Skip to content
امریکہ میں ہاتھی نے گدھے کو مات دے دی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکہ کے لوگ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے ہیں کیونکہ ان کی بدولت ریپبلکن ہاتھی نے ڈیموکریٹ گدھے کو مات دے دی حالانکہ چار سال قبل خود انہوں نے ہی ہاتھی پر گدھے کو ترجیح دی تھی۔ یہ ہاتھی اور گدھا امریکہ کی دو بڑی جماعتوں کے انتخابی نشانات ہیں ۔ امریکہ کے موجودہ تناظر میں کسی بیوقوف ترین انسان سے پوچھا جائے کہ بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان گدھا اور ہاتھی کون ہے تو وہ بلا توقف جو اندازہ لگائے گا وہ قیاس صد فیصد درست نکلے گا اس لیے کہ امریکی سیاست میں ٹرمپ سے زیادہ مست مولیٰ اور بائیڈن جیسا احمق سیاستداں نہیں آیا ۔ ہیلری اور کملا کا کیا ہے کہ وہ کامیاب ہی نہیں ہوسکیں کیونکہ ان کی جنس نشانیوں سے مختلف تھی۔ ہندو پاک میں اندر اگر الیکشن کمیشن کسی جماعت یا آزاد امیدوار کو گدھے کا نشان دے ڈالے تو وہ ہتک عزت کا دعویٰ کردے گا مگر امریکہ کا معاملہ مختلف ہے۔
تاریخ کے جھروکے میں جھانک کردیکھیں تو 1828 میں اینڈریو جیکسن الیکشن لڑ تے نظر آتے ہیں ۔انتخابی مہم کے دوران ان کے مخالفین نے حقارت سے انہیں گدھا، احمق اور بے وقوف کہا تو انہوں نے اس لقب کو اپنا نشان بناکر رائے دہندگان سے کہا کہ گدھا ایسا جفاکش اور محنتی جانور جو بلا شکوہ شکایت خدمت کرتے نہیں تھکتا۔لوگوں نے اینڈریو جیکسن کی عاجزی وخاکساری پر خوش ہوکر انہیں پہلا ڈیمو کریٹک صدر بنادیا ۔ مودی نے بھی اپنی چائے والی تضحیک کا اسی طرح سیاسی فائدہ اٹھایا تھا ۔ 1874 میں تھامس نیسٹ نامی کارٹونسٹ نے صدر اولیسس گرانٹ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ایک کارٹون میں جنگل کے اندر شیر کی کھال اوڑھے گدھے کے ڈر سےدیگر جانوروں کو تو بھاگتے ہوئے دکھایا مگر ایک ہاتھی میدان میں ڈٹا ہوا تھا اور اس پر ری پبلکن ووٹ لکھا تھا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہاتھی پارٹی کا نشان بن گیا ۔ امریکہ کا جنازہ انہیں دونوں کی مرہونِ منت آگے بڑھ رہا یعنی ایک اسے تباہی کی جانب کھینچ رہا اور دوسرا بربادی کی طرف ڈھکیل رہا ہے۔
ان دونوں جماعتوں میں سے ایک کو قدامت پسند، نسل پرست سرمایہ داروں کی پارٹی سمجھا جاتا ہے اور دوسرے کواشتراکیت سے متاثر تعلیم یافتہ روشن خیال لوگوں کی جماعت کو طور پہچانا جاتا ہے حالانکہ ظلم و جبر یا عیش و عشرت کے معاملے میں کوئی کسی سے کم نہیں ہے۔ ڈیموکریٹک گدھوں کی زبان پر انسانی حقوق اور جمہوریت وغیرہ کا بڑا چرچا ہوتا اور اس بناء پر وہ سعودی عرب جیسے ممالک کو اسلحہ تک بیچنا بند کردیتے ہیں لیکن جب اسرائیل کا معاملہ آئے تو ان کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے ۔ انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کے دوران مئی 2024 میں بائیڈن انتظامیہ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ وہ اسرائیل کو 8400 کروڑ روپے سے زیادہ کے ہتھیار بھیجنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور اس کے اسے عملی جامہ پہنایا گیا ۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس پیکج میں 70 لاکھ ڈالر مالیت کا ٹینک اور گولہ بارود بھی شامل تھا۔امریکہ کے واٹسن انسٹیٹیوٹ کے مطابق غزہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل کو امریکہ تقریباً 18 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کر چکا ہے۔ منافقت کی اس انتہا نے اب کی بار ڈیموکریٹک گدھے کو زمین بوس کردیا ۔ علامہ اقبال نے اس بابت فرمایا تھا ؎
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت، پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
بیکاری و عریانی و مے خواری و افلاس،کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات
مثل مشہور ہے’ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور‘ ہوتے ہیں ۔ اس پر عمل کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نامی مست ہاتھی نے گزشتہ انتخاب میں مسلمانوں کے خلاف جو نفرت انگیزی کی تووہ دکھانے کے دانت تھے مگر کھانے کے لیے سب پہلے سرکاری غیر ملکی دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کر دیا حالانکہ اس سے قبل بیشتر امریکی صدور غیر ملکی دوروں کی ابتداء پڑوسی ممالک کینیڈا یا میکسیکو سے کرتے تھے ۔ ٹرمپ نے سابقہ صدور کی روایت کو توڑتے ہوئے 2017 میں سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے بظاہر ایران سے علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات پر سخت مؤقف اختیار کرکے خلیجی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے پر زور دیا مگریہ بھی دکھانے کے دانت تھے ۔ اصل کھانے کے دانتوں سے امریکہ نےسعودی عرب کو اربوں ڈالر کے F-15 جنگی طیاروں کے ساتھ دیگر جدید طرز کا عسکری ساز وسامان فروخت کردیا ۔اس طرح ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورے پر اسلحہ بیچ کر ہتھیار لابی کے لیے سو بلین ڈالر کا کاروبار کرکے اپنی دلالی پکی کرلی ۔
امریکہ نے ان سودوں کے تحت سعودی عرب کو فراہم کردہ عسکری سازوسامان کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے امریکی فوجی ماہرین کو ٹھیکے بھی دلوادئیے ۔سرمایہ داروں کی جماعت کے تاجر صدر اور کیا توقع کی جائے؟سعودی عرب کے ساتھ مصر کو بھی اسلحہ بیچنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل پہنچ گئے اور وہاں جاکر یروشلم میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا ناعقبت اندیش اعلان فرما دیا تاکہ اسرائیل کو دارالخلافہ بدلنے کا جواز مل جائے۔ یہ بھی ’کھانے اور دکھانے کے دانتوں‘ کےفرق کا ایک نمونہ تھا۔ اب کی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر منتخب ہونے پر سعودی عرب کے شاہ سلمان نے خوش ہوکر ان کی کوششوں میں کامیابی کی مبارکباد دی اور امریکی عوام کی مزید ترقی اور خوش حالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔انہوں نے دونوں دوست ممالک کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات کی بھی تعریف کی اور تمام شعبوں میں ان کو مزید مضبوط کرنے کی مشترکہ خواہش پر زور دیا۔شاہ سلمان کے ولی عہد بیٹے محمد بن سلمان نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو جیت پر مبارکباد پیش کرکے امریکی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا ۔
سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کی دوستی کو96؍سال ہوچکے ہیں۔اس لیے باہمی مسرت فطری ہے لیکن اس بارتین سال قبل تک امریکہ سے برسرِ پیکار اورافغانستان نے بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے ’نئے باب‘ کے آغاز کی خواہش ظاہر کی ہے۔ افغانی حکومت میں دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں لکھا کہ ’دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح پیش رفت ہوگی اور دونوں ممالک باہمی روابط کی روشنی میں تعلقات کے نئے باب کا آغاز کر سکیں گے۔‘ڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلی مدتِ کار کے دوران افغانستان اور امریکہ آپس میں برسرجنگ تھے مگر اب امریکی فوجی شکست فاش سے دوچار ہوکر فرار ہوچکے ہیں ۔ امریکی صدر نے 2020 میں’ابراہیم میثاق ‘ کے تحت اپنی ثالثی سے متحدہ عرب امارات اور بحرین کو اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے راضی کرلیا تھا ۔ اس کے سبب ان ممالک نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرکے پچاس سال بعد سفارتی تعلقات استوار کرلیے تھے مگر لیکن ۷؍اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل غزہ جنگ نے مشرق وسطیٰ کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا اور اسی کے ساتھ اسرائیل و مسلم ممالک کے تعلقات کی استواری کا خواب چکنا چور ہوگیا۔
فی الحال متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات ٹھنڈے بستے میں جاچکے ہیں ۔ مصر ، اردن اور قطر بھی اسرائیل کے رویے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کہہ چکے ہیں کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل سے تعلقات کی استواری میں شرطِ اول ہے اور مطالبت کو یہودی انتہا پسند کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ جوبائیڈن انتظامیہ نے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالا تو دو سال بعد انہوں نے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحر ہند میں امریکہ و اسرائیل سمیت دشمن ممالک کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے ۔ ٹرمپ نے اس وقت سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایران اسرائیل پر حملہ کردے گا اور سعودی عرب اسرائیل کے جوابی حملے کی مذمت کرے گا بلکہ خلیج عدن میں ایران کے ساتھ مشترکہ بحریہ کی مشق بھی کرلے گا ۔
ان چار سالوں میں اتنا کچھ بدل گیا کہ الیکشن جیتنے کی خاطر ٹرمپ کو کہنا پڑا کہ وہ نیتن یاہو سےغزہ کی جنگ کو ختم کروانا چاہتے ہیں ۔ ووٹنگ سے ایک دن پہلے، ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’ہم امریکی سیاست کی تاریخ کا سب سے بڑا اتحاد بنا رہے ہیں۔ مشیگن کے عرب اور مسلم ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں۔‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے چار سال قبل جس مشرق وسطیٰ کو چھوڑا تھا وہ یکسر بدل چکا ہے۔ اس نئی صورتحال سے نمٹنا نومنتخب صدر کے لیے نہایت مشکل ہوگا کیونکہ اب امریکہ کی بالا دستی کو چیلنج کرنے کے لیے برکس کے نام کا ایک عالمی اتحاد عالمِ وجود میں آچکا ہے۔ اس میں دس ممالک شامل ہیں اور ستائیس شمولیت کے خواہشمند ہیں۔ ان کے پاس دنیا کی چالیس فیصد معیشت ہے۔ ان لوگوں نے اگر آپس میں ڈالر کے بغیر تجارت شروع کردی کو امریکی بالا دستی کا ازخود خاتمہ ہوجائے گا اور امریکہ بہادر پر علامہ اقبال کی مشہور نظم ساقی نامہ کے یہ ا شعار صادق آنے لگیں گے ؎
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے
ہُوا اس طرح فاش رازِ فرنگ
کہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگ
پُرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہے
گیا دَورِ سرمایہ داری گیا
تماشا دِکھا کر مداری گیا
گراں خواب چِینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے
دلِ طُورِ سینا و فاراں دو نِیم
تجلّی کا پھر منتظر ہے کلیم
Like this:
Like Loading...