ لینے والےکے لئے زبردست عذاب ہے‘‘۔ بابری مسجد کا دنیوی انتقام سب کے سامنے ہے مگر اخروی سزا نہایت بھیانک ہوگی ۔