Skip to content
حزب اللہ کی بےمثال مزاحمت۔
اسرائیل جنگ بندی کے لئے راضی
ازقلم: شیخ سلیم
اسرائیل حزب اللہ کے خلاف جنگ بندی کے لئے راضی ہو گیا ہے، حماس کے ساتھ جاری جنگ جو گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے سے جاری تھی حزب اللہ نے اسرائیل پر دباؤ بنانے کیلئے مسلسل اسرائیلی ریاست پر حملے جارہے رکھے تھے اور اسرائیل شمال اور جنوب دونوں جانب جنگ میں ملوث ہو گیا تھا۔ اسی سال اکتوبر مہینے میں اسرائیل نے لبنان میں زمینی حملوں کا اغاز کیا تھا،اب لگتا ہے اسرائیل نے اعتراف کرلیا ہے حزب اللہ کر خلاف مزید جنگ جاری رکھنا ممکن نہیں ہے اب تک پانچ سو سے زیادہ اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ہزاروں کی تعداد میں فوجی زخمی ہیں غزہ میں فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوئی اپنے افراد کو حماس سے آزاد کرانے کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اور یہ حزب اللہ کی اخلاقی فتح ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہو گیا ہے۔ جنگ بندی کی شرائط کچھ اس طرح ہیں۔
* حزب اللہ اور لبنانی سرزمین میں دیگر تمام مسلح گروپ اسرائیل کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کریں گے۔
* اس کے بدلے میں اسرائیل لبنان میں زمینی، فضائی اور سمندری اہداف کے خلاف کوئی جارحانہ فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔
* اسرائیل اور لبنان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔
* یہ ذمہ داریاں اسرائیل یا لبنان کے اپنے دفاع کے حق کی نفی نہیں کرتی ہیں۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری تنازع نے خطے میں کشیدگی کو ایک نئے عروج پر پہنچا دیا ہے۔ لبنان میں اسرائیلی فوج کی محدود پیش قدمی نے عالمی سطح پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اسرائیل، جو اپنے عسکری برتری اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے مشہور ہے، اس تنازع میں حزب اللہ کی سخت مزاحمت کا سامنا کر رہا ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے ایک منظم اور طاقتور دفاعی حکمت عملی نے اسرائیلی فوج کے لیے لبنان کے اندر گہرائی میں جانا مشکل بنا دیا ہے۔مہینہ سے زیادہ ہوا اسرائیلی فوج 3 سے 4 کلو میٹر سے زیادہ لبنان میں داخل نہیں ہو سکی سیکڑوں کے حساب سے فوجی الگ ہلاک ہوئے ۔حزب اللہ کے پاس جدید ہتھیاروں کا ذخیرہ، تربیت یافتہ جنگجو، اور زیر زمین مضبوط پناہ گاہیں موجود ہیں، جو اسرائیلی حملوں کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کو ایران کی مالی، عسکری، اور اسٹریٹجک مدد حاصل ہے، جس نے اس کی جنگی اور دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اپنے راکٹ اور میزائل سے حزب اللہ اسرائیل میں دور تک حملا کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور دفاعی نظام سارے میزائل اور راکٹ کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔
ایران کی حمایت حزب اللہ کو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیار فراہم کر رہی ہے بلکہ خطے میں اس کی سیاسی حیثیت کو بھی مضبوط بنا رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بمباری اور محدود حملوں کے باوجود حزب اللہ نے اپنی پوزیشن مستحکم رکھی ہے اور بار بار اسرائیلی افواج کو پسپائی پر مجبور کیا ہے۔
اس تنازع میں ایک اور بڑا عنصر اسرائیل کی سفارتی تنہائی ہے۔ یورپی یونین اور اسرائیل کے روایتی حلیف ممالک، جن میں امریکہ بھی شامل ہے، اس جنگ کے لیے کھل کر اسرائیل کی حمایت نہیں کر رہے۔غزہ میں کیے جارہے قتل عام سے دنیا کے امن پسند افراد پریشان ہیں بین الاقوامی سطح پر فلسطینی اور لبنانی نقطہ نظر کو پذیرائی مل رہی ہے، اور دنیا بھر میں عوامی رائے اسرائیل کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں ہوتی جا رہی ہے۔ سفارتی حمایت کے فقدان نے اسرائیل کے لیے مزید چیلنجز پیدا کیے ہیں، جس نے اسے جنگ بندی پر مجبور کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ، امریکہ میں نئی قیادت نے جنگی پالیسیوں کے خلاف ایک واضح مؤقف اپنایا ہے۔ نئے امریکی صدر کھل کر جنگوں کے خاتمے کی بات کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر امن قائم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ امریکی پالیسی میں اس تبدیلی نے بھی اسرائیل پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ تنازع کو مزید طول دینے کے بجائے جنگ بندی کو قبول کرے۔
یہ تمام عوامل، بشمول حزب اللہ کی مزاحمت، ایران کی حمایت، بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی، اور امریکہ کی بدلی ہوئی پالیسی، اسرائیل کے لیے اسٹریٹجک ناکامی ثابت ہوئے ہیں۔ جنگ بندی کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل اب خطے میں پہلے جیسی سیاسی اور عسکری حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں رہا۔ یہ تنازع خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرے گا اور عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔دیکھنا ہے اس موقع کو اس پاس کے مسلم ممالک اپنی قوت بڑھانے اور آپسی تعاون و اتحاد کیسے بڑھاتے ہیں۔فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک میں کیسے مدد کر سکتے ہیں سعودی عرب اور ایران میں بڑھتے تعاون سے بھی خطے کی صورت حال میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔یہ بھی جنگ بندی کی ایک وجہ ہے ۔
Like this:
Like Loading...