Skip to content
مہاراشٹرا اسمبلی انتحابات ،ونچت بہوجن اگھاڑیVBA کیا چاہتی ہے ؟
ازقلم:شیخ سلیم ،ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
ونچت بہوجن اگھاڑی VBA(وی بی اے) نے مہاراشٹرا کی سیاست میں ایک مضبوط مقام حاصل کیا ہے۔ اس تنظیم کی قیادت ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر کر رہے ہیں، جن کے پیچھے بدھ مت، دلت، اور اقلیتی ووٹروں کی مضبوط حمایت ہے۔ لیکن 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں وی بی اے نے جس حکمت عملی کو اپنایا، اس نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا یہ حکمت عملی ترقی پسند اتحاد کو مضبوط بنانے میں مؤثر ثابت ہوئی یا اس نے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچایا۔
وی بی اے کا سفر 2019 میں شروع ہوا، جب اس نے مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس اتحاد نے انتخابات میں 41.3 لاکھ ووٹ حاصل کیے، اور وی بی اے نے اپنی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا۔ 2019 میں ان کا ووٹ شیئر 14.75 فیصد تک پہنچ گیا، جو کہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس کے بعد وی بی اے نے شیو سینا (ادھو گروپ)، کانگریس اور این سی پی کے ساتھ بھی اتحاد کی کوشش کی اور کچھ معاملات میں ان کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیا۔سارے اتحاد پرکاش امبیڈکر نے خود توڑے۔ ماہرین کا خیال ہے اگر اسد الدین اویسی سی امبیڈکر کا اتحاد قائم رہتا تو دونوں چالیس سے ساٹھ سیٹیں جیت سکتے تھے ۔
لیکن 2024 کے انتخابات میں وی بی اے VBA نے ایم وی اے MVA کے ساتھ اتحاد نہیں کیا اور کئی سیٹوں پر خود سے یا آزادانہ طور پر مقابلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں اکولا، بلڈانہ، بیڈ، ہٹکانگلے اور ممبئی شمال مغرب جیسے حلقوں میں ایم وی اے کو نقصان ہوا، کیونکہ وی بی اے نے ایم وی اے کے ووٹ بینک کو تقسیم کر دیا، جس سے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ ہوا۔
اکولا میں پرکاش امبیڈکر نے خود میدان میں اترے اور 2.76 لاکھ ووٹ حاصل کیے، جس سے بدھ مت، دلت اور اقلیتی ووٹ تقسیم ہوئے۔ اس تقسیم سے بی جے پی کے انوپ دھوترے نے تقریباً 40,000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ اگر وی بی اے نے ایم وی اے کے ساتھ اتحاد کیا ہوتا، تو یہ سیٹ ممکنہ طور پر ایم وی اے کے حق میں جا سکتی تھی۔ اسی طرح بلڈانہ، ہٹکانگلے اور ممبئی شمال مغرب میں بھی وی بی اے کے ووٹوں کی تقسیم نے ایم وی اے کو نقصان پہنچایا اور بی جے پی کے اتحادی امیدواروں کو کامیابی ملی۔
وی بی اے کی تاریخ اتحادوں اور ان سے علیحدگیوں کی داستان سے بھری ہے۔ 2019 میں ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کرنے کے بعد، وی بی اے نے شیو سینا (یو بی ٹی) کے ساتھ بھی مل کر کام کیا، مگر سیٹوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث یہ اتحاد بھی ناکام ہو گیا۔ اسی طرح کانگریس کے ساتھ بات چیت کے دوران بھی وی بی اے کسی باضابطہ معاہدے تک نہیں پہنچ سکی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر وی بی اے نے ان اتحادوں کو برقرار رکھا ہوتا تو انڈیا اتحاد مہاراشٹرا میں زیادہ مضبوط ہوتا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق وی بی اے کے سربراہ پرکاش امبیڈکر نے انڈیا اتحاد کی چار سیٹوں کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور مزید سیٹوں کا مطالبہ کیا، جس سے ان کے عزائم کا اندازہ ہوتا ہے۔ وی بی اے نے ایم آئی ایم سے بھی اپنا اتحاد توڑ لیا، جبکہ دو سال قبل وہ انڈین نیشنل مسلم لیگ کے ساتھ بھی اتحاد کر چکے تھے۔ ان واقعات نے مراٹھی میڈیا میں ان پر "بی ٹیم” ہونے کے الزامات کو ہوا دی، جیسے یوپی میں بہوجن سماج پارٹی پر الزام لگا کہ وہ بی جے پی کی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
وی بی اے پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کے اقدامات نے مہاراشٹرا میں انڈیا اتحاد کو نقصان پہنچایا۔ یوپی میں بھی بہوجن سماج پارٹی نے انڈیا اتحاد کے سولہ امیدواروں کو شکست دی، جس سے انڈیا اتحاد کو کمزور کیا۔ اگر یہ سیٹیں انڈیا اتحاد کے پاس آتی تو یوپی اور مہاراشٹرا میں انڈیا اتحاد کو مزید تقویت ملتی اور دہلی کی صورتحال بھی مختلف ہو سکتی تھی۔
مہاراشٹرا میں 20 نومبر 2024 کو اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے، اور ووٹروں کے پاس اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھنے کا موقع ہوگا۔ انہیں اپنی ترجیحات پر غور کرنا ہوگا اور کسی بی ٹیم کے جال میں پھنسنے سے بچنا ہوگا۔ اگر ووٹر ایم وی اے کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور بی جے پی کے اثر کو کم کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں اتحاد میں شامل جماعتوں کو اپنی ترجیحات میں جگہ دینی ہوگی۔ وی بی اے VBA کا ووٹ بینک سیکولر جماعتوں کا بھی ووٹ بینک ہے، اس لیے وی بی اے کی علیحدگی سے سیکولر جماعتوں کو ہی نقصان پہنچتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں وی بی اے کا کوئی بھی امیدوار کامیابی حاصل نہیں کر سکا، حتی کہ پرکاش امبیڈکر بھی خود کو کامیاب نہیں بنا سکے۔
وی بی اے VBA کو مستقبل میں اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ انڈیا اتحاد کے ساتھ اپنی قوت کو بڑھانا چاہتی ہے، تو اسے ایک جامع اور باضابطہ اتحاد قائم کرنا ہوگا جو دلت، اقلیتی اور ترقی پسند طبقات کو فائدہ پہنچائے۔بار بار اتحاد بنانا اور توڑنے کی پالیسی سے نام خراب ہوتا ہے ، موجودہ حکمت عملی سے وی بی اےVBA بی جے پی اور مہا یوتی کے فائدے کے لیے ووٹ تقسیم کرنے میں ہی کامیاب ہوگی۔اُمیدِ ہے مہاراشٹرا کے ووٹرز ہوش مندی سے کام لینگے اور ووٹوں کی تقسیم نہیں ہونے دینگے۔
Like this:
Like Loading...