Skip to content
قرآن میں یہودیوں کا تذکرہ
اور اسلام کے ساتھ ان کا رؤیہ
✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)
📱09422724040
┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈
═✧═✧═
قرآنِ کریم، مسلمانوں کے بنیادی مذہبی عقائد، تاریخ اور یہودیوں کے ساتھ تعلقات کو سمجھنے میں اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن میں بنی اسرائیل کا بارہا تذکرہ آیا ہے اور انہیں دی جانے والی عظیم نعمتوں کے ساتھ ساتھ ان کی نافرمانیوں اور عہد شکنی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل تحریر میں قرآن کی آیات کی روشنی میں یہودیوں کے اسلام کے ساتھ رویے، معاہدات توڑنے اور رسول اللّٰہﷺ کے ساتھ ان کے تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
1. یہودیوں کو دی جانے والی نعمتیں اور ان کی نافرمانی
اللّٰہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بے شمار نعمتیں نازل کیں، جن میں سب سے بڑی نعمت انبیاء کی بعثت، تورات کی شکل میں وحی کا نزول اور دوسری ہدایات شامل تھیں۔ انہیں اللّٰہ تعالیٰ نے سیدھی راہ دکھانے کے لیے ہدایت اور حکمت سے نوازا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے اللّٰہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے نافرمانی، سرکشی اور حق سے انکار کا راستہ اختیار کیا۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللّٰہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان نعمتوں کی یاد دہانی کرائی ہے اور ان کی نافرمانی اور سرکشی پر تنبیہ کی ہے۔
نعمتوں کا تذکرہ:
اللّٰہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انعامات کی وضاحت کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ انہیں دیگر قوموں پر فضیلت دی گئی تھی۔ سورۃ البقرہ کی آیت 47 میں ارشاد ہوتا ہے: "اے بنی اسرائیل! میری اُس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی، اور یہ کہ میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی”۔ یہ فضیلت بنی اسرائیل کو اسی وقت تک حاصل تھی جب تک وہ اللّٰہ کی اطاعت اور انبیاء کی تعلیمات پر کاربند رہے۔ بنی اسرائیل کو تورات جیسی عظیم کتاب عطا کی گئی، جس میں ہدایت کے اصول، معاشرتی قوانین اور روحانی تربیت کے پہلو بیان کیے گئے تھے۔
انبیاء کی بعثت:
سورۃ المائدہ، آیت 20-21 میں بیان کیا گیا ہے کہ: "اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! اللّٰہ کا انعام اپنے اوپر یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی بنائے، تمہیں حکمران بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہیں دیا”۔ یہ آیات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مسلسل انبیاء بھیجے جو انہیں دین کی تعلیم دیتے رہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے انہیں عظیم ہدایات ملیں، اور ان کے بعد بھی انبیاء آتے رہے تاکہ بنی اسرائیل کو گمراہی سے بچایا جا سکے۔
نافرمانی اور سرکشی:
بنی اسرائیل نے اللّٰہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے انبیاء کی تعلیمات سے انحراف کیا۔ ان کی نافرمانی اور سرکشی کی مختلف صورتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، مثلاً:
1. شرک اور بدعتیں: بنی اسرائیل نے مختلف اوقات میں اللّٰہ کے بجائے دیگر معبودوں کو پوجنا شروع کیا، جیسے بچھڑے کی پرستش۔
2. انبیاء کے ساتھ بدسلوکی: بنی اسرائیل نے اپنے انبیاء کا انکار کیا اور بعض کو تو قتل بھی کیا، جیسا کہ سورۃ البقرہ، آیت 61 میں آیا ہے۔
3. احکام میں تبدیلی: انہوں نے اللّٰہ کے احکام میں من مانی کی اور ان کی غلط تشریح کرتے ہوئے اپنے قوانین بنا لیے، جس سے ان کی سرکشی ظاہر ہوئی۔
انجام اور تنبیہ:
بنی اسرائیل کو مسلسل تنبیہ کی گئی کہ اگر انہوں نے اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو انہیں دنیا و آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سورۃ الاعراف اور سورۃ المائدہ میں ان کی سرکشی اور اس کے نتیجے میں ان پر عائد ہونے والے عذاب کا ذکر کیا گیا ہے۔
قرآن میں بنی اسرائیل کے حالات اور ان کی سرکشی کو بیان کرنے کا مقصد مسلمانوں کو یہ سبق دینا ہے کہ اللّٰہ کی نعمتیں بھی آزمائش ہوتی ہیں، اور ان کا شکر ادا کرنا ہر مؤمن پر لازم ہے۔ بنی اسرائیل کی نافرمانی کا انجام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللّٰہ کی ہدایت کو نظر انداز کرنا اور سرکشی اختیار کرنا دنیا و آخرت میں نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح، بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہمارے لیے ایک درس اور عبرت موجود ہے کہ اللّٰہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ہمیشہ اس کی ہدایت اور انبیاء کی تعلیمات پر کاربند رہنا چاہیے۔
2. یہودیوں کا رویہ: معاہدات توڑنا اور نبیوں کی مخالفت
قرآن کریم میں یہودیوں کی عہد شکنی اور انبیاء کی مخالفت کو بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں مختلف مواقع پر ہدایت کی، لیکن انہوں نے اللّٰہ سے عہد شکنی اور پیغمبروں کی سرکشی و نافرمانی کا راستہ اپنایا۔ ان کی سرکشی اور نافرمانی کی تفصیلات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ رویے نہ صرف اللّٰہ کی نافرمانی تھے بلکہ ان کی اخلاقی اور دینی کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
معاہدات توڑنا اور عہد شکنی:
قرآن کی سورۃ البقرہ، آیت 100 میں اللّٰہ تعالیٰ یہودیوں کی عہد شکنی کو یوں بیان کرتا ہے: "کیا ان (یہودیوں) کے ساتھ جب کبھی کوئی عہد کیا، ان میں سے ایک فریق نے اسے پھینک دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں رکھتے۔”
یہ آیت بنی اسرائیل کے اس رویے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب بھی ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا گیا، انہوں نے اسے توڑ دیا۔ ان کی عہد شکنی کا سب سے بڑا سبب ایمان کی کمزوری اور دلوں میں حق کی روشنی کا نہ ہونا تھا۔ اس عہد شکنی کی مختلف مثالیں ہیں، جیسے:
اللّٰہ کے ساتھ عہد توڑنا: اللّٰہ نے ان سے وعدہ لیا کہ وہ اس کی اطاعت کریں گے اور اس کے احکام کی پابندی کریں گے، مگر بار بار انحراف کیا۔
پیغمبروں کے ساتھ عہد شکنی: بنی اسرائیل نے نہ صرف اللّٰہ کے احکام کو توڑا بلکہ انبیاء کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو بھی پامال کیا۔ جب انبیاء نے انہیں ہدایت دی تو انہوں نے بجائے اس پر عمل کرنے کے، مخالفت شروع کی اور بعض کو قتل بھی کیا۔
انبیاء کی مخالفت اور نافرمانی:
سورۃ البقرہ، آیت 61 بنی اسرائیل کے اس رویے کو بیان کرتی ہے جب انہوں نے اللّٰہ کی دی ہوئی نعمتوں پر قناعت کرنے کے بجائے مزید مطالبات کیے: "اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے، پس ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ وہ ہمیں پیداوار میں سے کچھ دے جیسے زمین سے اگنے والی سبزی، ککڑی، گندم، مسور، اور پیاز، تو موسیٰ نے کہا: کیا تم وہ چیزیں طلب کرتے ہو جو بہتر ہیں؟ جاؤ کسی بستی میں اور جو تم چاہتے ہو وہ مل جائے گا”۔
یہ آیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بنی اسرائیل کو اللّٰہ نے من و سلویٰ جیسی پاکیزہ نعمتیں عطا کیں، جو مخصوص حالات میں ان کے لئے خصوصی احسان تھا، مگر ان لوگوں نے اس پر اکتفا نہیں کیا اور معمولی چیزوں کا مطالبہ شروع کر دیا۔ ان کا یہ رویہ نافرمانی اور شکر گزاری کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے انہیں باور کروایا کہ ان کا یہ مطالبہ درحقیقت اللّٰہ کی عطا کردہ بہترین چیزوں کی ناشکری ہے اور دنیا کی کم تر چیزوں کی طلب کرنا ان کی ایمانی کمزوری کا اظہار ہے۔
بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور انبیاء کی مخالفت مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ اللّٰہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کے دیے ہوئے احکام پر پورے ایمان کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے رویے کو ذکر کرکے مسلمانوں کو تنبیہ دی ہے کہ اگر وہ بھی اللّٰہ کے احکام اور نبی کی تعلیمات سے انحراف کریں گے تو انہیں بھی بنی اسرائیل کی طرح اللّٰہ کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہودیوں کا عہد شکنی اور نافرمانی کا رویہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللّٰہ کی اطاعت اور انبیاء کی تعلیمات کی پیروی انسان کی فلاح اور کامیابی کے لئے ضروری ہیں۔ قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے حالات بیان کرنے کا مقصد مسلمانوں کو عبرت دلانا ہے تاکہ وہ ان غلطیوں سے بچیں اور اللّٰہ کے راستے پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
3. مدینہ میں یہودی قبائل کا کردار اور معاہدات کی خلاف ورزی
مدینۂ منورہ میں رسول اللّٰہﷺ کے تشریف لانے کے بعد مسلمانوں اور یہودی قبائل کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے میثاقِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد مختلف قبائل اور گروہوں کے درمیان امن و امان قائم کرنا، مدینہ کی حفاظت کرنا، اور آپسی اختلافات کو ختم کرنا تھا۔ معاہدے میں مسلمانوں کے ساتھ یہودی قبائل، خاص طور پر بنی قریظہ، بنی نضیر، اور بنی قینقاع شامل تھے۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان یہودی قبائل نے اس معاہدے کی بارہا خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں شروع کیں۔
بنی قینقاع کی عہد شکنی:
بنی قینقاع مدینہ کے یہودیوں میں سے وہ پہلا قبیلہ تھا جس نے رسول اللّٰہﷺ سے معاہدہ کیا۔ یہ قبیلہ بنیادی طور پر سنار اور کاریگر تھا، اور مسلمانوں سے اقتصادی تعلقات بھی رکھتا تھا۔ لیکن جلد ہی انہوں نے معاہدے کو توڑ دیا، اور ان کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ تضحیک آمیز اور دشمنانہ ہو گیا۔ بنی قینقاع کی عہد شکنی کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے: بنی قینقاع کے ایک یہودی نے ایک مسلمان عورت کے ساتھ بدسلوکی کی، جس پر ایک مسلمان نے اس کا دفاع کیا، اور اس جھگڑے میں ایک مسلمان اور ایک یہودی مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد بنی قینقاع نے اپنی عہد شکنی کا اظہار کرتے ہوئے کھلے عام مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی۔ جب رسول اللّٰہﷺ کو ان کی عہد شکنی کی خبر ملی، تو آپﷺ نے انہیں مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ آخرکار انہیں مدینہ سے نکال دیا گیا اور یہ قبیلہ خیبر کی طرف چلا گیا۔
بنی نضیر کی عہد شکنی:
بنی نضیر بھی مدینہ کا ایک یہودی قبیلہ تھا جو مالدار اور طاقتور تھا۔ یہ لوگ شروع میں مسلمانوں کے ساتھ تھے، مگر بعد میں مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے اور ان کے خلاف سازشوں میں شامل ہو گئے۔ بنی نضیر نے مسلمانوں کے خلاف مختلف سازشیں کیں، جن میں سے ایک بڑی سازش یہ تھی کہ رسول اللّٰہﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ایک مرتبہ جب رسول اللّٰہﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے ایک بڑی چٹان گرا کر آپﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اس سازش سے بچا لیا۔ ان کی اس سازش کے بعد رسول اللّٰہﷺ نے انہیں مدینہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ بنی نضیر کو مدینہ چھوڑ کر خیبر میں منتقل ہونا پڑا۔
بنی قریظہ کی عہد شکنی:
بنی قریظہ نے غزوۂ احزاب کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو توڑ دیا۔ یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں یہودی قبائل کی سب سے سنگین عہد شکنی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر خیانت کا مظاہرہ کیا۔ جب مشرکینِ مکہ اور ان کے اتحادی قبائل نے مدینہ کا محاصرہ کیا تو مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ اس نازک موقع پر بنی قریظہ نے معاہدہ توڑ کر دشمنوں سے سازباز شروع کر دی اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس عہد شکنی نے مدینہ میں مسلمانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ پیدا کر دیا، کیونکہ بنی قریظہ نے شہر کے اندر سے دشمنوں کی مدد کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔ جب غزوۂ احزاب کا محاصرہ ختم ہوا تو رسول اللّٰہﷺ نے ان کے خلاف کارروائی کی۔ ان کی عہد شکنی کے سبب انہیں ان کے جرم کے مطابق سزا دی گئی۔
یہودی قبائل کی عہد شکنی کا مدینہ کی اسلامی ریاست پر نہایت منفی اثر پڑا۔ مسلمانوں نے ابتدا میں انہیں ایک معاہدے کے ذریعے امن میں شامل کیا، مگر ان قبائل نے ایک کے بعد ایک معاہدے کو توڑ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ:
امن و امان کا خاتمہ: یہودی قبائل کی سازشوں اور عہد شکنی نے مدینہ میں بدامنی اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کی۔
مسلمانوں کا اتحاد اور حکمت عملی: ان حالات میں رسول اللّٰہﷺ نے نہایت دانشمندی اور حکمت سے ان قبائل کی سازشوں کا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو اتحاد کا درس دیا۔
یہودی قبائل کی عہد شکنی اور ان کے رویے مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ دشمن کے ساتھ معاہدات کرتے وقت ہمیشہ احتیاط سے کام لیا جائے۔ میثاق مدینہ میں ہونے والے معاہدات اور ان کی خلاف ورزیوں کا ذکر مسلمانوں کو یہ بتانے کے لیے ہے کہ اللّٰہ کے دین پر ثابت قدم رہنا اور کسی بھی معاہدے کو توڑنے سے بچنا ضروری ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان واقعات کو قرآن میں بیان کر کے مسلمانوں کو تنبیہ دی ہے کہ عہد کی پاسداری اور معاہدات کو پورا کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
4. یہودیوں کی طرف سے رسول اللّٰہﷺ کی مخالفت
قرآن پاک میں یہودیوں کی جانب سے رسول اللّٰہﷺ کے دینِ حق کو قبول کرنے کے بجائے رسول اللّٰہﷺ کی مخالفت اور حسد و بغض کا ذکر موجود ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے یہودیوں کے رویے اور ان کے مکر و فریب کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دین حق کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور مسلمانوں کو ایمان سے ہٹانے کی کوششیں کرتے رہے۔ انہوں نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دینِ اسلام کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
حسد اور بغض:
یہودیوں کے لیے اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر مسلمان ہونے کے باوجود چاہتے تھے کہ مسلمان اپنے ایمان سے پھر جائیں۔ سورۃ البقرہ، آیت 109 میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "یہود میں سے اکثر تو یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں، اپنی جانوں میں حسد کی وجہ سے، اس کے باوجود کہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے”۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہودیوں کو حسد تھا کہ نبوت ان کے بجائے عربوں میں سے ایک غیر یہودی قوم کو ملی۔ اس حسد اور بغض نے انہیں حق بات تسلیم کرنے سے روکا، اور وہ رسول اللّٰہﷺ اور اسلام کو نقصان پہنچانے کے درپے رہے۔
کلمات کی تحریف:
یہودی علماء اور سردار اپنے دین کے کلمات کو تبدیل کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے اور حقائق کو چھپاتے تھے۔ انہوں نے تورات کی تعلیمات میں تحریفات کیں تاکہ ان کے مفادات کو پورا کیا جا سکے۔ سورۃ النساء، آیت 46 میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "یہودیوں میں کچھ ایسے ہیں جو کلمات کو ان کی جگہ سے پھیر دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں: ہم نے سنا اور نافرمانی کی، اور سن اور تو نہ سنا جائے۔ اور اپنی زبانیں مروڑ کر دین پر طعنہ زنی کرتے ہوئے کہتے ہیں: سنبھالو ہمیں۔ اگر وہ کہتے: ہم نے سنا اور مان لیا، اور سن اور ہمیں دیکھ، تو ان کے حق میں بہتر اور صحیح ہوتا۔ لیکن اللّٰہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کی، اس لیے یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں”۔ اس آیت میں یہودیوں کی عادت بیان کی گئی ہے کہ وہ نبیوں کی تعلیمات کو بگاڑ کر پیش کرتے تھے، اور یہی رویہ انہوں نے اسلام کے ساتھ بھی اپنایا۔ وہ دین اسلام اور رسول اللّٰہﷺ کا مذاق اڑانے کے لیے الفاظ کا استعمال کرتے اور تحریف شدہ کلمات کی صورت میں مسلمانوں کے دین پر اعتراضات کرتے۔
زبان کا مروڑنا اور طنزیہ طرزِ عمل:
یہودی، رسول اللّٰہﷺ کی توہین کرنے اور مسلمانوں کے دین میں طنز و استہزاء کرنے کے لیے الفاظ کو مروڑ کر استعمال کرتے تھے۔ وہ قرآن اور احادیث کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے اور دین اسلام کی سچائی کو جھٹلانے کی کوشش کرتے۔ "سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا” (ہم نے سنا اور نافرمانی کی) کہہ کر یہودی جان بوجھ کر اللّٰہ کے احکامات کا مذاق اڑاتے اور اپنی ضد و عناد کا اظہار کرتے۔ اس طرزِ عمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف اللّٰہ کی آیات کی مخالفت کرتے بلکہ اپنے اعمال سے رسول اللّٰہﷺ کی رسالت اور اللّٰہ کے دین کا مذاق اڑاتے تھے۔
ایمان میں رکاوٹ ڈالنا:
یہودیوں کی یہ کوشش تھی کہ مسلمان دین اسلام پر مضبوطی سے نہ رہیں اور ان کے ایمان کو کمزور کریں۔ ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان دوبارہ کفر کی طرف پلٹ جائیں۔ یہ ان کے دلوں میں موجود حسد، عناد اور بغض کی ایک اہم وجہ تھی کہ نبوت بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں کیوں دی گئی۔ قرآن پاک نے واضح طور پر بیان کیا کہ یہودی اپنے علم اور تورات میں نبیﷺ کی نشانیوں کو جاننے کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے تھے، بلکہ ان کے دلوں میں عناد اور حسد کا زہر بھرا ہوا تھا۔
اسلامی تعلیمات سے دوری اور کفر:
یہودی نہ صرف رسول اللّٰہﷺ کے مخالف تھے بلکہ اسلام کی تعلیمات کو بھی شک و شبہات میں ڈالتے تھے۔ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی خاطر اللّٰہ کے احکامات کی پیروی کرنے سے انکار کیا، جس کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ نے ان پر لعنت بھیجی۔ آیت میں لعنت کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہودیوں کے کفر اور نافرمانیوں کی وجہ سے انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا۔
یہودیوں کی جانب سے رسول اللّٰہﷺ کی مخالفت، ان کی دین اسلام کے خلاف سازشیں، اور ان کا تحریف شدہ رویہ تاریخ میں ایک سبق کے طور پر موجود ہے۔ انہوں نے دین اسلام کے پیغام کو ماننے کے بجائے اپنی ذاتی خواہشات اور حسد کو مقدم جانا۔ قرآن پاک ان کے اس طرزِ عمل کی نہ صرف مذمت کرتا ہے بلکہ مسلمانوں کو اس بات کی تنبیہ بھی دیتا ہے کہ ان کے رویے سے سبق حاصل کریں اور اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں۔
5۔ یہودیوں کے ساتھ تعلقات میں اسلامی اصول
اسلام میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات اور دوستی کے بارے میں واضح اصول وضع کیے گئے ہیں، جن کا مقصد امن و انصاف کا قیام ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کو اس بات کی بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان کے ساتھ تعلقات میں احتیاط سے کام لیں، خاص طور پر ان کی سازشوں اور عداوت سے بچنے کے لیے۔ قرآن نے یہود و نصاریٰ کے ساتھ تعلقات میں ایک معتدل اور حکمت بھری راہ اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے، جہاں تعاون اور احترام کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر ساتھ ہی ان کی نیت اور سازشوں سے آگاہ رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
اسلام کا عمومی اصول: عدل و انصاف اور احترام
اسلام نے تمام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک، عدل و انصاف اور باہمی احترام کی تعلیم دی ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔ قرآن میں کہا گیا ہے: سورۃ الممتحنہ، آیت 8: "اللّٰہ تمہیں ان لوگوں کے بارے میں منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے ہیں کہ تم ان سے احسان کرو اور ان کے ساتھ انصاف کرو، بے شک اللّٰہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے”۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے ان غیر مسلموں کے ساتھ اچھے تعلقات کی اجازت دی ہے جو مسلمانوں کے خلاف دشمنی یا جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے۔ یہاں اسلام کے عمومی اصول کا بیان ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ عدل، احسان اور احترام کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔
یہود و نصاریٰ کے ساتھ احتیاط برتنے کی تاکید
قرآن میں مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ کی دوستی میں احتیاط برتنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اس کا مقصد ان کی سازشوں اور اسلام کے خلاف ان کے ممکنہ منصوبوں سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ سورۃ المائدہ، آیت 51: "اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں سے جو ان کے ساتھ دوستی رکھے گا، وہ انہی میں سے ہو گا۔ بے شک اللّٰہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا”۔
اس آیت میں دوستی کے معنی دل سے ان کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنا اور انہیں اپنے مشیر یا رازدار بنانا ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ ان کے ساتھ اس نوعیت کی دوستی نہ کریں جو ایمان کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے، کیونکہ یہودی اور عیسائی اپنی بعض مشترکہ دلچسپیوں اور سیاسی مفادات کی خاطر مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس حکم کا مقصد مسلمانوں کی اپنی شناخت اور دینی استحکام کو محفوظ رکھنا ہے۔
رازدار بنانے میں احتیاط:
اسلام نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنے دینی اور ملی معاملات میں غیر مسلموں کو اپنا رازدار نہ بنائیں۔ قرآن میں کہا گیا: سورۃ آل عمران، آیت 118: "اے ایمان والو! تم اپنے لوگوں کے سوا کسی کو اپنا رازدار نہ بناؤ، وہ تمہاری خرابی میں کوتاہی نہیں کرتے۔ وہ تو ہر طرح تمہاری اذیت میں لگے ہوئے ہیں”۔
اس آیت سے یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دینی، ملی اور معاشرتی معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے اور اپنے رازوں کو ان لوگوں سے محفوظ رکھنا چاہیے جو ان کے دشمن ہیں یا جو اسلام کے بارے میں بد نیتی رکھتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر سیاسی اور اسٹریٹیجک معاملات شامل ہیں، جن میں اگر غیر مسلم دشمنان اسلام کو مداخلت کا موقع ملے تو وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دوستی کی حدود اور حکمت عملی
اسلام نے دوستی کے معاملے میں اعتدال اور حکمت عملی کو اہمیت دی ہے۔ مسلمانوں کو اجازت ہے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ معاشرتی یا کاروباری تعلقات رکھیں، مگر دین میں مداخلت کی صورت میں اور جب کوئی غیر مسلم دشمنی پر آمادہ ہو، تو ان سے دوستی یا گہرا تعلق قائم کرنے سے گریز کریں۔ سورۃ الممتحنہ، آیت 1: "اے ایمان والو! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، ان سے دوستی نہ کرو جب کہ وہ دین حق کے دشمن ہیں”۔
اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ تعلقات میں احتیاط کریں جو واضح طور پر دشمنی رکھتے ہیں۔ اسلام نے صاف بیان کر دیا کہ دینی بنیادوں پر دوستی اور تعلقات صرف ان لوگوں کے ساتھ ممکن ہیں جو دشمنی کا ارادہ نہیں رکھتے۔
یہود و نصاریٰ کی سازشوں سے بچاؤ
اسلام نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ یہود و نصاریٰ میں سے کچھ لوگ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہیں گے، لہٰذا مسلمانوں کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے۔ سورۃ البقرہ، آیت 120: "اور یہود و نصاریٰ ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہ کرو۔ کہہ دو: بیشک اللّٰہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے”۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس وقت تک مسلمانوں کو خوش نہیں دیکھنا چاہتے جب تک مسلمان ان کے مذہب کو قبول نہ کر لیں۔ یہاں اسلام نے ایک حکمت عملی دی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کی پیروی کرتے ہوئے اپنی روحانی اور قومی شناخت برقرار رکھنی چاہیے اور دشمن کی سازشوں سے بچتے رہنا چاہیے۔
اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کے اصول واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ ایک طرف تو اسلام نے امن پسند غیر مسلموں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے، انصاف کرنے اور احترام کے ساتھ پیش آنے کی تلقین کی ہے، مگر دوسری طرف مسلمانوں کو ان غیر مسلموں سے بچنے کا حکم دیا ہے جو دین اسلام کے دشمن ہیں یا جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی نیت رکھتے ہیں۔ اسلامی اصول یہ ہیں کہ محبت و احسان، عدل و انصاف پر مبنی تعلقات کو فروغ دیا جائے، مگر جہاں مذہبی یا قومی سلامتی خطرے میں ہو، وہاں حکمت اور احتیاط کے ساتھ تعلقات میں حدود کا تعین کیا جائے۔
6. یہودیوں کی اسلام مخالف سازشیں اور اللّٰہ کا فیصلہ
قرآن نے بارہا ذکر کیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو ایمان، اخلاص اور صبر کے ساتھ ثابت قدم رہتے ہیں۔ مختلف ادوار میں اسلام دشمن قوتوں، خصوصاً یہودیوں کی جانب سے ایسی کوششیں کی گئیں جو مسلمانوں کے خلاف سازشوں پر مبنی تھیں، لیکن اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی تمام چالوں کو ناکام کر دیا اور اسلام کو غلبہ عطا فرمایا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں بھی یہودیوں نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللّٰہ نے اپنے نبی کو محفوظ رکھا اور ان کے منصوبے ناکام ہوگئے۔
یہودیوں کی سازشیں اور عیسیٰ علیہ السلام کا واقعہ
یہودی علماء اور سربراہان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیغام اور ان کی مقبولیت سے حسد اور بغض کا اظہار کیا۔ قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کا واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا: سورۃ النساء، آیت 157-158: "اور ان کے کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا، حالانکہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لیے اس کی مشابہت بنا دی گئی۔ اور بے شک جو لوگ اس میں اختلاف کر رہے ہیں وہ اس بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ انہیں اس کا کوئی یقین نہیں، صرف گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ یقیناً انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اللّٰہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا”۔
اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودی قتل نہ کر سکے۔ انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، مگر اللّٰہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا اور دشمنوں کو کامیابی نہ مل سکی۔ اس واقعہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جب اللّٰہ کی حفاظت کسی شخص یا گروہ کے ساتھ ہو، تو دنیا کی کوئی بھی سازش اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
اسلام دشمنی اور یہودیوں کی ریشہ دوانیاں
یہودیوں کے مختلف قبائل جیسے بنی قریظہ، بنی نضیر اور بنی قینقاع نے اسلام کے ابتدائی دور میں بھی مسلمانوں کے خلاف مختلف سازشیں کیں، جیسے معاہدات کی خلاف ورزی، منافرت پھیلانا، اور کفار کو مسلمانوں کے خلاف اکسانا۔ لیکن ان تمام سازشوں میں ان کی ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللّٰہ کی نصرت ہمیشہ سچائی کے ساتھ ہے۔ سورۃ آل عمران، آیت 54: "اور انہوں نے مکر کیا اور اللّٰہ نے بھی (جواب میں) مکر کیا، اور اللّٰہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے”۔
یہاں پر "مکر” کا ذکر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہودیوں نے رسولوں اور اہل ایمان کے خلاف چالیں چلیں، لیکن اللّٰہ نے ایسی تدبیر فرمائی جس سے ان کی سازشیں ناکام ہوگئیں۔ یہ اصول اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اصولی پیغام ہے کہ باطل قوتیں جتنی بھی تدبیریں کر لیں، اگر ایمان والوں کا یقین مضبوط ہو تو وہ تدبیریں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔
اللّٰہ کا فیصلہ اور ایمان والوں کی فتح
یہودیوں نے متعدد مرتبہ اللّٰہ کے نبیوں کی مخالفت کی، مگر اللّٰہ نے ہمیشہ اپنے پیغمبروں اور دین کو کامیاب بنایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش اور ان کے دین کو ختم کرنے کا ارادہ، ان کے اسلام دشمن اقدامات کی ایک مثال ہے۔ سورۃ المائدہ، آیت 67: "اے رسول! جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا۔ اور اللّٰہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے بچائے گا”۔ اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور دین کے پیغام کو ہر حال میں محفوظ رکھتا ہے، چاہے دشمن کتنے ہی منصوبے کیوں نہ بنائیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا اور عیسائیت و اسلام میں فرق
اسلامی تعلیمات کے مطابق، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر نہیں چڑھایا گیا بلکہ انہیں اللّٰہ نے اپنی حفاظت میں لے لیا۔ یہودیوں کا قتل کا دعویٰ محض ایک ظاہری بات تھی اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ناکام رہے۔ اس واقعے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع سماوی کا عقیدہ اسلام میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے اور عیسائیت کے عقیدے سے مختلف ہے۔
اسلامی عقیدے کے مطابق:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل سے محفوظ رہے اور وہ دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔
عیسائی عقیدے میں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا دیا گیا تھا اور ان کی موت واقع ہوگئی تھی، جو کہ اسلامی عقیدے کے بالکل برعکس ہے۔
یہ فرق بھی یہودیوں کی سازشوں اور ان کے ناکام منصوبوں کا حصّہ ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللّٰہ کی قدرت اور فیصلہ ہمیشہ غالب رہتا ہے۔
مسلمانوں کے لیے پیغام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے اور یہودیوں کی ناکامی میں مسلمانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ ہر حال میں اللّٰہ کی رضا اور نصرت پر بھروسہ رکھیں۔ چاہے دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اللّٰہ کی مدد ہمیشہ اہل ایمان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن نے فرمایا: سورۃ آل عمران، آیت 160: "اگر اللّٰہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، اور اگر وہ تمہیں بے یار و مددگار چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ اور مسلمانوں کو چاہیے کہ اللّٰہ ہی پر بھروسہ کریں”۔
یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف اور اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے خلاف متعدد سازشیں کیں، مگر ہر مرتبہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی چالوں کو ناکام بنا دیا۔ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اصول ہمیشہ سے رہا ہے کہ سچائی پر قائم رہنے والوں کو نصرت اور حفاظت عطا کی جاتی ہے، جبکہ باطل قوتوں کو بالآخر ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھایا جانا اور ان کا دوبارہ آنے کا عقیدہ مسلمانوں کو امید اور حوصلہ دیتا ہے کہ اللّٰہ کی نصرت ہمیشہ حق کے ساتھ ہے۔
7. یہودیوں کے ساتھ نبوی حکمت عملی: صبر و تحمل اور امن کی دعوت
رسول اللّٰہﷺ کی زندگی میں مدینہ میں یہودی قبائل کے ساتھ تعلقات اور تعامل کی حکمت عملی بہترین نمونہ ہے کہ کس طرح ایک اسلامی ریاست اپنے غیر مسلم ہمسایوں کے ساتھ امن و صلح کے اصولوں پر چل سکتی ہے۔ آپﷺ نے مدینہ میں یہودی قبائل کے ساتھ حسن سلوک، عفو و درگزر، اور باہمی تعاون کی بنیاد پر میثاقِ مدینہ کی صورت میں ایک معاہدہ تشکیل دیا۔ اس معاہدے کا مقصد مدینہ کے تمام باسیوں کے لیے امن و انصاف کو یقینی بنانا تھا، چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔
میثاقِ مدینہ: صلح اور بقائے باہمی کا معاہدہ
رسول اللّٰہﷺ نے مدینۂ منورہ میں پہنچنے کے بعد مختلف قبائل خصوصاً یہودیوں کے ساتھ ایک جامع معاہدہ کیا، جسے میثاقِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ مدینہ کی پہلی تحریری آئین کی شکل تھا جس میں مختلف قبائل کے حقوق و فرائض کو واضح کیا گیا۔ اس معاہدے کے مطابق، مسلمانوں اور یہودیوں کو ایک دوسرے کے جان و مال کا احترام کرنے اور باہمی دفاع کا عہد کیا گیا۔ مذہبی آزادی کا اصول متعین کیا گیا کہ ہر قبیلہ اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کر سکے گا۔ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی کہ کوئی بھی قبیلہ دشمنوں سے ساز باز نہیں کرے گا۔ میثاقِ مدینہ کو اسلامی اصولوں کے تحت چلایا گیا جس میں انصاف، رواداری اور ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔
حکمت، صبر اور برداشت کی حکمت عملی
رسول اللّٰہﷺ نے یہودیوں کے ساتھ نہایت حکمت، صبر اور برداشت سے معاملات کیے۔ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور انہیں معاشرتی نظام کا حصّہ بنائے رکھا۔ رسول اللّٰہﷺ کا مقصد یہ تھا کہ ان کے ساتھ تعاون کی فضا برقرار رہے تاکہ مدینہ میں امن و سکون کی حالت قائم رہے۔ آپﷺ نے ان کی طرف سے ہونے والے مختلف طعنوں اور مخالفت کا جواب عفو و درگزر کے ساتھ دیا، تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو سکے کہ اسلامی اصول کس قدر عدل و انصاف اور تحمل پر مبنی ہیں۔ سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران میں یہودیوں کے رویوں کی مثالیں دی گئیں ہیں کہ وہ وقتاً فوقتاً مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور رسول اللّٰہﷺ کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے، مگر نبی کریمﷺ نے ہمیشہ صبر سے کام لیا اور حکمت عملی کے ساتھ انہیں جواب دیا۔
یہودیوں کی طرف سے عہد شکنی اور رسول اللّٰہﷺ کا طرزِ عمل
یہودی قبائل، خصوصاً بنی قینقاع، بنی نضیر، اور بنی قریظہ نے معاہدات کے باوجود رسول اللّٰہﷺ اور مسلمانوں کے خلاف بارہا سازشیں کیں۔ انہوں نے مشرکین کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور غزوہِ خندق کے دوران بنی قریظہ نے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کا ساتھ دینے کی کوشش کی۔
رسول اللّٰہﷺ نے ابتدا میں ان کی سازشوں اور مخالفت کو صبر سے برداشت کیا اور انہیں اصلاح کا موقع دیا۔ عہد شکنی کے بعد بھی آپ نے ان کے ساتھ عدل و انصاف کا مظاہرہ کیا۔ مثلاً بنی قینقاع کو مدینہ سے جلاوطن کیا گیا مگر ان کے جان و مال کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ بنی نضیر کے ساتھ بھی جب انہوں نے معاہدہ توڑا تو انہیں بھی جلاوطن کیا گیا مگر انہیں ہلاکت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
ان اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ حکمت، بردباری اور امن کی راہ ہموار کرنا بھی ہے۔ مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی کہ اگرچہ دشمن سازشوں اور بدعہدیوں میں ملوث ہوں، مگر صبر و حکمت سے ان کی مخالفت کا جواب دینا چاہیے۔
قرآنی اصول: صبر و تحمل اور عہد کی پاسداری
قرآن نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں، خصوصاً یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ تعلقات میں احتیاط سے کام لینا چاہیے، مگر کسی بھی حال میں انصاف اور عہد کی پاسداری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ سورۃ البقرہ، آیت 109 میں کہا گیا: "بیشک یہود میں سے اکثر تو یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تمہیں کفر کی طرف لوٹا دیں”۔ قرآن نے ان کے بارے میں واضح کیا کہ یہودیوں نے اپنی کتاب میں تبدیلیاں کیں اور لوگوں کو گمراہ کیا، مگر مسلمانوں کو انہیں معاف کرنے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرنے کی تعلیم دی۔
موجودہ دور کے لیے رہنمائی
رسول اللّٰہﷺ کی یہودیوں کے ساتھ تعلقات میں حکمت عملی آج کے مسلمانوں کے لیے بھی ایک رہنما اصول ہے کہ کس طرح ہم غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات میں صبر، حکمت اور انصاف کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔
صبر و تحمل: رسول اللّٰہﷺ نے بار بار یہودیوں کی سازشوں اور عہد شکنی کو صبر کے ساتھ برداشت کیا۔
مذاہب کے احترام: اسلام تمام مذاہب کو ان کے دائرے میں آزادی دیتا ہے اور کسی کو بھی مذہبی بنیاد پر ظلم و زیادتی کا نشانہ نہیں بناتا۔
امن کی دعوت: اسلام ہمیشہ امن و آشتی کی بات کرتا ہے، چاہے مخالفین کا رویہ جیسا بھی ہو۔
اللّٰہ کی نصرت اور اسلام کی سربلندی
قرآن نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اللّٰہ کی نصرت ہمیشہ حق والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہودیوں کی مختلف سازشوں کے باوجود، اللّٰہ نے اپنے دین کو غلبہ عطا کیا اور اسلام کو مدینہ میں سربلندی دی۔ سورۃ المائدہ، آیت 67 میں فرمایا گیا کہ "اللّٰہ آپ کو لوگوں (کے شر) سے بچائے گا”۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے نبی اور ان کے پیرو کاروں کی حفاظت خود فرمائے گا۔ سورۃ آل عمران، آیت 160 میں بھی یہی پیغام ہے کہ "اگر اللّٰہ تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا”۔
رسول اللّٰہﷺ کی یہودیوں کے ساتھ صبر، عفو، اور حکمت سے معاملات کرنا اسلامی اصولوں کی اعلیٰ مثال ہے۔ میثاقِ مدینہ کے ذریعے آپﷺ نے امن و انصاف کی بنیادیں استوار کیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں رواداری، معاہدات کا احترام، اور حکمت عملی کو کتنی اہمیت دی گئی ہے۔ تاہم، جب یہودیوں نے معاہدات کی خلاف ورزی کی تو رسول اللّٰہﷺ نے انہیں ان کے کیے کا مناسب جواب دیا۔ یہ واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ کس طرح ہم صبر و حکمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور عہد و پیمان کی پاسداری کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو عام کر سکتے ہیں۔
قرآن کریم نے یہودیوں کے کردار اور رویے کو ایک سبق کے طور پر پیش کیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی غلطیوں سے سبق لینے کی تعلیم دی ہے۔ اسلام کے اصول صبر، برداشت، معاہدات کا احترام، اور حکمت سے مسائل کا حل تلاش کرنا ہیں۔ قرآن ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسانیت کے دشمن اپنی سازشوں اور عہد شکنی سے باز نہیں آتے، مگر اللّٰہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت خود کرتا ہے اور اسلام کو ہمیشہ فتح اور سربلندی عطا کرتا ہے۔
(30.10.2024)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...