آل انڈیا مسلم ویمنز ایسوسی ایشن (AIMWA) کی جانب سے ’’پاتھ ٹو پروگریس (ترقی کی راہیں)‘‘ گرلز سیشن اور خواتین کانفرنس کا انعقاد، قیام کے تین سال مکمل
نئی دہلی، 25 جولائی 2026: آل انڈیا مسلم ویمنز ایسوسی ایشن (AIMWA) نے اپنے قیام کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر نئی دہلی میں ایک روزہ "خواتین کانفرنس” کا کامیاب انعقاد کیا۔ صبح10:30 بجے سے شام 6:00 بجے تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں 500 سے زائد خواتین اور طالبات نے شرکت کی، جو دہلی، مرادآباد، علی گڑھ، میرٹھ، رام پور، لکھنؤ، اتر پردیش کے مختلف اضلاع اور جے پور (راجستھان) سے آئی تھیں۔
کانفرنس کا مرکزی موضوع "تعلیم، اصلاح، تحفظ اور ترقی” تھا اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے سیشن ” پاتھ ٹو پروگریس ( ترقی کی راہیں)” میں نوجوان لڑکیوں کی تعلیم، شخصیت سازی اور قیادت پر توجہ دی گئی، جبکہ دوسرے سیشن میں AIMWA کی تین سالہ خدمات، کامیابیوں اور آئندہ کے منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی۔
پاتھ ٹو پروگریس ( ترقی کی راہ یں) سیشن
پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد AIMWA کی سیکریٹری "محترمہ اُمِّ محمد”نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ AIMWA نوجوان خواتین کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ سیکھ سکتی ہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کر سکتی ہیں۔
AIMWA کی نائب صدر "محترمہ افروز فاطمہ” نے "بنت المسلم کونسل (BMC)” کا تعارف پیش کیا اور نوجوان لڑکیوں کی ذہنی صحت سے متعلق اپنے سروے کے نتائج بیان کرتے ہوئے تعلیم، خود اعتمادی اور قیادت کی اہمیت پر زور دیا۔
مہمانِ خصوصی "محترمہ شبستان غفار”نے کہا کہ خواتین میں معاشرے کو بدلنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور AIMWA جیسے پلیٹ فارم انہیں صحیح سمت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے تنظیم کو تین سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی۔
مہمانِ اعزاز ی”محترمہ یاسمین احمد” نے تعلیم کو خواتین کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے نوجوان لڑکیوں کو اپنے حقوق و ذمہ داریوں سے آگاہ رہنے اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی تلقین کی۔
AIMWA کی صدر "ڈاکٹر اسماء زہرہ” نے اپنے صدارتی خطاب میں بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران AIMWA نے 12 سے زائد ریاستوں اور 30 سے زیادہ شہروں میں خواتین کو جوڑتے ہوئے تعلیم، رہنمائی، قیادت اور سماجی بیداری کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
انہوں نے مسلم خواتین کو جدید مہارتیں، کمپیوٹر تعلیم، زبان و ابلاغ، قیادت اور دیگر سافٹ اسکلز سیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فضول رسومات، اسراف اور غیر ضروری سماجی روایات سے اجتناب ہی حقیقی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔
سیشن کے اختتام پر مس انعم آفرین اور مس اقرا آفریننے نوجوان لڑکیوں کو بنت المسلم کونسل میں شامل ہونے کی دعوت دی جبکہ ڈاکٹر سلامہ امتیاز نے آئندہ یوتھ پروگراموں کا خاکہ پیش کیا۔
خواتین کی سیشن
نمازِ ظہر اورلنچ کے بعد منعقدہ دوسرے سیشن میں AIMWA کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا۔محترمہ زینت مہتاب نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خواتین کی ذمہ داریوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مضبوط خاندان اور صحت مند معاشرہ باشعور خواتین ہی تشکیل دیتی ہیں۔
محترمہ امائمہ فہدنے تنظیم کی تین سالہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ AIMWA نے تعلیم، کیریئر کونسلنگ، خواتین کی رہنمائی اور سماجی بیداری کے متعدد پروگرام کامیابی سے منعقد کیے ہیں اور ان سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عوامی تعاون کی اپیل کی۔
محترمہ مامدوحہ مجید، نائب صدر نے خواتین کو مثبت سماجی تبدیلی میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
"مولانا عبید اللہ خان اعظمی” نائب صدرآل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ ، صدر IMPACنے مسلم خواتین کے تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے دیانت، اعلیٰ کردار اور مرد و خواتین کے باہمی تعاون کو مضبوط معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔
"محترمہ یاسمین فاروقی”نے خواتین کی آئینی آگاہی، سیاسی نمائندگی اور حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
اختتامی صدارتی خطاب میں ڈاکٹر اسماء زہرا نے اعلان کیا کہ AIMWA مستقبل میں دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسعت دے گی اور اردو، انگریزی، ملیالم، بنگالی، تمل اور دیگر علاقائی زبانوں میں پروگرام منعقد کرے گی۔
اس موقع پر نمایاں خدمات انجام دینے والے کوآرڈینیٹرز اور رضاکاروں کو محترمہ شاداب قمرکے ہاتھوں مومنٹوز پیش کیے گئے۔ آئندہ پروگراموں کا اعلان محترمہ افروز فاطمہ نے کیا جبکہ کانفرنس کا اختتام محترمہ فاطمہ خورشید کی دعا اور اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔
یہ کانفرنس AIMWA کے اس عزم کی عکاس رہی کہ وہ تعلیم، قیادت، سماجی خدمت اور خواتین کی ہمہ جہت ترقی کے ذریعے ایک بااعتماد، باصلاحیت اور خودمختار مسلم معاشرے کی تعمیر کے لیے اپنی خدمات جاری رکھے گی۔