Skip to content
وقف ترمیمی بل کے خطرناک مقاصد
اس بل کا حشر کیا ہوگا؟
ازقلم:عبدالعزیز
وقف ترمیمی بل کے خطرناک مقاصد اور حکومت کی چال :
وقف ترمیمی بل کے قانون بننے کی صورت میں مرکزی حکومت کو ایسے اختیارات مل جائیں گے جن کی مدد سے وہ ملک بھر میں پھیلی ہوئی وقف املاک کو ’ہڑپ‘ کر سکتی ہے اور وقف کے اداروں کو ’تباہ‘ کر سکتی ہے۔ ’نئے بل میں کلکٹر کو بہت زیادہ اختیارات دے دیے گئے ہیں، جبکہ اصولی طور پر کلکٹر جج نہیں بن سکتا‘۔ اس وقف ترمیمی بل کے ذریعہ حکومت وقف کے نظم و نسق کو اپنے ہاتھ میں لے کر ریاستی حکومتوں کو اس سے باہر کرنا چاہتی ہے۔ اس سے مرکزی حکومت کو زیادہ اختیارات مل جائیں گے۔
مرکزی وزارت نے اس ترمیمی بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس بل کے پاس ہونے کی صورت میں قانونی لڑائیوں اور عدالتی کیسز میں کمی واقع ہوگی‘۔ وزارت نے کہا کہ’ 1970ء اور 1977ء کے بیچ وقف بورڈ نے نئی دہلی میں 138 جائیدادوں کو اپنا بتاتے ہوئے عدالتوں میں دعوے کیے، جس کی بنیاد پر طویل قانونی لڑائیاں چلیں‘۔
پارلیمانی اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے 8 اگست کو پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وقف بورڈ پر مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے اور یہ بل عام لوگوں کے مفاد میں بل لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ سمجھیں کہ 2024ء میں اچانک یہ بل لے آئے۔ اس پر ہم نے کئی مرحلوں میں مشاورت کی۔ انہوں نے احمدیہ، بوہرہ، آغاخانی، شیعہ، سنی، سبھی ریاستوں کے وقف بورڈ کے چیئرمین وغیرہ سے بات کی۔ ان سب کی طرف سے سفارشات آئیں کہ وقف میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وقف املاک کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے زور دیا کہ وقف بورڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے، میوٹیشن ریونیو کو ریکارڈ کیا جائے۔ اسی کے ساتھ کرن رجیجو نے کہا کہ ملک کی تقسیم کے بعد جتنے بھی ہندو اور مسلمانوں نے بھارت اور پاکستان کی طرف ہجرت کی، ان سب کی وہاں جائیدادیں تھیں مگر پاکستان کی حکومت نے ہندوؤں کی جائیداد چھین لی لیکن بھارت سے جانے والے مسلمانوں نے ان املاک کو وقف کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقف املاک سے عورتوں اور غریبوں کو فائدہ نہیں ملتا ہے تو کیا حکومت خاموش بیٹھی رہے گی؟ لہٰذا لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ایوان کی ذمہ داری ہے۔
ایک ایسا قانون بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے وقف کی زمینوں کو حکومت آسانی سے ہڑپ کرسکے ۔ اس وقف ترمیمی بل میں بہت سی ایسی دفعات ہیں جو دستور ہند کے منافی ہیں۔ مثلاً بورڈ میں دو غیر مسلموں کو شامل کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ پارلیمنٹ میں یہ نکتہ بہتوں نے اٹھایا ہے کہ کیا مندر، چرچ، گرودوارہ کی کمیٹیوں میں مسلمانوں کو شامل کیا جاتا ہے؟ جبکہ ان کمیٹیوں میں مذہب کی بنیاد پر ممبر بنتے ہیں تو آخر وقف بورڈ میں کیسے کسی غیر مسلم کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ دوسری بات جو کہی جاتی ہے کہ وقف بورڈ میں بہت سی بدعنوانیاں ہیں ان کو ختم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ بدعنوانیوں کو ختم کرنے کے لئے یا بدعنوان شخص کو سزا دینے کے لئے ہندستان میں قانون و آئین موجود ہے، پھر نئے قانون کی کیا ضرورت ہے؟
وقف بورڈ کے اختیارات کو سلب کرکے کلکٹر یا ڈپٹی کلکٹر کو اختیار دینے کا ایک ہی مطلب ہے کہ وہ بہت آسانی سے انکوائری کے موقع پر فیصلہ دیدے کہ یہ وقف کی جائیداد یا وقف کی زمین نہیں ہے۔ چار سو پانچ سو سال پہلے جو مسجدیں تعمیر کی گئی ہیں جیسے جامع مسجد دہلی ہے اس کی دستاویز کا دستیاب ہونا غیر ممکن ہے اور انکوائری کے وقت جب دستاویز جب کسی زمین یا جائیداد کا نہیں ہوگا تو محض اس کے استعمال کو کلکٹر یا ڈپٹی کلکٹر وقف کی زمین یا وقف کی جائیداد ماننے سے انکار کر دے گا۔ جو لوگ وقف بورڈ کی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وقف بورڈ میں ایک دو نمائندے کے علاوہ سارے نمائندے حکومت کے نامزد کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک متولی بورڈ میں ہوتا ہے جو متولیوں کے انتخاب سے ان کا نمائندہ ہوتا ہے۔ بورڈ کا چیئرمین اسی کو بنایا جاتا ہے جس کو حکومت پسند کرتی ہے اور جو حکومت کا آدمی ہوتا ہے۔ سی اوآئی ایس ہوتا ہے ۔ یہ بھی حکومت کا آدمی ہوتا ہے۔ جب حکومت بورڈ کو بنانے یا ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے تو پھر اسے کلکٹر کے ہاتھ میں دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بورڈ کی تشکیل ریاستی حکومتیں کرتی ہیں اور بہت سی ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے اس لئے بی جے پی چاہتی ہے کہ جن ریاستوں میں اس کی حکومت نہیں ہے وہاں وہ کلکٹر یا ڈپٹی کلکٹر کے ذریعے اپنے من پسند کام کو انجام دے۔
2024ء سے پہلے قانون سازی:
2014ء کے بعد مودی حکومت اور جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں مسلمانوں کو ہر طریقے سے پریشان اور حیران کرنے کی مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ مسلمانوں کے عرصۂ حیات کو تنگ کرنا، ان کے نام و نشان کو مٹانا اور انھیں مجبور محض بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ان حکومتوں کا اولین مقصد ہے۔ ان طریقوں میں سے ایک طریقہ قانون سازی کے ذریعے بی جے پی حکومتیں اپنا مقصد پورا کرنا چاہتی ہیں۔ ’سی اے اے‘، ’این آر سی‘، ’لو جہاد‘، ’تبدیلیِ مذاہب‘ اور ’یو سی سی‘ پر قوانین بنائے جاچکے ہیں۔ اسی کی ایک کڑی ’وقف ترمیمی بل‘ ہے ۔ 2024ء سے پہلے اگر یہ بل مودی حکومت پاس کرنے اور قانون میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی تو آناً فاناً ’تین طلاق‘ یا دیگر مذکورہ قوانین کی طرح پاس کرنے میں کامیابی حاصل ہوجاتی۔ 2024ء سے پہلے مودی حکومت بیساکھیوں کے سہارے نہیں چل رہی تھی لیکن اس وقت وہ بیساکھیوں پر ہے ، خاص طور پر دو بیساکھیوں پر قائم ہے جس کی وجہ سے وقف ترمیمی بل آناً فاناً وہ پاس کرنے میں مودی اور شاہ کو کامیابی نہیں ملی۔ ’این ڈی اے‘ کی دو حلیف پارٹیوں کے عدم تعاون کی وجہ سے اس بل کو جے پی سی کے حوالے کرنا پڑا۔ وقف ترمیمی بل کو مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ اس پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں گرما گرم بحث جاری ہے۔ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ یہ بل کسی طرح قانون میں تبدیل ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جارحانہ رخ اختیار کر رکھا ہے۔ اس کے خلاف اپوزیشن اتحاد کھل کر میدان میں آگیا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس بل کو منظور ہونے نہیں دیا جائے گا۔ پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین جگدمبیکا پال اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندوں کی بات کو ٹھیک سے سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اپوزیشن کے نمائندوں نے اسپیکر کو خط بھی لکھا ہے اور ان سے ملاقات کرکے اپنی شکایات سے آگاہی دی ہے۔
مسلمانوں کی طرف سے جوش اور جذبے کے ساتھ پوری سرگرمی سے جلسے جلوس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس سے ایک فائدہ تو ضرور ہورہا ہے کہ عام مسلمانوں کو وقف کی حقیقت ، موجودہ حکومت کی شرارت اور بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنڈے سے واقفیت ہورہی ہے۔ لیکن اگر مسلمان یہ سمجھتے ہوں کہ ان جلسوں اور جلوسوں سے موجودہ حکومت کی صحت پر یا فسطائی جماعتوں پر کوئی اثر ہوگا تو یہ خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت ہو یا اس کی ریاستی حکومتیں ہوں ان کا مقصد وجود مسلمانوں کے خلاف ہے۔ مسلمان جتنا پریشان ہوں گے، خوف و ہراس میں مبتلا ہوں گے اتنے ہی ان حکومتوں اور بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سیوک سنگھ کے لیڈروں، کارکنوں کو خوشی ہوگی۔ اس وقت جو سب سے ضروری کام ہے وہ یہ ہے کہ چندر بابو نائیڈو اور نتیش کمار جن کی حمایت سے مرکزی حکومت قائم ہے ان سے گہرا ربط رکھنا اور وقف ترمیمی بل کی مخالفت پر ہر طرح سے آمادہ کرنا اور برسر پیکار رکھنا ہے۔ ایک حد تک مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر مسلم جماعتیں اور تنظیمیں یہ کام انجام دے رہی ہیں۔ ایک حقیقت پر توجہ مرکوز رکھنا ضروری ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ مودی اور شاہ ہر طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ ان کے کنٹرول میں حکومتیں ہیں۔ امبانی اور اڈانی کے علاوہ دیگر چوبیس پچیس سرمایہ دار ان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کے پاس ہر طرح کے ذرائع اور وسائل ہیں۔ یہ نتیش کمار اور چندر بابو نائیڈو کو ہر طرح سے رام کرنے، حرص و لالچ دینے کے علاوہ مجبور و محصور کرنے کی بھی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس حقیقت سے مسلمان قائدین کو خاص طور پر غفلت نہیں برتنا چاہئے۔
چند دنوں پہلے فلم ایکٹر سے سیاستداں بنے متھن چکرورتی نے کہا کہ ’’ہم لوگ کچھ بھی کرسکتے ہیں، کچھ بھی۔ میں وزیر داخلہ صاحب کے سامنے یہ بات کہہ رہا ہوں۔ کچھ بھی کے اندر بہت سارا مطلب چھپا ہوا ہے‘‘۔ بہت دنوں پہلے متھن چکرورتی نے اپنے آپ کو کہا تھا کہ ’’میرے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں کہ غیر مضر سانپ ہوں۔ میں کوبرا ہوں۔ میں ایک ہی بار ڈس کر لوگوں کا قصہ تمام کرسکتا ہوں‘‘۔ اس طرح کے لوگ بی جے پی میں بھرے پڑے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ ہوں، ہیمنتا بسوا شرما یا گری راج سنگھ ہوں، یہ سب کھلے عام مسلمان دشمنی پر اتارو ہیں۔ ظاہر ہے کہ بی جے پی یا آر ایس ایس کے لوگوں کی مسلم دشمنی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
بی جے پی اس بات سے بھی باخبر ہوگی کہ جے ڈی یو اور تیلگو دیشم پارٹی سمیت این ڈی اے کی دیگرحلیف پارٹیاں مسلمانوں اور بی جے پی حکومت کے موقف میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں پس و پیش اور مشکل صورت حال کا شکار ہوجائیں گی۔ پھر سوال یہ ہے کہ ان سب کے باوجود بی جے پی اس بل کو کیوں لائی؟ ممکنہ طور پر بی جے پی اپنی اتحادی پارٹیوں کی حمایت اور ان کی وابستگی کو جانچنا چاہتی ہو۔ نیز اس بل سے مرکزی حکومت کے اختیارات میں جو اضافہ ہوگا وہ بات اپنی جگہ ہے۔ مودی کے زیر قیادت حکومت یہ بل ایسے وقت میں لے کر آئی ہے جب گزشتہ چند مہینوں قبل ہوئے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ یہ بھی واضح ہے کہ بی جے پی کو پوری طرح معلوم تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے اس بل کی شدید مخالفت کا سامنا پڑے گا۔ ایسے وقت میں جبکہ ہریانہ اور جموں و کشمیر میں انتخابات ہورہے ہیں اور مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخاب ہونے والے ہیں۔ اس بل کی مدد سے مسلمانوں کو مشتعل کرکے ہندو ووٹروں کو پولرائز کرنے کی کوشش سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
وقف ترمیمی بل ایک طرح سے حکومت اور ان کی حلیف پارٹیوں کے خلاف چیلنج ہے۔ نتیش اور چندر بابو نائیڈو اس چیلنج کا کس طرح مقابلہ کریں گے یہ دیکھنا باقی ہے۔ زیادہ امکان ہے کہ یہ دونوں حضرات بل کی مخالفت جاری رکھیں گے۔ ان کے ارکان پارلیمنٹ بل کی حمایت سے دوری بنائے رکھیں گے۔ ایسی صورت میں وقف ترمیمی بل کا پاس ہونا مشکل ہے۔
مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر بلڈوزر چلانے اور جائیدادوں کو ہڑپ کرنے کی پہلے سے کوشش جاری ہے۔ اس وقت وقف جائیدادیں جو وقف اللہ ہیں اس پر ڈاکہ زنی کی حکومت کی نیت ہے۔ ایک طرح سے موجودہ حکومت کا اللہ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔پہلے کے مقابلے میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی خدا سے زیادہ کھلی بغاوت ہے۔ ایسے معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ ایسی حکومتوں پر یا ایسے آمروں پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔ میرے خیال سے اس بل کا حشر تو برا ہوگا ہی ، موجودہ حکومت کا حشر بھی اچھا نہیں ہوگا۔ حکومت ختم بھی ہوسکتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...