Skip to content
عبادتگاہوں کا قانون: بی جے پی کےہونٹ بھی اپنے دانت بھی اپنے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
عبادت گاہوں کے قانون 1991 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستیں فی الحال عدالتِ عظمیٰ میں زیر سماعت ہیں۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی خصوصی بنچ میں یہ مقدمہ چل رہا ہے۔ بی جے پی کے بدنامِ زمانہ وکیل اشونی کمار اپادھیائے نےیہ معاملہ تقریباً چار سال قبل درج کرایا تھا ۔ یہ وہی فتنہ پرور انسان ہے جو گیان واپی اور سنبھل کے معاملے بھی چلا رہا ہے۔ اس نے مذکورہ قانون پر بے شمار اعتراضات درج کروائے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے ان کے جواب میں حکومتِ ہند نے کوئی جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی زحمت نہیں کی۔ یہ معاملہ عدالت میں زیر التواء رہا مگر کسی نے سرکار سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ ایسے سنگین معاملے میں منہ کے اندر دہی جمائے کیوں بیٹھی ہے؟ جسٹس سنجیو کھنہ نے جب اس بار کاونٹر ایفی ڈیوٹ طلب کرلی تو عدالت میں سناٹا پسر گیا ۔ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا لاجواب ہوگئے ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اس معاملے میں حلف نامہ داخل کرے گی مگر وقت چاہیے۔
چار سال کے بعد چار ہفتے کا وقت مانگنا ایک شرمناک عمل تھا مگر سوال یہ ہے کہ اس طرح کی رسوائی سے بچنے کا اہتمام پہلے کیوں نہیں کیا گیا ؟ کیا ان لوگوں نے ساری عدلیہ کو جسٹس بوبڑے جیسا سمجھ لیا جو جب تک سی جی آئی رہے سرکار کے آگے سرہلاتے رہے اور سبکدوش ہوتے ہی بھاگوت کے پاس سر جھکانے پہنچ گئے۔مودی سرکار کی اس مجرمانہ بے نیازی یا تساہلی کے پیچھے عبادت گاہوں کے قانون 1991 سے متعلق موجودہ حکومت کے رویہ کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہ درحقیقت یہ مقدمہ موجودہ سرکار کا ایک بڑا دھرم سنکٹ ہے کیونکہ اس قانون کی مخالفت کرنے والا وکیل نما سیاستداں بی جے پی سے تعلق رکھتا ہے ۔ وہ کسی اور جماعت کا فرد ہوتا تو سرکار فوراً قانون کے تحفظ میں دوڑ پڑتی یا حکومت کسی اور جماعت کی ہوتی تب بھی اپادھیائے کی خبر لے لی جاتی مگر یہاں تو ’ہونٹ بھی اپنے اور دانت بھی اپنے ‘۔ اس لیے بقول سید ریاض رحیم ؎
ہونٹ اپنے ہیں دانت بھی اپنے
کیا شکایت کریں کسی سے ہم
اندر کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار خود چاہتی اس فتنہ فساد کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کرنا چاہتی ہے تاکہ اسے پورے ملک نفرت کی آگ پھیلا کر اپنی سیاست چمکانے کا بھرپور موقع میسر آئے لیکن وہ اس کو ختم کرنے کی بدنامی بھی اپنے سر لینا نہیں چاہتی ۔ سرکار دربار کے لوگ چاہتے ہیں کہ چندر چوڑ یا گوگوئی جیسے وفادار خدمتگار یہ بیگار لے کر اپنا دامن بچا لیا جائے لیکن احمقوں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اپنے حصولِ مقصد کی خاطر مقدمہ چلانا ضروری ہے اور وہ بغیر سرکاری حلف نامہ کے ممکن نہیں ۔حکومت کی بابت یہ کوئی بدگمانی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو 1991 کے قانون کی درستگی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے مزید چار ہفتے کا وقت دینے کے ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ مرکز کا جواب داخل ہونے اور اگلی سماعت تک کوئی نیا کیس داخل نہیں کیا جاسکتا تو سرکاری وکیل کی پریشانی بڑھ گئی ۔
عدلیہ کی اس شرط نے جواب میں تاخیر کرکے معاملے کو ٹھنڈے بستے میں بھیجنے کا منصوبہ ناکام کردیا ورنہ ایسا ناقص حلف نامہ داخل کیا جاتا کہ جس میں کئی وضاحتیں مطلوب ہوتیں اور پھر تاریخ پہ تاریخ کے ذریعہ ٹال مٹول ہوتا رہتا ۔ اس دوران نچلی عدالتیں دھڑا دھڑا سروے کے احکامات جاری کرکے ماحول گرم رکھتیں لیکن اب معاملہ الٹ گیا ۔ عدالتِ عظمیٰ کی اس پابندی کو سن کر سرکاری وکیل کی آستین سے اچانک بلی ا کود کر باہر آگئی اور راز فاش ہوگیا۔دورانِ سماعت سپریم کورٹ کے بنچ نے سوال کیا چونکہ یہ معاملہ اس عدالت میں زیر سماعت ہے تو کیا دوسروں کے لیے مناسب نہیں ہوگا کہ جب تک ہم معاملے کی تحقیقات نہیں کرلیتے تب تک نچلی عدالت میں کوئی موثر آرڈر یا سروے آرڈر پاس نہیں کیا جائے؟ اس کے ساتھ پرانے معاملات میں بھی نچلی عدالتوں کو فیصلہ کرنے سے روک دیاگیا۔ یعنی نہ نئی درخواست اور نہ فیصلہ!اس طرح اپنا سارا کھیل بگڑتا دیکھ کر سرکاری وکیل بول پڑے یہ دیگر عدالتوں کے کام اور اختیارات میں مداخلت ہے ۔
ویسے یہ حقیقت ہے کہ ملک میں ہائی کورٹس انتظامی حیثیت سے آزاد ادارے ہیں اور وہ اور سپریم کورٹ کے تحت نہیں بلکہ صدر مملکت کے تحت ہیں یہ اور بات ہے کہ صدر جمہوریہ خود سرکار کے زیر اثر کام کرتی ہیں۔ انتظامی امور سے قطع نظر قانون کی تشریح کے حوالے سے ساری عدالتیں اپنے سے بڑی عدالت یا آئینی بینچ کے فیصلے کو نظیر ماننے کے پابند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موقع پر جسٹس کے وشوناتھن نے یاددہانی کرائی کہ سروے کےاحکامات بابری مسجد مقدمہ میں عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہیں ۔ یعنی نچلی عدالتوں کی یہ حرکت بجائے خود خلافِ قانون ہے ۔ بابری مسجد اور رام مندر کے قضیہ میں جہاں مسجد کی زمین کو شواہد کے بجائے عقائد کی بنیاد مندر ٹرسٹ کے حوالے کیا گیا وہیں پانچ صفحات عبادت گاہوں کا ایکٹ( 1991)کے تحفظ پر بھی صرف کیے گئے ہیں ۔
سابق چیف جسٹس روہنٹن نریمن نے بھی ابھی حال میں اس کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ نچلی عدالتوں اور عدالتِ عالیہ میں انہیں پڑھ کر سنایا جانا چاہیے ۔ ان اوٹ پٹانگ فیصلوں سے پرہیز کروانے کی راہ میں یہ تذکیر موثر ہوسکتی ہےلیکن ابن لاوت لوگوں پر ’کلامِ نرم و نازک بے اثر ہوتا ہے۔ ان کا دماغ تو قانونی ڈنڈا ہی درست کرسکتا ہے۔ جسٹس نریمن تو چونکہ سبکدوش ہوچکے ہیں اس لیے ان کے بیان کی اہمیت اب وعظ و نصیحت کے درجہ میں آتی ہے مگر جسٹس وشوناتھن تو ہنوز عدالتِ عظمی میں جج کے منصب پر فائز ہیں اور انہوں نےیہ بات کسی عوامی مجلس یا انٹرویو میں نہیں کی بلکہ عدالت میں دورانِ سماعت کہی ہے۔ عدالت کے کھیل بھی نرالے ہیں کہ جسٹس چندر چوڑ کے جس فیصلے کی وکالت دیگر جج حضرات کر رہے ہیں خود انہوں نے اسے پامال کردیا ۔ وارانسی کے گیان واپی محلے میں واقع جامع مسجد کا سروے کروانے کی اجازت خود انہوں نے دی ۔ اب وہ اسے فیصلہ کے بجائے مشاہدہ کہہ رہے ہیں مگر نچلی عدالتوں کےحریص جج اسی کو نظیر بناکراور سرکار کوخوش کرکے اپنے لیے مراعات جٹا رہے ہیں۔
جسٹس چندر چوڑ کا یہ دعویٰ غلط تھا کہ محض سروے کردینے سے عبادت گاہوں کے ایکٹ( 1991) کا نفاذمتاثر نہیں ہوتا اور ان کی 15؍ اگست 1947 والی حیثیت محفوظ رہتی ہے اور عبادتگاہوں کے استعمال میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اول تو سروے کے دوران ہونے والی خرافات کو ساری دنیا نے کاشی اور سنبھل دونوں مقامات پر دیکھ لیا ۔وارانسی کی سروے رپورٹ ابھی نہیں تھی کہ اس سےقبل ہندو فریق نے ’ بابا مل گئے‘ کا اعلان کردیا ۔ اس کے بعد فوارے کو شیولنگ بتایا گیا توافواہوں کی آندھی آگئی ۔ مسجد کے طے خانے میں مورتی کے موجود ہونے کا دعویٰ کردینے کے بعد اس کی پوجاپاٹ کا حق پیدا ہوگیا ۔ آئین کے مطابق ہر انسان کو عبادت کا حق ہے اب مورتی جہاں ہے وہیں اس کی پوجا کا حق بھی نکل آیا ۔ ہندو عقیدے کے مطابق دیوتا جہاں مقیم ہو وہی اس کی مالک بھی ہے ۔ ان دونوں باتوں کو ملائیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسجد کی عمارت جس جگہ پر ہے اس کی ملکیت مورتی کی ہے اوروہاں روزآنہ نماز و پوجا پاٹ دونوں چل رہی ہے۔ اس طرح کہاں گئی 15؍ اگست 1947 تک عبادت گاہوں کی حیثیت کو محفوظ رکھنے کی یقین دہانی ؟ کیا چندر چوڑ اتنے بھولے تھے کہ یہ موٹی بات نہیں سمجھ سکے ؟
سروے کی کہانی اگست 2021 میں پانچ ہندو خواتین کی وارانسی سول کورٹ میں گیانی واپی مسجد کے اندر گوری شرنگار مورتی کی روزانہ پوجا کی درخواست سے شروع ہوئی ۔ اس سے قبل سال میں ایک بار وہاں پوجا کی جاتی تھی۔مقامی عدالت نے ۸؍ اپریل 2022 کو مسجد کے ویڈیوگرافک سروے کا حکم دےدیا۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تو اس نے سماعت کرنے سے انکار کر کے معاملہ سول کورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹ میں منتقل کر دیا ۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کی ٹیم نے 24 جولائی 2023کوسروے کر نے پہنچی تو اس حکم کے خلاف پھر سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بینچ نے پھر الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کاحکم دیتےہوئے جو بلا طلب تبصرہ کیا جو آگے چل کر نظیر بن گیا۔وہ اگر اسی وقت عبادتگاہوں کے قانون کا حوالہ دے کر سروے روک دیتے تو آج یہ زہریلی ناگن پھن پھیلا کر کھڑی نہ ہوتی۔ اس لیے دامن کا یہ داغ لیپا پوتی سے نہیں چھپے گا۔ چیف جسٹس چندر چوڑ اگراس مشاہدے کے فوراً بعد سبکدوش ہوگئے ہوتے تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ انہیں موقع نہیں ملا لیکن وہ سال بھر سے زیادہ منہ میں دہی جمائے رہے اور غلط فہمی کو دور کرکے اصلاح نہیں کی تو شک ہوتا ہے ’ کہیں پہ نگاہیں اورکہیں پہ نشانہ تو نہیں تھا‘ جو آگے چل کر چوک گیا۔
Like this:
Like Loading...