اتوار. جولائی 5th, 2026

الوداع اے رہبر معظم : آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

الوداع  اے رہبر معظم :  آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

الوداع اے رہبر معظم :
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ایران اور امریکہ میں بیک وقت قومی سطح پردو عظیم الشان عوامی تقریبات کا اہتمام ہورہا ہے۔ ایران میں سابق رہبر معظم شہید علی خامنہ ای کا جنازہ اور امریکہ میں 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات کا آغاز ایک ہی وقت میں ہوا۔ یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کو سابق رہبرِ اعلیٰ کی تدفین کے لیے ہفتے کی مہلت دی کیونکہ ہم اچھے لوگ ہیں۔ پہلی بات تو اچھے لوگوں کو اپنی شرافت کا ازخود ڈھنڈورا نہیں پیٹنا پڑتا اور دوسرے اگر مہلت نہ دیتے تو کیا حملہ کردیتے ؟ کیا ایسا شریف لوگ کرتے ہیں؟ اورکیا ٹرمپ ہنوز اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ایرانی عوام امریکی حملے سے ڈرتے ہیں ؟ شہیدسید علی خامہ ای نے اپنی بے مثال قیادت سے پوری قوم کے اندر جو جذبۂ شہادت پیدا کیا اسی نے امریکہ کو ایران کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ مرحوم قائد کے جنازے میں ویسے تو 100 سے زائد ممالک کے رہنماوں اور اہلکاروں نے شرکت کی مگر ساری دنیا کی نظر سعودی عرب پر تھی کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا اور خوشحال ترین ملک ہے۔ ایران کو اس کو دشمن بناکر مغربی ممالک نے نصف صدی تک اپنی سیاست اور تجارت چمکائی ہے ۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے لیے سعودی عرب نے اپنے نائب وزیر خارجہ وليد بن عبدالكريم الخريجی کو روانہ کرکے شیعہ سنی اختلاف کی دیوار گرادی ۔ سعودی وفدجس وقت تہران میں جنازے کی زیارت کے لیے آیا تو وہاں موجود قاری قرآن مجید کے سورہ آل عمران کی تیرہویں آیت تلاوت فرمارہے تھے ۔ اس آیت کریمہ کا ترجمہ ہے :’’تمہارے لیے ان دو گروہوں میں جو (جنگ بدر کے دن) باہم مقابل ہوئے ایک نشانی تھی، ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا کافر تھا وہ (کفار) ان (مسلمانوں) کو اپنی آنکھوں سے اپنے سے دگنا مشاہدہ کر رہے تھے اور خدا جسے چاہتا ہے اپنی نصرت سے اس کی تائید کرتا ہے، صاحبان بصیرت کے لیے اس واقعہ میں یقینا بڑی عبرت ہے‘‘۔ اہل ایمان اپنی فتح کا جشن کا ایک تواضع و انکسار سے مناتے ہیں ۔ سعودی وفد نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی پیغام پہنچایا ۔
آخری رسومات کی اس عظیم تقریب میں جہاں بیشتر ممالک نے اپنے اعلیٰ سطحی وفود کو روانہ کیا عراقی صدر نذر امیدی، جارجیا کے صدر میخائل کاویلاشویلی اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان بھی نے شرکت کی لیکن پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ ترکی کے نائب صدر جودت یلماز ، لبنان کے وزیر دفاع میشل منصور، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور روسی صدر پوتن کی نمائندگی کے لیے سابق روسی صدر دمتری میدویدیف نے شرکت کی ۔ چین کی جانب سے نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی کی قیادت میں وفد تقریب میں شریک ہوا۔علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سلطنت عمان کی ریاستی کونسل کے چیئرمین عبدالمالک بن عبداللہ الخلیلی اور قطر سے شوریٰ کونسل کے چیئرمین حسن بن عبداللہ الغنیم بھی تشریف لائے۔ لبنانی حزب اللہ کا وفد سابق لبنانی وزیر محمود قماطی کی قیادت میں آیا اور حماس و فلسطین اسلامک جہاد کے نمائندوں نے بھی اپنی موجودگی درج کرائی ۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے مصر کی سربراہی سینیٹ کے سپیکر عصام الدین احمد محمد فرید کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور کویت کے ایران میں تعینات سفیروں نے بہ نفسِ نفیس وہاں جاکر اپنی تعزیت پیش کی اور ان ممالک کے اہم شخصیات نے بھی حاضر ہوکر خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ہندوستان سے ریاست بہار کے گورنر سید عطا حسنین کے علاوہ کانگریس رہنما سلمان خورشید اور محبوبہ مفتی کے ساتھ مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے نامور مذہبی رہنما اور دانشور بھی شریک ہوے۔ شہید سید علی خامنہ ای کی چھ روزہ عوامی تدفین کی تقریبات کا پہلا دن تو غیر ملکی مہمانوں کے مخصوص تھا مگر دوسرے دن جب عوام کے لیے اسے کھولا گیا تو لاکھوں سوگواروں کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر ابل پڑا۔ ان لوگوں کے ہاتھ میں انتقام، انتقام بینر اور لبوں پر امریکہ مردہ باد کے نعرے تھے۔ ایران میں عام طور پر انتقام اور خون کا بدلہ لینے کی علامت سرخ پرچم سمجھا جاتا ہے۔جنازے میں شرکت کرنے والے سوگواروں کے ہاتھوں وہی جھنڈے تھے ۔ ایران کی حالیہ تاریخ کے اس سب سے بڑے عوامی اجتماع میں ملک بھر سے ڈیڑھ یا دو کروڑ سوگواروں کی شرکت کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔
ان تاریخی لمحات کو نشر کرنے کے لیے دنیا بھرسے ذرائع ابلاغ کےجو ترجمان تہران پہنچے ان کے تاثرات حسبِ ذیل ہیں ۔ سی این این کے نامہ نگار نےکہا’ دارالحکومت کی سڑکوں پر لاکھوں افراد اپنے سابق رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور سوگ منانے کے لیے نکل پڑے ہیں‘۔الجزیرہ نے بتایا کہ ’آیت اللہ خامنہ‌ای کا جنازہ عوام کے اتحاد و یکجہتی کی علامت بن گیا ہے۔اس کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کا الٹا نتیجہ نکلا۔ اس سے نہ صرف ایرانی حکومت قائم رہی بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے تین دہائیوں پر محیط علامہ خامہ ای کی قیادت کو سراہتے ہوے کہا انہوں نے ایران کی تعمیرِ نو کرکے اسے ایک علاقائی طاقت میں تبدیل کردیا۔ یورو نیوز نے اسے ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ قرار دیا۔برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق اپنے حجم اور اہمیت کے اعتبار سے تاریخ میں اس طرح کی مثالیں شاذو نادر ملتی ہیں۔ فرانس اے ایف پی نے اس تقریب کو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ بتایا ۔
آیت اللہ خامنہ کے جنازے میں پاکستان کی شرکت غیر معمولی تھی ۔ پاکستانی وفد میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ عاصم منیر کے علاوہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹواور وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ موجود تھے۔ان کے ساتھ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں بھی ایک وفد تہران پہنچا جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ اور مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل تھے۔ اس طرح کی گرمجوشی کا مظاہرہ پاکستان تو دور کسی اور ملک نے بھی نہیں کیا ہوگا ۔ امریکہ کے قریبی حلیف سمجھے جانے والے پاکستان کا اس کے حریف اول کی سرزمین پر اس طرح شرکت کرنا بتاتا ہے کہ اس کے سُپر پاور سے تعلقات غلامانہ نہیں ہیں اور اسلامی اخوت کے اظہار کرتے وقت وہ کسی کی پروا نہیں کرتا ۔ پاکستانی وزیراعظم کے تعزیتی پیغام میں بھی اس خودداری کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے ایران دورے پرشہید آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے وقت پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے ایرانی قیادت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرنے کے بعد ایکس پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات ہر مشکل وقت میں مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
شہباز شریف نے برملا اعتراف کیا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت، دانشمندی اور بصیرت کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔سابق رہبر معظم نےنصف صدی تک مختلف عہدوں پر ایران کی قیادت فرمائی ۔ ایرانی انقلاب پر سب سے زیادہ شدید حملہ عراق کی جنگ تھا ۔ اس کے دوران صدرِ مملکت کی حیثیت سے امام خمینی کی روحانی قیادت میں انہوں نے اسلامی انقلاب کی حفاظت کی ۔ آگے چل کر جب ان پر رہبر معظم کی عظیم ذمہ داری آئی تو شدید معاشی مقاطعہ کے دور میں بھی ان کے پائے استقلال میں لرزش نہیں آئی۔ بالآخر ان کی شہادت نے پوری اسلامی دنیا کو جذبۂ جہاد سے لبریز کردیا۔اسی لیے شہباز شریف نےاپنے پیغام میں لکھا کہ مرحوم سپریم لیڈر نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست اور حالات پر جوگہرا اثر و رسوخ چھوڑا، اسے تاریخ میں اہم مقام حاصل رہے گا۔ حالیہ جنگ کے دوران بے مثال شجاعت اور مسلم ممالک کا غیر معمولی اتحاد اس کا بین ثبوت ہے۔ ان کے جنازے نے پوری امت کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ شہباز شریف نے اس مشکل وقت میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے امیدظاہرکرتے ہیں کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون، دوستی اور باہمی اعتماد کا رشتہ مستقبل میں مزید مستحکم ہوگا۔ عالمِ اسلام میں اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کرنے کے لیے جس وسعت النظری کے ساتھ امام خامنہ ای نے جو جدوجہد کی اس کا اجر عظیم تو اللہ تبارک و تعالی ٰ عطا فرمائیں گے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی رحلت پر علامہ اقبال کے یہ اشعار یاد آتے ہیں؎
زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے