Skip to content
برہمن کی بندر بانٹ نے مراٹھا کھاٹ کھڑی کردی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر میں غیر معمولی کامیابی درج کروانے کے بعد مہایوتی کی حلف برداری ممبئی کے مشہور و معروف آزاد میدان پر ایک شاندار تقریب میں منعقد ہوئی۔ اس میں اسٹیج پر جملہ پانچ کرسیاں تھیں ۔ ان میں سے درمیانی کرسی پر حزب توقع وزیر اعظم نریندر مودی براجمان تھے ۔ ان کے ایک جانب وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اور بغل میں پرانے یار غار اجیت پوار مسکرا رہے تھے ۔ وزیر اعظم کی دوسری جب پہلی کرسی پر گورنر رادھا کرشنن اور آخری کنارے پرسابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ (واحد آقا) شندے منہ پھلائے بیٹھے تھے ۔ ان کو اس قابلِ رحم حالت میں دیکھ کر ایسا لگتا تھا گویا اناتھ( یتیم) ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم اور گورنر کی آمد سے قبل چونکہ درمیان کی دو کرسیاں خالی تھیں اس لیے ایسا لگ رہا تھا کہ کسی اچھوت کو دور فاصلہ رکھ کر بیٹھا دیا گیا ہے اور حقیقتِ حال یہی ہے کہ ایک سابق وزیر اعلیٰ راتوں رات سیاسی طور پر اچانک یتیم ہوگیا ورنہ سابق وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ان کو وزیر اعظم کے بغل میں نہ سہی تو کم ازکم حلف لینے والے وزیر اعلیٰ کے بازو میں تو نشست ملنی ہی چاہیے تھی۔
ایکناتھ شندے کے ساتھ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ وہ آگے پیچھے اور اوپر نیچے چہار جانب سے کاٹ دئیے گئے ہیں ۔ ایک طرف بی جے پی کی ہائی کمان نے سنگھ کے دباو میں اگران کے سر سے سایہ ٔ عافیت ہاتھ اٹھالیا اور دوسری جانب وزارت کے چکر میں خود ان کی اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی نے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ۔ وہ ابن الواقت ارکان اسمبلی جو کبھی ادھو ٹھاکرے کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر ایکناتھ شندے کے قدموں میں جاگرے تھے اب فڈنویس کے تلوے چاٹنے کی تیاری کرنے لگے ۔ شندے ہندوتوا کا نظریہ سینے سے لگا کر شیوسینا سے نکلے تھے مگر اب دائیں طرف وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس ان سے بھی بڑا ٹیکا لگا کر جئے شری رام کا نعرہ لگا رہے تھے ۔ ہندوتوا کا کارڈ شندے کے ہاتھوں سے پھسل چکا تھا ایسے میں آخری سہارہ اذات برادری یعنی مراٹھا سماج کا ہوسکتا تھا مگر اس پر بھی ہاتھ مارنے کی خاطر اجیت پوار دتیل لگا کر دنگل میں اترے ہوئے ہیں ۔
اس صورتحال میں وزیر اعظم اسٹیج پر وارد ہوتے ہیں اور شندے کی طرف سے دیکھے بغیر ان کے سامنے سے گزر جاتے ہیں۔ حلف برداری کے بعدجب مودی نے شانِ بے نیازی کے ساتھ شندے کی جانب تحقیر آمیز انداز میں صرف ا یک ہاتھ بڑھایا تو ایکناتھ شندے نے دونوں ہاتھوں سے خبیم و رجا کے عالم میں اسے تھام لیا کہ جیسے کہہ رہے ہوں آپ ہی اب مائی باپ ہیں۔ وہ اس قدر جھکے کہ بس قدمبوسی کی کسر رہ گئی تھی ۔ایکناتھ شندے کی کسمپرسی نے وزیر اعظم مودی کا دل باغ باغ کردیا۔ انہوں نے شندے کے ہاتھ پر تین مرتبہ ہاتھ مارکر اپنی خوشی کا ا ظہار کیا ۔ چند گھنٹوں پہلے تک اپنی اکڑ دکھاکر بی جے پی کو جھکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنے والے مر دِمراٹھا اور سابق وزیر اعلیٰ کی قابلِ رحم حالت پر مجروح کا شعر ہو بہ ہو چسپاں ہوگیا؎
مجروح لکھ رہے ہیں وہ اہلِ وفا کا نام
ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہگار کی طرح
سابق وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی یہ کیفیت قابلِ فہم ہے کیونکہ راتوں رات سارے اختیارات اور ٹھاٹ باٹ کے ہاتھوں سے نکل جانے کا صدمہ برداشت کرلینا آسان نہیں ہوتا ۔ لوگ باگ ایکناتھ شندے کی اس حالتِ زار کا موازنہ ڈھائی سال پرانی دیویندر فڈنویس کی رسوائی سے کرتے ہیں جب ماضی میں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہنے والے رہنماکو ایک نووارد اور ناتجربہ کار سیاستداں کا نائب بنا دیا گیا تھا۔ ایسا کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ اس سے قبل منعقدہ ریاستی انتخاب میں فڈنویس کو انتخابی شکست کا سامان کرنا پڑا تھا ۔ ان کی قیادت میں بی جے پی پہلے کے مقابلے 17؍نشستیں گنواکر 122 سے 105پر آگئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے رعونت میں آکر اپنی حلیف شیوسینا کے جائز مطالبےکو ٹھکرا دیا تھا ۔ شیوسینا کو دھتکارنے کے بعد اجیت پوار کے ساتھ حکومت سازی کرنے کی عظیم غلطی کی تھی۔ بی جے پی کی واشنگ مشین میں اپنے سارے گناہ دھولینے کے بعد اجیت پوار نے دیویندر فڈنویس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر چچا شرد پوار کے گلے مل گئے تھے ۔ ا س طرح دیویندر فڈنویس کا سیاسی داوں منہ کے بل گر گیا تھا ۔
اس وقت برپا ہونے والے سیاسی خلفشار کا فائدہ اٹھاکر شردپوار نے ایک انوکھا محاذ تشکیل دیا ۔ اس میں ٹھاکرے کا شیر اور گاندھی کی بکری کو گھڑی کے گھونٹے سے باندھ کر بی جے پی کو سب سے زیادہ نشستوں کے باوجود حزب اختلاف میں بیٹھنے پر مجبور کردیا ۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں مہاراشٹر کے اندر مہا وکاس اگھاڑی کی نئی حکومت اقتدار پر فائز ہوگئی ۔ ایسے میں سیاسی بساط پر بری طرح پِٹ جانے کے باوجود پارٹی کےاعلیٰ کمان نے دیویندر فڈنویس کو حزب اختلاف کا رہنما بنا کر ان کے زخموں پر مرہم رکھا ۔ اس کے ڈھائی سال بعد جب شیوسینا کو ایکناتھ شندے کی مدد سے توڑ کر بی جے پی کی حمایت سے انہیں وزیر اعلیٰ بناگیا تو اس وقت دیویندر فڈنویس کا حزب اختلاف کے رہنما سے نائب وزیر اعلیٰ بن جانا ان کی ایک معنیٰ میں ترقی تھی لیکن بیچارے ایکناتھ شندے کے لیے یہ درمیانی مرحلہ نہیں آیا کہ جس میں وہ اپنا غم غلط کرسکیں ۔
آر ایس ایس سے مرعوب لوگ دیویندر فڈنویس کی مجبوری کو سنگھ کی تربیت اور نظم و ضبط سے منسوب کرتے ہیں مگر بلراج مدھوک اور شنکر سنگھ واگھیلا بھی تو سنگھ کی شاکھا میں تربیت لے چکے تھے اس کے باوجود پارٹی صدر اور وزیر اعلیٰ کے اہم ترین عہدے پر فائز ہونے کے باوجود دونوں نے بغاوت کی ۔ یہ اگر پرانی بات ہے تو یدورپاّ اور اوما بھارتی تو اسی زمانے کے سنگھی رہنما ہیں جن کو بغاوت کے باوجود بی جے پی نے پھر سے بغلگیر کرلیا ۔ پروین توگڑیا کی مثال بھی سب کے سامنے ہے کہ ایک زمانے میں وہ وشو اہندو پریشد کا عالمی صدر ہوا کرتا تھا اور اب سنگھ کا بہت بڑا دشمن بنا ہوا ہے۔
خیر جس وقت بی جے پی اعلیٰ کمان نے ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ بنانے فیصلہ کیا تو دیویندر فڈنویس اپنی ناراضی جتاتے ہوئے جشن کی محفل سے چلے گئے تھے ۔ اس کے بعد ظاہر ہے امیت شاہ نے انہیں پہلے تو فائلوں کے ساتھ ہنٹر دِکھا کر بلیک میل کیا ہوگا اور پھر گاجر بھی لٹکایا ہوگا کہ یہ عارضی مرحلہ ہے انتخاب کے بعد مہایوتی کے کامیاب ہوجانے پر انہیں وزیر اعلیٰ بنادیا جائے گا ۔ اس لیے فڈنویس نے بحالتِ مجبوری بادلِ نخواستہ ایکناتھ شندے کی نیابت قبول کرلی اور پھر گاجر کے چکر میں ریاستی انتخاب کے اندر اپنی جان کھپا کر غیر معمولی کامیابی درج کروائی ۔
پچھلی بار کی طرح اب کے بھی ریاستی انتخاب میں بھی ملے جلے نتیجے آئے۔ پہلے جموں کشمیر ہار کر بی جے پی ہریانہ جیت گئی تھی اس مرتبہ مہاراشٹر جیت کر وہ جھارکھنڈ ہار گئی۔ اس فتح و شکست کی برابری کے علاوہ دو ایسی باتیں ہو ئیں کہ جس نے بی جے پی کے اعلیٰ کمان کو ہلا کر رکھ دیا۔ پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں مہاراشٹر کے اندر بی جے پی کی کامیابی کا امکان مفقود تھا کیونکہ انڈیا کے 31+1کے مقابلے این ڈی اے کو صرف 17 مقامات پر کامیابی ملی تھی اور بیچاری بی جے پی تو ۹؍ پر سمٹ گئی تھی ۔
اس کے مقابلے جھارکھنڈ میں دونوں محاذ برابر یعنی پانچ پانچ پر چھوٹےتھے۔ پارٹی ہائی کمان نے سوچا کیوں نہ مہاراشٹر کی شکست پر پردہ ڈالنے کے لیے جھارکھنڈ میں زور لگا کر انتخاب جیت لیا جائے۔ اسی لیے آسام سے ہیمنتا بسوا سرما کے ہاتھ میں جھارکھنڈ کی کمان دے کر مودی اور شاہ نے اس صوبے کو اپنی توجہ مرکزبنایا تاکہ اس کامیابی کا بھرپور کریڈٹ لے کر مہاراشٹر کی ناکامی کاٹھیکرا دیویندرا فڈنویس اور آر ایس ایس کے سر پھوڑ دیا جائے لیکن الٹا ہوگیا ۔
اس الٹ پھیر کا بنیادی سبب مراٹھا سماج کی کاٹ چھانٹ ہے۔ حالیہ انتخاب میں بی جے پی نے اپنے خلاف سب سے طاقتور مراٹھا سماج کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے سے بھِڑا دیا ۔ شرد پوار سے ان بھتیجے اجیت پوار کو لڑا یا گیا۔ ادھو ٹھاکرے کے خلاف ایکناتھ شندے کا ٹشو پیپر کی مانند استعمال کرکے انہیں کوڑے دان کی نذر کیا گیا۔ ان چار بلیوں کی لڑائی میں برہمن دیویندر فڈنویس اور اس کی آقا آرایس ایس کی بلےّ بلےّ ہوگئی۔ مہاراشٹر کے اندر مراٹھے آپس میں لڑ کر ہار گئے اور اور ان کو لڑانے والےبرہمن جیت گئے ۔
اپنی پیشوائی قائم کردی ۔ اس چوطرفہ تقسیم نے مراٹھا سماج کے سیاسی دبدبہ کو خاک میں ملا دیا ۔ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے پسماندہ طبقات کے دل میں راگے کے ذریعہ نجمراٹھا ریزرویشن کا خوف پیدا کرکے خود کو ان کامسیحا کے حیثیت سے پیش کیا گیا اور جو کسر رہ گئی تھی اس کے لیے لاڈلی بہن کے ساتھ لاڈلے الیکشن کمیشن کی خدمات حاصل کرکے اس کی لونڈی ای وی ایم مشین سے کام لیا گیا۔ اس کو کہتےہیں بانٹو اور کاٹو کی سیاست جس میں اپنے مخالف کو کاٹ کر کتوں کے آگے ڈال دیا جاتا ہے۔ سنگھ پریوار چونکہ اس حربہ سے مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچانے میں ناکام ہو جاتا ہے اس لیے ان کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ خیر فی الحال مہاراشٹر کے اندر بلیوں کی لڑائی میں بندر کی بن آئی ہے۔
Post Views: 376
Like this:
Like Loading...