Skip to content
حجاز مقدس میں دَجّالی تہذیب کا عریاں رقص
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📱09422724040
ریاض کے فحش میلے، جن میں مغربی تفریحی انداز، عریانی، اور غیر اسلامی سرگرمیاں شامل ہیں، امت مسلمہ کے لیے گہرے اضطراب کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ یہ تقریبات سعودی عرب میں ایک بڑی ثقافتی تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہیں، جہاں کبھی سخت مذہبی قوانین اور اسلامی اقدار کا بول بالا تھا۔ ان سرگرمیوں کے پیچھے ویژن 2030 کا منصوبہ کار فرما ہے، جس کا مقصد معیشت کو مضبوط بنانا اور تیل پر انحصار کم کرنا ہے۔ تاہم، اس منصوبے کے تحت جن سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، وہ اسلامی اصولوں سے متصادم ہیں اور امت مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ منصوبے اسلامی دنیا کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
یہ عریانی اور بے حیائی پر مبنی میلوں میں فیشن شوز، موسیقی کے کنسرٹس، اور دیگر تفریحی سرگرمیاں شامل ہیں، جو اسلامی تہذیب و تمدن کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہیں۔ ان تقریبات میں مغربی طرز کے لباس، غیر اسلامی رقص، اور بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ان میلوں سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور ملک کی معیشت مضبوط ہوگی۔ لیکن دین کی بنیادی تعلیمات کو نظر انداز کرکے دنیاوی فوائد کا حصول نہ صرف اللّٰہ کی ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ امت مسلمہ کو اخلاقی زوال کی طرف دھکیلنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
سعودی عرب، جو اسلام کی مقدس سر زمین ہے اور جہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس شہر موجود ہیں، ان غیر اخلاقی سرگرمیوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہا ہے بلکہ اسلام دشمن عناصر کو تنقید کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔ مقدس مقامات کے احترام کو نظر انداز کرتے ہوئے اس قسم کی سرگرمیوں کا انعقاد اسلامی شعائر اور مسلمانوں کی روحانی وابستگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
یہ صورتحال امت مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اسلام نہ صرف ایک مذہب بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اخلاقیات، تہذیب، اور روحانیت پر زور دیتا ہے۔ ایسے میں ان غیر اسلامی میلوں کا انعقاد، جو اسلام کے اخلاقی اصولوں سے متصادم ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسلمان حکمران کس حد تک دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے اپنے دینی تشخص کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان حالات میں علما، دانشور، اور امت کے ذمّہ دار افراد پر لازم ہے کہ وہ ان سرگرمیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور حکمرانوں کو دین کی تعلیمات اور اسلامی اقدار کی طرف واپس آنے کی نصیحت کریں۔
حجاز مقدس میں مغربی فیشن اور عریانی کے بڑھتے ہوئے اثرات صرف لباس تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے اثرات سعودی معاشرت کی دیگر پہلوؤں پر بھی گہرے ہو رہے ہیں۔ تفریحی تقریبات، موسیقی کے کنسرٹس، اور مغربی انداز کی سماجی سرگرمیاں ان تبدیلیوں کا ایک اور اہم پہلو ہیں۔ ریاض اور دیگر شہروں میں موسیقی کے کنسرٹس اور فیشن شوز کا انعقاد، جن میں مغربی گلوکار اور ماڈلز شرکت کرتے ہیں، اسلامی اقدار کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ان تقریبات میں مرد اور خواتین کا آزادانہ میل جول اور مغربی ثقافتی اثرات کو فروغ دینا سعودی عرب کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو دھندلا رہا ہے۔ ایسے پروگرامز میں وہ عناصر شامل ہوتے ہیں جو نہ صرف روایتی اسلامی معاشرت کے لیے غیر موزوں ہیں بلکہ وہ ایک اسلامی ریاست کی روح کے خلاف سمجھے جا رہے ہیں۔
سعودی عرب میں خواتین کے لباس کی نوعیت میں حالیہ برسوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ سعودی خواتین کے لیے عبایہ اور نقاب پہننا روایتی طور پر لازمی تھا، لیکن سعودی حکومت نے ثقافتی اصلاحات کے تحت خواتین کے لباس میں نرمی لانے کی کوشش کی ہے۔ 2019ء میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کو عبایہ کے بغیر بھی عوامی جگہوں پر جانے کی اجازت دے دی۔ اس کے علاؤہ، سعودی خواتین اب کھلے عام مغربی طرز کے لباس پہنتی ہیں، جیسے جینز، اسکرٹس، اور ٹاپس، جو پہلے اسلامی معاشرت میں قابل قبول نہیں تھے۔
یہ تبدیلیاں سعودی معاشرت میں ایک بڑا ثقافتی دھچکا سمجھی جاتی ہیں، کیونکہ سعودی عرب میں اسلام کے سخت قوانین کی پیروی کی جاتی ہے۔ لوگ ان تبدیلیوں کو اسلامی روایات سے انحراف اور مغربی طرز زندگی کے اثرات کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ سعودی معاشرت میں خواتین کی آزادی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی فضا میں مغربی فیشن کا داخلہ اہم کردار ادا کرتا ہے، جو اسلامی روایات سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔
ان تبدیلیوں نے نہ صرف سعودی معاشرت میں ایک کشمکش پیدا کی ہے بلکہ اسلامی دنیا میں بھی ایک بڑی فکری بحث کو جنم دیا ہے۔ مذہبی طبقہ ان سرگرمیوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انحراف سمجھتا ہے اور ان کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔ علماء اور اصلاحی تحریکیں ان تبدیلیوں کو روکنے اور سعودی معاشرت کو اسلامی اقدار کے مطابق رکھنے پر زور دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، جہاں اسلام کے مقدس ترین مقامات موجود ہیں، کو دیگر مسلم ممالک کے لیے ایک مثال بننا چاہیے، نہ کہ مغربی تہذیب کی پیروی کرنی چاہیے۔
یہ تبدیلیاں ایک اہم سوال اٹھاتی ہیں کہ آیا ان اصلاحات کے تحت سعودی عرب اپنی شناخت کو برقرار رکھ پائے گا یا مغربی تہذیب کے رنگ میں ڈھل جائے گا؟ ویژن 2030 کے تحت کیے جانے والے اقدامات، اگرچہ اقتصادی طور پر اہم ہو سکتے ہیں، لیکن دینی اور ثقافتی اقدار کی قربانی کے عوض حاصل ہونے والے یہ فوائد ایک دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتے۔
سعودی عرب میں حالیہ برسوں میں بین الاقوامی فیشن برانڈز نے اپنی موجودگی بڑھا لی ہے۔ سعودی عرب کے بڑے تجارتی مراکز اور مالز میں بین الاقوامی فیشن برانڈز جیسے "لوئس ویٹن”، "چنل”، "ڈیور”، اور "گپ” کے اسٹورز کھل چکے ہیں۔ یہ برانڈز سعودی عرب میں مغربی طرز زندگی کی نمائندگی کرتے ہیں، اور ان کی مقبولیت سعودی عرب کے جدید نوجوانوں میں بڑھ رہی ہے۔ ان فیشن برانڈز کا سعودی مارکیٹ میں داخلہ ایک بڑی ثقافتی تبدیلی کی علامت ہے۔ سعودی عرب میں جہاں ایک طرف اسلامی اقدار اور پردہ کا روایتی تصور تھا، اب وہاں مغربی طرز زندگی اور فیشن کی اشیاء کا استعمال زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اس میں خواتین کے لباس کے ساتھ ساتھ میک اپ، جوتے، اور دیگر عیش و آرام کی اشیاء شامل ہیں جو کہ مغربی ثقافت کی طرف ایک رجحان کو ظاہر کرتی ہیں۔
"دَجّالی تہذیب” کا مفہوم اسلامی تاریخ اور اس کے آئندہ عالمی منظرنامے سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے مطابق ایک ایسا عالمی نظام قائم ہونے جا رہا ہے جو اسلامی اقدار کو ختم کر کے مغربی طرز زندگی کو فروغ دے گا۔ دجالی تہذیب کی اصطلاح کو بعض علما اور مصلحین اس وقت کے رجحانات اور عالمی سیاست کے تناظر میں استعمال کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں عریانی اور مغربی طرز زندگی کے بڑھتے اثرات کو وہ دَجّالی تہذیب کے عریاں رقص کے طور پر دیکھتے ہیں۔
سعودی عرب میں خواتین کے لباس کی آزادی، فیشن کی مقبولیت، اور مغربی کلچر کے اثرات، خاص طور پر نوجوانوں میں، کچھ افراد کے نزدیک دَجّالی تہذیب کی جانب ایک قدم ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ تبدیلیاں اسلامی معاشرت کو ان کی روحانیت اور قدیم روایات سے منحرف کر رہی ہیں اور مغربی ثقافت کو فروغ دے رہی ہیں، جو دَجّالی طاقتوں کا حصّہ ہو سکتی ہیں۔
سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیوں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ مغربی طرز زندگی کو اپنانے کی ایک کوشش دکھائی دیتی ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی "ویژن 2030” کے تحت سعودی عرب میں ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن کا مقصد سعودی عرب کو عالمی سطح پر جدید، ترقی یافتہ، اور اقتصادی طور پر مضبوط بنانا ہے۔ اس ویژن کے تحت سعودی حکومت نے مغربی طرز کے ثقافتی پروگرامز، سیاحتی سہولتوں، اور تفریحی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے، جن میں مغربی طرز کے فیشن شو، کنسرٹس، اور بین الاقوامی کمپنیوں کا سعودی عرب میں داخلہ شامل ہے۔
حجاز مقدس میں عریانی اور فیشن کے اثرات کا بڑھنا، اور سعودی عرب میں خواتین کے لباس اور طرز زندگی میں ہونے والی تبدیلیاں، ایک حساس مسئلہ ہیں جو اسلامی روایات اور مغربی طرز زندگی کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتی ہیں۔ سعودی عرب کی اقتصادی ترقی اور ثقافتی اصلاحات کے باوجود، ان تبدیلیوں کو بعض افراد دَجّالی تہذیب کے اثرات کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ یہ اسلامی معاشرت کے روایتی اقدار کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا اثر نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری اسلامی دنیا پر مرتب ہو رہا ہے، اور اس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔
جب اسلامی اقدار اور روایات میں تبدیلیاں آئیں اور معاشرت میں برائیوں کا بڑھنا شروع ہو، تو اس پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ سعودی عرب، جو مسلمانوں کا مرکزِ عقیدہ اور مقدس سر زمین ہے، وہاں ایسی تبدیلیاں اگر نظر آئیں، تو یہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک تشویش کا باعث بن جاتی ہیں۔ وہ حضرات کہاں ہیں جو کفر و شرک کے فتوے لگانے میں پیش پیش تھے، اور اصلاح کا دعویٰ کرتے تھے؟ ان سوالات کا مقصد وہی ہے کہ اگر کسی معاشرتی یا حکومتی سطح پر بے راہ روی اور تبدیلیاں رونما ہوں تو اس کا مقابلہ کرنا اور اصلاح کی کوشش کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے، خاص طور پر حکمرانوں کے لیے۔
اگر سعودی عرب جیسے ملک میں، جہاں خادم الحرمین الشریفین کی سرپرستی میں ایسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، تو یہ یقینی طور پر اسلام کے دشمنوں کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس کا غلط فائدہ اٹھائیں اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کریں۔ جب مسلمانوں کی مقدس سر زمین پر برائیاں عام ہوں، تو یہ اسلامی تعلیمات کے حوالے سے ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
اس حوالے سے ضروری ہے کہ شؤون الدعوة والإرشاد اپنے دائرہ کار کو صرف حج و عمرہ تک محدود نہ رکھے، بلکہ حکمرانوں اور صاحبِ اقتدار افراد کو بھی دعوت و نصیحت کا پیغام پہنچائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حکمرانوں کے دلوں میں تقویٰ اور خوفِ خدا پیدا ہو، تاکہ وہ اپنی پالیسیوں اور فیصلوں میں اسلامی اقدار کو ترجیح دیں اور امتِ مسلمہ کی فلاح اور بہتری کے لیے کام کریں۔ یقینی طور پر، اس وقت میں امتِ مسلمہ کے لیے اصلاح اور اپنے ایمان کی تجدید کا وقت ہے تاکہ ہم اپنے اصولوں اور اقدار کی حفاظت کر سکیں۔
مکہ و مدینہ جیسی مقدس سر زمین پر ہونے والے ایسے اعمال جو اسلامی اقدار کے سراسر مخالف ہوں، یقیناً دل کو زخمی کرتے ہیں۔ یہ اعمال نہ صرف امتِ مسلمہ کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ اسلام دشمن عناصر کو بھی مسلمانوں پر انگلی اٹھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ریاض کے میلے اور اس جیسے دیگر واقعات کے بارے میں جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں، وہ امت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔
کعبہ کی شکل کا مجسمہ تیار کر کے اس کے گرد بے حیائی کے مناظر پیش کرنا، دین کی حرمت کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ میلوں میں کعبہ کے طرز پر مجسمے یا دیگر مقدس علامات کا استعمال تفریح و رقص کے لیے کیا گیا ہے، جسے دین کی توہین کے طور پر دیکھا جائے گا۔ اس پر شدّید ردّعمل سامنے آیا ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ اسلام کے مقدس عبادت گاہوں کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کی ثقافتی علامت سمجھی جانے والی تلواریں، جو کبھی دین کے دفاع اور حق کے قیام کے لیے استعمال ہوتی تھیں، اب تفریحی تقریبات اور ناچ گانے کا حصّہ بن چکی ہیں۔ یہ دین اور ثقافت کی اہم نشانیوں کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اس عظیم ورثے کی توہین ہے جو اسلامی تاریخ نے ہمیں امانت کے طور پر سونپا تھا۔
علّامہ مُحمّد اقباؔلؒ نے اپنے شعر میں ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا ہے:
تیر و سنان و خنجر و شمشیرم آرزوست
با من میا کہ مسلکِ شبیرم آرزوست
علّامہ مُحمّد اقباؔلؒ یہاں اپنی آرزو کا اظہار کرتے ہیں کہ تیر و نیزہ، خنجر اور شمشیر جیسے ہتھیار حق کے دفاع میں استعمال ہوں۔ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ان کی خواہش مسلکِ شبیرؓ پر عمل پیرا ہونا ہے، یعنی باطل کے خلاف استقامت کے ساتھ جہاد کرنا۔ اقبال کے نزدیک ہتھیار اٹھانا محض جنگ یا قتال کے لیے نہیں، بلکہ حق کی سربلندی اور باطل کے خاتمے کے لیے ایک ناگزیر ضرورت تھی۔ ان کا یہ پیغام آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دینی و ثقافتی ورثے کا تقدس برقرار رکھنا اور اسے اس کے اصل مقصد کے لیے استعمال کرنا ہماری اجتماعی ذمّہ داری ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے ایک خاص ایجنڈا کار فرما ہے۔ یہ کسی اتفاقیہ حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے، ان کے عقیدے کو کمزور کرنے، اور ان کے اخلاق کو تباہ کرنے کی منظم کوشش ہے۔ معیشت اور سیاحت کے فروغ کا بہانہ بنا کر جو اعمال کیے جا رہے ہیں، وہ اسلامی اصولوں سے نہ صرف متصادم ہیں بلکہ ان کا مقصد دنیاوی فائدے کے لیے اللّٰہ کی نافرمانی کو جائز ٹھہرانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللّٰہ کی رحمت اور فضل کبھی بھی گناہ اور نافرمانی کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
یہ وقت ہے کہ علما اور دینی رہنما اس فتنے کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔ جو علماء حق بات کہنے سے گریز کرتے ہیں اور حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے حق کو چھپاتے ہیں، وہ قرآن اور حدیث کی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے: "بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اور اللّٰہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔” (سورۃ النور: 19)
علما کو چاہیے کہ وہ حکمرانوں کو تقویٰ اور خوفِ خدا کی نصیحت کریں اور امت کو ان گناہوں کے نتائج سے آگاہ کریں۔ اگر علما اس وقت خاموش رہتے ہیں تو یہ امت کے لیے ایک بڑا سانحہ ہوگا۔ یہ وقت علما کے لیے حق بات کہنے کا ہے، اور ان پر فرض ہے کہ وہ ان غیر اسلامی سرگرمیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور حکمرانوں کو نصیحت کریں کہ دین اور دنیا کے درمیان توازن قائم کریں۔ یہ نہ صرف ان کی دینی ذمہ داری ہے بلکہ امت کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کے لیے ایک اہم قدم بھی ہے۔
اے نوجوانانِ امت! یہ وقت غفلت کا نہیں، بلکہ اپنے دین، ایمان، اور اخلاق کی حفاظت کا ہے۔ ان فتنوں سے بچنا ضروری ہے جو دل و دماغ کو کمزور کرتے ہیں۔ اس کے لیے قرآن اور سنّت کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھالیں۔ اللّٰہ کی عبادت، دین کی سربلندی، اور امت کے وقار کی حفاظت آپ کی اوّلین ذمّہ داری ہے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ نوجوانوں کی محنت اور قربانیوں نے امت کے زوال کو عروج میں بدلا ہے۔ اسی جذبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آپ اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھ سکیں اور ان فتنوں سے بچ سکیں جو ایمان کو کمزور کرتے ہیں۔
امت مسلمہ کو اجتماعی طور پر ان غیر اسلامی سرگرمیوں کی مخالفت کرنی چاہیے اور حکمرانوں کو اپنے تحفّظات سے آگاہ کرنا چاہیے۔ قرآن و سنّت کی روشنی میں علما، دانشور، اور اصلاحی تحریکیں امت کو ان سرگرمیوں کے نقصانات اور ان کے اثرات کے بارے میں آگاہ کریں۔ یہ وقت ہے کہ دعوت اور اصلاح کے ذریعے لوگوں کو قرآن و سنّت کی تعلیمات کی طرف واپس لایا جائے تاکہ وہ مغربی تہذیب کے جال سے بچ سکیں اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کر سکیں۔ اگر امت اس وقت غفلت برتے تو اس کے نتائج نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی خطرناک ہوں گے۔ لہٰذا اجتماعی شعور، حکمت، اور بصیرت کے ساتھ ان چیلنجز کا سامنا کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔
مقدس سر زمین کا تحفّظ اور اسلامی شناخت کی بحالی امت مسلمہ کی اجتماعی ذمّہ داری ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اللّٰہ کی طرف رجوع کریں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں، اور اپنے عمل و کردار کے ذریعے دنیا کو یہ باور کرائیں کہ اسلام ہمیشہ امن، انصاف، اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا علمبردار رہا ہے۔ ایسی سرگرمیاں، جو ان اقدار کے منافی ہوں، کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس آزمائش سے نکلنے اور دین کے راستے پر استقامت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ہم اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے، حکمرانوں اور علما کو حق کی پہچان اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور امت مسلمہ کو اپنے دین کی حفاظت اور سربلندی کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی ہمت اور استطاعت بخشے۔ اے اللّٰہ! امت کو موجودہ بحران سے نجات عطا فرما اور ہمیں حقیقی اسلامی روح کے مطابق زندگی گزارنے کا راستہ دکھا۔ (آمین)
•┅┄┈•※✤م✿خ✤※┅┄┈•
(18.11.2024)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Ⓜ️•••══ ༻م✿خ༺══•••Ⓜ️
○○○○○○○○○
Like this:
Like Loading...