Skip to content
مہاراشٹر میں مسلمانوں, غریبوں اور کسانوں کے لیے انتخابی منشور
از: شیخ سلیم،ممبئی
یہ منشور مساوات، فلاح و بہبود، اور مہاراشٹر کے مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقوں کی ترقی کے لیے ضروری اقدامات کو اجاگر کرتا ہے۔ ان نکات کا مقصد تعلیم، صحت، اقتصادی ترقی، نمائندگی، اور سماجی انصاف کو فروغ دینا ہے۔
1. تعلیمی ترقی
تعلیم کے لیے مزید فنڈنگ: مسلم اکثریتی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مخصوص فنڈز فراہم کیے جائیں، تاکہ تمام سطحوں پر معیاری تعلیم کی رسائی ممکن ہو سکے۔
اسکالرشپ فنڈز: مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو بحال اور وسعت دی جائے تاکہ مسلم نوجوانوں کو اسکالرشپ اور تعلیمی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
لائبریریاں اور کمیونٹی سینٹرز: مسلم علاقوں میں لائبریریاں اور کمیونٹی سینٹرز قائم کیے جائیں تاکہ تعلیم اور ترقی کی فضا قائم ہو۔
تعلیم میں ریزرویشن: اعلی تعلیمی اداروں میں منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ریزرویشن کی پالیسیوں کا نفاذ کیا جائے۔
2. صحت کی سہولتیں اور خواتین کی فلاح و بہبود
صحت کی سہولتوں کے لیے فنڈنگ: پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں اور بنیادی اور ثانوی صحت کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے پروگرام: خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے فنڈنگ میں اضافہ کیا جائے، جس میں تربیت، ماں کی صحت اور مالی آزادی پر توجہ دی جائے۔
3. نمائندگی اور سیاسی حقوق
حکومت میں نمائندگی میں اضافہ: مہاراشٹر اسمبلی، مقامی اداروں اور دیگر حکومتی اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کیا جائے تاکہ سب کی شمولیت سے حکومت چلائی جا سکے۔
4. کسانوں کی مدد
قرضوں کی معافی: چھوٹے اور پسماندہ کسانوں کے مالی دباؤ کو دیکھتے ہوئے قرضوں کی معافی دی جائے۔
بلا سود قرضے: زرعی سرگرمیوں کے لیے بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ کسانوں کو اپنی فصلوں میں سرمایہ کاری میں سہولت ہو۔
وسائل کی رسائی: بیج، کیڑے مار دوائیں، کولڈ اسٹوریج اور مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ کسانوں کی پیداوار بڑھے اور اخراجات کم ہوں۔
5. مزدور طبقے کے حقوق
غیر منظم شعبے کے لیے پروویڈنٹ فنڈ: غیر منظم شعبوں کے مزدوروں جیسے ریڑھی والے، ڈیلیوری ورکرز، اور بھیونڈی و مالے گاؤں کے روایتی کاریگروں کے لیے پروویڈنٹ فنڈز لازمی کیے جائیں۔
ملازمت میں ریزرویشن: سرکاری و نجی اداروں میں مسلمانوں کی منصفانہ نمائندگی کے لیے پالیسی بنائی جائے تاکہ آمدنی میں عدم مساوات کو دور کیا جا سکے۔
6. مذبح خانوں کا مسئلہ
مذبح خانوں کا قانونی حل: غیر منظم مذبح خانوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان اضلاع میں قانونی سہولتیں فراہم کی جائیں جہاں یہ موجود نہیں، جس سے بدعنوانی میں کمی اور گوشت کے کاروبار سے منسلک افراد( قریش برادری) کی زندگی میں بہتری آئے گی۔
7. اردو کو سرکاری زبان کی حیثیت دینا
اردو کو مہاراشٹر کی دوسری زبان کے طور پر تسلیم کیا جائے: اردو کو مہاراشٹر کی سرکاری زبان تسلیم کیا جائے، جس سے اس زبان کی ثقافتی وراثت کی ترویج ہو اور اسے انتظامی اور تعلیمی اداروں میں مناسب مقام دیا جائے۔اُردو دوسری سرکاری زبان قرار دینے سے لاکھوں افراد کو نوکری مل سکے گی۔ فلحال کتنے مسلمان سرکاری نوکریوں میں ہے اس کیا کوئی اعداد و شمار سرکار نے جاری نہیں کیا ہے۔
8. کچی آبادیوں (جھونپڑپٹی) کا فوری ڈیویلپمنٹ
کچی آبادیوں کی بحالی میں ترجیح: میٹرو اور چھوٹے شہروں میں کچی آبادیوں کی بحالی کو ترجیح دی جائے، تاکہ کم وسائل والے علاقوں میں رہائش کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
9. زمین کے حقوق اور زرعی اصلاحات
بے زمین لوگوں کے لیے زمین: بے زمین افراد کے لیے گھروں اور زرعی مقاصد کے لیے زمین فراہم کی جائے اور پسماندہ طبقوں کے لیے زرعی اصلاحات کو حکومت کی اولین ترجیح بنائی جائے۔
یہ منشور سماجی مساوات، اقتصادی ترقی، اور ثقافتی شناخت کے ستونوں پر مبنی ہے۔ ان اقدامات کے نفاذ سے ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے خواہاں ہیں جہاں ہر فرد، بلا تفریق، مہاراشٹر کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے مساوی مواقع رکھتا ہو۔اُمید ہے سبھی پارٹیوں کے لئے یہ قابل قبول ہوگا اور کوئی بھی اسکی مخالفت نہیں کرےگا۔
Like this:
Like Loading...