Skip to content
وزیر اعظم منی پور سے کب تک آنکھ چرائیں گے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایوانِ پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں اڈانی کے علاوہ سنبھل اور منی پور پر بھی بحث کرنے سے مودی سرکار بھاگ رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ کسی طرح مزید دوہفتے گزرجائیں اور پارلیمانی اجلاس کی رسم ادا ہوجائے نیز ہنگامہ آرائی کے دوران وہ چند غیر اہم قوانین کو بغیر کسی گفت و شنید کے منظور کروا لے۔ اڈانی کا تنازع مودی سرکار دکھتی رگ ہے اس لیے حزب اختلاف اسے بار بار چھیڑ تا ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ منی پور اور سنبھل کے معاملات اس سے کم اہمیت کے حامل نہیں ہیں ۔ وطن عزیز کا المیہ یہ ہے ہمارے ملک میں سیاست کو دیگر چیزوں پر فوقیت حاصل ہوجاتی ہے۔ قوم پر جب انتخابی بخار چڑھتا ہے تواس کے نزدیک انسانی جانیں ارزاں ہوجاتی ہیں۔ مہاراشٹر، جھارکھنڈ اور ضمنی انتخابات کی مہم ، ایکزٹ پول اور پھر نتائج میں میڈیا نے عوام الناس کو ایسے الجھایا کہ وہ بھول گئے منی پور پھر سے دہک اٹھا ہے۔
منی پور کے پھر سے پھوٹنے والےپر تشدد تازہ واقعات 16؍ افراد کی جان لے چکے ہیں مگر اب یہ ہوا کہ ڈیڑھ سال سے کمبھ کرن کی نیند سونے والا سنگھ پریوار بھی جاگ گیا ۔ سوال یہ ہے کہ آخر اتنے طویل عرصے کے بعد ان زعفرانیوں کے کان پر جوں کیونکر رینگی کیونکہ گینڈے کی مانند موٹی چمڑی والے اس پریوار کو عام طور پر ظلم وجبر کے سانحات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہی لوگ اس کے ارتکاب میں ملوث ہوتے ہیں ۔ آج کل اس کی بھی ضرورت نہیں رہی کیونکہ ان کے ایماء پر انتظامیہ ہی سب کچھ کردیتا ہے۔ اس لیے سنگھ کے لوگ دل ہی دل میں خوش ہوتے ہیں اور کبھی کبھار اپنی خوشی کا زبان سے اظہار بھی کردیتے ہیں مگر اکثر خاموشی رہتی ہے ۔سنگھ پریوار کے اس رویہ کی سب سے بڑی مثال منی پور ہے کہ جہاں ڈیڑھ سال سے تشدد کے شعلے بھڑک رہے ہیں لیکن وزیر اعظم سے لے کر وزیر داخلہ تک اور موہن بھاگوت سے اندریش کمار تک کسی کو وہاں جاکر کم ازکم فساد زدگان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔
منی پور کے حالات نے پچھلے دنوں ایسی کروٹ لی کہ سنگھ پریوار بیدار ہوگیا ۔ اس کا اچانک جاگ کر طول طویل بیانات دینا بے سبب نہیں ہے۔ منی پور میں نسلی تعصب کی بنیاد پر جاری تشددمیں اب تک 200 سے زائد انسانی زندگیوں کا اتلاف ہوا مگر سنگھ کے اندر سناٹا چھایا رہا ۔ وطن عزیز میں عام طور انسانی حقوق کی پامالی کو بھی مذہب یا ذات پات کی عینک سے دیکھا جاتا ہے۔ اس بابت کچھ بولنے یا کرنے سے قبل اپنے پرائے میں تفریق کی جاتی ہے نیز سیاسی فائدہ یا نقصان کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ اس بار سنگھ کے اچانک جاگنے کی یہی دونوں وجوہات ہیں کیونکہ آخر میں جو لوگ دہشت کا شکار ہوئے وہ سب کے سب میتئی ہیں۔ ان کا تعلق اگر کوکی قبائل سے ہوتا اور وہ عیسائی ہوتے تو سنگھ کو کوئی فرق نہیں پڑتا نیزردعمل میں کوکی سماج کے ارکان اسمبلی کے گھروں پر عتاب ٹوٹ پڑتا تب بھی چل جاتا لیکن اس بار تو سب کچھ الٹا ہوگیا ۔
موجودہ تشدد کا شکار ہونے والوں میں سے 10 عیسائی ضرور ہیں مگر 6؍ کا تعلق ہندو اکثریتی میتئی قبیلے سے بھی ہے ۔ ہندووں کی موت پر سنگھ کا حامی میتئی سماج آپے سے باہر ہوگیا ۔ اس نے اپنے ہم مذہب ارکان اسمبلی گھروں پر ہلہّ بول دیا ۔ اس طرح ریاستی حکومت کے وجود پر سوالیہ نشان لگ گیا اور اس نے سنگھ پریوار کی نیند اڑا دی ۔ منی پور میں جاری نسلی تشدد پر نہ صرف ہندوستان کے اندر بلکہ بیرونی ممالک میں بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے ۔حقوق انسانی کی تنظیموں اور جہدکاروں نے کئی بار وزیر اعظم کی پراسرار خاموشی پر سوال اُٹھایا اور اُن پر تنقید کی مگر سنگھ پریوار اپنی قرابت داری نبھاتا رہا لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو بی جے پی کی سرپرست تنظیم آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے بھی اس بابت تشویش کا ا ظہار کرہی دیا ۔اس معاملے میں آر ایس ایس کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ویدیارتھی پریشد (ABVP) نے پہل کرتے ہوے منی پور تشدد پر قابو پانے میں ناکامی کیلئے نہ صرف ریاستی سرکار بلکہ مرکز کی نریندر مودی حکومت پر بھی تنقید کردی ۔
اے بی وی پی کے مطابق اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو 6 زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں۔ سنگھ پریوار کی طلبا تنظیم کو چاہیے تھا کہ وہ اس دوران تشدد کا شکار ہوکر جان گنوانے والے کوکی شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کرتی لیکن اس سے یہ نہیں ہوسکا۔ یہ اس کی تربیت کا نقص ہے حالانکہ جس قتل غارتگری پر وہ احتجاج کررہی ہے وہ تو ایک ردعمل ہے۔ اس نے بلا کم و کاست یہ الزام لگا دیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں بشمول متعلقہ حکام اپنےفرائض منصبی کی ادائیگی میں ناکام ہوچکے ہیں ۔ وہ سب حالات کو معمول پر لاکر عوام کی تحفظ و سلامتی فراہم کرنے میں ناکام رہےہیں ۔جیبرم کے قریب سے لاشوں کی برآمدگی کے بعد اے بی وی پی کو برہم و مشتعل ہجوم کے ذریعہ ارکان اسمبلی کی املاک پر حملوں اور تباہی نے تشویش میں مبتلا کیا ۔ ان حملوں میں دونوں جانب میتئی ہندو ہیں ۔ یعنی ہندو سماج آپس میں بنٹ کر ایک دوسرے کو کاٹنے لگا تو اے بی وی پی نے ’ ایک رہنے اور سیف رہنے‘ کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرنا شروع کردیا ۔ اپنی طلباء تنظیم کے دلیرانہ بیان سے عار محسوس کرکے مادرِ تنظیم کا دل بھی پسیج گیا اور آر ایس ایس کی منی پور یونٹ نے بھی ایک بیان جاری کرکے مرکز اور ریاست کی ڈبل انجن حکومتوں سے ہوئے ریاست میں جاری بحران کے حل کی خاطرفی الفور کارروائی کا مطالبہ کرڈالا ۔
اے بی وی پی کی مانند آر ایس ایس کی انسانیت نوازی میتئی خواتین اور بچوں کے اغواء اور کئی دنوں تک اُنھیں یرغمال بنائے رکھنے کے بعد قتل کی مذمت تک محدود تھی۔ یہ یقینا ً غیرانسانی اور ظالمانہ کارروائی ہے لیکن اگر پچھلے ڈیڑھ سال میں حالات کو معمول پر لے آیا جاتا تو یہ نوبت نہیں آتی۔ آر ایس ایس نے اپنے بیان میں واضح طور پر الزام لگایا کہ منی پور میں جاری تباہی و بربادی اور قتل و غارتگری کی آگ پر قابو پانے میں مرکز کی مودی اور ریاست کی بیرن سنگھ کے زیرقیادت بی جے پی حکومتیں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ آر ایس ایس کے بیان میں 3 مئی 2023ء کو شروع ہونے والے منی پور تشدد کو بدقسمتی و بدبختی قرار دے کر 19 ماہ بعد بھی بحران اور تنازعہ کے حل نہ ہونے کی مذمت کی گئی ۔ سنگھ پریوار کی یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جبکہ بی جے پی کی حالت بہت خراب ہے اور اسے شدت سے اپنے اہل خاندان کی حمایت درکار ہے۔
منی پور میں تازہ تشدد کے واقعات پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے انتہائی تشویش ظاہرکرچکے ہیں ۔ انھوں نے اس تعلق سے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک خط لکھ کرفوری مداخلت کی گزارش کردی ۔ کھڑگے کا یہ اقدام ریاست کی ڈبل انجن سرکار اور مودی حکومت سے مایوسی و اس پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ کھڑگے نے صدر مرمو سے یہ یقینی بنانے کی گزارش کی کہ ریاست کے لوگ عزت کے ساتھ اپنے گھروں میں سکون کی زندگی گزاریں۔ کھڑگے نے بھی سنگھ کی مانند گزشتہ 18 ماہ سے ریاست میں نظامِ قانون اور لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکامی کے لیے مرکزی و ریاستی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ اس حوالے سے خواتین اور بچے سمیت 300 سے زائد اموات اور تقریباً ایک لاکھ لوگوں کے نقل مکانی کرکے راحتی کیمپوں میں رہنے کے لیے مجبور ہونے کی جانب توجہ مبذول کرائی ۔کانگریس کے صدر نے امن و سلامتی کے علاوہ منی پور میں روز افزوں مہنگائی کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ 18 مہینوں میں منی پور کے اندرامن و سلامتی بحال کرنے میں مرکزی حکومت و منی پور کی ریاستی حکومت پوری طرح ناکام رہی ہے۔ اب لوگوں کا اعتماد دونوں حکومتوں سے اٹھ گیا ہے۔
ملک ارجن کھڑگے کے مطابق حکومتوں سے کوئی مدد نہ ملنے کے سبب 540 دنوں سے زیادہ وقت سے مقامی لوگ خود کو پوری طرح الگ تھلگ اور بے بس پا رہے ہیں۔ عوام کا ہندوستانی وزیر اعظم اور ریاستی وزیر اعلیٰ پر اپنی زندگی اور ملکیت کی حفاظت سے متعلق بھروسہ باقی نہیں رہا۔ ریاست کی معیشت اور خوردہ مہنگائی 10 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ بے روزگاری نے کی زندگی کو بے حد مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایوانِ زیریں میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی گزشتہ 18 ماہ میں 3 مرتبہ منی پور کا دورہ کیا مگر وزیر اعظم کا ایک بار بھی وہاں نہ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ راہل گاندھی نے بھی منی پور میں پرتشدد جھڑپوں اور خونریزی پر پریشانی ظاہر کرکے وزیر اعظم نریندر مودی پر بحالیٔ امن کی خاطرریاست کا دورہ کرنے کی اپیل کی لیکن مودی جی ہیں کہ یوکرین کی جنگ بند کرانے کے لیے تو نکل جاتے ہیں مگر منی پور جانے کی جرأت مندی نہیں دکھاتے جو ان کے چھپنّ انچی چھاتی کے کھوکھلا ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
Like this:
Like Loading...