Skip to content
جھارکھنڈ: مودی کے روٹی، بیٹی اور ماٹی کا پوسٹ مارٹم
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
جھارکھنڈ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک انتخابی ریلی میں اعلان کیا کہ اگر وہ بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو دراندازوں کی شناخت، انہیں ریاست سے بے دخل کرنے اور ان کی زمین واپس دلانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ سوال یہ ہے کہ جھارکھنڈ بننے کے بعد بیشتر عرصہ وہاں بی جے پی اقتدار میں رہی۔ اس کے سابق وزرائے اعلیٰ بابولال مرانڈی اور ارجن منڈا قبائلی ہیں اس کے باوجود بھوکے بنگالی وہاں زمینوں کے مالک کیسے بن گئے ؟ دھاراوی سمیت ممبئی و مضافات کی ہزاروں ایکڑ زمین اڈانی کو سونپنے والے کمل چھاپ رہنما جب جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے بنگلا دیشیوں کے ذریعہ روٹی ، بیٹی اور ماٹی یعنی زمین کی لوٹ کا شور مچاتے ہیں تو ہنسی کے ساتھ رونا بھی آتا ہے۔ روٹی کی بات کریں تو دنیا میں سب سے زیادہ بھکمری والے ممالک میں وطن عزیز کا نامِ نامی بھی ہے ۔ بھوک کی عالمی فہرست میں ملک کا مقام بہت اونچا یعنی 105 ؍واں ہے جبکہ 127 ممالک کی اس فہرست میں بنگلا دیش 84 ؍ویں مقام پر ہے۔ ایسے میں روٹی کا زیادہ محتاج کون ہے؟ اور کس کی روٹی کون چھین سکتا ہے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ مودی کے راج میں ایک طرف ملک کے82؍کروڈ لوگوں کو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے پانچ کلو سرکاری اناج کی لائن لگانی پڑتی ہے۔ یہ تعداد بنگلا دیش کی کل آبادی کے چار گنا ہے۔
روٹی کے بعد قبائلی بیٹیوں کے لیے ٹسوے بہانے والے نریندر مودی شاید نہیں جانتے کہ منی پور ایک قبائلی ریاست ہے اور وہاں ڈبل انجن سرکار بھی ہے۔ اس کے باوجود پچھلے ڈیڑھ سال سے اس صوبے کی خواتین مسلسل تشدد کا شکارہیں ۔ مودی جی یوکرین کی جنگ روکنے کے لیے دور دیس تو چلے جاتے ہیں مگر ان کو خود اپنے ملک کے اندر بپا خانہ جنگی روکنے کے لیے امپھال جانے کی توفیق نہیں ہوتی ۔ وہاں جانا تو دور ایوان کے اندر اس مسئلہ پر بحث تک نہیں کرتے۔ ان واقعات کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم جب جھارکھنڈ میں قبائلی خواتین کا رونا رو رہے تھے اسی دوران منی پور کے جیری بام ضلع میں 7 نومبر کی رات ایک 31 سالہ قبائلی خاتون کے پیر پر گولی ماری گئی۔ اس کے بعد اس زخمی خاتون کی اجتماعی عصمت دری ہوئی اور پھر اسے ظالموں نے زندہ جلا دیا۔ مسلح میتئی حملہ آوروں نے گاؤں میں فائرنگ کرتے ہوئے لوٹ مار کی اور 17؍ مکانات کو جلا کر راکھ کردیا۔ اس قتل کو غارتگری کی سزا تین بچوں کو بھی ملے گی جن کی ماں کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا۔
منی پور میں بی جے پی کی سرکار ہے اس کے باوجود خاتون کی جلی ہوئی لاش کو فارنسک جانچ کے لیے پڑوسی ریاست آسام کے شہر سلچر لے کر جانا پڑا۔ ضلع مجسٹریٹ کو ایسا کرنے کی یہ وجہ بتائی گئی ضلع کے صدر مقام میں پوسٹ مارٹم اور فارنسک جانچ کی سہولیات نہیں ہیں۔ منی پور میں بڑھتے ہوئے نسلی بحران کے درمیان، نعش کو نیشنل ہائی وے-37 کے ذریعے جیری بام سے امپھال تک لے جانا ممکن نہیں تھا ، اس لیے لاش کو ہوائی جہاز کے ذریعے آسام بھیجا جائے گا۔اس واقعہ کے بعد، قبائلی تنظیموں نے منی پور میں کوکی-جومی-ہمار برادریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے لیکن مودی جی کو چونکہ فی الحال ان کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے اس لیے جھارکھنڈ کے قبائلیوں کی فکر ستا رہی ہے۔ ریاست کے رائے دہندگان کو کمل پر مہر لگانے سے قبل منی پور کے کانگ پوکپی ضلع میں 4 مئی کے دن دو خواتین کی برہنہ پریڈ کا خوفناک واقعہ یاد کرلینا چاہیے۔
یہ ایسے سفاک لوگ ہیں کہ انہوں نےگزشتہ سال 28 مئی کو ضلع کاکچنگ میں ایک مجاہد آزادی کی 80 سالہ بیوہ کو اس کے گھر میں بند کر کے زندہ جلا دیا تھا ۔ اس بزرگ خاتون کے خاوند چورا چند سنگھ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی کے رکن تھے۔ انہیں سابق صدر اے پی جے عبدالکلام نے اعزاز سے نواز تھا۔ اپریل 1997 میں آل انڈیا فارورڈ بلاک کی طرف سےانہیں نیتا جی ایوارڈ بھی دیا گیا تھا اس کے باوجود انگریزوں کی جوتیاں چاٹنے والے جعلی دیش بھگتوں کو ان کی اہلیہ پر رحم نہیں آیا۔ آنجہانی ایس ایبٹومبی مائبی کی جلی ہوئی ہڈیوں کے ساتھ آدھی جلی تصویریں، تمغے، چوراچند سنگھ کی یادگاریں، بہت سے قیمتی سامان، جلے ہوئے گھر اور دیواروں پر گولیوں کے سوراخ بی جے پی کی قبائلی دوستی کے خلاف چغلی کھارہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ لٹائے گئے بھاری ہتھیاروں سے لیس بدمعاشوں نے جب ان کے گھر پر حملہ کیا توانہوں نے اہل خانہ اور دوسرے پڑوسیوں سے بھاگنے کے لیے کہا مگر بڑھاپے کی وجہ سےخودنہیں بھاگ نہیں سکیں اور نذرِ آتش ہوگئیں۔
روٹی اور بیٹی کے بعد ماٹی کی بات کریں تو مودی جی کا دامن تار تار نظر آتا ہےکیو نکہ 2016 میں جھارکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے سرنا اور مسنا قبائل کی سماجی استعمال کے لیے مختص زمینوں میں سے 22 لاکھ ایکڑ خطۂ اراضی بینک بنانے کے لیے صنعتی گھرانوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان زمینوں کے تحفظ کی خاطرجھارکھنڈ میں CNT اور SPT کی حفاظتی ڈھال ہے پھر بھی بی جے پی کی نیت خراب ہوگئی ۔ دراندازی کا رونا رونے والے مودی جی یہ دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔ بی جے پی کے لوگ جوش میں آکر 370 کو ہٹانے کا کریڈٹ تو لیتے مگر بھول جاتے ہیں وادی میں امن کا دعویٰ کرنےوالے بھول جاتے ہیں کہ 2024 کے 100 دنوں میں 26 دہشت گرد حملے ہوئے۔ ان میں 21 فوجی اور 29 عام شہری مارے گئےجبکہ 47 شہری زخمی بھی ہوئے ۔ اس لیے ڈبل انجن سرکار کسی تحفظ کی ضمانت نہیں ہے۔ کانگریس کے ذریعہ ریزرویشن کا ڈر دکھانے والی بی جے پی نےجھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کی حد کو 27% سے گھٹا کر 14% کر دیا تھا۔ انڈیا الائنس حکومت نے اسمبلی میں 27 فیصد ریزرویشن کی تجویز پاس کی مگر مرکزی حکومت نے اس کی توثیق نہیں کی۔
مودی سرکار نے قبائلی برادری سے جھوٹی محبت کا ڈرامہ کرنے کے لیے ایک قبائلی خاتون کو ملک کی پہلی صدرمملکت تو بنایا مگر نہ ہی انہیں ایوان پارلیمان کی نئی عمارت کے افتتاح میں بلایا اور نہ رام مندر کے پران پرتشٹھان کی دعوت دی ۔ قبائلی سماج کی اس سے بڑی توہین کیا ہوسکتی ہےکہ سرنا قبائلیوں کی مذہبی شناخت کا ضابطہ نافذ کرنے سے بھاگنے والا سنگھ پریوار ان ’ایک رہیں گے تو سیف رہیں گے ‘ کے گمراہ کن نعرے میں انہیں پھنسا کر ان کا استحصال کرنا چاہتا ہے۔ آر ایس ایس قبائلی طبقات کو آدیباسی کے بجائے ون واسی یعنی جنگل کے رہنے والے یا جنگلی کے لقب سے یاد کرتے ہیں ۔ سچ تو یہ مودی جی اور ان کے مشیر جھارکھنڈ کو صنعت کاروں کی کالونی بنانا چاہتے ہیں اور اس کی پردہ داری کے لیے دراندازی کا ڈرامہ کھیلا جارہا ہے۔ بی جے پی کا یہ شور شرابہ ان کی شدید مایوسی کا ثبوت ہے جو انہیں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کواقتدار سے بے دخل کرنے کی غلطی کے نتیجے میں ہاتھ آئی ۔ انہیں گرفتار کرکے امیت شاہ نے اپنے پیر پر جو کلہاڑی ماری تھی ہنوز اس زخم سے خون رِس رہا ہے ۔
جے ایم ایم دراصل قبائلی ودیہاتی پارٹی ہے۔ پارلیمانی انتخاب میں اس نے جھارکھنڈ کی تمام ریزرو نشستوں کو جیت کر اپنی برتری ثابت کردی۔ اس کے برعکس بی جے پی و کانگریس وغیرہ شہری رائے دہندگان کو متاثر کرتی ہیں مگر ہیمنت سورین کی اہلیہ کلپنا سورین نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے ۔ وہ پڑھی لکھی ہونے کے سبب ہندی سمیت کئی زبانوں میں شہر ی رائے دہندگان پر اثر انداز ہورہی ہیں اس لیے شہروں سے بھی بی جے پی کی زمین کھسکنے لگی ہے۔ اس کے علاوہ جے ایم ایم کے لوگوں کی آمدکے بعد انہیں ٹکٹ دینے کے سبب داخلی بغاوت پر قابو پانا بھی بی جے پی کے لیے ناممکن ہورہا ہے۔ آر ایس ایس کا ونواسی فریب جب بے اثر ہوگیا تو ان کے پاس ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے رہنما کبھی بٹیں گے تو کٹیں گے کہتے ہیں تو کبھی روٹی ، بیٹی اور ماٹی کے عدم تحفظ کا رونا روتے ہیں۔ بی جے پی اگر کوئی کلپنا سورین جیسا کرشماتی رہنما پیدا کرلیتی اور اندرونی طور پر متحد ہوتی تو اسےیہ تماشاکرنے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے اس لیے اپنے پرانے حربے کی مدد سے انتخاب جیتنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس میں اسے کامیابی ملے گی یا نہیں یہ تو وقت بتائے گا۔
Like this:
Like Loading...