Skip to content
جھارکھنڈ: گھوڑا اور میدان بالکل ا ٓمنے سامنے ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
جھارکھنڈ میں انتخابی مہم شباب پر ہے۔ پہلے دور کی پولنگ کل ہونے والی ہے اس لیے عوام و خواص سب کی دھڑکن تیز ہوگئی ہے۔ بی جے پی یہ جانتی ہے کہ ریاستی حکومت کے بغیر اس کے لیے انتخاب جیتنا بےحد مشکل ہے اس لیے جائز و ناجائز ہر طریقہ استعمال کرکے اقتدار میں آنے کی بھرپور جدوجہد کرتی ہے۔صوبائی حکومت کے الیکشن میں بڑے فائدے ہیں ۔ پولیس انتظامیہ کے ہاتھ میں آتے ہی لوگوں کو ڈرانا دھمکانا آسان ہوجاتا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کرواکر فسادیوں کو تحفظ فراہم کرنا سہل ہوتا ہے۔ مجرم پیشہ افراد کو دنگا کرنے کی خاطر چند گھنٹے کی مہلت دینا اوردنیش رانے یا رام گری جیسے بدزبانوں کو پناہ دینا ممکن ہوجاتا ہے نیز سرکاری سہولیات بانٹنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔ قومی انتخاب سے قبل سرکاری خزانے سے بنٹنے والی سہولیات کو وزیر اعظم نریندر مودی حقارت سے ریوڑیاں کہتے تھے ۔ پارلیمانی انتخاب سے قبل انہوں نے ممبئی میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس طرح ملک دیوالیہ ہوجائے گا لیکن بی جے پی جانتی ہے مدھیہ پردیش میں کامیابی کا چمتکار صرف اور صرف لاڈلی بہن یوجنا کے سبب ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی کی مہایوتی سرکارکو ’لاڈلی بہن ‘ کے ساتھ ساتھ’ لاڈلا بھائی‘ بھی یاد آگیا ۔
جھارکھنڈ کے اندر بھی بی جے پی اقتدار پر قابض ہوکر سرکاری خزانے سے عوام کو رشوت دینا چاہتی تھی مگر اسے وہ موقع نہیں ملا۔ اس کے برعکس جھارکھنڈ مکتی مورچہ نےدسمبر سے خواتین کے لیے ماہانہ کیش ٹرانسفر کی رقم 1000 روپے سے بڑھا کر 2500 روپے کرنے کا اعلان کردیا۔ اب بی جے پی اس فیصلے کو چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہے لیکن اگر اس نے یہ غلطی کردی تو اسے عوام دشمن بتا کر ہرانا نہایت آسان ہوجائے گا۔ جے ایم ایم نے اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں کابینہ میٹنگ کے اندر ماہانہ 2100 روپے منتقل کرنے کی ادائیگی شروع کردی ۔ ریاست کی 53 لاکھ خواتین کو اس منصوبے کا فائدہ ہورہا ہے اور ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ بی جے پی نے ‘میّا سمّان ندی’ کو اس دلیل کے ساتھ عدالت میں چیلنج کیا تھا کہ اسے انتخاب سے صرف چار مہینے پہلے ایک ‘رشوت’ کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ چیلنج کامیاب نہیں ہوا کیونکہ بی جے پی خود مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں اسی طرح کے منصوبے انتخابات کے اعلان سے بالکل پہلے نافذ کر چکی تھی۔
بی جے پی کی ‘گوگو-دیدی’ منصوبہ (سنتھالی میں ‘گوگو’ کا مطلب ‘ماں’ ہے) جے ایم ایم کی زوردار مخالفت کے باعث نا دانستہ طور پر زیادہ حمایت حاصل کر گئی۔ جے ایم ایم حکومت اگر کہہ دیتی کہ وہ رقم بڑھانے پر پہلے ہی غور کر رہی تھی اور بغیر کسی ہنگامے کے یہ کافی ہوجاتا لیکن اس نے بی جے پی کے ناکام وعدے اور مودی کی ادھوری ضمانت یاد دلاتے ہوئے منصوبے کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ جے ایم ایم کے سیکریٹری وینو پاندےنے بی جے پی پر الزام لگایاکہ اس نے 500 روپے میں ‘گوگو-دیدی’ فارم خریدنے پر مجبور کرکے خواتین کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔ انڈیا اتحاد کےدیگر رہنماؤں نے بھی اسے بی جے پی کی دھوکہ دہی قرار دیا۔ بی جے پی کی جانب سے 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر فروخت کرنے جیسے جھانسوں کی یاد بھی دلائی ۔ اس بابت پاندے پوچھتے ہیں، ’’بی جے پی مدھیہ پردیش اور راجستھان میں وعدے نہیں نبھا سکی تو یہاں کی خواتین اس پر کیوں بھروسہ کریں؟‘‘ ۔
جے ایم ایم نے ایک قدم آگے بڑھ کر لوگوں کو یاد دلایا کہ اس سال مئی میں الیکشن کمیشن نے کانگریس کے لوگوں سے اپنے ’نیائے گارنٹی فارم‘ بھرنے پر اعتراض کیا تھا۔ کمیشن نے تب مانا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو ایسے بیورے جمع کرنے اور مشکوک مفت تحفے دینے کا وعدہ کرنے کا حق نہیں ہے۔ کمیشن نے پوچھا تھا کہ سیاسی جماعتیں بتائیں ، ان کی طرف سے تجویز کردہ فلاحی منصوبے اور مفت سہولیات کس طرح نافذ ہوں گی اور مالی اعانت کس طرح فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ضلع مجسٹریٹوں کو یہ بات یقینی بنانے کاحکم دیا ہے کہ ریاست میں کوئی بھی سیاسی جماعت کمیشن کے مقرر کردہ قوانین کی خلاف ورزی نہ کرے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی ضلع مجسٹریٹوں نے آگے بڑھ کر کارروائی کی اور ایسے مقامی بی جے پی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے جو فارم بھرنے کے لیے خواتین کی میٹنگیں کر رہے تھے۔
بی جے پی جب مشکلات میں گھِر جاتی ہے تو اسے مسلمان یاد آتےہیں اور وہ ہندو عوام کو ان سے ڈرانے لگتے ہیں۔ اس کام کے لیے کمل والوں نے یوگی ادیتیہ ناتھ کے بعد اپنے سب سے بدزبان وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ شرمناک بات ہے کہ جو وزیر اعلیٰ ڈیڑھ سال سے تشدد زدہ منی پور کی پروسی ریاست میں جانے کی زحمت اور ہمت نہیں کرسکا جہاں آسام رائفل اور مقامی پولیس ایک دوسرے کے خلاف بندوق تانے کھڑے ہیں وہ ہر ہفتہ جھارکھنڈ پہنچ کر ہنگامہ مچا دیتا ہے۔ جھارکھنڈ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 60 لاکھ (15 فیصد) ہے۔ کچھ اہم علاقوں کی بات کریں تو پاکور میں 35.08 فیصد، راج محل میں 34.06 فیصد، جامتاڑا میں 38 فیصد، گوڈا میں 27 فیصد، مادھو پور میں 25 فیصد، گانڈے میں 23 فیصداور ٹنڈی میں 22 فیصد مسلم ووٹ ہیں۔ راجدھنوار اورمہاگامہ میں 17 فیصد نیز ہٹیا میں 16 فیصد مسلم رائے دہندگان ہیں۔اس کے باوجود مسلمان سیاست میں حاشیہ پرہیں۔
2019 کے انتخابات میں جے ایم ایم، کانگریس اور آر جے ڈی نے متحد ہوکر الیکشن لڑا تھا۔ اس اتحاد میں شامل جے ایم ایم نے چار، کانگریس نے تین اور آر جے ڈی نے ایک مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا۔ اس کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے حسب ِ توقع کبھی بھی کسی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔ اس بار بھی ویسی ہی حالت ہے۔ اس کے باوجود بی جے پی نےمبینہ بنگلہ دیشیوں کی دراندازی کا مسئلہ گرم کررکھا ہے۔ بی جے پی کے سبھی بڑے رہنما کسی نہ کسی بہانے اس مسئلے کو مسلسل اٹھا رہے ہیں۔ ریاست کے گوڈا سے لوک سبھا رکن پارلیمان نشی کانت دوبے کے مطابق جھارکھنڈ کی 11 فیصد مسلم آبادی "بنگلہ دیش کے درانداز” ہیں۔ انہوں نےدعویٰ کیا کہ، ”1951 میں مسلمانوں کی آبادی نو فیصد تھی، آج یہ 24 فیصد ہے۔ ملک میں مسلمانوں کی آبادی میں چار فیصد اضافہ ہوا ہے، لیکن ہمارے سنتھل پرگنہ میں یہ 15 فیصد بڑھی ہے۔ یہ 11 فیصد بنگلہ دیشی درانداز ہیں اور جھارکھنڈ حکومت انہیں اپنا رہی ہے‘‘۔وہ سنھتل پرگنہ اور ریاست کی آبادی کو گڈمڈکرکے کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔
نشی کانت دوبے تو خیر غیر اہم سیاستداں ہیں مگر خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی جمشید پور میں مسلمانوں کی دراندازی کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ ستمبر کے وسط میں انہوں نے کہا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں اور بنگلہ دیشیوں کی دراندازی سنتھل پرگنہ اور کولہان کے لیے حقیقی خطرہ بن کر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے حکمراں جھارکھنڈ مکتی مورچہ ،کانگریس اور آر جے ڈی پر ووٹ بینک کی خاطر اس خطرےپر خاموشی اختیار کرنے کا بھی الزام لگایا تھا۔ وزیر اعظم نے لوک سبھا انتخابات کے دوران مہم میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا مگر وہ قبائلی علاقہ میں ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے ۔ امیت شاہ اور بسوا سرما دن رات یہی راگ الاپتے رہتے ہیں۔ جھارکھنڈ بی جے پی کے صدر بابو لال مرانڈی نے بھی وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر یہ مسئلہ اٹھایا کر سن 2031 تک سنتھل پرگنہ میں مسلمانوں کے اکثریت میں ہوجا نے کا خطرہ بتایا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ اور یو آئی ڈی اے آئی کی طرف سے بھی جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں ایک حلف نامہ دے کر کہا گیا تھا کہ سنتھل پرگنہ علاقے میں دراندازی بڑھ گئی ہے۔ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریاست میں قبائلی آبادی میں تقریباً 16 فیصد کمی آئی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سرحد کی حفاظت مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے ۔مودی سرکار دس سال سے برسرِ اقتدار ہے تو وہ اسے روکتی کیوں نہیں؟ ویسے اگر قبائلی وہاں سے نکل رہے ہیں تو اس میں مسلمانوں کا کیا قصور؟ وہ ان کی مجبوری ہوسکتی ہے یا حق ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں جاکر آباد ہوں۔ فی الحال وزیر اعظم سے لے کر وزیر داخلہ اور شیوراج سنگھ چوہان، ہمنتا بسوا سرما سمیت بی جے پی کے کئی لیڈروں نے یہ مسئلہ اٹھا رہے ہیں مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ جھارکھنڈ کو بنے ہوئے 24 سال ہوچکے ہیں۔ ان میں سے بی جے پی نے 13 سال حکومت کی ہے۔ اس دوران اسے کبھی بھی اس مسئلہ کا خیال نہیں آیا مگر اب قبائلی ووٹ ان سے کھسکنے لگا تو مسلمان یاد آگئے ۔ موجودہ سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے یہ بھونڈے طریقہ سے کھیلا جانے والامسلم کارڈ ہے جس کی ہوا نکالتے ہوئے ہیمنت سورین نے کہا حسینہ کو پناہ دینے والے درندازوں کی بات کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے عوام کو جے ایم ایم کے نشان تیر کمان سے سیاسی افق پر اڑنے والے چیل کووں کو مار گرانے کی تلقین بھی کی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رائے دہندگان ان کے بیان پر کتنا عمل کرتے ہیں اور ان کا نشانہ کتنا درست بیٹھتا ہے؟
Like this:
Like Loading...