Breaking
منگل. اگست 4th, 2026

پیغامِ رحمتِ عالمﷺ اور نسوانی جنین کشی

پیغامِ رحمتِ عالمﷺ اور نسوانی جنین کشی

پیغامِ رحمتِ عالمﷺ اور نسوانی جنین کشی

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

ماہِ ربیع الاوّل پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت، اخلاقی اصلاح اور اعلیٰ انسانی اقدار کی تجدید کا پیغام لے کر آتا ہے۔ رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی سیرتِ طیبہ صرف عبادات اور روحانی تربیت تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپﷺ نے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں انسان کی عزّت و حرمت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، اور جہاں کمزور، محروم، خواتین، بچّوں اور معاشرتی طور پر نظر انداز کیے جانے والے طبقات کو تحفّظ، احترام اور ان کے جائز حقوق عطا کیے گئے۔

"پیغامِ رحمتِ عالمﷺ” کے تناظر میں نسوانی جنین کشی جیسے سنگین مسئلے پر شعور اجاگر کرنا دراصل انسانی زندگی کے تقدّس، عورت کے مقام و وقار اور معاشرتی عدل کے قیام کی ایک اہم کوشش ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک طبی یا قانونی معاملہ نہیں بلکہ انسانی فکر، اخلاقی ذمّہ داری اور معاشرتی رویّوں کا آئینہ دار ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہر انسانی جان احترام کی مستحق ہے، اور رسولِ رحمتﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ معاشرے میں عدل، شفقت اور انسانی وقار کو فروغ دیا جائے۔ چنانچہ نسوانی جنین کشی کے خلاف شعور بیدار کرنا دراصل اسی رحمانی پیغام کا تسلسل ہے جس کا مقصد انسان کو انسانیت، رحم اور ذمّہ داری کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔

نسوانی جنین کشی (Female Foeticide) محض ایک طبی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا اخلاقی بحران ہے، جو اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں کسی بچّی کی زندگی کو صرف اس کی جنس کی بنیاد پر کم تر سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویّہ انسانی وقار، عدل اور زندگی کے بنیادی حق کے اصولوں سے متصادم ہے، کیونکہ زندگی کی حرمت کا تعلق کسی جنس، نسل یا معاشی حیثیت سے نہیں بلکہ محض انسان ہونے کی بنیاد پر قائم ہے۔ بیٹی کا وجود محبت، رحمت، شفقت اور خاندان کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت ہے۔

بعض معاشروں میں آج بھی بیٹی کو معاشی بوجھ، جہیز کی ذمّہ داری یا سماجی دباؤ کے تناظر میں دیکھنے کی سوچ پائی جاتی ہے۔ یہ ذہنیت دراصل ان فرسودہ معاشرتی تصورات کا نتیجہ ہے جنہوں نے عورت کے حقیقی مقام، صلاحیت اور انسانی قدر کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ نسوانی جنین کشی کے مسئلے کا خاتمہ صرف قوانین کے نفاذ سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے فکری اصلاح، اخلاقی تربیت اور معاشرتی شعور کی بیداری ضروری ہے۔ ایک ایسا معاشرہ ہی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ ہو سکتا ہے جو بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت، عزّت اور انسانی سرمایہ سمجھے۔

تاریخِ انسانی میں ایسے ادوار بھی گزرے ہیں جب بیٹی کی پیدائش کو بعض معاشروں میں باعثِ شرمندگی، کمزوری یا معاشی بوجھ تصور کیا جاتا تھا۔ خصوصاً بعض قبائلی اور جاہلی معاشرتوں میں عورت کو وہ انسانی عزّت و وقار حاصل نہیں تھا جس کی وہ حقیقی طور پر مستحق تھی، اور بیٹیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ یہ رویّے دراصل ایک ایسی فرسودہ ذہنیت کا نتیجہ تھے جس نے عورت کی قدر و منزلت کو محدود کر دیا تھا۔ قرآنِ کریم نے اس غیر انسانی سوچ کی اصلاح کرتے ہوئے انسانی شعور کو بیدار کیا اور واضح کیا کہ اولاد اللّٰہ تعالیٰ کی عطا اور نعمت ہے۔ لہٰذا کسی نعمت کو ذلت، شرمندگی یا بوجھ سمجھنا جہالت پر مبنی تصور ہے۔

قرآن نے اس ذہنیت کو چیلنج کیا جس میں بیٹی کی پیدائش کو غم اور بیٹے کی پیدائش کو فخر کا سبب سمجھا جاتا تھا، اور انسان کو عدل، رحمت اور احترامِ انسانیت کا راستہ دکھایا۔ اسلام کی آمد نے عورت اور بیٹی کے مقام کے بارے میں ایک بنیادی فکری اور معاشرتی انقلاب برپا کیا۔ یہ انقلاب محض چند قانونی احکامات تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے انسانی سوچ، خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار کو ازسرِ نو تشکیل دیا۔ رسولِ رحمتﷺ نے اپنے کردار اور تعلیمات کے ذریعے بیٹیوں کی پرورش، ان کے احترام اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو باعثِ فضیلت قرار دیا، جس سے معاشرے میں عورت کے وقار اور مقام کا ایک نیا تصور پیدا ہوا۔

اسلام نے انسانی زندگی کو ایک عظیم امانت اور اللّٰہ تعالیٰ کی عطا قرار دیا ہے۔ اس نے ان جاہلانہ تصورات کی اصلاح کی جن میں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی، کمزوری یا بوجھ سمجھا جاتا تھا۔ قرآنِ کریم نے واضح کیا کہ اولاد اللّٰہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور بیٹا و بیٹی دونوں اس کی عطا کردہ رحمت ہیں۔ اسلامی تعلیمات نے انسان کو یہ بنیادی شعور عطا کیا کہ کسی بھی زندگی کی قدر و منزلت اس کی جنس، نسل یا کسی ظاہری امتیاز کی بنیاد پر کم نہیں کی جا سکتی۔

ہر انسان اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور عزّت، احترام، تحفّظ اور انصاف کا حق رکھتا ہے۔ ایک صالح اور عادل معاشرہ وہی ہے جہاں انسانی جان کی حرمت کو مقدم رکھا جائے، کمزوروں کے حقوق کا تحفّظ کیا جائے اور ہر فرد کو عزّت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ یہی اسلامی تعلیمات کا وہ جامع پیغام ہے جو انسانیت کو رحمت، عدل اور احترامِ زندگی کی بنیاد پر ایک بہتر معاشرہ قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے عورت اور بیٹی کو وہ عزّت و مقام عطا فرمایا جو انسانی تاریخ میں ایک عظیم سماجی اور اخلاقی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپﷺ کی بعثت ایسے دور میں ہوئی جب بعض معاشروں میں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرمندگی سمجھا جاتا تھا اور عورت کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ آپﷺ نے اپنی تعلیمات، کردار اور عملی نمونے کے ذریعے اس سوچ کی اصلاح فرمائی اور واضح کیا کہ بیٹی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت، نعمت اور محبت کا مظہر ہے۔ سیرتِ نبویﷺ میں بیٹیوں کے ساتھ محبت، شفقت، حسنِ سلوک اور احترام کے بے شمار روشن نمونے ملتے ہیں۔ آپﷺ نے بیٹیوں کی اچھی پرورش، ان کی تعلیم و تربیت، ان کے جذبات کا خیال رکھنے اور انہیں عزّت دینے کو باعثِ اجر و فضیلت قرار دیا۔ آپﷺ کا طرزِ عمل اس بات کا عملی اعلان تھا کہ بیٹی کسی خاندان پر بوجھ نہیں بلکہ رحمت، برکت اور خیر کا ذریعہ ہے۔

اسلام نے بیٹی کے مقام کو صرف خاندانی تعلق تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کی تعمیر میں ایک بنیادی کردار عطا کیا۔ ایک بیٹی مستقبل کی ماں، معلمہ، مربیہ اور نسلوں کی تربیت کرنے والی شخصیت بن سکتی ہے۔ اس کی شخصیت، کردار اور تعلیم و تربیت آنے والی نسلوں کے اخلاق، فکر اور معاشرتی رویّوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ رحمتِ عالمﷺ کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ بیٹی کی عزّت دراصل انسانی عزّت کا حصّہ ہے۔ جس معاشرے میں بیٹیوں کو محبت، تحفّظ، تعلیم اور احترام حاصل ہو، وہاں رحمت، عدل اور انسانیت کے اصول مضبوط ہوتے ہیں۔ اس لیے بیٹی کا احترام صرف ایک فرد کا احترام نہیں بلکہ ایک بہتر، پاکیزہ اور روشن مستقبل کی تعمیر کا احترام ہے۔

اسلامی تعلیمات میں بیٹی کو محض خاندان کے ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل، باوقار اور مستقل انسانی شخصیت کے طور پر مقام عطا کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم نے ان جاہلانہ تصورات کی سختی سے تردید کی جن میں بیٹی کی پیدائش کو باعثِ غم، شرمندگی یا کمزوری سمجھا جاتا تھا۔ قرآن نے انسان کو یہ حقیقت سمجھائی کہ عزّت و فضیلت کا معیار جنس، مال یا نسب نہیں بلکہ تقویٰ، کردار، نیکی اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دے کر اس کے وجود کو عزّت بخشی اور والدین کو یہ احساس دلایا کہ اولاد اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امانت ہے۔ بیٹی کی پرورش، تعلیم و تربیت، اس کے جذبات کا خیال رکھنا اور اسے محبت و احترام دینا صرف ایک سماجی ذمّہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ اور باعثِ اجر عمل ہے۔ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے اپنی پوری زندگی کے ذریعے بیٹی کے مقام و مرتبے کو واضح فرمایا۔

آپﷺ کا اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کے ساتھ محبت، احترام اور شفقت بھرا برتاؤ اس بات کی روشن مثال ہے کہ اسلام نے عورت کو عزّت، وقار اور محبت کا مقام عطا کیا۔ آپﷺ بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو باعثِ فضیلت قرار دیتے تھے اور اپنی اُمّت کو بھی ان کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ بیٹی صرف گھر کی رونق اور خاندان کا ایک حصّہ نہیں بلکہ وہ مستقبل کی نسلوں کی تربیت کرنے والی شخصیت ہے۔ اس کی تعلیم، کردار سازی اور عزّتِ نفس کی حفاظت دراصل پورے معاشرے کی تعمیر میں سرمایہ کاری ہے۔ ایک باشعور اور باکردار بیٹی ایک اچھی ماں، بہترین معلمہ اور معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کرنے والی شخصیت بن سکتی ہے۔ قرآن و سیرت کا پیغام یہ ہے کہ بیٹی اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت بھی ہے اور ایک عظیم ذمّہ داری بھی۔ جس معاشرے میں بیٹی کو احترام، تحفّظ، تعلیم اور محبت حاصل ہو، وہاں انسانیت، عدل اور رحمت کے اصول مضبوط ہوتے ہیں۔

بیٹی صرف خاندان کا ایک فرد نہیں بلکہ خاندان کی تعمیر، تربیت اور معاشرتی ترقی میں ایک بنیادی کردار رکھنے والی شخصیت ہے۔ معاشرتی تحقیق سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خواتین کی تعلیم، صحت، تحفّظ اور باوقار شرکت کسی بھی معاشرے کی ترقی کے اہم ستون ہیں۔ جس معاشرے میں عورت کو عزّت، اعتماد اور آگے بڑھنے کے مواقع حاصل ہوں، وہاں خاندان زیادہ مضبوط، نسلوں کی تربیت زیادہ مؤثر اور سماجی ترقی کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات بھی بیٹی کو عزّت، احترام اور ذمّہ داری کے مقام پر فائز کرتی ہیں۔ ایک بیٹی کی اچھی تربیت، اس کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور اسے علم و شعور سے آراستہ کرنا دراصل ایک بہتر خاندان اور مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھنا ہے۔ کیونکہ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور باشعور بیٹی مستقبل میں ماں، مربیہ، معلمہ اور معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

بیٹی کو محرومی، کمزوری یا بوجھ کے زاویے سے نہیں بلکہ صلاحیت، امید اور مستقبل کی علامت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے خوابوں، صلاحیتوں اور شخصیت کا احترام دراصل انسانی وقار کا احترام ہے۔ جب ایک خاندان اپنی بیٹیوں کو محبت، تعلیم، اعتماد اور مناسب مواقع فراہم کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کی زندگی سنوارتا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بہتر بناتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی کی عزّت اور تربیت ایک پورے معاشرے کی تعمیر سے جڑی ہوئی ہے۔ جس گھر میں بیٹی کو رحمت سمجھ کر پروان چڑھایا جاتا ہے، وہاں محبت، اخلاق اور انسانیت کی اقدار مضبوط ہوتی ہیں۔ اسی لیے بیٹی کا احترام دراصل خاندان، معاشرے اور مستقبل کا احترام ہے۔

کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا گہرا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں اور خواتین کو کس قدر تعلیم، تربیت، تحفظ اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ تعلیم صرف معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور، اعتماد، کردار سازی اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا نام ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بیٹی نہ صرف اپنی ذات کو سنوارتی ہے بلکہ اپنے خاندان، آنے والی نسلوں اور پورے معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کرتی ہے۔ بیٹی کو علم و تعلیم سے آراستہ کرنا دراصل ایک نسل کی تربیت کا آغاز ہے، کیونکہ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ عورت گھر کے ماحول کو بہتر بنانے، بچّوں کی تربیت، معاشرتی اقدار کے فروغ اور مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے بیٹی کی تعلیم کو محض ایک فرد کی ضرورت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔

بیٹی کو تعلیم، اعتماد، عزّتِ نفس اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع دینا حقیقی معنوں میں انسانی سرمایہ کاری ہے۔ جو خاندان اور معاشرے اپنی بیٹیوں کی صلاحیتوں کو پہچانتے اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں، وہ دراصل اپنے مستقبل کو مضبوط بناتے ہیں۔ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بیٹی مستقبل کی بہتر ماں، معلمہ، رہنما اور معاشرے کی تعمیر میں شریک ایک فعال فرد بن سکتی ہے۔ اس لیے بیٹی کی تعلیم صرف اس کی ذاتی کامیابی کا راستہ نہیں بلکہ ایک روشن، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔

جدید طب اور سائنسی ترقی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے، بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے میدان میں بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود ایک مثبت ذریعہ ہے جو انسانیت کی خدمت، صحت کے تحفّظ اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم جب اس کا استعمال اخلاقی اصولوں اور انسانی اقدار سے ہٹ کر کیا جائے تو یہی سہولیات بعض اوقات سنگین سماجی مسائل کو جنم دے سکتی ہیں۔ جنین کی جنس معلوم کرنے کی طبی سہولت بھی بنیادی طور پر ایک سائنسی پیش رفت ہے، لیکن اگر اسے انسانی زندگی کے احترام کے بجائے امتیازی فیصلوں، بیٹے کی ترجیح یا بیٹی کے خلاف تعصبات کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ایک خطرناک رجحان بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کی جڑ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ فرسودہ ذہنیت ہے جو بیٹے کو برتری اور بیٹی کو کم تر سمجھنے کا تصور پیدا کرتی ہے۔

اسلامی تعلیمات انسانی جان کی حرمت، عدل اور احترامِ انسانیت پر زور دیتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ سائنسی ترقی کو اخلاقی ذمّہ داری، انسانی ہمدردی اور مثبت اقدار کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ ٹیکنالوجی کا مقصد زندگی کی حفاظت اور بہتری ہونا چاہیے، نہ کہ کسی انسانی وجود کے ساتھ امتیازی رویّے کو فروغ دینا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ معاشرتی شعور، اخلاقی تربیت، دینی و انسانی اقدار کی تعلیم اور بیٹی کے مقام و کردار کے بارے میں مثبت سوچ کا فروغ بھی ضروری ہے۔ جب معاشرہ بیٹی کو رحمت، صلاحیت اور مستقبل کی امید کے طور پر دیکھے گا تو ٹیکنالوجی بھی انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنے گی۔

نسوانی جنین کشی ایک پیچیدہ سماجی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے جس کے پسِ پشت صرف ایک سبب نہیں بلکہ متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ دراصل ان غلط سماجی رویّوں اور تصورات کا نتیجہ ہے جن میں بیٹے کو ترجیح اور بیٹی کو کم تر سمجھنے کی سوچ پائی جاتی ہے۔ ایسی ذہنیت نہ صرف انسانی وقار کے خلاف ہے بلکہ معاشرے میں عدم توازن اور ناانصافی کو بھی جنم دیتی ہے۔ اس رجحان کے اہم اسباب میں بیٹے کو خاندان کا وارث اور زیادہ اہم سمجھنے والی سوچ، جہیز جیسے غیر ضروری اور نقصان دہ معاشرتی دباؤ، بیٹی کی پرورش کو معاشی بوجھ تصور کرنا، خواتین کے مقام اور صلاحیتوں کے بارے میں غلط تصورات، اور تعلیم و شعور کی کمی شامل ہیں۔ بعض معاشروں میں صدیوں سے چلی آنے والی روایات اور تعصبات بھی اس مسئلے کو مضبوط کرتے ہیں، جس کے باعث بیٹی کی پیدائش کو خوشی کے بجائے تشویش سے دیکھا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ بیٹی کا وجود نہیں بلکہ وہ سوچ ہے جو انسانی زندگی کی قدر کو جنس کی بنیاد پر تقسیم کرتی ہے۔ ایک ترقی یافتہ اور عادل معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر انسان کو محض انسان ہونے کی بنیاد پر عزّت، تحفّظ اور مواقع حاصل ہوں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے صرف قانونی اقدامات کافی نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور سماجی اصلاح بھی ضروری ہے۔ خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی رہنما اور ذرائع ابلاغ مل کر ایسی سوچ کو فروغ دے سکتے ہیں جس میں بیٹی کو رحمت، صلاحیت اور مستقبل کی امید سمجھا جائے۔ جب معاشرے میں بیٹی کے مقام، حقوق اور کردار کے بارے میں مثبت شعور پیدا ہوگا، تو نہ صرف نسوانی جنین کشی جیسے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جہاں انسانیت، عدل اور احترامِ زندگی کی اقدار مضبوط ہوں گی۔

رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی سیرتِ طیبہ انسانی احترام، عدل اور رحمت کا ایک کامل نمونہ ہے۔ آپﷺ نے ایسے معاشرے میں عورت کو عزّت و وقار عطا فرمایا جہاں مختلف سماجی روایات کے باعث عورت کے حقوق محدود سمجھے جاتے تھے۔ آپﷺ کی تعلیمات نے عورت کو محض ایک کمزور طبقہ نہیں بلکہ خاندان، معاشرے اور انسانی زندگی کی ایک باوقار اور مؤثر رکن کی حیثیت دی۔ رسولِ اکرمﷺ نے عورت کے بنیادی حقوق کو واضح کرتے ہوئے اس کے تحفّظ، عزّت، تعلیم، وراثت، مشاورت اور معاشرتی مقام کو تسلیم فرمایا۔ آپﷺ نے بیٹی، ماں، بیوی اور معاشرے کی دیگر خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت اور احترام کی عملی مثالیں قائم کیں۔ آپﷺ کا طرزِ عمل اس بات کا اعلان تھا کہ کسی انسان کی قدر و منزلت جنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے کردار، تقویٰ اور انسانی مقام کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

سیرتِ نبویﷺ میں بیٹیوں کے ساتھ شفقت اور محبت کا پہلو خاص طور پر نمایاں ہے۔ آپﷺ نے بیٹیوں کی اچھی پرورش، ان کی عزّتِ نفس کی حفاظت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کو باعثِ اجر قرار دیا۔ اس تعلیم نے بیٹی کے بارے میں موجود منفی تصورات کو بدل کر اسے رحمت، محبت اور خیر کا ذریعہ قرار دیا۔ اسی نبوی تصور کی روشنی میں بیٹیوں کے تحفّظ، تعلیم اور احترام کی جدوجہد دراصل عورت کے وقار، انسانی عدل اور رحمت کے فروغ کی جدوجہد ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو سیرتِ نبویﷺ کے اصولوں کو اپناتا ہے، وہاں عورت کو عزّت، تحفّظ اور ترقی کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور انسانی تعلقات محبت، ذمّہ داری اور احترام کی بنیاد پر مضبوط ہوتے ہیں۔

"پیغامِ رحمتِ عالمﷺ” کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سیرتِ نبویﷺ کے ان روشن پہلوؤں کو عام کیا جائے جو انسانیت کو عدل، محبت، احترام، مساوات اور رحمت کا درس دیتے ہیں۔ رسولِ اکرمﷺ کی سیرت صرف عبادات اور روحانی تربیت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو فرد، خاندان اور معاشرے کی اصلاح کے اصول فراہم کرتی ہے۔ نسوانی جنین کشی کے خلاف جدوجہد بھی اسی نبوی پیغامِ رحمت کا ایک اہم حصّہ ہے، کیونکہ رسولِ رحمتﷺ کی تعلیمات انسان کو ہر جان کی حرمت، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت اور عورت کے عزّت و احترام کا شعور عطا کرتی ہیں۔ آپﷺ نے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ رحمت، محبت اور خیر کا ذریعہ سمجھا گیا۔

اس اصلاحی تحریک کے ذریعے یہ شعور اجاگر کیا جا سکتا ہے کہ:

* بیٹی اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہے، جس کا احترام اور اچھی تربیت والدین کی اہم ذمّہ داری ہے۔
* عورت خاندان اور معاشرے کا ایک باوقار، مؤثر اور بنیادی ستون ہے، جس کے حقوق کا تحفّظ ضروری ہے۔
* اولاد میں بیٹے اور بیٹی کی بنیاد پر تفریق انسانی وقار، اخلاقی اقدار اور عدل کے اصولوں کے خلاف ہے۔
* ایک مضبوط خاندان صرف بیٹے یا بیٹی کی بنیاد پر نہیں بلکہ دونوں کی بہترین تربیت، محبت اور کردار سازی سے تشکیل پاتا ہے۔
* انسانی زندگی کا احترام ایک اعلیٰ اخلاقی اور دینی ذمّہ داری ہے، جس کی حفاظت ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔

آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیرتِ نبویﷺ کے پیغامِ رحمت کو عملی زندگی میں فروغ دیا جائے، تاکہ ایسی سوچ پروان چڑھے جس میں ہر بچّہ، خواہ بیٹا ہو یا بیٹی، عزّت، محبت اور مساوی قدر و منزلت کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک عادل، رحمت پر مبنی اور انسان دوست معاشرے کی تشکیل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

بیٹیوں کے تحفّظ، عزّت اور بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی تنظیمیں اور معاشرے کے تمام طبقات مل کر ایک مثبت اور متوازن سوچ کو فروغ دیں۔ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف معاشی کامیابی سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہاں کمزور اور آنے والی نسلوں کے حقوق کا کس قدر احترام کیا جاتا ہے۔ خاندان اس اصلاحی عمل کی پہلی اور بنیادی اکائی ہے۔ والدین کی ذمّہ داری ہے کہ وہ بیٹیوں کو محبت، اعتماد، تعلیم، اچھی تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں۔ بچیوں کی صحت، تحفّظ، ذہنی نشوونما اور عزّتِ نفس کا خیال رکھنا ایک بہتر اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کی بنیاد ہے۔ تعلیمی ادارے بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جہاں بچیوں کو علم کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی، اخلاقی اقدار اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملے۔

اسی طرح سماجی اور مذہبی اداروں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ بیٹی کے مقام، عورت کے احترام اور انسانی زندگی کی حرمت کے بارے میں مثبت شعور پیدا کریں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بیٹی کے بارے میں موجود منفی تصورات اور فرسودہ روایات کو ختم کیا جائے، اور نئی نسل کو یہ پیغام دیا جائے کہ بیٹا اور بیٹی دونوں اللّٰہ تعالیٰ کی عطا، رحمت اور انسانی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اولاد کے درمیان تفریق کے بجائے مساوی محبت، بہتر تربیت اور انصاف کا رویّہ اختیار کرنا ہی ایک متوازن اور خوشحال معاشرے کی علامت ہے۔ جب معاشرہ بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ صلاحیت، امید اور مستقبل کی بنیاد سمجھے گا تو نہ صرف خاندان مضبوط ہوں گے بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے گا جہاں رحمت، عدل اور انسانی احترام کی اقدار فروغ پائیں گی۔

نسوانی جنین کشی صرف ایک بچّی کے وجود کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی ضمیر، اخلاقی اقدار اور معاشرتی انصاف کا ایک اہم امتحان ہے۔ یہ مسئلہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں انسانی زندگی کی قدر کو جنس کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو زندگی کی حرمت کو مقدم رکھتا ہے، عورت کو عزّت و وقار دیتا ہے اور بیٹی کو رحمت، محبت اور امید کے طور پر قبول کرتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ، مہذب اور انسان دوست معاشرہ کہلانے کا حق رکھتا ہے۔ بیٹی کا تحفّظ دراصل صرف ایک فرد کے حق کا تحفّظ نہیں بلکہ خاندان، نسلوں اور پورے معاشرے کے مستقبل کا تحفّظ ہے۔ کیونکہ ایک بیٹی ہی آگے چل کر ماں، معلمہ، مربیہ اور معاشرتی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت بن سکتی ہے۔ اس لیے بیٹی کے وجود کو عزّت دینا دراصل انسانی صلاحیتوں، اقدار اور مستقبل کی حفاظت کرنا ہے۔

رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمیں یہی عظیم سبق دیتی ہے کہ انسانیت کا حسن محبت، عدل، احترام اور رحمت میں پوشیدہ ہے۔ آپﷺ نے بیٹیوں، خواتین اور کمزور طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دی جس کی بنیاد انسانی وقار اور انصاف پر ہو۔ "پیغامِ رحمتِ عالمﷺ” اسی نبوی دعوت کو عام کرنے کی ایک کوشش ہے کہ ہر بیٹی کو زندگی، عزّت، تعلیم، تحفّظ اور محبت کا حق حاصل ہو۔ بیٹی کو قبول کرنا، اس کی تربیت کرنا اور اس کے مقام کو تسلیم کرنا دراصل رحمت، عدل اور انسانیت کے اصولوں کو مضبوط کرنا ہے، کیونکہ بیٹی کی حفاظت صرف ایک زندگی کی حفاظت نہیں بلکہ انسانیت کے روشن مستقبل کی حفاظت ہے۔
🗓️ (.06.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے