بسم اللہ الرحمن الرحیم
غیرقانونی حراست و معاوضہ کا ایک دلچسپ معاملہ
—–
از قلم : عبدالواحد شیخ ممبئی
8108188098
—–
آج ہم بات کریں گے چھتیس گڑھ، بلاسپور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے پر جس میں وہاں کی ایک اسکول ٹیچر اور اس کی بیٹی کو پولیس نے 30 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا تو عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ ان دونوں کو تین لاکھ روپے معاوضہ عطا کر ے۔ عرض گزار انجو لال ایک سبکدوش اسکول ٹیچر ہیں ۔ جس کی تعلیمی لیاقت ایم اے انگلش، ایم اے سوشیالوجی اور ایم ایس ڈبلیو ہے ۔ اس کی بیٹی نوجوان انجینئر ہیں۔ جس کی تعلیمی لیاقت بی ای سول ، بی ایڈ اور ایم ایس ڈبلیو ہے۔ جگاڑے ان کا پڑوسی ہیں۔ جس نے دونوں کے گھر کے سامنے سے گزرنے والی راستے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے خلاف عرض گزار نے کئی اعلی حکام سے شکایت درج کی مگر ان سنی ہوتی رہی۔ عرض گزار انجو لال کے شوہر آر کے لال کالج کے سبکدوش پروفیسر ہیں جنہوں نے اس قبضے کے خلاف کئی جگہ شکایت کی ۔
خاتون عرض گزار کا کہنا ہے کہ پولیس آفیسر سول لائن پولیس اسٹیشن نے 16 ستمبر 2023 کو قبضہ کرنے والے کے ساتھ مل کر عرض گزار کے ساتھ بدتمیزی کی اور عرض گزار کو گرفتار کر لیا ۔ انہیں کس کیس میں کس سیکشن کے تحت اور کس کی شکایت پر گرفتار کیا گیا یہ پولیس نے نہیں بتایا ۔ انجولال کے گھر میں کرائے پر رہنے والے طلباء بھی گرفتاری کی وجہ پولیس سے پوچھتے رہے تو خاکی وردی والوں نے انہیں دھمکی دی اور انہیں اس معاملے سے دور رہنے کہا ورنہ سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے ۔ ایسا ڈرایا۔ گرفتاری کے دوران نہ انہیں کسی رشتہ دار ،وکیل سے ملنے دیا گیا، بلکہ پولیس اسٹیشن میں لا کر بند کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ ماں بیٹی کو پولیس اسٹیشن میں حراساں بھی کیا گیا۔ دوپہر میں ساڑھے 12 بجے گرفتار کر کے شام کے پانچ بجے مجسٹریٹ کے پاس لے گئے ، وہاں بھی ایک گھنٹہ انتظار کے بعد عرض گزار کو ولاس پور سینٹرل جیل بھیج دیا گیا ۔ عرض گزار نے ہر طرح کی ضمانت بانڈ بھرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن پولیس نے نہ سنی اور جیل پہنچا دیا ۔ عرض گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کےآرٹیکل 21 کے حوالے سے سنگین پامالی ہوئی۔ ان کا زندگی اور ازادی کا حق مارا گیا ہے، اور ان پر پولیس مظالم کیے گئے ہیں۔ دوسرے دن شام چھ بجے بنا کسی میڈیکل چیک کۓ، بنا وکیل اور جواز کے انہیں رہا بھی کیا گیا۔ یہ سیدھا سیدھا غیر قانونی حراست کا کیس ہے۔
عرض گزار کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر پولیس سے گڑگڑا کر پوچھتے رہے کہ ان کی بیوی اور بیٹی کو کہاں لے گئے ہے۔ مگر پولیس والوں نے کچھ نہیں بتایا۔ ہمارا کہنا یہی ہے کہ پولیس ایسا ہی کرتی ہے جب بھی کسی کو پکڑتی ہے تو اس کے بارے میں نہیں بتاتی اور اسے کسی نامعلوم جگہ پر بند رکھا جاتا ہے۔ رہا ہونے کے بعد عرض گزار نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر یا کمپلینٹ درج تھی ۔ انہوں نے چھتیس گڑھ کا سٹیزن پورٹل بھی چیک کیا ۔ مگر ان کو ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر، کمپلینٹ نہیں ملی۔ اس کے بعد انہوں نے مجسٹریٹ کورٹ میں ہونے والی پروسیڈنگ کاپی حاصل کی۔ عرض گزار کے وکیل نے ڈی کے باسو ورسز اسٹیٹ آف ویسٹ بنگال کا حوالہ دیتے ہوئے اور دیگر کیس کا حوالہ دے کر اس پورے معاملے کو اللیگل ڈیٹینشن بتایا ہے۔ بنا کسی گناہ اور ایف آئی آر کے ہوتے ہوئے گرفتار کرنے کو پولیس کے طاقت کا غلط استعمال بتایا ہے۔ اس کے برخلاف مخالف جانب کے وکیلوں کا کہنا ہے جس کی زمین پر باؤنڈری تعمیر ہو رہی تھی اس نے پولیس پروٹیکشن مانگا تھا اور جو کانٹریکٹر کام کر رہا تھا اس کو عرض گزار نے گالی دی اور اس کی قمیض کا کالر پکڑ کر جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی ۔ شکایت ملنے پر پولیس نے دونوں کو خاموش کر کے معاملہ سلجھانے کی کوشش کی مگر وہاں پولیس کے سامنے عرض گزارنے گالی گلوچ کی، پولیس کے ساتھ بدتمیزی کی۔ اس حالت کو دیکھتے ہوئے کوئی گناہ سرزد نہ ہو جائے اس لیے عرض گزار کو سیکشن 151 کے تحت گرفتار کیا گیا ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عرض گزار کے بیٹے کے موبائل نمبر پر گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی۔ گرفتاری کے بعد بیانات ریکارڈ ہوئے اور مجسٹریٹ کے سامنے معاملہ پیش ہوا ۔ مجسٹریٹ نے دونوں کو 25، 25 ہزار ضمانت بھرنے کہا، وہ فیل ہو گئے بھرنے سے، اس لیے مجسٹریٹ نے ان کو جیل بھیج دیا ۔ کہا جاتا ہے کہ پولیس نے بانڈ بھرنے کا موقع ہی نہیں دیا ۔دوسرے دن وہ بانڈ بھرے اسی لیے ان کو رہا کیا گیا ۔ پولیس کسٹڈی میں ان کے ساتھ غیر اخلاقی سلوک نہیں ہوا ہے ایسا پولیس کا کہنا ہے ۔ انہوں نے اعلی حکام کو اس کی شکایت نہیں کی جیل کے اندر ان کا میڈیکل ہوا اور پولیس نے ان کے سارے الزامات کو مسترد کر دیا۔ عرض گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ کل 30 گھنٹے اللیگل ڈیٹینشن رکھا گیا ہے ۔ اور یوں بھی سیکشن 151میں 24 گھنٹے سے زیادہ حراست میں نہیں رکھ سکتے۔ ایسا سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے ۔ مجسٹریٹ کے سامنے کھڑے کرنے کے بعد بھی عرض گزار کو بیل بانڈ پیش کرنے نہیں دیا گیا ، جبکہ قانون میں لکھا ہے کہ ایسا مجسٹریٹ کو کرنا چاہیے ۔ اس لیے اللیگل ڈیٹینشن اور بے عزتی ہوئی ہے تو معاوضہ دیا جانا چاہیے۔ عرض گزار کے وکیلوں نے بہت سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے بتا کر یہ سمجھایا کہ آئی او یعنی تفتیشی افسر کو ہر حال میں صبر سے کام لیتے ہوئے ملزم کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہیے ۔ سپریم کورٹ کے بہت سے فیصلے بتا کر کہا گیا کہ جب ملزم کو حراساں کیا جائے اور بے عزتی ہو تو عدالت کو معاوضہ دینا چاہیے .ملزم کا لائف اینڈ لبرٹی کا حق مجروح ہوا ہے ۔
تمام باتوں کو سننے کے بعد عدالت نے عرض گزار کو جو ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہے ایک لاکھ روپے اور اس کی تعلیم یافتہ بیٹی کو دو لاکھ روپے حکومت کی جانب سے 30 دن کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس روندر کمار اگروال اور جسٹس رمیش سنہا نے 19 مارچ 2024 کو دیا۔ اگر آپ فیصلے کی یہ کاپی دیکھنا چاہتے ہیں تو لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس فیصلے میں اہم بات یہ ہے کہ عرض گزار اور اس کے پڑوسی کا ایک بات کو لے کر جھگڑا ہوتا ہے ، پولیس آتی ہے ، بیچ بچاؤ کرتی ہے اور مختلف دفعات لگا کر کے عرض گزار کو گرفتار کیا جاتا ہے ۔ میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، جیل پہنچایا جاتا ہے ۔ لیکن قانون کے حساب سے کچھ گڑبڑ ہے اس لیے عرض گزارنے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی اور وہ معاوضہ لینے میں کامیاب ہو گئی۔
لیکن آپ دیکھیے، ملک بھر میں کئی مسلمانوں کو اور دلتوں کو آئے دن بلا کسی سبب بنا کسی جھگڑے اور کیس کے ، بغیر کسی سیکشن کو لگائے پولیس کئی کئی دنوں تک اللیگل ڈیٹین کر کے رکھتی ہے۔ اور بیچارے وہ لوگ نہ تو پولیس کی شکایت کرتے ہیں اور نہ ہی کسی عدالت سے رجوع کرتے ہیں ۔ اگر کسی نے اعلی حکام کو شکایت کرنے کی ہمت کی یا کبھی عدالت جانے کی کوشش کی تب بھی ایسا ہوتا ہے کہ اکثر انہیں انصاف نہیں ملتا اور معاوضہ نہیں ملتا ۔ لیکن انجو لال کا یہ کیس ہمیں بتاتا ہے کہ معاملہ تھوڑا بھی ہو اور اللیگل ڈیٹینشن کا کیس ہو تو آپ کو نہ صرف اعلی حکام کو کمپلینٹ کرنا چاہیے بلکہ ہائی کورٹ جا کر کے معاوضہ مانگنا چاہیے ۔ کیا پتہ کب آپ کیس جیت جائے اور اس طرح کا معاوضہ ملے اگر نہیں بھی ملتا ہے تب بھی کم از کم اتنا تو ہوگا کہ آئندہ پولیس آپ کے ساتھ بدتمیزی کا معاملہ کرنے سے پہلے100 بار سوچے گی۔ اگر آپ اس کیس پر بنائی ہماری ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں دیۓ گۓ لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔ شکریہ