رامیشورم سے شیلانگ تک: درویش سائنس دان کی لازوال داستانِ حیات
(روشنی کا سفر: جب اسٹیج پر ایک عظیم خواب ادھورا رہ گیا)
از قلم: اسماء جبین فلک
27 جولائی 2015 کی کہر آلود شام، شمال مشرقی بھارت کے پہاڑی شہر شیلانگ میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے آڈیٹوریم میں نوجوان سانسیں روکے بیٹھے تھے۔ اسٹیج پر چاندی جیسے لہراتے بالوں اور باوقار مسکراہٹ والی ایک درویش صفت شخصیت کھڑی تھی، جس کے حسنِ سادگی میں ایک منفرد کشش تھی۔ اس مردِ قلندر نے ایک نو آزاد اور محدود وسائل کی حامل قوم کو خلا کی بے کراں وسعتوں کو چھونے کا خواب عطا کیا تھا اور اس خواب کو سچی تعبیر دینے کا سلیقہ بھی سکھایا تھا۔ یہ بھارت کے 11 ویں صدر، نامور سائنس دان اور کروڑوں دلوں کے رفیق ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام تھے۔
اس شام گوہاٹی سے شیلانگ تک طویل اور تھکا دینے والے زمینی سفر کے باوجود ان کے چہرے پر وہی مانوس بشاشت اور آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی۔ وہ اپنے ساتھ کوئی سیاسی منشور، اقتدار بچانے کی تدبیر یا انتخابی نعرہ لے کر نہیں آئے تھے۔ وہ طلبہ سے اس دھرتی کے مستقبل پر بات کرنے آئے تھے۔ ان کے لیکچر کا عنوان تھا: "زمین کو جینے کے قابل بنانا: پائیدار ترقی کا نظام” (Creating a Livable Planet Earth: Sustainable Development System)۔ چند گھنٹے قبل انہوں نے سماجی ذرائع ابلاغ پر اپنے آخری پیغام میں بتایا تھا کہ وہ شیلانگ کے طلبہ کو زمین کو جینے کے قابل بنانے کے موضوع پر درس دینے جا رہے ہیں۔
اس عنوان میں ایک ایسی دنیا کی تمنا سمٹی ہوئی تھی جہاں جدید ٹیکنالوجی انسانی بقا کی ضامن بنے، نہ کہ ماحولیاتی بربادی کا وسیلہ؛ جہاں خوش حالی مفلسی کا اندھیرا مٹا سکے، امن خوف کے سائے زائل کر دے، اور دھرتی ہر ذی روح کے لیے عزت، تحفظ اور مسرت کا گہوارہ بن سکے۔ وہ ابھی اپنی گفتگو کا آغاز ہی کر پائے تھے کہ شام 6:30 بجے کے قریب اچانک اسٹیج پر گر پڑے۔ انہیں فوری طور پر شیلانگ کے بیتھنی اسپتال لے جایا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ شام 7:45 بجے ان کے انتقال کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا۔
جو شخص عمر بھر دوسروں کے شبستانِ حیات میں خواب روشن کرتا رہا، اس کی اپنی آنکھیں اس لمحے ہمیشہ کے لیے مند گئیں جب وہ نئی نسل کو ایک روشن اور محفوظ دنیا کی راہ دکھا رہا تھا۔ اس منظر میں ان کے پورے سفرِ زیست کی جھلک دکھائی دیتی ہے: ایک ایسا مخلص سائنس دان جس کے نزدیک اعلیٰ منصب محض خلقِ خدا کی خدمت کا وسیلہ، سائنسی علم اجتماعی فلاح کا ذریعہ، اور ڈھلتی عمر کام سے دست بردار ہونے کا عذر ہرگز نہیں تھی۔ آج 15 اکتوبر 2026 کو، ان کے 95 ویں یومِ ولادت پر، جب ان کے بچھڑنے کو گیارہ برس سے زیادہ بیت چکے ہیں، وہ آخری اور ناتمام لیکچر ہمارے ضمیر سے سوال کرتا ہے: کیا ہم واقعی اس سیارے کو جینے کے لائق بنا رہے ہیں، یا وسائل کے بے دریغ زیاں کو ترقی کا نام دے کر ماحولیاتی خودکشی کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں؟
اس سوال کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہمیں شیلانگ کی سرد پہاڑیوں سے تمل ناڈو کے ساحلی قصبے رامیشورم لوٹنا ہوگا، جہاں 15 اکتوبر 1931 کو ایک خوش اخلاق کشتی بان زین العابدین اور آشی امّاں کے آنگن میں کلام نے آنکھ کھولی تھی۔ گھر میں مادی وسائل محدود تھے، مگر محنت، خودداری اور رواداری کی کوئی کمی نہ تھی۔ ایسے گھرانوں میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کسی قیمتی درس گاہ کی کتابوں سے پہلے والدین کے پاکیزہ کردار سے اولاد کے رگ و پے میں اترتی ہیں۔ کلام نے بچپن سے مسجد کی روح پرور اذان اور مندر کے ناقوس کی صدائیں ایک ہی فضا میں سنیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے کٹھن دنوں میں انہوں نے گھر گھر اخبارات تقسیم کر کے محنتِ مشقت کی راہ اپنائی۔ وہ علی الصبح بیدار ہوتے، روزی کماتے اور تمام تنگیوں کے باوجود علم سے اپنا ناتا مضبوط تر رکھتے۔
البتہ ان کی اس جدوجہد کو محض انفرادی کامرانی کے روایتی فقروں تک محدود رکھنا ناانصافی ہوگی۔ ہر باصلاحیت اور نادار بچہ تن تنہا عبدالکلام نہیں بن سکتا۔ ذاتی لگن کے ساتھ ایسے مواقع اور معیاری اداروں کا ہونا ناگزیر ہے جو پوشیدہ جوہر کو پہچانیں اور اسے پروان چڑھنے کی راہ دیں۔ کلام کا سفرِ حیات اس حقیقت کا درخشاں ثبوت ہے کہ ایک غریب اور پسماندہ پس منظر کا طالب علم بھی، اگر اسے منصفانہ اور معیاری تعلیمی فضا میسر آئے، تو وہ ملکی تعمیر و ترقی میں کس قدر تاریخ ساز کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے سینٹ جوزف کالج، تروچیراپلی سے طبیعیات میں گریجویشن کی اور پھر مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ہوائی جہازوں کی انجینئرنگ (Aeronautical Engineering) کی باقاعدہ سند حاصل کی۔ پرواز سے ان کے دلی لگاؤ نے آگے چل کر ملک کی سائنسی خود انحصاری کی بنیاد رکھی۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر بھارت کی خلائی اور دفاعی تحقیق کے سنہری ادوار پر محیط ہے۔ انہوں نے 1958 میں دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (Defence Research and Development Organisation—DRDO) کے شعبۂ فنی ترقی و پیداوار میں سینئر سائنس دان کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ بعد ازاں 1962 میں وہ خلائی تحقیق کی بھارتی قومی کمیٹی (Indian National Committee for Space Research—INCOSPAR) سے منسلک ہوئے، جس کے بطن سے آگے چل کر بھارتی خلائی تحقیقی تنظیم (Indian Space Research Organisation—ISRO) کا قیام عمل میں آیا۔
اسرو میں انہوں نے بھارت کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹ لانچ گاڑی (Satellite Launch Vehicle—SLV-3) کے عظیم منصوبے کی سربراہی سنبھالی۔ جولائی 1980 میں اسی خلائی راکٹ کے ذریعے "روہنی” نامی مصنوعی سیارہ کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں پہنچایا گیا۔ یہ ملک کی خلائی تاریخ میں ایک انقلابی سنگِ میل تھا، جس نے کم سے کم وسائل میں بھی اپنی علمی و تکنیکی قوت کا لوہا منوایا۔ کلام اس کامیابی پر اترانے کے بجائے اپنے استاد پروفیسر ستیش دھون اور رفقائے کار کی اجتماعی مساعی کا اعتراف ہمیشہ کھلے دل سے کرتے تھے۔ ان کے فکری نظام میں کوئی بھی بڑی فتح تنہا کسی فردِ واحد کی محتاج نہیں بلکہ باہمی ربط اور ٹیم ورک کا ثمر ہوتی ہے۔
1982 میں وہ دوبارہ ڈی آر ڈی او میں تشریف لائے اور مربوط ہدایت یافتہ میزائل ترقیاتی پروگرام (Integrated Guided Missile Development Programme—IGMDP) کے سربراہ مقرر ہوئے۔ اس پروجیکٹ کے تحت پرتھوی، اگنی، آکاش اور ناگ جیسے جدید ترین میزائل نظام وجود میں آئے، اور کلام کو دنیا بھر میں "بھارت کا میزائل مین” (Missile Man of India) کہا جانے لگا۔ مئی 1998 کے پوکھران دوم کے زیرِ زمین جوہری تجربات کی تنظیمی اور تکنیکی قیادت میں بھی ان کا کردار بنیادی نوعیت کا حامل تھا۔
یہاں ایک نازک اخلاقی موڑ آتا ہے: تباہ کن ہتھیاروں اور ایٹمی صلاحیت کے علم بردار ایک سائنس دان کے فکری سفر کو کرۂ ارض کی حفاظت اور پرامن آرزوؤں سے کس طرح ہم آہنگ دیکھا جائے؟ کلام دفاعی طاقت کو قومی خودمختاری، امن اور جنگ سے بچاؤ کی ڈھال تصور کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ملکی دفاع کی مضبوطی کسی پر جارحیت کے لیے نہیں بلکہ وطن کو سامراجی اور بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے ناگزیر تھی۔ تاہم ان کے اس دفاعی نقطۂ نظر کے باوجود جدید اسلحہ سازی اور عالمی امن کے درمیان برپا فلسفیانہ نزاع اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔
ان کی فکر کا دوسرا اور وسیع تر رخ تعلیم، ہمہ جہت ارتقا اور بنی نوع انسان کی سچی بہبود سے جڑا تھا۔ میزائل ملکی سرحدوں کو تو محفوظ بنا سکتے ہیں، مگر فاقہ کشی، بیماری، آلودگی اور بگڑتے ماحولیاتی توازن کا مداوا ان کے پاس نہیں ہے۔ کلام کے وجود کے ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ہی ایک ایسے سچے اور جامع تحفظ کا تصور ابھرتا ہے، جس میں ملکی سرحدوں کا دفاع بھی شامل ہو اور اپنے شہریوں کے لیے ایک باوقار، صحت مند اور مسرت آگیں زندگی کے پائیدار امکانات بھی۔
25 جولائی 2002 کو انہوں نے بھارت کے 11 ویں صدر کا منصب سنبھالا۔ معصوم بچوں، پرعزم نوجوانوں اور اساتذہ سے ان کے مسلسل مشفقانہ مکالمے نے انہیں تاریخ کے اوراق میں سچے معنوں میں "عوامی صدر” کا لازوال لقب بخشا۔ وہ نوجوانوں کو بلند پایہ خواب دیکھنے پر ابھارتے تھے، مگر ان کی سوچ محض رسمی جذباتی فقروں تک محدود نہ تھی؛ انہوں نے دیہات کو شہری سہولتوں سے آراستہ کرنے کا ایک ٹھوس لائحۂ عمل بھی دیا، جسے "پورا” (Provision of Urban Amenities to Rural Areas—PURA) کا نام دیا گیا۔
اس بصیرت افروز منصوبے کا مقصد بنیادی ڈھانچے (Physical Connectivity)، برقی مواصلات (Electronic Connectivity) اور علم تک رسائی (Knowledge Connectivity) کو باہم اس طرح یکجا کرنا تھا کہ پسماندہ بستیوں کے معاشی روابط (Economic Connectivity) پوری طاقت کے ساتھ مستحکم ہوں۔ پختہ سڑکیں، بجلی کی فراہمی، سستے رابطے، معیاری مکتب اور مقامی روزگار اس منصوبے کے چار بنیادی ستون تھے۔ اس لائحۂ عمل کا مقصد دیہاتی بھائیوں کو ان کے اپنے گھروں کی دہلیز پر وہ تمام سہولیات بہم پہنچانا تھا جن کی تلاش میں وہ بڑے شہروں کی تنگ اور آلودہ بستیوں میں دربدر ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (Sustainable Development Goals—SDGs) سے بہت پہلے پیش کیا جانے والا یہ انقلابی نظریہ دراصل مساوی ترقی، روزگار اور انسانی شرف کے گہرے باہمی تعلق کی روشن علامت تھا۔
کلام کی تصانیف میں بھی یہی روشن فکری تسلسل نظر آتا ہے۔ ان کی خودنوشت "ونگز آف فائر” (Wings of Fire) محض انفرادی تگ و دو نہیں بلکہ ٹیم ورک، سائنسی نظم و ضبط اور کٹھن ترین ناکامیوں سے سبق حاصل کرنے کی ایک درخشندہ داستان ہے۔ "انڈیا 2020” (India 2020) کے صفحات پر وہ ملک کی کثیر آبادی کو غیر ہنر مند ہجوم کے بجائے ایک باشعور، اختراع پسند اور تخلیقی افرادی قوت میں ڈھالنے کا پورا نقشہ کھینچتے ہیں۔ "اگنائٹڈ مائنڈز” (Ignited Minds) نئی پیڑھی کو اپنی خفتہ صلاحیتوں کو پہچان کر تاریخ کے بڑے مقاصد پر جھپٹنے کی دعوتِ عمل دیتی ہے۔ جبکہ "مائی جرنی” (My Journey) اور "دی لیومنس اسپارکس” (The Luminous Sparks) جیسی تخلیقات ان کے وجود کے شاعرانہ، حساس، ادبی اور روحانی گوشوں کو قاری کے سامنے آشکار کرتی ہیں۔ وہ انسانوں سے محض خشک حسابی فارمولوں میں محوِ کلام نہیں ہوتے تھے، بلکہ اپنی شفاف یادداشتوں، تلخ و شیریں تجربات اور سادہ اخلاقی مثالوں کے ذریعے روح کے تار چھیڑ دیتے تھے۔
ان کی تعلیمات میں اگرچہ خوابوں کی عظمت مسلم ہے، مگر خواب کی اصل آبرو تو اس کی عملی تعبیر کی شب و روز جدوجہد میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر علم کی لگن، مسلسل محنت، وسائل کی شفاف تقسیم اور طویل مدتی ریاستی حکمتِ عملی ساتھ نہ دے، تو بڑے سے بڑا خواب بھی ایک خوش نما فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ کلام کے نقوشِ قدم کو سراہتے ہوئے ان باکمال درس گاہوں، دانائے راز اساتذہ اور ریاستی معاونت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جن کی مشترکہ کاوشوں نے ایک غریب گھر کے لڑکے کو ملکی تاریخ کا عظیم ترین سائنس دان اور رہنما بنا دیا۔
اور یوں ذہن کا تخیل بار بار اسی شیلانگ کی سرد اور اداس شام کے آڈیٹوریم میں لوٹ جاتا ہے۔ وہ اپنی آخری سانس تک نوجوانوں سے محوِ کلام رہے؛ ان کا لیکچر تو ادھورا رہ گیا، مگر اس کا پیش کردہ سوال آج ہمارے ماتھے پر سچی فکر بن کر چمک رہا ہے۔ بگڑتا ہوا موسم، آنکھوں کے سامنے تیزی سے پگھلتے گلیشیئر، تپتے سمندر، زہر اگلتی ہوا اور جنگوں کے الاؤ ہمیں دہائی دے رہے ہیں کہ ہم اپنی ہوس کے ہاتھوں کیسا دوزخ تعمیر کرنے نکلے ہیں۔ وہ ترقی کس کام کی جو بظاہر کارخانوں کا منافع تو بڑھائے، مگر بدلے میں ہماری آنے والی نسلوں سے پینے کا صاف پانی، سانس لینے کو شفاف ہوا اور تحفظ کے بنیادی حقوق چھین لے؟
کلام کو سچا خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے فقط ان کی یاد میں سنگِ مرمر کی تختیاں لگانا، مجسمے ایستادہ کرنا یا پُرتکلف جلسے منعقد کرنا کافی نہیں۔ ان کی تعلیمی اور انسان دوست فکر کا پاس رکھنا ہے تو ہماری درس گاہوں میں بے باک سائنسی سوالات اور تخلیقی فکر کا احترام پیدا کرنا ہوگا؛ کچی بستیوں کے محروم بچوں کو شاندار اور مساوی تعلیم دینا ہوگی؛ اور ریاستی وسائل کو ان آخری صفوں میں کھڑے مظلوم انسانوں تک پہنچانا ہوگا جو محرومیوں کے اندھیروں میں سسک رہے ہیں۔ اسی طرح کرۂ ارض کے تحفظ کو نعروں کی زینت بنانے کے بجائے ٹھوس پالیسی اور اپنے روزمرہ طرزِ حیات کا حصہ بنانا ہوگا۔
ڈاکٹر کلام کی پاکیزہ زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اصل شے محض سانسوں کا طول نہیں بلکہ مقصد کی عظمت اور عمر کا بامعنی مصرف ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی آخری گھڑی تک علم کی قندیل جلائے رکھی، سکھاتے رہے اور نئی نسل کے جذبوں کو جِلا بخشتے رہے۔ وہ اس دھرتی کو جینے کے قابل بنانے کی پکار لگاتے ہوئے خاموش ہوئے تھے۔ اب اس نامکمل درس کا کڑا سوال ہمارے سامنے سر اٹھائے کھڑا ہے: ہم اپنے بچوں کے لیے کیسی زمین امانت کے طور پر چھوڑ کر جائیں گے؛ ایک ایسا پرامن چمن جہاں وہ محفوظ اور پُروقار سانس لے سکیں، یا ایک ایسا تپتا ہوا مقتل جس کے گہرے زخم بھرتے بھرتے ان کی پوری عمریں بیت جائیں؟