کمرہ جماعت میں تدریس کے دوران خاتون ٹیچر کی ٹک ٹاک پر لائیو اسٹریمنگ پر ہنگامہ

کمرہ جماعت میں تدریس کے دوران خاتون ٹیچر کی ٹک ٹاک پر لائیو اسٹریمنگ پر ہنگامہ

تونس،19اکٹوبر(ایجنسیز)تونس میں ایک معلمہ کی جانب سے کلاس روم کے اندر سبق کے دوران ٹک ٹاک پر لائیو اسٹریمنگ کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ اس واقعے نے اس بحث کو جنم دیا ہے کہ تعلیمی فضاء کو مواد تیار کرنے اور ویوز حاصل کرنے کے لیے کس حد تک استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کا تعلیمی عمل پر کیا اثر پڑتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق معلمہ نے دوران ڈیوٹی لائیو سٹریمنگ کی اور بچوں کے سامنے سبق کے وقت ایپ پر فالوورز سے بات چیت کی جس پر بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا کیونکہ صارفین کا خیال ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں پیشے کے فرائض اور معلم کی تربیتی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔

اس تناظر میں کارکن عادل بن محمود نے کلاس روم کے اندر فالوورز سے بات چیت میں معلمہ کے مصروف رہنے پر تنقید کی اور اس بات پر زور دیا کہ کلاس روم کو سیکھنے کے لیے مخصوص جگہ کے طور پر اس کا تقدس برقرار رکھا جائے اور کلاسز کو ویوز کی دوڑ سے دور رکھا جائے کیونکہ پہلی ترجیح تعلیم اور طلبا کی دیکھ بھال ہونی چاہیے۔

دوسری طرف سماجی کارکن مکرم بن صالح نے اس بات پر غصے کا اظہار کیا جسے انہوں نے کلاس روم کو تعلیمی جگہ سے ٹک ٹاک اسٹوڈیو میں تبدیل کرنا قرار دیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ مواد تیار کرنے کے خواہشمند معلم کام کے اوقات کے بعد طلبا کے وقت اور ان کے سیکھنے کے حق سے دور ایسا کر سکتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں کارکن زینب عماری کا کہنا تھا کہ وہ کلاس روم کے اندر موبائل فون کے استعمال کی مخالف نہیں ہیں بشرطیکہ انہیں سبق کی بہتری اور طلبا کو اضافی معلومات حاصل کرنے اور ان کے علم کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے جو کہ ذاتی استعمال یا جدید ٹیکنالوجی کے نامناسب استعمال سے ہٹ کر ہو۔

بنیادی تعلیم کی یونین کے محمد علی بوعلاقی نے بھی یہ سمجھا کہ معلمہ کی طرف سے کیا گیا کام پیشہ ورانہ فرائض کی خلاف ورزی ہے اور یہ واضح کیا کہ کلاس کا وقت طلبا کو تعلیم دینے اور ان کی رہنمائی کے لیے ہے نہ کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فالوورز کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیےہے۔

بوعلاقی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ معلم پر ایک تعلیمی اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے جو اسے سیکھنے کے وقت کا احترام کرنے اور کلاس کا تقدس برقرار رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ اس موقف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کلاس رومز کے اندر جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کو مسترد کیا جاتا ہے بلکہ یہ ضروری ہے کہ انہیں ایسے طریقے سے استعمال کیا جائے جو تعلیمی عمل کی خدمت کرے اور تدریسی طریقوں کو فروغ دینے معلومات کو آسان بنانے اور طلبا کے علم کو بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔

یاد رہے کہ وزارت تعلیم نے فروری کے مہینے میں ایسے اقدامات جاری کیے تھے جن میں تعلیمی اداروں کے اندر موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی اور ساتھ ہی مجاز حکام کے دائرہ کار سے باہر تعلیمی فضاء کے اندر فوٹو گرافی پر بھی پابندی لگائی گئی تھی تاکہ طلبا کے تحفظ ادارے کے تقدس کو برقرار رکھا جا سکے اور کلاسز کے معمول کے بہاؤ کو یقینی بنایا جا سکے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے