للن سنگھ نے کلن جوشی سے پوچھا یار یہ ستیش مہانا کہاں کا پاگل ہے؟ یہ کون سی بھنگ پہ کر بات کرتا ہے؟
کلن نے جواب دیا بھیا وہ تو بہت مہان آدمی ہے اسی لیے یوگی جی نے اسے اسمبلی کا صدر یعنی اسپیکر بنایا۔ تم ان کے بارے میں یہ کیا کہہ رہے ہو؟
میں تو وہی کہہ رہا ہوں جو تم نے سن رہے ہو مگر تم کو پتہ ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟
نہیں بھائی میں نے نہیں سنا تم ہی بتا دو کہ اس مہان انسان نے ایساکیا کہہ دیا جو تم سمجھ نہیں سکے اور اس قدر ناراض ہوگئے؟
ارے بھائی اس نے کہہ دیا کہ انہیں لوگوں کا چندہ چوری ہوا جنھوں نے شردھا(عقیدت) کے ساتھ نہیں دیا۔
ہاں یہ تو عام سی بات ہے اس سے پریشان کیوں ہو؟
اس نےپہلے تو تسلیم کرلیا کہ چوری ہوئی اور پھر اس کا الزام چندہ چوروں کے بجائے الٹا چندہ دہندگان پر ڈال دیا ۔ یار چوروں کو بچانے کی بھی حد ہوتی ہے
ارے بھائی اپنے لوگوں سے غلطی ہوگئی ۔ اب ہم نہیں بچائیں گے تو کون بچائے گا؟
یار شردھا تو من میں ہوتی ہے اب چور کو یہ کیسے پتہ چل گیا کہ انجان چندہ دینے والے کےاندر آستھا(یقین) ہے یا نہیں؟ یہ ترکیب مجھے بھی تو پتہ چلے؟
بھیا تم تو زبان پکڑ لیتے ہو ،۔ اب جانے بھی دو یار ۔بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آسکتیں ؟
کیوں نہیں آسکتی؟ وہ کہتا ہے کہ اس کا چندہ چوری نہیں ہوا؟ تو کیا وہ اپنے نوٹ پر کمل کا نشان لگا کر ڈالتا تھا اور چور اسے دیکھ کر چوری نہیں کرتا تھا۔
یہ کہنے کی بات ہے ایسا ہوتو سبھی اپنے نوٹ پر کمل کی مہر لگا دیا کریں لیکن اس نے یہ بھی تو کہا جسے شک ہے وہ اسے چندہ لوٹا دے گا اور چور کو سزا ملے گی
یہ بھی غلط ہے کیونکہ اگر چورنے ناپاک رقم کو مندر میں جانے سے روک دیا تو اسے انعام ملنا چاہیے پھر سزا کی بات کیوں کی جارہی ہے؟
یار تم تو لٹھ لے کر بیچارے سریش مہانا کے پیچھے پڑ گئے ۔ اپنے لوگوں سے نرمی کرتے ہیں ۔لڑنا ہوتو جاکر کانگریسیوں یا سپائیوں سے لڑو ۔
ان سے کیوں لڑیں۔ انہوں چندہ تھوڑی نا چرایا ہے۔ مجھے اس پر وہ پاکٹ مار یاد آگیا جوکہتا تھا کہ میں حلال کی کمائی نہیں بلکہ حرام کے پیسے چرائے ہیں۔
یار ایسا تو سرکاری خزانے سے مال چرانے والا افسر بھی کہہ سکتا ہے کہ میں نے اڈانی کو لوٹا کیونکہ اس نے دیش کو لوٹا مگر اس سے کیا ہوگا ؟
وہی تو ۔ اب تم نے سہی بات کہی اور تم ہی سوچو کہ اب ہم پرینک کھرگے کو کیا جواب دیں گے۔ وہ صحیح کہتا ہے سنگھ کورجسٹر کرو اور حساب دو۔
دیکھو یار تم سنگھ کو بیچ میں نہ لاو ۔ وہاں تو چیلا اپنے گرو کو دکشنا دیتاہے ۔یہ آپس کا معاملہ اس کا حساب سرکار کو کیوں دیا جائے ؟
لیکن رام کے نام پر چوری ہوسکتی ہے تو گرو کے نام پر کیوں نہیں؟ اور ہم گرو دکشنا سنگھ چلانے کے لیے دیتے ہیں یا گرو کو عیش کرنے کے لیے؟
یار آج تم کو کیا ہوگیا ہے تم ستیش مہانا سے سیدھے موہن بھاگوت تک پہنچ گئے ۔
میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا لوگ کہہ رہے ہیں کہ چندہ چوری کے پیسے سے ہمارے ٹاور کھڑے ہوئے ہیں ۔ کیارام مندر کوئی اے ٹی ایم مشین ہے؟
بھائی دیکھو میں تو اتنا جانتا ہوں کہ اگر اس میں کچھ بھی غلط ہوتا تو پردھان جی ضرور کچھ نہ کچھ بولتے اور کرتے لیکن وہ چپ ہیں مطلب سب ٹھیک ہے۔
دیکھو بھیا اٹل جی نے کہا تھا اگر کوئی کتا چور کو دیکھ کر نہ بھونکے تو سمجھو کہ وہ اس کو جانتا پہچانتا ہے۔ مجھے تو خاموشی کی یہی وجہ نظر آتی ہے ۔
کلن نے کہا جی ہاں اب تو یہ بھی پتہ چلا ہے کہ مہا کمبھ کے دوران بڑے پیمانے پر رقم چوری کی گئی ۔
للن نے سوال کیا کیا بول رہے ہو؟ اگر یہ ثابت ہوجائے تب تو یوگی جی بچ نہیں سکیں گے ۔
جی ہاں انڈین ایکسپر یس کی تفتیشی رپورٹ میں اس کے پختہ ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔
میں نے تو مہاکال مندر کے بارے میں سناکہ وہاں سے مورتی کے زیور چوری ہوگئے مگر تم تو مہاکمبھ پہنچ گئے ۔
کلن بولا بھائی کیا بتائیں آج جس پتھر کو ہٹاو اس کے نیچے سے ایک زعفرانی بدعنوان نکلتا ہے اب تو منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے
دیکھو اتنا زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ چمپت رائے کو انل مشرا کے ساتھ چمپت کردیا گیا ہے اب عوام کا غصہ ٹھنڈا اور سب ٹھیک ہوجائے گا۔
مجھے بھی ایسا لگتا تھا مگر اس کی امید کم ہے؟
پھر تم مایوسی کی جانب لوٹ گئے ۔ یار زندگی بھر ہمیں سنگھ کی شاکھا میں یہی تو تعلیم دی گئی ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں مایوس نہیں ہونا ۔
کلن نے کہا جی ہاں لیکن زبانی تعلیم دینا اور اس کے خلاف عمل کرنا بدترین منافقت ہے۔
اب کیا کریں ؟ چمپت جیسے عظیم سنگھی کو ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ بجرنگ باگرا کو لے آئے اور کیا چاہیے؟
ارے بھائی چمپت رائے پر تو بدعنوانی کے الزامات ایودھیا آنے کے بعد لگے پہلے تو وہ سیدھے سادے پروفیسر تھے ۔
جی ہاں وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے اپنی پرسکون زندگی قربان کرکے ایودھیا کا مندر تعمیر کروایا ۔
کاہے کی قربانی ایک پروفیسر جس عیش و عشرت کا تصور بھی نہیں کرسکتا جوموج چمپت رائے نے ایودھیا میں اڑائی اس لیے اب اسے جانے ہی دو۔
للن بولایہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ اسے بھول جاو اور اب بجرنگ باگرا آ گئے ہیں وہ سب ٹھیک کردیں گے ۔
کیا خاک ٹھیک کریں گے؟ ان پر تو پہلے ہی بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں ۔
اچھا یہ تم کو کس نے بتا دیا ؟ کہیں کانگریسیوں کوئی نئی افواہ تو نہیں اڑا دی ۔
بھیا یہ کام تو اپنا آئی ٹی سیل کرتا ہے۔ وہ تو کچھ کھوجی صحافیوں نے باگرا کی جنم کنڈلی نکالی تو ہر کوئی پریشان ہوگیا ۔
اچھا ! کیا نکلا اس کی جنم کنڈلی میں ؟ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟
کلن ارے بھائی کیا تمہیں پتہ ہے کہ موصوف ایودھیا آنے سے قبل سرکاری کمپنی نالکو میں ڈائرکٹر تھے ۔
نہیں۔ میں تو سمجھتا تھا کہ وہ کوئی سنیاسی رہے ہوں گے ۔
بھیا ہماری انہیں غلطیوں کی وجہ سے یتی نرسنگھا نند جیسے لوگ رام مندر کو سنگھ کا دفتر کہتے ہیں اور کچھ لوگ تو اپنی دوکانداری تک کہنے لگے ہیں ۔
یار اب بجرنگ باگرا کے بارے میں کچھ بتاوگے بھی یا پھر ماتم ہی کرتے رہو گے ؟
بھائی کیا بتاوں ان پر نالکو کے اندرمخصوص ٹھیکیداروں کے ساتھ جوڑ توڑکرکے 50کروڈ کمانے کا الزام لگا اور سی بی آئی نے تحقیقات کی ۔
یار یہ تو بہت بری بات ہے مگر آج کل یہ رقم بہت بڑی نہیں ہے۔ ہم لوگ اتنا تو مخالف رکن پارلیمان کو خریدنے پر خرچ کردیتے ہیں۔
ان پر کوئلے کی دھول ہٹانے کے ٹھیکے میں 107کروڈروپئے کی بدعنوانی کا الزام لگا تو تفتیش کرنے والی سی وی سی کلین چٹ دینے سے گریزاں تھی ۔
للن بولایار کیا کہہ رہے ہو مجھے تو یقین کرنا مشکل ہورہا ہے۔
اچھا اور سنو کاسٹک سوڈا کی خریداری میں اس نے بے ضابطگی کی نیز گریجویٹ انجینئر ٹرینیز اور مینجمنٹ ٹرینیز کی بھرتی بھی مشکوک تھی۔
یار دیکھو یہ ہمارے مخالفین ہمیں بدنام کرنے کے لیے ایسے الزامات لگاتے رہتے ہیں انہیں دل پر نہیں لینا چاہیے۔
کلن بولابھائی اگر ایسا ہی ہوتا تو باگرا کو ریٹائرمنٹ سے 10 ماہ قبل نالکوکے قائم مقام سی ایم ڈی کے عہدے سے کیوں ہٹا یا جا تا؟
یہ بھی تو ہوسکتا ہے سنگھ کے ساتھ ان کے تعلق کی وجہ سے مرکزی یا ریاستی سرکار نے تعذیب کی ہو؟
جی ہاں مگر خدمات ختم کر دینے کے بعد بھی ان پر مقدمات جاری رہے۔ تو کیا ایسے آدمی کو اس نازک وقت میں ذمہ دار بنانا درست ہےَ؟ ذرا تم ہی سوچو؟
ہاں بھائی لگتا ہے ہماراسنگھ پریوار شدید قحط الرجال کا شکار ہوگیا ہے۔ اول تو باصلاحیت فرد نہیں ملتا اور جو ملتا ہے وہ بدعنوان نکل جاتا ہے۔
یار کیا بتاوں یہ سن کر تو لگتا ہے کہ ہماری سو سالہ جدو جہد اکارت چلی گئی۔ عوام کے اندر اتنی ناراضی ہے کہ وہ ہمیں ووٹ نہیں چوٹ دے دیں گے۔
جی ہاں اپنی ڈبل ٹرپل انجن سرکار آنے بعد بھی یہ وقت دیکھنا پڑے تو افسوس ہوتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر ہم اگلا الیکشن ہار گئے تو ہمارا کیا ہوگا؟
لگتا ہے اب تو ہمارا رام نام ستیہ ہو جائے گا۔
یار ایسے نہ بولو ۔ وہ تو ارتھی کے ساتھ کہے جانے والے کلمات ہیں ۔
اچھا تو کیا یہ بولوں کہ چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا؟
جو مرضی ہے بولو میں تو چلا رام رام ۔