آج ہم بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ کے ایک حالیہ فیصلے پر بات کریں گے جس میں کورٹ نے اس بات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے کہ کس طرح سے لوگ دوسرے لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنساتے ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف کورٹ نے سخت الفاظ میں تاکید کی ہے اور جنہیں پھنسایا گیا ہے انہیں معاوضہ دینے کا بھی حکم دیا ہے ۔ معاملہ ہے تھکن عرف نتین بھاؤ صاحب الحاٹ Thakkan Nitin Bhausaheb Alhat) کا جنہیں مار پیٹ کے ایک کیس میں لہو دھنوتے
(Lahu Dhanwate ) کی شکایت پر پولیس گرفتار کرتی ہے اور جیل بھیج دیتی ہے۔ ان کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات ، 307 (قتل کی کوشش) , 326 (خطرناک ہتھیار سے حملہ کرکے شدید زخمی کرنا) 324 , (خطرناک ہتھیار سے حملہ کرکے معمولی زخمی کرنا) 504 ( بے عزت کرکے اکسانا) 506 (دھمکی دینا) اور آرمز ایکٹ کی 3/24 اور 4/25 دفعات لگائی جاتی ہے۔
جیل پہنچنے کے بعد تھکن بہت پریشان ہوتے ہیں اور کسی طرح ضمانت پر باہر آنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ضمانت کی عرضی عدالت میں لگاتے ہیں۔ لیکن وہ عرضی مسترد کر دی جاتی ہے۔ دوسری دفعہ تھکن نے ضمانت کی عرضی لگائی اور ساتھ میں شکایت کردہ کا حلف نامہ بھی داخل کیا جس میں یہ لکھا گیا ہے کہ شکایت کردہ کو ملزم نے نہیں مارا تھا ۔ شکایت کرنے والا بار بار اپنا بیان بدلتا ہے ، جھوٹ بولتا ہے۔ پولیس کے سامنے وہ کچھ اور بیان دیتا ہے اور حلف نامے میں کچھ اور بات کہتا ہے ۔ پولیس کے سامنے اپنا روزگار الگ بتاتا ہے اور حلف نامے میں کبھی وہ اپنا پیشہ مزدور بتاتا ہے تو کبھی تاجر۔ وہ ایک جگہ کہتا ہے کہ اس نے سی سی ٹی فوٹیج میں ملزم کو دیکھا تھا پھر بیان بدل کر کہتا ہے کہ سی سی ٹی وی میں ملزم نہیں ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ اس نے غلطی سے ملزم کی شناخت کی اور ملزم کا نام لیا ۔ وہ اب اپنی غلطی قبول کرتے ہوئے الزام کو واپس لیتا ہے۔ اسے اس بات پر بھی اعتراض نہیں ہے کہ ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔
شاید غالب نے انہی لوگوں کے لیے کہا ہے،
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
اس کی شکایت پر ملزم کو چھ ماہ سے جیل میں بند رکھا گیا ۔ شکایت کردہ اپنی انگلیوں کے اشارے پر پولیس عدالت اور کئی لوگوں کو چلانا چاہتا ہے ۔ اس کی غلط شکایت پر پولیس حرکت میں آتی ہے اور کاروائی کرتی ہے۔ اس کی ایک غلطی سے ایک شخص جیل چلا گیا ۔
جیلوں کا حال آپ جانتے ہیں ہماری جیلیں دردناک ہیں جہاں بہت بھیڑ ہے ۔ جہاں بہت سے مسائل ہیں۔ جہاں قیدیوں کی حالت افسوسناک ہے۔ بھیڑ کی وجہ سے قیدی سونے کی جگہ بھی نہیں پاتے۔ حد سے زیادہ بھیڑ ہونے کی وجہ سے جیل میں کرپشن بڑھتا ہی جا رہا ہے ان کو بہت سی متعدی بیماریاں لاحق ہوتی ہے۔ جیلوں میں علاج و معالجے کا معقول انتظام نہیں ہوتا اور جو قیدی جیل سے باہر سول ہسپتال میں علاج کے لیے آنا چاہتا ہے اسے پا پڑے بیلنے پڑتے ہیں یا پیسے دے کر علاج کروانا پڑتا ہے۔
غلط شکایت کرنے کی وجہ سے ملزم کا بنیادی حق سلب ہوا ہے ۔ عدالت نے سوال اٹھایا ہے کہ غلط طریقے سے پھنسانے کی وجہ سے جو چھ ماہ ملزم نے جیل میں کاٹے اس کا معاوضہ کون دے گا ؟ عدالت نے ان ساری باتوں کا نوٹس لیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وقت اگیا ہے کہ ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیا جائے کسی بھی شہری کو غلط خبر کے ذریعے دوسرے شہری کو پھنسانے اور جیل بھیجنے کا کوئی حق نہیں ہے .اور ہمارا کہنا یہ ہے کہ یہ حق صرف شہریوں کو نہیں ہے بلکہ پولیس کو بھی یہ حق نہیں ہے۔ ملک میں پولیس بھی کئی لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں آئے دن پھنساتی رہتی ہے لیکن اس پر ہماری عدالتیں کم ہی سنجیدگی سے نوٹس لیتی ہیں۔
عدالت نے لکھا ہے کہ تھکن بلاوجہ اپنی زندگی کے چھ قیمتی ماہ برباد کر چکا، اس کو معاوضہ ملنا چاہیے ۔ ملک میں نہ جانے کتنے لوگ غلط شہریوں کی وجہ سے اور کرپٹ پولیس کی وجہ سے کئی برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کاش حکومت کے پاس ایک ایسا ڈیپارٹمنٹ ہوتا جو ان قیدیوں کا ڈیٹا جمع کرتی اور ان کی خیر خواہی کی فکر مند ہوتی ۔ آزادی کو معاوضے سے نہیں تولا جا سکتا لیکن معاوضہ ملنا ضروری ہے۔ یہ معاوضہ بھی کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔اس لیے عدالت نے ایک حکم جاری کیا۔
عدالت نے لکھا ہے کہ ملزم ایک مزدور ہے جو ماہانہ , 20 ہزار کماتا ہے اور شکایت کنندہ ایک تاجر ہے جو اچھی کمائی پاتا ہے ۔ ملزم کی آزادی چھیننے کے لیے شکایت کردہ کو تین لاکھ معاوضہ دینا ہوگا اور چھ ماہ میں ملزم نے جو نہیں کمایا وہ ایک لاکھ , 20 ہزار اس طرح کل 4 لاکھ 20 ہزار معاوضہ ملزم کو عطا کیا جائے دو ماہ کے اندر۔ ملزم کو عدالت نے فورا ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ یعنی اب ان لوگوں کی خیر نہیں جو جھوٹے کیس میں لوگوں کو پھنساتے ہیں اور جیل بھیج دیتے ہیں۔
عدالتیں ایسے لوگوں کے خلاف معاوضہ دینے کا آرڈر پاس کر رہی ہے۔ جو لوگ جھوٹے کیس میں پھنساتے ہیں وہ خبردار ہو جائے کہ انہیں اپنی جیب سے معاوضہ ادا کرنا پڑے گا۔ حال ہی میں اورنگ اباد میں رہنے والے ہمارے اورنگ آباد کے ہمارے ایک وکیل دوست نے بتا کہ ان کا پرنٹنگ پریس کا کاروبار ہے اور اس کاروبار میں کچھ لوگوں نے انہیں کرپشن کے جھوٹے کیس میں پھنسا دیا ۔ وہ اورنگ اباد ہرسول جیل میں قید بھی رہے اور کچھ دن بعد ضمانت پر رہا ہو کر آئے۔ کرپشن کا کیس کتنے دن ان کے خلاف چلے گا؟ ایف آئی آر ختم کرنے کے لیے وہ ہائی کورٹ جا چکے ہیں۔ کتنی لمبی قانونی لڑائی لڑنی پڑے گی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن جن لوگوں نے انہیں پھنسایا ہے اگر عدالت نے صحیح تجزیہ کیا تو ہمارے دوست کو پھنسانے والے لوگ بھی معاوضہ دینے سے بچ نہیں سکیں گے۔ ایسی ہم امید کرتے ہیں ۔ اگر آپ کو بھی کسی نے پھنسایا ہے چاہے وہ پولیس ہو یا کوئی شہری تو فورا اس کی شکایت اعلی حکام تک کریں، ساری چیزوں کا ریکارڈ مینٹین کریں، میڈیا میں دیں اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں۔ اورنگ آباد بینچ بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ شاید یہی پیغام دیتا ہے۔ اگر آپ اس کیس کا ہائی کورٹ کا آرڈر دیکھنا چاہتے ہیں تو لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔ اور اس آرڈر پر بنائی ہوئی ہماری ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے لنک میں دیکھ سکتے ہیں، شکریہ۔