﷽
اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات سے ناواقفیت تمام گمراہیوں کی بنیاد
مجلس تحفظ ختم نبوت بنڈلہ گوڑہ کے زیر اہتمام تہنیتی تقریب مولانا ارشد علی قاسمی کا خطاب
حیدرآباد،2نومبر(پریس نوٹ )
موجودہ دور ارتدادی فتنوں کا دور ہے، داخلی و خارجی دونوں فتنوں پر نظر رکھنا اور اس کے حقائق کو سمجھنا ہر مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے، حضرت محمدﷺ سے متعلق ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ الله کے آخری نبی ہیں آپ کے بعد اب تا قیامت کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اگر اس عقیدہ میں کچھ کمزوری پیدا ہوجائے اور جانتے ہوئے یا غیر محسوس طریقے سے کوئی کسی فتنے کا شکار ہوجائے اور اپنا عقیدہ خراب کرلے تو اس کا ایمان بھی سلب ہوجاتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مولانا محمد ارشد علی قاسمی سکریٹری مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ تلنگانہ و آندھرا پردیش نے مسجد ابوبکر ایرہ کنٹہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ بنڈلہ گوڑہ کے زیر اہتمام منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، مولانا نے کہا کہ یہ دور فتنوں کا دور ہے آپ جہاں نظر ڈالیں گے فتنے نظر آئیں گے۔ قادیانی‘شکیلی ‘گوہر شاہی‘غامدی ‘صدیق دیندار اور انجینئر علی مرزا کے علاوہ ایکس مسلم کے نام سے سوشل میڈیا پر سرگرم سینکڑوں لوگ اس وقت امت کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے بیٹھے ہوئے ہیں ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پہلے اپنے گھرانوں کی حفاظت کریں اور درست عقائد کو علماء کرام سے معلوم کریں۔
مولانا نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آج کل بڑی تیزی سے سر اٹھانے والے فتنوں کا شکار صرف عام لوگ نہیں ہے بلکہ پڑھے لکھے لوگ بھی ان کا بہت آسانی سے شکار ہورہے ہیں۔ تشویشناک بات تو یہ ہے کہ بعض علاقوں میں علماء و حفاظ بھی عقائد کی ناواقفیت کی وجہ سے ان فتنوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ ہمیں ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔
مولانا نے کہا کہ لوگ فتنوں کا شکار اس وقت ہوتے ہیں جب وہ اس بارے میں لاعلم ہوتے ہیں اور صحیح طور پر علم نہیں رکھتے یا بالکل بھی علم نہیں رکھتے۔ مولانا نے متعدد واقعات کے ذریعہ فکر دلایا کہ فی زمانہ ان فتنوں کے سد باب کے لیے ہمیں اٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔مولانا نے کہا کہ ہم اس خوش فہمی میں ہر گز نہ رہیں کہ ہمارے علاقے تو ان فتنوں سے محفوظ ہیں ۔
حالاں کہ صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے۔ مولانا نے کہا کہ فتنوں کو محلوں میں تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ فتنے مردوں کے جیب میں اور عورتوں کے پرس میں موبائل کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ غیر اعلانیہ ان کا شکار ہورہے ہیں۔ گھروں میں والدین کو خبر تک نہیں ہے اور جب پتہ چل رہا ہے تو خون کے آنسو رورہے ہیں ۔اسی لیے اپنے علاقوں میں گشتی مہم ‘ خواتین کے اجتماعات‘کم از کم دس دس نوجوانوں سے ملاقات کرنے کی ترتیب بنائیں۔
مولانا ارشد علی قاسمی نے کہا کہ شاہین نگر مرکز میں یقینا ایک کامیاب ورکشاپ منعقد کیا گیا لیکن اس کو حرف آخر سمجھ لینا یہ کافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ کام کا آغاز ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہم پروگرام کا صحیح معنوں میں جائزہ لیں گے تو پتہ چلے گا کہ ہماری اس محنت سے صرف دس فیصد افراد نے استفادہ کیا ہےجب کہ نوے فیصد کام ابھی باقی ہے۔ ہم ان لوگوں کی فکر کو اپنا مشغلہ بنائیں۔ مولانا کے خطاب سے قبل مولانا غیاث الدین حسامی نے مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ بنڈلہ گوڑہ کی تشکیل کے بعد سے انجام دئیے اُمور کی مختصر روداد پیش کی۔
ماہِ اگست میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد کنز العلوم شاہین نگر (مرکز)میں منعقدہ ایک روزہ تفہیم ختم نبوت ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر تمام اراکین و منتظمین کی خدمت میں تہنیت پیش کرتے ہوئے انہیں تمغے دئیے گئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت حلقہ بنڈلہ گوڑہ کے تحت علاقہ میں 9 زون قائم کیے گئے اور ہر زون میں مجموعی اعتبار سے تین تین ذمہ دار بنائے گئے ہیں۔
پروگرام کے شروع میں مفتی ابرار الحق شاکر قاسمی نے مجلس تحفظ ختم نبوت کارگزاری پیش کی ۔تہینی پروگرام میں حلقے کے تمام زونس سے علماء کرام و خدام مجلس تحفظ ختم نبوت نے شرکت کی۔ مولانا ارشد علی قاسمی صاحب کی دعا پر پروگرام اختتام کو پہنچا۔
