فرانس میں تاریخی عمارت منہدم، مشہور دکانوں میں لوٹ مار، خوفناک مناظر

فرانس میں تاریخی عمارت منہدم، مشہور دکانوں میں لوٹ مار، خوفناک مناظر

پیرس،19اکٹوبر(ایجنسیز) پیرس سے مارسیلیا اور لیموج تک فرانس بھر میں ہنگامے، لوٹ مار اور افراتفری پھیل گئی، جس نے مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ اس احتجاج میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرے صدارتی انتخابات سے چھ ماہ قبل ہوئے۔

پیرس سمیت فرانس کے بڑے شہروں کی سڑکوں پر سیکڑوں اداروں اور دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سڑکیں ملبے اور جلی ہوئی موٹر سائیکلوں کے ڈھانچوں سے بھر گئیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی حکام نے کہا کہ پورے پورے علاقوں کی سڑکوں پر منظم انداز میں توڑ پھوڑ کی گئی۔نقاب اور دستانے پہنے نوجوانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں نے مشہور دکانوں، جن میں ’’لافاییت‘‘ اور ’’لوئی ویتوں‘‘ شامل ہیں، میں منظم انداز میں لوٹ مار کی۔ ان افراد نے پہلے نگرانی کے کیمروں کو ناکارہ بنایا، پھر دکانوں کے شیشے توڑ کر اندر داخل ہوئے۔

جنوبی شہر مارسیلیا، شمالی شہر لیل اور جنوب مغربی شہر بورڈو میں مظاہرین نے بلدیاتی اور انتظامی عمارتوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔وسطی فرانس کے شہر لیموج میں آگ لگنے سے بلدیہ کی عمارت کا بڑا حصہ جل گیا۔

مقامی حکام کے مطابق یہ انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والی ایک وسیع و عریض تاریخی عمارت ہے۔ادھر فرانسیسی حکام نے اتوار کو ایک روز قبل ہونے والے پُرتشدد واقعات کے بعد نقصانات کا جائزہ لیا۔

حکومت نے سماجی کشیدگی میں اضافے اور پارلیمان میں اکثریت نہ ہونے کے باعث حکومتی مشکلات کے باوجود ہنگامہ آرائی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق حالیہ ہنگامے 2023 کے احتجاج اور 2018 اور 2019 میں ہونے والی ’’یلو ویسٹ‘‘ تحریک کے مظاہروں سے بھی زیادہ شدید تھے۔

بھاری مالی نقصان

فرانس میں گزشتہ روز دیر رات تک خصوصاً پیرس میں پُرتشدد واقعات جاری رہے۔ حکام نے خبردار کیا کہ توڑ پھوڑ سے ہونے والے نقصان کی مالی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ تجارت اور تقسیم کے شعبے کی تنظیم کے سربراہ الیگزینڈر بومبار نے کہا کہ انہیں معیشت اور مالیات پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

وزارتِ داخلہ کے اندازوں کے مطابق مظاہرین کی تعداد تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار تھی، جبکہ احتجاج کے منتظمین نے یہ تعداد 8 لاکھ بتائی ہے۔احتجاج اور اس کے ساتھ ہونے والی ہنگامہ آرائی پر مختلف سیاسی جماعتوں نے متضاد مؤقف اختیار کیے۔

بائیں بازو کی سخت گیر جماعت ’’فرانس اَن بو‘‘ کے سربراہ ژاں لوک میلینشوں نے پیرس میں مظاہرے میں شرکت کی اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ تشدد اور توڑ پھوڑ سے گریز کریں۔

دوسری جانب رائے عامہ کے جائزوں میں سرفہرست انتہائی دائیں بازو کی رہنما مارین لو پین نے کہا کہ ان کی جماعت ’’نیشنل ریلی‘‘ پولیس کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے بقول بائیں بازو کا مؤقف تشدد کو جائز قرار دیتا ہے اور ملک کو افراتفری کی جانب دھکیل رہا ہے۔

صدارتی انتخابات میں چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں اور میلینشوں اور لو پین کے درمیان سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر رہی ہے۔ رائے عامہ کے متعدد جائزوں کے مطابق دونوں رہنماؤں کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل آنے کا امکان ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عہد کیا کہ توڑ پھوڑ کرنے، اداروں یا کاروباری مراکز پر حملے کرنے اور لوٹ مار میں حصہ لینے والے ہر شخص کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور اسے سزا دلوائی جائے گی۔

حکام نے بتایا کہ ہفتے کے روز 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے 150 اہلکار زخمی ہوئے۔ان جھڑپوں میں متعدد مظاہرین بھی زخمی ہوئے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک تھی۔ خصوصاً وسطی فرانس کے شہر سینٹ ایٹین میں پولیس کی جانب سے پھینکے گئے ایک دستی بم کے باعث 17 سالہ نوجوان کا ہاتھ کٹ گیا۔

 

https://alhilalmedia.com/

 

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے