Skip to content
منی پور کے معاملے میں بھی سپریم کورٹ کا مواخذہ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
عوام کی توجہات بنیادی مسائل کی جانب سے ہٹا کر اپنے رائے دہندگان کو بہلانے پھسلانے والی مودی سرکار نے وقف بورڈ کا شوشا چھوڑا۔ اس کے بعد آئی ٹی سیل نےمسلمانوں کے خلاف لینڈ جہاد کا طوفان کھڑا کردیا اور ہر وقف کو مشکوک کرنے کی سعی ہونے لگی ۔ ویڈیو کے ذریعہ ہندووں کے دل میں یہ خوف پیدا کیا گیا کہ اگر کوئی مسلمان ان کی نجی جائیداد پروقف ہونے دعویٰ پیش کردے گا تو وہ زمین کا مالک و قف ایکٹ کے تحت اسے گنوا دے گا۔ اس کے برعکس یہ حقیقت ہے کہ ملک کے امیر ترین سرمایہ دار مکیش امبانی کا گھر مسلم وقف پر ہے ۔ پارلیمانی اجلاس میں گوتم اڈانی کے وارنٹ پر گھری ہوئی سرکارنے چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کے دباو میں جے پی سی کو توسیع دے دی ۔ اس دوران سپریم کورٹ نے منی پور تشد کے دوران مکمل طور پر یا جزوی طور پر جلی ہوئی، لوٹی ہوئی اور قبضہ کی گئی جائیدادوں/عمارتوں کے بارےمیں ڈبل انجن سرکار سے مہر بندلفافے میں رپورٹ طلب کرکے مودی اور بیرین کے ہوش اڑا دئیے۔
چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ اور سنجے کمار کی سنجیدگی کا اندازہ لگانے کے لیے آرڈر پر نظر غائر کافی ہے۔ اس میں کہا گیا :’’ رپورٹ میں مالک کے نام اور ان کے پتے کی جانکاری کے ساتھ یہ معلومات بھی دینی ہوگی کہ ان جائیدادوں پر ابھی کون قابض ہے؟‘‘۔اس مشقت کا مقصد ان سرکاری دامادوں پر کارروائی ہے جو دوسروں زمینوں پر قابض ہیں ۔ یہ کوئی ماتم یا الزام تراشی کرنے کے لیے دستاویزی مشق نہیں ہے بلکہ عدالت نے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے اس نے غاصبوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کی ہے یا نہیں؟ قابضوں کو تحفظ دینے والی سرکار کاظالموں کے سر پر ہاتھ نہ ہوتا تو وہ ایسی جرأت ہی نہیں کرتے۔ اب عدالت پوچھ رہی ہے کہ جن کی جائیدادوں پر قبضہ کیا گیا ہے انہیں قبضے کے عوض نقصان بھرپائی کی ادائیگی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ؟ دہشت کے ماحول میں تارکین جائیداد اپنی ملکیت میں رہنے کی ہمت ہی نہیں کرسکتے اس لیے لٹیروں نے اسے ا پنی ملکیت سمجھ لیا ہے اس لیے ادائیگی کی تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے ۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا سرکار کے بچاو میں کہا کہ ریاست کی پہلی ترجیح تشدد کو روکنا ہے اور پھر لوگوں سے اسلحہ اور گولہ بارود واپس لینا ہے۔ ویسے انہوں نے رپورٹ سونپنے کا وعدہ تو کردیا۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اولین ترجیح کی خاطر سرکار کو کتنا وقت چاہیے ؟ ڈیڑھ سال تک اگر تشدد قابو میں نہ آئےاور قصداً تقسیم شدہ اسلحہ نہ لوٹ کر نہیں آیا تو پھر کب آئے گا۔ بعید نہیں کہ اس کا ایک بڑا حصہ استعمال ہوچکا ہو ۔ گمانِ غالب ہے کہ اس فساد کی آڑ میں وزیر اعلیٰ نے اپنی ایک وفادار ملیشیا تشکیل دے دی ہے اسی لیے مرکزی حکومت بھی انہیں ہٹانے سے ڈرنے لگی ہے۔ بحث کے دوران وکلاء میں سے ایک نے ریاست سے برآمد شدہ ہتھیاروں کی کل تعداد کی جانکاری طلب کی توتشار مہتا نے معلومات فراہم کرنے کا وعدہ کرکے آرڈر میں درج نہ کرنے کی گزارش کی ۔ یہ استدعا دال میں کالا ہونے کی چغلی کھاتا ہے۔
منی پور تشدد میں جانی نقصان کی بات کریں تو گزشتہ ماہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے تازہ سنگین معاملات کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایات پر 13 نومبر 2024 کے بعد وقوع پذیر ہونے والے تینوں مقدمات کی دوبارہ جانچ شروع کی گئی ہے ۔ این آئی اے کی ٹیم تفتیش کےلیے جائے وقوعہ پرپہنچ گئی اور اس نےمقامی پولیس سے دستاویزات اور شواہد اکٹھے کیے۔ منی پور میں برپا ہونے والے تشدد کے پیچھے کی سازش کو بے نقاب کرکے قصورواروں پر سخت کارروائی کرنے کے لیے تین معاملات کو توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ اس میں پہلا واقعہ 11 نومبر 2024 کو بوربیکارہ میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح عسکریت پسندوں نے ایک پولیس اسٹیشن، مکانات اور دکانوں پر حملہ کیا۔ اس دوران آتشزدگی اور فائرنگ میں دو شہری ہلاک ہوئے۔ بعد ازاں 3 خواتین اور 3 بچوں سمیت 6 افراد کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا۔
دوسرا معاملہ اسی دن جکوردھور کارونگ میں ہوا جہاں سی آر پی ایف چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے سلچر بھیجا گیا ہے۔ پولیس اور سی آر پی ایف کی جوابی کارروائی میں نامعلوم عسکریت پسندوں کی لاشیں اور ان کے پاس سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔ تیسرا واقعہ7 نومبر 2024 کو جیریبام میں ایک 31 سالہ خاتون جوسانگکم کا ہے جسے عصمت دری کے بعد جلا کر ہلاک کر دیا گیا۔ وہ تین بچوں کی ماں تھی اور اپنے گھر میں عسکریت پسندوں کا نشانہ بنی۔ اس معاملے میں بھی این آئی اے نے دوبارہ ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔یہ تیسرا واقعہ ہی بعد والے دو سانحات کی وجہ بنا ۔ اس کے بعد 11 نومبر کو حمار قبائلی گاؤں کے11 رضاکاروں کے قتل کا بدلہ تھا ۔ انہیں سیکورٹی ایجنسیوں نے "عسکریت پسند” قرار دے کر موت کے گھاٹ اتاردیا تھا ۔
وزیر اعظم نریندر مودی جب جھارکھنڈ میں قبائلی خواتین کے تحفظ کا رونا رو رہے تھے اس وقت منی پور کے جیری بام ضلع میں 7 نومبر کی رات ایک 31 سالہ قبائلی خاتون کے پیر پر گولی ماری گئی۔ اس کے بعد زخمی خاتون کی اجتماعی عصمت دری ہوئی اور پھر اسے زندہ جلا دیا گیا۔ مسلح میتئی حملہ آوروں نے گاؤں میں فائرنگ کرتے ہوئے لوٹ مار کی اور 17؍ مکانات بھی پھونک دئیے۔ اس قتل کو غارتگری کی سزا تین بچوں کو بھی ملے گی جن کی ماں کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا۔منی پور میں بی جے پی کی سرکار ہے اس کے باوجود خاتون کی جلی ہوئی لاش کو فارنسک جانچ کے لیے پڑوسی ریاست آسام کے شہر سلچر لے کر جانا پڑا۔ ضلع مجسٹریٹ کو ایسا کرنے کی یہ وجہ بتائی گئی ضلع کے صدر مقام میں پوسٹ مارٹم اور فارنسک جانچ کی سہولیات نہیں ہیں۔ منی پور میں بڑھتے ہوئے نسلی بحران کے درمیان، نعش کو نیشنل ہائی وے-37 کے ذریعے جیری بام سے امپھال تک لے جانا ممکن نہیں تھا ، اس لیے لاش کو ہوائی جہاز کے ذریعے آسام بھیجا جائے گا۔ لاش چونکہ جل چکی تھی اس لیے راکھ سے یہ پتہ لگانا ممکن نہیں تھا کہ عصمت دری ہوئی یا نہیں لیکن ہڈیوں کے اندر کیل کے نشان شہادت دے رہے تھے کہ مظلومہ پر کیسے ستم توڑےگئے؟
اس واقعہ کے بعد، قبائلی تنظیموں نے منی پور میں کوکی-جومی-ہمار برادریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے لیکن مودی جی کو چونکہ اس وقت ان کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے اس لیےانہوں نے اپنی توجہات کو جھارکھنڈ کے قبائلیوں پر مرکوز رکھا ۔ اس سے قبل گزشتہ سال 28 مئی کو ضلع کاکچنگ میں ایک مجاہد آزادی کی 80 سالہ بیوہ کو اس کے گھر میں بند کر کے زندہ جلا دیا گیا تھا ۔ اس بزرگ خاتون کے خاوند چورا چند سنگھ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی کے رکن تھے۔ انہیں سابق صدر اے پی جے عبدالکلام نے اعزاز سے نواز تھا۔ اپریل 1997 میں آل انڈیا فارورڈ بلاک کی طرف سےانہیں نیتا جی ایوارڈ بھی دیا گیا تھا اس کے باوجود انگریزوں کی جوتیاں چاٹنے والے جعلی دیش بھگتوں کو ان کی اہلیہ پر رحم نہیں آیا اور ریاستی و مرکزی حکومت نے اسے نظر انداز کردیا کیونکہ وہ کوکی تھی۔ اس بار چونکہ میتئی سماج پر ظلم ہوا اس لیے دونوں سرکاریں فکرمند ہوگئی ہیں کیونکہ یہ ان کا ووٹ بنک ہے۔
چھپنّ انچ کی چھاتی پیٹنے والے مودی جی کے لیے یہ نہایت شرم کا مقام ہے کہ ایک ننھا سا صوبہ پچھلے ڈیڑھ سال سے جل رہا ہے اور وہ اس آگ پر قابوپانے میں پوری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ ڈبل انجن سرکار کی اس نااہلی نے ریاست کے لوگوں کو زعفرانیوں سے پوری طرح مایوس کردیا ہے۔ ان لوگوں نے پہلے تو انتخاب میں پرامن طریقے سے سرکار کا دماغ درست کرنے کی سعی کی لیکن بعد جب میتئی سماج نے اپنے بچوں اور خو اتین کی لاشوں کو ندی میں تیرتے ہوئے دیکھا تو ان کے صبر کا پیمانہ پوری طرح لبریز ہوگیا اور ان کا مشتعل ہجوم خود اپنے وزیروں پر حملہ آور ہوگیا ۔ منی پور کی سرکار اگر پہلے ہوش میں آتی تو فی الحال خود کو اس مصیبت میں مبتلا نہ پاتی اور مرکزی حکومت کی رسوائی کا سبب بھی نہیں بنتی ۔ مودی اور بیرین سنگھ کی سرکاروں نے ریاست کے عوام کا چین و سکون غارت کررکھا ہے۔ فسطائیت نوا ز فرقہ پرستوں نےریاست کے ان لوگوں کو بھی اپنا دشمن بنالیا ہے جن نازبرداری کے لیے کوکیوں سے رقابت مول لی گئی تھی ۔ منی پور میں اب بی جے پی کی حالت دھوبی کے گدھے کی سی ہوگئی ہے جو نہ گھر کا ہوتا ہے اور نہ گھاٹ کا ۔ اس پرکسی نامعلوم شاعر کایہ شعر صادق آتا ہے ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
Like this:
Like Loading...