Skip to content
بنگلہ دیشی دیمک اور امریکی ڈنکی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
انتخابی میدان میں امیت شاہ کی حالت جب پتلی ہوتی ہے ان کی زبان پھسلنے لگتی ہے۔ جھارکھنڈ میں عنقریب انتخابات ہونے والے ہیں۔ گزشتہ ماہ 20 ستمبر کو شاہ گنج کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے سورین سرکارپر الزام لگادیا کہ وہ تارکین وطن (ان کے بقول دراندازوں) کو ریاست پر قبضہ کرنے کا موقع دےرہی ہے ۔امیت شاہ کےالفاظ تھے ، ’ایک بار جھارکھنڈ کی سرکار بدل دو۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی چن چن کر روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازوں کو جھارکھنڈ سے باہر بھیجنے کا کام کرے گی۔ یہ ہماری تہذیب کو تباہ کر رہے ہیں۔ وہ ہماری املاک پر قبضہ کر رہے ہیں۔‘ انتخابی کامیابی کے لیے ہندو مسلمان کے کھیل کا یہ گھسا پٹاحربہ ہے۔ امیت شاہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’دراندازی کرنے والے لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل، راہل بابا کی کانگریس اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ووٹ بینک ہیں۔ ووٹ بینک کے ڈر سےوہ دراندازی کو نہیں روکتے‘‘۔
حقیقت یہ ہےکہ سرحد سے در اندازی روکناحزب اختلاف کا نہیں خود امیت شاہ کا کام ہے اس لیے وہ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا’ جھارکھنڈ میں دراندازی اسی طرح جاری رہی تو 25-30 سالوں میں یہاں دراندازی کرنے والوں کی اکثریت ہو جائے گی‘‘۔ مغربی بنگال میں بھی امیت شاہ نے ممتا بنرجی پر ایسے ہی الزام لگاکر لوگوں ڈرایا تھا۔ جوش خطابت میں شاہ جی یہاں تک بول گئے کہ ’ بی جے پی ‘بنگلہ دیشی دراندازوں’ کو الٹا لٹکا کر ان سے نمٹے گی۔ وہ ہر بنگلہ دیشی درانداز کو سبق سکھانے کے لیے اسے الٹا لٹکا دے گی ‘۔ مغربی بنگال کےعوام نے امیت شاہ سمیت بی جے پی کو الٹا لٹکا لوٹا دیا وہی جھارکھنڈ میں ہوسکتا ہے جہاں موصوف زور دے کر کہہ رہے تھے،’ ’ضلع پاکوڑ میں ہندوؤں اور قبائلیوں سے جھارکھنڈ چھوڑنے کے لیے نعرے لگائے جا رہے ہیں‘‘۔ پھر سوال یہ کہ اگراس طرح کے نعرے لگ رہے ہیں تو کیا ان کی وزارت داخلہ چوڑیاں پہن کر بھاڑ جھونک رہی ہے۔ وہ اس پر سخت کارروائی کرنے کے بجائے محض انتخابی بھاشن بازی کیوں کررہے ہیں؟
شاہ صاحب کہتے ہیں ’’ اگر عوام جھارکھنڈ میں ان کی پارٹی کو اقتدار کے لیے منتخب کرتے ہیں تو ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہوگی ” جموں کشمیر کے عوام نے ابھی حال میں بی جے پی کی یہ خوش فہمی دور کردی کہ اس کے سارے حریف ملک دشمن نہیں ہیں مگر بیچارے امیت شاہ کے پاس اس جھوٹ کی ڈگڈگی کے سوا کچھ نہیں ہے جس کو بجا کر وہ ووٹ بٹورسکیں ۔ امیت شاہ کا سب مضحکہ خیز سوال تھا ’’مجھے بتائیں کہ یہ زمین آدی واسیوں کی ہے یا روہنگیا اور بنگلہ دیشی دراندازوں کی ہے؟ جھارکھنڈ کو کوئی نہیں بچا سکتا، نہ جے ایم ایم اور نہ ہی کانگریس۔ اسے صرف وزیر اعظم نریندر مودی ہی بچا سکتے ہیں۔‘ امیت شاہ سے تویہ پوچھا جانا چاہیے کہ آخر آدیباسیوں کی زمینیں ان سے چھین کر سرمایہ داروں کو کون بیچ رہا ہے ؟ وزیر اعظم نریندر مودی کا گوتم اڈانی سے رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ جب آدیباسی اس نقل مکانی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کو نکسلی قرار دے کر کون مار دالتا ہے؟ آدیباسی علاقوں میں نکسلی تحریک کیوں پھل پھول رہی ہے؟قبائلی لوگ بی جے پی کے بجائے ان کو اپنا خیر خواہ کیوں سمجھتے ہیں؟ دس سالوں تک مرکز میں حکومت کرنے کے باوجود مودی سرکارقبائلی عوام کو دراندازوں سے ڈرانے پر مجبور کیوں ہے؟
ایک سوال یہ بھی ہے کہ نرمدا جیسے ڈیم بناکر گجرات میں آب رسانی کی خاطر مدھیہ پردیش کے اندر قبائلی زمینوں پر بڑے بڑے باندھ بناکر ادیباسیوں کو کون بے گھر کررہا ہے؟ اور ان کے حقوق کی خاطر لڑنے والی میدھا پاٹکر سے کس کو دشمنی ہے؟ خود ساختہ قوم پرستوں کے پاس ایسے بے شمار سوالات کا کوئی جواب نہیں ہے۔دراندازی شاہ جی کا پرانا راگ ہے۔ستمبر 2018 میں انہوں نے راجستھان کے سوائی مادھو پور کی ریلی میں کہا تھاکہ بنگلہ دیشی درانداز دیمک کی طرح ہیں اور یہ ہمارے انتخابی نظام کو کھائے جارہے ہیں لیکن این آر سی کے ذریعے 40لاکھ دراندازوں کی شناخت کا کام کیاگیا۔امیت شا ہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 2019کے عام انتخابات کے بعد بی جے پی دوبارہ اقتدار میں آکرہر درانداز کو ووٹنگ لسٹ سے باہر کردے گی ۔وہ خواب تو شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا مگر 2024میں 400کاسپنا دیکھنے والے مونگیری لال 240 پر آگئے۔امیت شاہ نے ہیمنت سورین پر بدعنوانی کا الزام بھی لگایا لیکن اگر وہ جیل جانے کے بجائےاجیت پوار کی طرح ان کے پالے میں آجاتے تو موصوف ان کوراجہ ہریش چندر کے لقب سے نوازتے ۔
یہ تصویر کا دیمک والا رخ ہے اب آئیے اس کا ڈنکی چہرا دیکھیں۔ فی الحال امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی وہاں غیر قانونی طور پر مقیم ہندوستانی شہریوں کو حراست میں لے کر ملک بدر کررہی ہے ۔ ۲۲؍اکتوبر کو ایک خصوصی طیارے کے ذریعہ ہندوستانی دراندازوں واپس بھیجاگیا ۔ امریکہ کے اندر وہ ایک حقیقت اور ہندوستان میں محض انتخابی فسانہ اس لیے یہاں بیان بازی اوروہاں عمل در آمدہوتاہے۔ اس سال جون سے ڈی ایچ ایس نے ۱یک لاکھ 60؍ ہزارسے زیادہ افراد کو لو ٹایا جو 2010ءکے بعد سب سے بڑی تعداد ہے ۔محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی نےاعتراف کیا کہ ہندوستانی حکومت ان کے ساتھ تعاون کررہی ہے یعنی شاہ جی نے گویا ان ہندوستانیوں کو امریکہ میں درانداز تسلیم کرلیا ۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد صدارتی انتخاب کے موقع پر سبوتاژ کی سرگرمیوں کی روک تھام بتایا گیا ۔ یعنی جو الزام امیت شاہ دوسروں پر لگا رہے تھے وہ خود اپنے شہریوں لگ گیا ۔
ان غیر قانونی باشندوں میں امریکی سرزمین پر ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد رہنے والے ہندوستانی بھی شامل تھے ۔ امریکی سرکار کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023ء سے ستمبر 2024 کے درمیان میکسیکو یا کنیڈا سے امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے تقریباً 29 لاکھ غیر دستاویزی تارکین وطن پکڑے گئےان میں 90 ہزار 415 ہندوستانی تھے۔ اس طرح گویا گزشتہ 12 ماہ کے دوران ہر گھنٹےامریکی سرحد پر 10ہندوستانی شہریوں کو میکسیکو یا کنیڈا کی سرحد سے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔ اس سے پہلے والےسال 96ہزار 917 ہندوستانیوں نے غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ ایک طرف تو حکومتِ ہند پڑوسی ممالک سے غیر مسلمین کو سی اے اے کے تحت ہندوستان میں شہریت دینے کا احسان کررہی ہے اور اس کے برخلاف مختلف راستوں سے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ہندوستانی امریکہ اور دوسرے ممالک فرار ہورہے ہیں ۔
اس سال کے امریکی اعداد و شمار چونکانے والے ہیں۔ ان پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے 25ہزار 616 ہندوستانی، میکسیکو سے امریکہ کی جنوب مغربی سرحد سے غیر قانونی طور پر داخل ہوئے جبکہ 43 ہزار 764 ہندوستانی کنیڈا کی شمالی سرحد سے پہنچے۔ ان میں 78 ہزار 312تو خیر غیر شادی شدہ بالغ تھے لیکن 11 ہزار 531؍ افراد نے اپنے خاندان کے ساتھ یہ خطرہ مول لیا اور 500 سے زیادہ نابالغ بچوں کو بھی ساتھ لے گئے۔ سوال یہ ہے کہ سمراٹ مودی کی قیادت میں اگر ہندوستان سنہری دور میں داخل ہورہا ہے تو اتنی بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری ملک چھوڑ کر کیوں بھاگ رہے ہیں؟ اپنے ہر امریکی دورے کے وقت وزیر اعظم نریندر مودی ٹھمکنے مٹکنے والوں کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز تو جاری کرتے ہیں مگر ان بیچاروں کی خبر گیری نہیں کی جاتی ۔ راہل گاندھی نے ملاقات کرکے ان کے مسائل پیش کیے مگر ہریانہ کے لوگوں اسے قابل اعتناء نہیں سمجھا۔ ہم ہندوستانی شاہ رخ خان کی ’پٹھان ‘ اور ’جوان‘ میں تو خوب دلچسپی لیتے ہیں مگر ارجن ہنگورانی کی بہترین فلم ’ڈنکی‘ کی جانب سے رخ پھیر کر اسے فلاپ کردیتے ہیں ۔ اسی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر امیت شاہ جیسے لوگ دراندازی کا جعلی بیانیہ گھڑ کر انتخاب جیت جاتے ہیں ۔
2021میں امیت شاہ کے’’بنگلہ دیشیوں کو اپنے ملک میں کھانا نہ ملنے پر دراندازی ‘‘کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حسینہ واجد کے وزیر خارجہ اے کے عبد المومن نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش سے متعلق ہندوستانی وزیر داخلہ کا علم بہت محدود ہے ۔ بنگلہ دیش میں بھوک سے کوئی نہیں مرتا ہے‘‘۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے بھکمری کی فہرست میں بنگلہ دیش کی حالت ہندوستان سے بہت بہتر ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر خارجہ نے آئینہ دکھاتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ بنگلہ دیش میں تقریبا 90 فیصد لوگ اچھی قسم کے بیت الخلاء کا استعمال کرتے ہیں جبکہ بھارت کی 50فیصد سے بھی زیادہ آبادی آج بھی ٹوائلٹ کی سہولیات سے محروم ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں اعلی تعلیم یافتہ افراد کے لیے روزگار کی کمی ضرور ہے تاہم متوسط درجے کے تعلیم یافتہ افراد کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ انکشاف کرکے کہ ’’ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہندوستانی شہری بنگلہ دیش میں کام کرتے ہیں۔ ہمیں بھارت جانے کی کیا ضرورت نہیں ہے‘‘ عبدالمؤمن نے امیت شاہ کو بالکل ہی برہنہ کردیا تھا لیکن عام ہندوستانی کی یادداشت کمزور ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ اور مودی حقیقی ڈنکی کو چھپا کر اورخیالی دیمک سے خوفزدہ کرکے اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...