Skip to content
جمعہ نامہ: اخلاص کی ثروت دے، کردار کی رفعت دے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’۰۰اور ہم نے پانی سےہر چیز کو زندہ کیا ۰۰‘‘۔پانی کا تعلق خلاقی کےعلاوہ رزاقی سے بھی ہے:’’ اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا ہے پھر اس سے باغات اور کھیتی کا غلہ اُگایا ہے ۔ ‘‘پروردگارِ عالم نے پانی کی یہ تشبیہ بھی پیش فرمائی کہ :’’اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آ گئے ‘‘۔ یعنی نعمتِ خداوندی سے ہر کوئی اپنےاپنے ظرف کے مطابق استفادہ توکرتا ہےمگر اندر کی جھاگ کو سیلاب سطح آب آپ پر لے آتا ہےنیز:’’ ویسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں‘‘۔ زمین کے اندر پوشیدہ خزانے کو قابلِ استعمال بنانے کی خاطر جب معدنیات کو بھٹی میں پگھلایا جاتا ہے تو اس کی جھاگ بھی اوپر تیرنے لگتی ہے ۔ اِس مثال سے :’’اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے کہ جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے ‘‘یعنی نمائشی عمل جھاگ کی مانند کوڑے دان کی نذر کردیاجاتاہے اور’’ انسانوں کے لیے نافع چیز زمین میں ٹھہر جاتی ہے ۰۰‘۔
مشیت ایزدی نفع بخش پانی یا دھات کو دوام بخشتی ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے بہتر لوگ وہ ہیں جوعوام الناس کو نفع پہنچاتے ہیں۔” اخروی فلاح اور دنیوی کامیابی کے ضامن اعمالِ خیر کی ترغیب یوں دی گئی کہ ’’اور نیکی کرو تاکہ تمہیں فلاح و کامرانی نصیب ہو۔‘‘ پچھلے دنوں مرباڈ کے اندر ایس آئی او کیمپ میں شرکت کا موقع ملا جو ایک مسلمان کےگرین وِلاریسارٹ میں تھا۔پروگرام میں جاتے ہوا دیکھا کہ وہاں سے بڑی تعداد میں گاوں کی قبائلی خواتین گھڑوں میں پانی لے جارہی ہیں ۔ ریسارٹ کے پیچھے واقع باروی ڈیم کا پانی دور دراز کے مقامات تک پہنچایا جاتا ہے مگر متصل بستی کو فراہم نہیں کیا جاتا۔ اس لیےگاوں والے اپنی ضرورت گرین وِ لا سے پوری کرتے ہیں۔ معلوم ہوا ایک بے غرض مسلمان وہ کام کرتا ہے جوریاکارسرکار نہیں کرتی ۔
ارشادِ قرآنی ہے:’’پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اسے چاہیے کہ وہ اچھے اعمال کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔‘‘ اعمالِ خیر کے ساتھ شرک سے اجتناب کا اشارہ ریاکاری کی طرف ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’میں تمہارے بارے میں سب سے زیادہ ’’ شرک اصغر ‘‘ سے ڈرتا ہوں ۔صحابہ کرامؓ نے دریافت کیا یا رسول اﷲ ﷺ!شرک اصغر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ریا کاری ۔‘‘ نبی ٔ کریم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کے بعد اُمت شرک میں مبتلا ہوجائیگی ؟ تو جواب میں ارشاد فرمایا: ہاں ! پھر یہ وضاحت فرمائی کہ وہ لوگ چاند سورج کی پتھر اور بتوں کی پرستش نہیں کریں گے لیکن ریا کاری کریں گے اور لوگوں کو دکھانے کیلئے نیک کام کریں گے‘‘۔
فرمانِ قرآنی ہے ’’جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیےخرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پرایمان نہیں رکھتےاور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو، وہ بدترین ساتھی ہے۔‘‘ اسی کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی ہے کہ :’’اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ نبی ٔ پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ :’’ قیامت کے روز جس کی آمد میں کوئی شک نہیں جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا’ جس نے اللہ کے لیے کیے ہوئے کسی عمل میں کسی غیر کو شریک کیا ہو وہ اس کا ثواب بھی اسی غیر اللہ سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہے۔‘‘ عصرِ حاضر میں کیمرے کی آسانی ذرائع ابلاغ کی سہولت نے ریاکاری کی لعنت کو بامِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔
اجتماع سے واپسی کے وقت رکشاوالے نے کہا کہ منیجر کامران کی ہدایت ہے کہ مجھے ان سے ملائے۔ میں بھی شکریہ ادا کرنےکے لیے بخوشی راضی ہوگیا۔ کامران بھائی بڑے تپاک سےملے اور مجھے ایک بڑا سا کٹھل تحفے میں دیتے ہوئے کہا اگر زحمت نہ ہو ساتھ لیتے جائیں یہ اسی باغ کاہے۔ میں نے شکریہ ادا کیا مگر تعجب ہوا کہ انہوں نے تحفہ کے ساتھ تصویر نکلوانے کی درخوات نہیں کی۔ آج کل دینی مجالس میں بھی مومینٹو کا چلن اس لیےعام ہورہا ہے تاکہ اسے دیتے ہوئے تصویر کھنچوا کر نام و نمود کا اہتمام کیا جائے۔ اس سے زیادہ شرمناک بات کیا ہوگی کہ حج اور عمرہ کی مقدس عبادت میں طواف و زیارت کے دوران بھی کیمرہ آن رکھ کر ساری دنیا کے سامنے اپنی عبادت کو مشتہر کیا جاتاہے۔ نبی کریم ﷺ نے ریاکاری پر یہ وعید سنائی ہےکہ :’’جوشخص شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب ظاہر کر دے گا اور جو دکھاوے کے لیے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے رسوا کر دے گا۔‘‘ اس کے نمونے آئے دن نظر آتے ہیں۔
گرین وِلا سے لوٹتے ایک اسکول نظر آیا تو گاوں کے آٹو والے سے پوچھا کہ نیا لگتا ہے؟ اس نے بتایا جی نہیں پہلے یہاں چوتھی جماعت تک سرکاری اسکول تھا۔ اس کے بعد بچوں کو کئی میل دور پڑھنے کے لیے جانا پڑتا تھا مگراب ریسارٹ والوں نے اسکول کی عمارت تعمیر کرکے ہائی اسکول تک کا انتظام کردیا ۔ یہ دیکھ کر بھی تعجب ہوا کہ اس اسکول کے سامنے نہ کسی فرد یا ادارے کا نام تھا اور نہ ریسارٹ کی تشہیر یعنی بالکل بے غرض للہ فی اللہ کارِ خیر ۔ اس ریسارٹ سے پانی لے جانے والوں اور اسکول میں تعلیم پانے والوں میں کوئی مسلمان نہیں ہے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں اس کارِ خیر کا کیا قدرو منزلت ہوگی کہ جس کا کرنے والا نہ تو استفادہ کرنے والوں کو جانتا ہے اور ان سے کسی بدلہ کی توقع کرتا ہے ۔ اخلاص و للٰہیت کی ایسی نعمت سےنوازے جانے والے خوش بخت بہت ہوگئے ہیں بقول شاعر؎
بہت ہی کم نظر آیا مجھے اخلاص لوگوں میں
یہ دولت بٹ گئی شاید بہت ہی خاص لوگوں میں
Like this:
Like Loading...