Skip to content
جنیوا ،14نومبر( ایجنسیز) ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل محصور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے آج تک بین الاقوامی تنظیموں نے خاص طور پر بچوں کو درپیش خطرات کے تدارک کے لیے مسلسل اپیلیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور ’اوچا‘ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 50,000 سے زیادہ بچوں کو دائمی غذائی قلت کی وجہ سے علاج کی ضرورت ہے۔انہوں نے آج بدھ کو ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق 2024ء میں 50,000 سے زیادہ بچوں کو دائمی غذائی قلت کی وجہ سے علاج کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پانچ سال سے کم عمر کے مزید 346,000 بچوں کے ساتھ ساتھ 160,000 حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو خوراک اور غذائی سپلیمنٹس کی فوری ضرورت ہے۔یہ بات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی 1.95 ملین آبادی میں سے کم از کم 91 فیصد کو غذائی عدم تحفظ کے بحران کا سامنا ہے۔گذشتہ اگست میں اقوام متحدہ نے تصدیق کی تھی کہ غزہ میں ہزاروں بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
تقریباً 240,000 بچوں کا معائنہ کرنے کے بعد 15,000 بچے غذائی قلت کا شکار پائے گئے جن میں 3,288 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔قابل ذکر ہے کہ عالمی ادارہ صحت شمالی غزہ کے کمال عدوان ہسپتال میں غذائیت کے علاج کے مرکز کی مدد کر رہا تھا، جو کہ ان چار سہولیات میں سے ایک ہے جو اس پٹی میں طبی شعبے میں کام کر رہی تھیں۔
پچھلے مہینوں کے دوران ہسپتال نے ہزاروں زخمیوں کو طبی مدد فراہم کی ہے۔گذشتہ ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی طبی سہولت کو اپنا ہدف نہ بنا لیا تھا۔ جس کے بعد وہاں پر موجود مریضوں اور زخمیوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے بین الاقوامی برادری اور صحت کی تنظیموں سے فوری طور پر بنیادی سامان اور ایمبولینس خدمات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
Like this:
Like Loading...