Skip to content
"نئے قوانین نے سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں پر پانی پھیر دیا ہے”
مرحوم گلزار اعظمی میموریل لیکچر میں ایڈوکیٹ فیصل قاضی کا اظہار خیال
ممبئی : 2؍دسمبر( رپورٹ: الواحد شیخ)
مرحوم گلزار اعظمی میموریل قانونی لیکچر کے تحت ایڈوکیٹ فیصل قاضی نے نئے اور پرانی تین فوجداری اور دیوانی قوانین کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے اپنے لیکچر میں کہا کہ نئے قوانین کی وجہ سے بہت سے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر پانی پھیر گیا ہے، وہ فیصلے جو حقوق انسانی کے لیے علمبردار تھے ۔ انوسنس نیٹ ورک کے ذریعے یہ دوسرا قانونی لیکچر تھا جو ہر ماہ کے آخر میں منعقد کیا جاتا ہے ، اور یہ لیکچر کرلا ایس آئی او آفس میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ انگریزوں کا قانون بدل کر تین بھارتی قانون لائے گئے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ تینوں پرانے قانون کے 75 سے 80 فیصد قانون میں رد و بدل نہیں کیا گیا ہے ۔
موصوف نے پروگرام میں ائے ہوئے وکلا کے سامنے بیان کیا کہ جہاں ان قوانین میں کچھ اچھی باتیں ہیں وہیں پر بہت سی باتوں سے عام شہریوں کو پریشانی لاحق ہو سکتی ہے، اس خدشے کا اظہار کیا ہے۔ مثلا انہوں نے بتایا کہ شادی کے وعدے پر جنسی اختلاط ہو جانے کے بعد شادی سے مکر جائے تو ایسے مرد کے خلاف کیس کیا جا سکتا ہے جس میں 10 سال کی سزا رکھی گئی ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ در حالانکہ جنسی اختلاط مرد اور عورت دونوں کی رضامندی سے ہوا تھا۔ اس سزا پر اعتراض کیا گیا ہے۔
وہیں ماب لنچنگ کا نام نہ لیتے ہوئے ہیٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے دفعہ 103 لائی گئی ہے جو دراصل مرڈر یا قتل کے چارجز ہیں اور اس میں شامل ہر فرد کو ثابت ہونے پر پھانسی یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ ایکسیڈنٹ والے میٹر میں ہٹ اینڈ رن کیس میں سزا 10 سال تک کر دی گئی ہے، اور یہ کہا گیا ہے کہ ایکسیڈنٹ ہونے کی صورت میں جس کے ہاتھ سے ایکسیڈنٹ ہوا ہے وہ خود جا کرپولیس یا میجسٹریٹ کو رپورٹ کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کے خلاف کانگنزنس لیا جا سکتا ہے ۔ موٹر وہیکل والوں نے گزارش کی کہ بعض اوقات ایکسیڈنٹ کے بعد وہاں سے بھاگنا ضروری ہو جاتا ہے ورنہ اس ڈرائیور کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اس لیے اس سیکشن کی دفعہ 2 کو ملتوی رکھا جائے ، جو کہ آج بھی ملتوی رکھی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کیس میں پولیس کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو وہ نئے قانون کے تحت کیس درج کرے چاہے تو یو اے پی اے کے تحت کیس درج کریں۔ یہ پولیس کی ثوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

وہیں انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ہر دو صورت میں اس کیس کے نتائج کیا ہوں گے اس پر غور نہیں کیا گیا ۔ سیکشن 173 میں زیرو ایف آئی آر کی بڑی واہ واہی کی گئی ہے لیکن زیرو ایف آئی آر تو پہلے سے رائج تھی۔ سیکشن 173 میں تین سے سات سال تک کی سزا جس کیس میں ہو اگر اس میں کوئی شکایت درج کرتا ہے تو پولیس والوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ایف ائی ار درج کرے یا پریلیمیری انکوائری کرے۔ اور اس حق کا پولیس زبردست غلط استعمال کر سکتی ہے۔ یہ للیتا کماری ورسز سٹیٹ اف یو پی کیس جس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کاگنیزل آفنس کی شکایت کرنے پر پولیس کو ایف ائی ار درج کرنا ضروری ہے، اس فیصلے کی دھجیاں اڑاتا ہے ۔
اب پولیس کو چھوٹ ملی ہے چاہے تو وہ ایف ائی ار درج کرے چاہے تو انکوائری کے نام پر اسے ٹال دے۔ یہ بہت تکلیف دہ پوزیشن ہے۔ پولیس کو اپنی مرضی چلانے کا بھرپور موقع فراہم ہوا ہے اور پولیس اپنی من مانی کرے گی، جو پہلے سے کرتی ارہی ہے۔ پہلے کے قانون میں 15 دنوں کے اندر ہی ملزم کی گرفتاری کے بعد پولیس کسٹڈی لی جا سکتی تھی لیکن اب اس کی میعاد کو بڑھا دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ 15 دن گرفتاری سے 15 دن نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ گرفتاری کے بعد سے جتنا عرصہ ملزم جیل میں رہے گا اتنے عرصہ پولیس کو اختیار حاصل ہے کہ وہ قسطوں میں جب چاہے 15 دن کی کسٹڈی لے سکتی ہے۔
اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ملزم کے سر پر ہمیشہ تلوار لٹکتی رہے گی کہ پولیس کسی بھی وقت 15 دن کی معیاد کو پورا کرنے کے لیے قسطوں میں دو، دو، چار ، چار، اور پانچ، پانچ دن کی شکل میں جیل سے پولیس کسٹڈی حاصل کر سکتی ہے، اور ٹارچر کے ذریعے ملزم کو پریشان کر سکتی ہے ۔ ایک نیا نظریہ پیش کیا گیا ہے ٹرائل ان ابسنسیا یعنی جو مفرور ملزم ہے جن کے خلاف وارنٹ جاری کیا جا چکا ہے، جن کو نوٹس دیا جا چکا ہے جن کو پروکلیم آفینڈر قرار دیا جا چکا ہے پھر بھی وہ گرفتار نہیں ہوئے ہیں، اور جن کے گرفتار ہونے کے امکانات کم ہیں، ان کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں ٹرائل چلایا جا سکتا ہے۔ اور ان کو سزائیں دی جا سکتی ہے۔
فرینک فرانس کافکا جو چیکو سلوواکیا کے مشہور مصنف ہیں، انہوں نے اپنی کتاب "دی ٹرائل” میں یہی بات لکھی تھی کہ ان کے وہاں ملزم نہیں تھے اور ان کے بغیر ٹرائل چلا کر سزائیں دی جاتی تھی۔ سیکشن 356 میں ملزم کی غیر حاضری میں ٹرائل چلانے کی بات کی گئی ہے جس کی سخت تنقید ہوئی ہے۔ موصوف نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ائی پی سی، سی ار پی سی اور ایویڈنس ایکٹ جو انگریزوں نے بنائے تھے وہ بھارت میں قریب سوا سو سال تک جاری وہ ساری رہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان میں چھوٹی موٹی ترمیمات کی جاتی رہی، لیکن من جملہ ان قوانین پر ہی عمل ہوتا رہا ۔ تلاوت قران پاک قانون کے طالب علم مصعب رضوان صدیقی نے کیا اور نظامت کے فرائض ایڈوکیٹ واحد شیخ نے انجام دیے۔
Like this:
Like Loading...