Skip to content
مساجد نشانے پر کیوں؟
🍁✍۔مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
┈┈•⊰✿✿✿⊱•┈┈
┄─═✧✧═─┄
مسجدیں اسلام میں ایک خاص روحانی، سماجی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہیں، جو انہیں مسلمانوں کی زندگی کا مرکزی حصّہ بناتی ہیں۔ یہ اہمیت ان کے خلاف مذہبی منافرت اور حملوں کا بنیادی سبب بھی بن جاتی ہے، خاص طور پر جب سیاسی اور فرقہ وارانہ مفادات اس نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ مسجدیں صرف عبادت کے لیے مخصوص جگہ نہیں ہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا مرکز بھی ہیں۔ تاریخ میں مسجدیں تعلیم، سیاست، سماجی انصاف، اور اتحاد کی علامت رہی ہیں۔ مسلمانوں کی جذباتی وابستگی مسجدوں کے ساتھ ان کے ایمان کا حصّہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسجدوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو یہ مسلمانوں کے دینی اور قومی جذبات کو شدید مجروح کرتا ہے۔
مسجدوں میں مندروں کی تلاش کا معاملہ حالیہ دہائیوں میں شدّت سے سامنے آیا ہے۔ مسجدوں میں مندروں کی تلاش کے پیچھے ایک اہم دلیل یہ دی جاتی ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں مسلم حکمرانوں نے مندروں کو منہدم کرکے ان کی جگہ مسجدیں تعمیر کیں۔ اگرچہ قرونِ وسطیٰ میں بعض حکمرانوں کی طرف سے مندروں کو نقصان پہنچانے کے واقعات ضرور پیش آئے، لیکن یہ واقعات عمومی پالیسی کا حصّہ نہیں تھے۔ بہت سے مسلم حکمرانوں نے مندروں کو تحفّظ فراہم کیا اور ہندوؤں کو اپنے مذہبی مقامات پر عبادت کی آزادی دی۔ مغل شہنشاہ اکبر، جہانگیر، اور شاہ جہاں کے دور میں مندروں کو مالی امداد دی گئی، جب کہ اورنگزیب جیسے حکمرانوں نے بھی کئی مندروں کو تحفّظ دیا، باوجود اس کے کہ انہیں ایک سخت گیر حکمران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تاریخ کے ان واقعات کو موجودہ دور میں غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اکثریتی طبقے میں ماضی کے مظالم کا احساس پیدا کیا جا سکے اور مسلمانوں کو ظالم کے طور پر پیش کیا جائے۔
مسجدوں میں مندروں کی تلاش ایک خاص سیاسی حکمتِ عملی کا حصّہ ہے، جو ووٹ بینک کی سیاست پر مبنی ہے۔ اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے تاکہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ ان کا مذہب اور ثقافت خطرے میں ہے۔ اس جذباتی بیانیے کو استعمال کرکے سیاسی جماعتیں اپنی حمایت مضبوط کرتی ہیں۔ اکثریتی طبقے اور اقلیتوں کے درمیان نفرت پیدا کرکے سماجی تقسیم کو بڑھاوا دیا جاتا ہے، جس سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ بابری مسجد کا مسئلہ اس حکمتِ عملی کی نمایاں مثال ہے، جہاں مسجد کے نیچے مبینہ رام مندر کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا۔ اس تنازعہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس کا اختتام مسجد کے شہادت اور فرقہ وارانہ فسادات پر ہوا۔
مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے مسجدوں میں مندروں کی تلاش کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مسجدیں مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کی علامت ہیں۔ ان پر حملہ دراصل ان کی مجموعی شناخت کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ مذہبی مقامات پر تنازعات کھڑے کرنے سے معاشرے میں جذباتی کشیدگی پیدا ہوتی ہے، جسے فرقہ وارانہ فساد میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی مسجدوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں یہ دعوے کیے گئے کہ یہ مسجدیں دراصل مندروں کی جگہ پر بنائی گئی تھیں۔ کاشی وشوناتھ مندر، وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد کو ایک متنازعہ مقام قرار دے کر اس پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ قدیم شیو مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔ متھرا میں واقع شاہی عیدگاہ کو کرشن جنم بھومی کے مقام سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی کی درگاہ کے پہلے شیو مندر ہونے کے دعوے۔ بدایوں کی 850؍ سال قدیم تاریخی جامع مسجد پر تنازع، نیل کنٹھ مہادیو مندر ہونے کا دعویٰ، معاملے کی سماعت 8؍ اگست 2022ء سے جاری ہے، وہی کہانی، وہی دلائل، وہی لوگ، وہی ذہنیت۔
"عبادت گاہوں کے تحفظ کا قانون، 1991ء” (Places of Worship Act, 1991ء) بھارتی آئین کے تحت نافذ کیا گیا تھا تاکہ 1947ء کی مذہبی حیثیت کو برقرار رکھا جائے اور کسی بھی عبادت گاہ کی نوعیت کو تبدیل کرنے سے روکا جا سکے۔ اس قانون کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن اور بھائی چارہ قائم رکھنا تھا۔ قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ تمام عبادت گاہوں (مندروں، مسجدوں، گرجا گھروں، گردواروں وغیرہ) کی وہی حیثیت برقرار رہے گی، جو 15؍ اگست 1947ء کو تھی۔ کسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بابری مسجد کے معاملے کو اس قانون سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا، کیونکہ یہ معاملہ پہلے سے ہی عدالت میں زیرِ غور تھا۔ اس قانون کا اطلاق بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازع پر نہیں کیا گیا۔
مسجدوں کے سامنے جلسے اور جلوسوں کا انعقاد ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی کا حصّہ معلوم ہوتا ہے، جو نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے بلکہ سماجی اور سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس عمل کو مختلف زاویوں سے سمجھنا ضروری ہے۔ مسجدیں مسلمانوں کی عبادت کا مرکز اور ان کی روحانی و ثقافتی شناخت کی علامت ہیں۔ مسجدوں کے سامنے جلسے یا جلوس منعقد کرنے کا مقصد عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہاں موجود نمازیوں کے جذبات کو مشتعل کیا جائے۔ مذہبی نعرے بازی، اشتعال انگیز تقاریر، یا بلند آواز میں موسیقی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ان جلسوں کا ایک بنیادی مقصد مسلمانوں سے جذباتی ردّعمل حاصل کرنا ہوتا ہے، جسے بعد میں ان کے خلاف تشدّد کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
اس عمل کے ذریعے اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے تاکہ انہیں محسوس ہو کہ ان کی ثقافت اور مذہب خطرے میں ہے۔ طاقت کے مظاہرے کے ذریعے اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، کو احساس دلایا جاتا ہے کہ ان کی مذہبی آزادی خطرے میں ہے اور وہ محفوظ نہیں ہیں۔ مذہبی جذبات کو استعمال کرکے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاتی ہے، جس سے سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کی سیاست میں کامیاب ہوتی ہیں۔ ایسے مظاہروں کا مقصد مسلمانوں اور اکثریتی طبقے کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ سماج میں مذہبی منافرت بڑھائی جا سکے۔ مسجدوں کے سامنے مظاہرے اکثر فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے سماجی امن و امان متاثر ہوتا ہے۔
عوامی مقامات پر مذہبی منافرت پیدا کرنا اور کسی عبادت گاہ کے قریب مظاہرے کرنا عام طور پر قانون کے خلاف ہے، لیکن ان معاملات میں اکثر قانون نافذ کرنے والے ادارے بے عملی یا جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی شکایات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، اور ان کے ردّعمل کو قانون کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے مظاہرے اقلیتوں کو یہ باور کرانے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں کہ وہ معاشرتی اور سیاسی طور پر کمزور ہیں۔ اقلیتی کمیونٹی کی مذہبی آزادی پر حملہ کرکے ان کے اندر خوف و ہراس پیدا کیا جاتا ہے، جس کا مقصد انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔
مسجدیں مسلمانوں کے عقیدے، تہذیب، اور روحانی زندگی کا مرکز ہیں۔ ان کے انہدام کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنا ہوتا ہے۔ مسجد کی شہادت سے مسلمانوں کے دلوں میں گہرے زخم ڈالے جاتے ہیں تاکہ ان کا مذہبی اعتماد متزلزل ہو۔ مسجدیں اسلامی تہذیب اور ثقافت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے انہدام سے مسلمانوں کی اجتماعی شناخت پر حملہ کیا جاتا ہے۔
اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ووٹ بینک سیاست سیاسی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے، جیسے بابری مسجد کے معاملے میں دیکھنے کو ملا۔ مسجدوں کے انہدام کے ذریعے ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان خلیج پیدا کی جاتی ہے تاکہ اقلیتوں کو الگ تھلگ اور کمزور کیا جا سکے۔ بعض جماعتیں اس حکمتِ عملی سے اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہیں، کیونکہ مذہبی جذبات کو قابو میں رکھنا عوامی حمایت حاصل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہوتا ہے۔
مسجدوں کے انہدام کے ذریعے مسلمانوں میں خوف پیدا کیا جاتا ہے کہ ان کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں۔ یہ عمل مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ ایک کمزور اقلیت ہیں، جو اپنی عبادت گاہوں تک کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں۔ بعض اوقات مسجدوں کو "مسخ شدہ مندر” قرار دیا جاتا ہے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ مسلمانوں نے تاریخ میں دیگر مذاہب پر مظالم کیے۔ تاریخی عمارتوں پر جھوٹے دعوے کرکے اکثریتی طبقے کو باور کرایا جاتا ہے کہ ماضی میں ان کے مذہبی مقامات پر حملے ہوئے تھے، حالانکہ اکثر اوقات یہ دعوے بے بنیاد ہوتے ہیں۔
بعض اوقات مسجدوں کے انہدام کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے اور شواہد پیش کیے جاتے ہیں۔ اکثر حکومتی ادارے ان معاملات میں غیر جانبداری دکھانے کے بجائے اکثریتی طبقے کے دباؤ میں آجاتے ہیں، جس سے مسلمانوں کو انصاف کی فراہمی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ میڈیا، سیاست اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے مسلمانوں کو ہمیشہ منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ ان کے خلاف عام عوام کے جذبات کو بھڑکایا جا سکے۔ عالمی اور مقامی سطح پر مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ان کی جدوجہد اور مشکلات کو کمزور کیا جا سکے۔ مسلمانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات اور گرفتاریوں کو بڑھاوا دے کر انہیں دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔
نفرت انگیزی کو فروغ دینے کے لئے مسلمانوں کو "دوسرے درجے” کے طور پر پیش کر کے اکثریتی طبقے کو ان کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے، جیسا کہ "لو جہاد”، "زمین جہاد”، "ووٹ جہاد” یا "گھر واپسی” جیسے بیانیوں سے ہوتا ہے۔ اکثریتی طبقے کے مذہبی جذبات کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تاکہ انہیں دشمن کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ جلسے، جلوس اور میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف جھوٹے دعوے اور نفرت آمیز بیانات پھیلائے جاتے ہیں۔
مسلمانوں کو جان بوجھ کر تعلیمی اور اقتصادی مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے تاکہ وہ سماجی ترقی سے پیچھے رہ جائیں۔ عبادت گاہوں کی بے حرمتی، مذہبی تہواروں میں خلل ڈالنا، اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کو نشانہ بنانا ان کی مذہبی آزادی کو محدود کرنے کے طریقے ہیں۔ مسلمانوں کو روزگار کے مواقع میں نظر انداز کیا جاتا ہے تاکہ وہ سماجی اور اقتصادی ترقی سے محروم رہیں۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کو سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کی سیاست کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ مسلمانوں کو نشانہ بنا کر اکثریتی طبقے کے درمیان مذہبی اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکومتی پالیسیاں مسلمانوں کو محروم رکھنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، جیسا کہ شہریت کے قوانین میں ترامیم اور مختلف ترقیاتی اسکیموں سے انہیں دور رکھنا۔
منصوبہ بندی کے تحت فسادات کو بھڑکا کر مسلمانوں کو جسمانی اور مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ مسلسل دباؤ اور خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو سیاسی میدان میں کمزور اور غیر مؤثر بنایا جاتا ہے تاکہ ان کی آواز نہ سنی جائے۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف اسلاموفوبیا کی لہر کو مقامی سطح پر نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کرتے ہیں، لیکن اکثر انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
مسجدوں کے ساتھ اکثریتی نظریات کے تحت ظاہر کی جانے والی "عقیدت” دراصل نفرت، عدم برداشت، اور سیاسی حکمت عملی کا ایک طنزیہ پہلو ہے۔ ہندوستان میں مسلم حکمرانوں نے صدیوں تک حکومت کی، جس نے فن تعمیر، تعلیم، اور ثقافت میں ایک شاندار ورثہ چھوڑا۔ مذہبی منافرت کو ہوا دینے والی سوچ اس تاریخی برتری کو قبول کرنے سے قاصر ہے اور مسجدوں کو اس کے مظاہر کے طور پر دیکھتی ہے۔ منافرت پھیلانے والی قوتیں ماضی کے زخموں کو کرید کر ایک متبادل تاریخ پیش کرنا چاہتی ہیں، جہاں مسلمانوں کو ظالم اور قابض کے طور پر دکھایا جا سکے۔ مسجدوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مذہبی تنازعات پیدا کر کے اکثریتی طبقے کو متحد کرنا اور ان کے جذبات کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر ووٹ حاصل کرنا اکثریتی قوتوں کی عام حکمت عملی ہے۔ مسجدوں کو مسلمانوں کی اجتماعی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس لیے انہیں ہدف بنا کر اکثریتی طبقے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کی مذہبی بالادستی قائم ہو رہی ہے۔ مذہبی منافرت پھیلانے والی سوچ ہندوستان کو ایک اکثریتی ہندو ریاست کے طور پر دیکھتی ہے، جہاں اقلیتوں کے لیے کوئی مساوی جگہ نہ ہو۔ مسجدوں کو نشانہ بنانا اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ منووادی نظام کے تحت اکثریتی طبقے کو ہر سطح پر بالادستی حاصل کرنی ہے، چاہے وہ مذہب ہو، سیاست ہو، یا سماج۔ مسجدوں کو نشانہ بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اقلیتیں کمزور اور غیر محفوظ ہیں۔ مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑ کر اپنی طاقت کو مستحکم کرنا ان کی حکمتِ عملی کا اہم جز ہے۔
مسجدیں مسلمانوں کی عبادت، اجتماع، اور سماجی اتحاد کا مرکز ہیں۔ اکثریتی قوتیں اس مرکز کو ختم کر کے مسلمانوں کی طاقت کو منتشر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسجدوں پر حملے نہ صرف مذہبی عمارتوں پر حملے ہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی اجتماعی شناخت اور وقار پر بھی حملے کے مترادف ہیں۔ اکثریتی حلقے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلم حکمرانوں نے مندروں کو توڑا اور ان پر مسجدیں بنائیں، حالانکہ یہ تاریخی دعوے اکثر جھوٹ اور مبالغے پر مبنی ہیں۔ اسلام کی مساوات اور انسانیت پر مبنی تعلیمات اکثریتی ذات پات کے نظام کے لیے ایک خطرہ ہیں، جس کی وجہ سے مسجدوں کو ان تعلیمات کی علامت کے طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
حکومتی سطح پر مذہبی منافرت کو فروغ دینا اور قتل عام کی منصوبہ بندی محض وقتی واقعات نہیں بلکہ یہ منظم حکمت عملی اور مختلف عوامل کا نتیجہ ہیں۔ مذہبی منافرت کا استعمال عوام کو تقسیم کر کے انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اکثریتی طبقے کو اقلیتوں کے خلاف بھڑکا کر سیاسی جماعتیں اپنی حمایت مضبوط کرتی ہیں۔ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کر کے حکومت اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹاتی ہے۔ اقلیتوں کے خلاف جذبات کو بھڑکا کر عوامی ناراضی کو دوسری سمت موڑ دیا جاتا ہے۔
اقلیتوں کے تحفّظ کے لیے جو قوانین موجود ہیں، ان کا مؤثر نفاذ نہیں کیا جاتا۔ ہجومی تشدّد (mob lynching) اور فرقہ وارانہ فسادات کے واقعات میں ملوث افراد کو اکثر سیاسی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، جس سے انصاف کا عمل کمزور ہوتا ہے۔ پولیس اور عدلیہ جیسے ریاستی ادارے بعض اوقات اکثریتی طبقے کے دباؤ میں آ کر اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ یہ جانبداری اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفّظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اکثریتی طبقے کی ایک بڑی تعداد ایسے واقعات کے خلاف خاموش رہتی ہے، جو بالواسطہ طور پر حکومت کو مزید جری بناتا ہے۔ نفرت انگیز بیانیے کو عوامی قبولیت ملنے سے حکومتیں اپنے اقدامات کو جائز ثابت کرتی ہیں۔ مذہب کے نام پر عوام کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں اقلیتوں کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے۔ مذہبی منافرت کو "ثقافتی بحالی” یا "تاریخی انصاف” کا نام دے کر عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
حکومتیں بعض اوقات فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کرنے کے بجائے اسے اپنے فائدے کے لیے ہوا دیتی ہیں۔ مذہبی منافرت کے بیانیے کو سرکاری تقریبات، نصاب، اور میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ اقلیتوں کو مسلسل حملوں کا نشانہ بنا کر سماج میں ان کا اعتماد ختم کیا جاتا ہے۔ اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پر پیش کر کے ان کی سماجی حیثیت کو کمزور کیا جاتا ہے۔ اقلیتوں کے کاروبار، جائیداد، اور وسائل کو مذہبی منافرت کے ذریعے نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ معاشی بائیکاٹ اور نفرت انگیز مہمات کے ذریعے انہیں معاشی طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اقلیتوں کو مسلسل خوف میں رکھنا اور ان کے خلاف منظم پروپیگنڈا انہیں ذہنی اور سماجی طور پر کمزور کرتا ہے۔ ایسے حالات میں ان کے تعلیمی اور معاشی امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کو اپنی مساجد کے تحفّظ کے لیے قانونی اور پُرعزم طریقے استعمال کرنے چاہئیں۔ تعلیم، میڈیا، اور بین المذاہب مکالمے کے ذریعے ایسی منافرت کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنا چاہئے۔ عالمی سطح پر ان مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقوامِ عالم اور دیگر عالمی تنظیمیں مذہبی آزادی کے تحفّظ کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔ یہ معاملہ صرف مسجدوں یا مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ مذہبی مقامات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ختم ہونا چاہیے۔ مسجدیں صرف مسلمانوں کی عبادت گاہیں نہیں بلکہ ان کی تہذیبی اور روحانی ورثے کی علامت ہیں۔ ان کی حفاظت اور احترام کسی بھی مہذب معاشرے کی ذمّہ داری ہے۔ یہ وقت ہے کہ تمام مذاہب کے لوگ یکجا ہو کر فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف کھڑے ہوں اور امن و اتحاد کی فضاء کو مضبوط کریں۔
(05.12.2024)
🍁مَسْعُود مَحبُوب خان (ممبئی)🍁
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...