Breaking
پیر. جولائی 13th, 2026

سوشل میڈیا کلچر اور آدابِ تنقید سے محرومی

سوشل میڈیا کلچر اور آدابِ تنقید سے محرومی

سوشل میڈیا کلچر اور آدابِ تنقید سے محرومی

ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
فیملی کاؤنسلر

آج کے ڈیجیٹل دور میں اردو ادب کو ایک عجیب صورتحال کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ نے ہر شخص کو یہ طاقت دے دی ہے کہ وہ سیکنڈوں میں اپنی رائے لاکھوں لوگوں تک پہنچا دے ۔ لیکن اس آزادی کا ایک تاریک پہلو بھی ہے: مطالعے کی کمی ، زوالِ ذوق اور سستی شہرت کی ہوس ۔
1۔ ایک لفظی تنقید: علمی مقام کا خبط
کسی نے مہینوں کی محنت سے ایک گراں قدر علمی و تحقیقی مضمون لکھا۔ اب نیچے کمنٹ سیکشن میں ایک صاحب تشریف لاتے ہیں اور صرف ایک لفظ لکھتے ہیں: "بکواس” یا "شاہکار”۔
یہ ایک لفظی مثبت یا منفی تنقید دراصل اس بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے جہاں تنقید نگار بغیر کسی دلیل کے، محض ایک لفظ پھینک کر خود کو مصنف سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ "میں اتنا بڑا عالم ہوں کہ مجھے اس پر تفصیلی بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں”۔
2۔ رومن اردو اور بھونڈی تنقید کا امتزاج
اردو کے کسی بہترین اور فصیح مضمون پر جب کوئی صاحب رومن انگریزی (Roman Urdu) میں تبصرہ کرتے ہیں، تو ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے ۔
> "Wah yar, kya likha hai pr maza nhi aya, words bht hard hain.”
> ایک اچھے مضمون پر ایسی بھونڈی اور ٹوٹی پھوٹی زبان میں تنقید کرنا نہ صرف تخلیق کار کی دل شکنی ہے بلکہ خود تنقید کرنے والے کے سطحی ذوق کا اشتہار ہے ۔
3۔ تنقید اور تضحیک میں فرق
نئی نسل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ "تنقید” (Criticism) اور "تضحیک” (Ridicule) میں فرق نہیں کر پاتی۔
* تنقید کا مطلب ہے کھرے اور کھوٹے کی پہچان کرنا، حسن اور عیب کو دلیل کے ساتھ واضح کرنا تاکہ ادب کا معیار بلند ہو ۔
* تضحیک کا مقصد صرف مصنف کی ذات کو نشانہ بنانا ، اس کا مذاق اڑانا اور اپنی انا کو تسکین دینا ہوتا ہے ۔

تنقید لغزشوں پہ ضروری تو ہے مگر

لیکن رہے خیال کہ لہجہ برا نہ ہو

4۔ کم علم اور بصیرت افروز اشعار
جب کوئی کم علم شخص میر، غالب، اقبال یا دورِ حاضر کے کسی پختہ کار شاعر کے بصیرت افروز اشعار پر زبان درازی کرتا ہے ، تو وہ شعر کا نہیں، اپنا نقصان کرتا ہے۔ شعر کی بحر ، وزن ، اور اس کی تہوں میں چھپے فلسفے سے ناواقف لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ "اس شعر کا کوئی مطلب نہیں ، یہ تو فضول ہے”، تو وہ دراصل اپنی ذہنی پستی کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں ۔
5۔ تھرڈ کلاس تبصرے اور "علامہ دہر” کا زعم
اپنے چند گھسے پٹے الفاظ اور تبصروں کے سہارے خود کو وقت کا سب سے بڑا نقاد سمجھ لینا سوشل میڈیا کا عام چلن ہے ۔ مطالعہ صفر، لیکن زعم ایسا کہ گویا کائنات کے تمام علوم ان کے سینے میں دفن ہیں ۔ یہ لوگ اپنے تعصب اور سطحی جملوں کو "بے باک تنقید” کا نام دیتے ہیں ۔
6۔ اصولِ تنقید اور کتابوں سے دوری
تنقید کوئی شوقیہ مشغلہ نہیں ، یہ ایک باقاعدہ فن اور علم ہے ۔ تنقید کی بنیادی کتابیں پڑھیں ۔
جانئیے کہ متن کا تجزیہ کیسے کیا جاتا ہے ، اسلوب کیا ہوتا ہے ، اور پیشکش کے تقاضے کیا ہیں۔
7 اسلاف کی توہین:
کم علمی کا سب سے بھیانک روپ تب نظر آتا ہے. وہ لوگ جنہوں نے:
* عبدالرحمان بجنوری کی "محاسنِ کلامِ غالب” نہیں دیکھی،
* قاضی عبدالودود کی تحقیقی بصیرت سے ناواقف ہیں ،
* آل احمد سرور اور ڈاکٹر وزیر آغا کے تنقیدی نظریات سے بے خبر ہیں ،
* شمس الرحمن فاروقی کے ادبی سرمائے ، رشید حسن خان کی تدوین اور ڈاکٹر باقر مہدی کے تیکھے تیوروں کا نام تک نہیں سناہے ۔

•• مطالعے کا ذوق پیدا کریں
لکھنے سے پہلے پڑھنا ضروری ہے ۔ جب تک آپ اچھا ادب نہیں پڑھیں گے ، آپ کو اچھے اور برے کا فرق معلوم نہیں ہوگا ۔
•• زبان کا احترام کریں
رومن اردو لکھنا گناہ نہیں ، لیکن اسے بھونڈی تنقید اور گالی گلوچ کا ذریعہ نہ بنائیں ۔ کوشش کریں کہ اردو رسم الخط (Nastaliq) سیکھیں اور اس میں لکھیں ۔
•• آدابِ تنقید سیکھیں
اگر کسی تحریر پر اختلاف کرنا ہے ، تو مصنف کی ذات پر نہیں ، اس کے متن اور دلائل پر بات کریںں۔ آپ کی گفتگو میں شائستگی اور دلیل ہونی چاہیے ، نہ کہ طنز اور تحقیر ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے