Skip to content
اللہ تعالی توبہ کرنے والو ں سے محبت رکھتاہے اور وہ اللہ تعالی کی نظر میں محبوب ہے:مولانا حافظ پیر شبیر احمد کا بیان
حیدرآباد (19؍ نومبر 2024ء)
حضرت مولانا حافظ پیر شبیر ا حمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اللہ کا کوئی ایسا بندہ نہیں جس کے دل و دماغ دنیا کی ہمہ ہمی، چمک دمک اور رنگ رلیوں سے متاثر نہ ہوتے ہوں، نفسانی خواہشات، دنیا کی مختلف لذتیں اور پھر شیطانوں کے مختلف جہتوں سے تسلسل کے ساتھ حملے ہیں جن کے سبب ولی صفت انسان بھی غفلت کا شکار ہوکر گناہ اور قصور کربیٹھتا ہے لیکن جب وہ ندامت، شرمندگی اور اللہ کے نزدیک جواب دہی کا احساس پیدا کرتا ہے اور اپنے کو مجرم اور خطاوار سمجھ کر معافی اور بخشش مانگتا اور آئندہ کے لیے توبہ کرتا ہے تواس کے سارے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور وہ اللہ کی نظر میں اتنا محبوب اور پیارا انسان ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو، قرآن مجید میں توبہ و استغفار کرنے والے بندوں کے لیے صرف معافی اور بخشش ہی کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت و محبت اور اس کے پیار کی بشارت سنائی گئی ہے بے شک اللہ محبت رکھتا ہے توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتا ہے پاک صاف رہنے والوں سے۔
انہوں نے کہا کہ غلطی اور گناہ کا احساس اور پھر گریہ و زاری اللہ کو بہت پسند ہے، جب کوئی انسان جرم اور گناہ کرنے کے بعداپنے مالک حقیقی کے سامنے روتا ہے تو وہ اس سے بے انتہا خوش ہوتا ہے گویا اس نے اپنی بندگی، عاجزی اور اللہ کی عظمت کااعتراف کرلیا اور یہی وہ تصور ہے جس کے استحکام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے قرب اور بڑی نعمتوں اور رحمتوں کا وعدہ فرمایا ہے، ایک موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندہ کی توبہ سے اتنا خوش ہوتا ہے جیساکہ وہ سوار جس کی سواری کھانے، پانی کے ساتھ کسی چٹیل میدان میں کھوجائے اور وہ مایوس ہوکر ایک درخت کے نیچے سوجائے، جب آنکھ کھلے تو دیکھے کہ وہ سواری کھڑی ہے۔اسی طرح جب جرم و گناہ کے بعد کوئی بندہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور سچے دل سے توبہ کے ذریعہ اللہ کا قرب چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس مایوس شخص سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنے خطاکار بندہ کو اپنا محبوب بنالیتا ہے، ایک حدیث میں ہے کہ اللہ کے نزدیک کوئی چیز دو قطروں سے زیادہ محبوب نہیں، ایک آنسو کا قطرہ جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں گراہوا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ندامت کا آنسو شہیدوں کے خون کی مانند اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے مولانا رومی ؒ فرماتے ہیںندامت کے آنسوؤں کے وہ قطرے جو سجدہ میں گنہگاروں کی آنکھوں سے گرتے ہیں، اتنے قیمتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شہیدوں کے خون کے برابر وزن کرتی ہے۔مگر افسوس صد افسوس آج ہم گناہوں کے سمندر میں غرق ہیں۔ قدم قدم پر رب کریم کی نافرمانیاں کررہے ہیں۔ ہماری صبح، ہماری شام، ہماری رات معصیتوں سے آ لودہ ہیں۔ نفس و شیطان کے چنگل میں پھنس کر ہم اپنے رحیم و مہربان پر وردگار کی بغاوت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ دنیا کی محبت نے ہمیں آخرت سے غافل کررکھا ہے اگر کوئی بندہ صدق دل سے استغفار و توبہ اور باری تعالیٰ کے سامنے اقرارِ معصیت کی خیر و برکات دونوں جہانوں میں نصیب ہوتی ہیں۔
ایک حدیث مبارکہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو کوئی استغفار کو لازم پکڑے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر تنگی میں آسانی، ہر غم سے دوری (کا سامان) پیدا فرمائیگا اور اْسے ایسی جگہ سے رزق نصیب فرمائیگا، جہاں اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔‘‘ دوسری حدیث مبارکہ میں ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز جو شخص اپنے نامہ اعمال میں استغفار کی کثرت پائے،اس کے لیے خوش خبری ہے۔‘تمام مسلمان بھائیوں سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنے کیے گئے اعمال پر شرمندہ ہوں اور اپنے اپنے اعمال کا محاسبہ کریں کہ ہمارا کون سا عمل کس راہ میں صحیح ہوا ہے اور کس راہ میں غلط ہوا ہے تاکہ آپ کو توبہ کرنے کی توفیق مل جائے اور نیکی کی راہ پر چلنے کی توفیق بھی مل جائے۔اللہ تعالی ہم کو صحیح علم اور علم کی توفیق عطافرمائیں۔
Like this:
Like Loading...