Skip to content
قابلِ مطالعہ تحریر:
آج انسان کی لا مقصدیت میں خطرناک طور پراضافہ ہورہا ہے
ازقلم:مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی
(چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈریسرچ ٹرسٹ بنگلور
و جامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور ، بہار)
ماضی میں ضیاعِ وقت کے اتنے خودکارعوامل نہیں تھے، جتنے عصرِحاضر میں پیدا ہو گئے ہیں۔ ویسے تو یہ علمی ترقی اورسائنسی ایجادات کی ریل پیل کادور ہے ، اِن ایجادات کی وجہ سے بَہ ظاہر زندگی "سنور” گئی ہے؛ لیکن غورکیاجائے تو زندگی پہلے سے زیادہ بگڑ گئی ہے۔ سہولتوں کی وجہ سے انسان جتنا ”بنا” ہے ، اس سے زیادہ ” بگڑا” ہے ۔
آج انسان کی پراگندگی ، انتشار ، بے سمتی ، بے فکری ، بے ہنگمی اورلامقصدیت میں خطرناک طور پراضافہ ہوا ہے۔ آج کے انسان کو بھاگم بھاگ لگی ہے۔ ٹھہراؤاورجماؤ سے وہ محروم ہوچکا ہے ، کسی چیز کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ، وہ ہے قراری اورہلچل کی نہ ختم ہونے والی کیفیت سے دوچار ہے۔
عصر حاضر کی ترقی کے مظاہر نے نسلِ نو کی دلچسپیوں اور ترجیحات کو یکسر تبدیل کردیا ہے ، سودوزیاں کاپیمانہ بدل گیا ہے ، اکثر مسئلوں میں اصل نقصان کو نفع اور نفع کو نقصان باور کرلینے کے عوامل طاقت کے ساتھ کارفرما ہیں ۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ناصح کو بدخواہ سمجھ لیا جاتا ہے اور مصلح کو مفسد ۔
اس لئے انسانی عبقریت وذہانت کے عوامل کو اُس طرح بال وپر نکالنے کا موقع نہیں مل پارہا ہے ، جوماضی میں ملتا رہا تھا ۔”مشینی فتح مندی” اور غالبیت نے انسانی صلاحیتوں کو مغلوب کردیا ہے ، جس کی وجہ سے اَن گنت اور بھیانک خرابیاں جنم لے رہی ہیں ۔
اس لئے آج اِس کی سخت ضرورت ہے کہ نسلِ نو کو وقت کی قدروقیمت کا باقاعدہ اور سلیقے سے سبق پڑھا یاجائے ۔
Like this:
Like Loading...