Skip to content
حقیقت تلخ است و طنز شیرین
ازقلم:حافظ مجاہد عظیم آبادی
ایڈیٹر: روح حیات سینٹر
8210779650
ہر محلہ ایک چھوٹی سی دنیا ہوتا ہے، جہاں ہر گلی، ہر گھر، اور ہر فرد اپنی ایک الگ کہانی لے کر بیٹھا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ محلے کے ”بابا آدم” بن جاتے ہیں جو ہمیشہ ہر بات پر غصہ کیے بیٹھے رہتے ہیں، تو کچھ ایسے ہوتے ہیں جو محلے کی خبروں کے ”اینکر” بنے رہتے ہیں، جنہیں ہر بات کا ”تازہ اپ ڈیٹ” سب سے پہلے ہوتا ہے۔ آئیے، آج ہم آپ کو اپنے محلے کے کچھ دلچسپ کرداروں سے ملواتے ہیں، اور ان کی زندگی کے ”ٹاک شوز” میں شریک کرتے ہیں۔
چاچا باؤلی – محلے کے ”اینکر پرسن”
ہمارے محلے میں چاچا باؤلی سب سے مشہور ہیں۔ وہ کسی بھی چینل پر نہیں آتے، مگر محلے کے ”خبریں فالو اپ” کی ذمہ داری انہوں نے خود سنبھال رکھی ہے۔ چاچا باؤلی کو ہمیشہ ہر بات کا سب سے پہلے پتہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کے گھر میں کھانا بن رہا ہو، تو چاچا باؤلی کو پہلے سے معلوم ہوگا کہ ”آج بریانی بنی ہے” یا ”آج سادہ دال پر گزارا ہوگا”۔
ایک دن، میں نے چاچا باؤلی کو گلی میں دیکھا۔ وہ بڑی سنجیدگی سے دکان پر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا، ”چاچا، کیا ہوا؟ آج بڑے فکر مند لگ رہے ہیں؟”
انہوں نے ایک لمبی سانس لی اور کہا، ”ارے بیٹا، کل شبانہ آپا کے گھر میں کچھ مشکوک حرکتیں ہو رہی تھیں۔ مجھے لگتا ہے کوئی نیا مہمان آیا ہے، مگر چھپ کر!”
میں نے ہنستے ہوئے کہا، ”چاچا، ہوسکتا ہے کوئی پرانا دوست آیا ہو، آپ اتنی فکر کیوں کر رہے ہیں؟”
چاچا نے آنکھیں سکیڑ کر کہا، ”ارے نہیں، میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے، ‘جلدی کرو، کوئی آتا ہے!’ یہ کوئی عام بات نہیں!”
پھر اگلے دن معلوم ہوا کہ شبانہ آپا کی بہن گھر آئی تھیں، اور چاچا باؤلی کی ‘خفیہ معلومات’ ایک معمولی سی بات نکلی۔ مگر چاچا کی خبریں ہمیشہ محلے میں ہلچل مچا دیتی ہیں۔
میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کبھی کبھی ہم زندگی کی معمولی باتوں کو غیر ضروری اہمیت دے دیتے ہیں، جبکہ سچائی بہت سادہ ہوتی ہے۔ جیسے کسی نے کہا ہے، ”زندگی کو پیچیدہ نہ بناؤ، اکثر جواب سادہ ہوتے ہیں۔
بی بی جان – محلے کی ”نواب بیگم”
بی بی جان ہماری محلے کی سب سے بڑی ”نواب بیگم” ہیں۔ ہر وقت سج دھج کے بیٹھی رہتی ہیں، چاہے محلے میں کچرا پھینکنے والے لڑکے آ رہے ہوں، یا دودھ والا آ رہا ہو، بی بی جان کا لباس ہمیشہ شاہانہ ہوتا ہے۔ اگر کبھی کوئی تقریب ہو تو ان کی تیاری ایسی ہوتی ہے جیسے محلے کا سب سے بڑا فیشن شو ہونے والا ہو۔
ایک دن، محلے کی سیر پر نکلا تو بی بی جان سے ملاقات ہو گئی۔ ان کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا اور وہ کچھ خریداری کر کے آ رہی تھیں۔ میں نے کہا، ”بی بی جان، بڑی تیاری کر رکھی ہے، آج کیا خاص بات ہے؟”
انہوں نے نازک ہاتھ سے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے کہا، ”ارے بیٹا، آج تو بس دل چاہا کہ چائے پی جائے، سوچا کچھ خاص بسکٹ بھی لے لوں!”
میں نے ہنستے ہوئے کہا، ”بی بی جان، آپ کے بسکٹ تو ہمیشہ خاص ہوتے ہیں!”
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ”بھئی، زندگی ہے، مزے سے جیو، نہیں تو کیا فائدہ!” میں نے کہا یقینا یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اپنے رنگ اور انداز خود تخلیق کر سکتے ہیں۔ ”زندگی کو اپنے انداز میں جیو، دوسروں کے اصولوں پر نہیں۔”
مرزا صاحب – محلے کے ”فل ٹائم فلسفی”
مرزا صاحب ہمارے محلے کے سب سے بڑے ”فل ٹائم فلسفی” ہیں۔ ان کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ ہر بات کو اتنا سنجیدہ کر دیتے ہیں کہ انسان ہنسنے کے بجائے سوچ میں پڑ جائے۔ اگر کبھی کسی کو چھینک بھی آ جائے، تو مرزا صاحب فوراً کہہ دیں گے، ”بیٹا، یہ وقت اور تقدیر کا اشارہ ہے۔ شاید تمہاری زندگی میں کچھ نیا ہونے والا ہے۔”
ایک دن مرزا صاحب ہمارے گھر آئے، اور چائے پر ان کی باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا، ”مرزا صاحب، آج کل آپ کیا فلسفہ کر رہے ہیں؟”
انہوں نے بڑی سنجیدگی سے کہا، ”بیٹا، زندگی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے ‘خود کی تلاش’۔ ہم سب بس اپنی اصل کو ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔”
میں نے کہا، ”مرزا صاحب، آپ نے تو میری چائے پیتے پیتے زندگی کی پوری کتاب کھول دی!”
وہ مسکراتے ہوئے بولے، ”زندگی بھی تو ایک چائے کی پیالی جیسی ہے، جب تک مزے سے نہ پی جائے، کچھ سمجھ نہیں آتا!”
بچوں کی ”کریم پارٹی” – محلے کی انوکھی رونق
ہمارے محلے کے بچے بھی کسی فلم کے کرداروں سے کم نہیں۔ ان کی ”کریم پارٹی” ہمیشہ گلی میں چلتی رہتی ہے۔ دن ہو یا رات، یہ بچے ہمیشہ کوئی نہ کوئی نئی شرارت کر کے محلے والوں کو حیران کر دیتے ہیں۔
ایک دن شام کے وقت، گلی میں کچھ شور سنائی دیا۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ بچے ایک دوسرے پر پانی کے پائپ سے حملہ کر رہے تھے، جیسے کوئی ”پانی کی جنگ” ہو رہی ہو۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا، ”ارے، یہ کیا ہو رہا ہے؟”
ایک بچہ زور سے بولا، ”بھائی، آج ہم نے محلے کا سب سے بڑا ‘پانی بم’ تیار کیا ہے!”
میں نے کہا، ”اور یہ بم کس پر پھینکنے کا ارادہ ہے؟”
بچے ہنسے اور کہا، ”کسی پر نہیں، بس ایسے ہی، ہم تو تفریح کر رہے ہیں!”
میں نے دل ہی دل میں سوچا، ”یہ تفریح ہمیں بچپن میں کیوں نہ سوجھی؟” اس دن یہ خیال آیا کہ بچوں کی یہ حرکتیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ خوشیاں کبھی کسی خاص موقع کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ”خوشیوں کو خود تخلیق کرو، پھر دیکھو، ہر دن تہوار بن جائے گا۔”
محلے کی ”گپ شپ” اور چائے کے کلب
ہر شام، محلے کے بزرگ حضرات کا ”چائے کلب” لگتا ہے، جہاں پرانے قصے، جوانی کے واقعات، اور ”ہماری زمانے میں” کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اگر کبھی آپ کو محلے کی تاریخ جاننی ہو، تو بس اس چائے کلب میں بیٹھ جائیں، وہاں آپ کو ہر گھر کی تاریخ اور ہر فرد کی کہانی معلوم ہو جائے گی۔
ایک دن، میں نے بھی ان بزرگوں کے کلب میں شمولیت اختیار کی۔ ایک صاحب نے اپنی پرانی، دھندلی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا، ”بیٹا، تم تو ابھی جوان ہو، تمہیں کیا معلوم کہ ہمارے زمانے میں زندگی کیسی ہوتی تھی!” انہوں نے چائے کی پیالی ہاتھ میں تھام لی اور جیسے وقت میں پیچھے چلے گئے۔ ”ہمارے زمانے میں، چائے پینے کا اپنا ہی ایک مزہ تھا۔ سب مل کر بیٹھتے تھے، کوئی جلدی نہیں ہوتی تھی، دل کی باتیں کرتے، ایک دوسرے کی پریشانیوں کو سنتے، اور دل کھول کر محبتیں بانٹتے تھے۔” انہوں نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا، پھر ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا، ”آج کی طرح نہیں کہ بس چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے اور ہگتے، ہر لمحہ موبائل سے چپکے رہو!”
پھر وہ تھوڑا اور سنجیدہ ہو گئے، ”اب تو ایسا لگتا ہے جیسے انسانوں نے ‘لائیو اسٹریم’ موڈ میں زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہر لمحہ دکھانا ہے، ہر کام بتانا ہے۔ محبتیں بھی ایموجیز میں سمٹ گئی ہیں، اور پریشانیاں؟ وہ شاید اب انٹرنیٹ ڈیٹا کی تیز رفتاری میں کہیں گم ہو چکی ہیں۔”
انہوں نے ایک لمبی سانس لی اور کہا، ”بیٹا، یہ موبائل بہت کچھ دے گیا، لیکن دل کا سکون، وہ تو لے گیا۔ اب جب بھی کوئی چائے کا کپ پکڑتا ہے، ساتھ میں موبائل بھی اٹھا لیتا ہے، جیسے چائے اور دوست نہیں، بس وائی فائی کنیکشن کا ساتھ چاہیے!”
یہ سنتے ہی محفل میں ایک گہری خاموشی چھا گئی، اور مجھے احساس ہوا کہ شاید وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔ آج کل چائے کے کپ تو بہت ہیں، مگر وہ پرانی محبتوں، قہقہوں اور دل کی باتوں کا ذائقہ کہیں کھو گیا ہے۔
”محلے کی ‘سیلفی آنٹی’ اور ان کے انسٹاگرام مشغلے”
ہمارے محلے کی سب سے بڑی پہچان ‘سیلفی آنٹی’ ہیں۔ ان کا اصل نام تو کب کا محلے والوں کے ذہنوں سے نکل چکا ہے، کیونکہ اب وہ اپنی ہر پوسٹ میں ‘سیلفی آنٹی’ ہی کہلانا پسند کرتی ہیں۔ آنٹی کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے: ہر لمحہ کی سیلفی لینا اور پھر اسے انسٹاگرام پر ڈال کر لوگوں سے ‘لائکس’ اور ‘کمنٹس’ حاصل کرنا۔ چاہے سبزی کاٹ رہی ہوں، کچن میں چائے بنا رہی ہوں، یا پھر محلے کی سبزی والے کے ساتھ بھاؤ تاؤ کر رہی ہوں، سیلفی آنٹی ہر جگہ اپنی ‘پرفیکٹ شاٹ’ لینے میں مصروف رہتی ہیں۔
ایک دن، آنٹی نے ہمیں سبز باغ دکھانے کے لیے اپنے گھر بلایا۔ ہم سمجھے کہ شاید کوئی دعوت ہے، یا کوئی خاص بات۔ لیکن جب پہنچے، تو دیکھا کہ آنٹی نے ایک ‘انسٹاگرام شو’ لگا رکھا تھا۔ انہوں نے کہا، ”آج میں آپ سب کو بتاؤں گی کہ کیسے ‘پرفیکٹ سیلفی’ لی جاتی ہے!” سب لوگ حیران رہ گئے کہ ایک عام دن میں، یہ ‘انسٹاگرام لائیو’؟
آنٹی نے اپنی چمکدار لائٹس نکالیں، اور مختلف زاویوں سے تصاویر لینے لگیں۔ ”بس، یوں دیکھو، لائٹ کو بائیں جانب رکھو، اور چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ دو، جیسے زندگی میں کوئی غم ہی نہیں!” آنٹی نے بڑے اعتماد سے کہا۔
میں نے پوچھا، ”آنٹی، یہ لائٹ تو ٹھیک ہے، مگر زندگی کے غم کا کیا؟” آنٹی نے مسکراتے ہوئے کہا، ”ارے بھئی، انسٹاگرام پر تو سب ‘پرفیکٹ’ ہے، زندگی میں جو بھی ہو، یہاں تو خوشی ہی خوشی دکھانی ہے!”
اور یہی سبق ہمیں ملا کہ ‘لائک’ اور ‘کمنٹس’ کے پیچھے زندگی کی حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ ”کیمرے کے پیچھے چھپے غم بھی انسٹاگرام فلٹر سے چھپ نہیں پاتے، لیکن لائک کا نشہ سب پر بھاری ہے!”
”حقیقت تلخ است و طنز شیرین،
زہر را در قند پوشیدہ ببین.”
ترجمہ:
”حقیقت کی تلخی اور کڑواہٹ کو طنز کی مٹھاس میں اس طرح چھپا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے زہر کو چینی میں لپیٹ کر چھپا دیا جائے تاکہ اس کی اصل کڑواہٹ محسوس نہ ہو۔”
________________________________________
تو یہ تھیں ہمارے محلے کی کچھ دلچسپ کہانیاں، جہاں ہر شخص اپنی دنیا کا ہیرو بنا ہوا ہے اور ہر دن ایک نیا ڈرامہ، ایک نیا تماشہ ہوتا ہے۔ ہمارے محلے میں کچھ لوگ اتنے سنجیدہ ہیں کہ چائے کا کپ پکڑتے ہی دنیا کے مسائل پر بحث شروع کر دیتے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو سارا دن ‘پرفیکٹ سیلفی’ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ محلہ دراصل زندگی کا وہ اسٹیج ہے جہاں ہر کردار اپنی اپنی باری پر آ کر تماشہ کرتا ہے۔
سچ کہوں تو، یہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ زندگی کی اصل خوشی انہی لمحات میں چھپی ہوتی ہے، جہاں ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بے تکلفی سے ہنستے ہیں، ان کہانیوں پر قہقہے لگاتے ہیں، اور دل کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر، آج کل ہم زندگی کو اس قدر سنجیدگی سے جینے لگے ہیں کہ ہنسی اور خوشی کو گویا ایک ناپید چیز بنا دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موبائل کی اسکرین کے پیچھے زندگی سمٹ گئی ہے اور حقیقت میں ہم وہ سب کچھ بھولتے جا رہے ہیں جو کبھی ہمیں انسان بناتا تھا۔
لیکن آخر میں، محلہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی نہ تو انسٹاگرام کی ‘پرفیکٹ پوسٹس’ ہے اور نہ ہی واٹس ایپ کے گروپ چیٹس۔ زندگی وہ قہقہے ہیں جو ‘چاچا باؤلی’ کے بے سرے تجزیوں پر لگائے جاتے ہیں، زندگی وہ لمحات ہیں جب ‘بی بی جان’ اپنے فیشن کو سب پر بھاری سمجھتی ہیں، اور زندگی وہ سیلفیاں ہیں جو صرف ہنسی کے لیے لی جاتی ہیں، نہ کہ دکھاوے کے لیے۔
آخر میں، یہی کہوں گا کہ یہ محلہ، یہ کردار، اور یہ کہانیاں ہمیں سکھاتی ہیں کہ کبھی کبھار زندگی کے چھوٹے تماشے ہی اصل خوشی کا سبب بنتے ہیں۔ اور جب ہم ان تماشوں کو دیکھتے ہیں، تو سمجھ آتا ہے کہ شاید زندگی بس ایک مزاحیہ ڈرامہ ہے، جس میں ہر شخص اپنے ‘پارٹ’ کی ریہرسل کیے بغیر آتا ہے۔ اور ہم سب، ان تماشوں کے بیچ، دل میں کہیں سوچتے ہیں کہ ‘کاش ہم بھی اسی محلے کا حصہ ہوتے، جہاں زندگی ہنسی کے قہقہوں اور دل کی باتوں کے درمیان جیتی جاتی ہے، نہ کہ موبائل کی اسکرین پر۔
محلے کی یہی خوبصورتی ہے، کہ جب سب کچھ ختم ہو جاتا ہے اور ہم اپنی حقیقتوں کی طرف لوٹتے ہیں، تب بھی محلے کے یہ کردار اور ان کی کہانیاں ہمارے دلوں میں ایک نرم مسکراہٹ چھوڑ جاتی ہیں۔ کیونکہ آخر میں، زندگی کا یہی تماشہ ہے، اور محلے کی کہانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ خوشی وہی ہے جو بانٹی جائے، قہقہے وہی ہیں جو دل سے لگائے جائیں، اور زندگی… وہی ہے جو ہنس کر جیتی جائے۔
Like this:
Like Loading...