Skip to content
ترکی نے پیر کے روز اسرائیلی مقبوضہ اور ملحقہ گولان کی پہاڑیوں میں رہنے والی آبادی کو دوگنا کرنے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی ہے جس پر وہ "اپنی سرحدوں کو وسعت دینے کے لیے” عمل کرنا چاہتا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "قبضے کے ذریعے اپنی سرحدوں کو وسعت دینے کے اسرائیلی مقصد کے لیے یہ فیصلہ ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔”
اسرائیل کی حکومت نے اتوار کے روز گولان کی پہاڑیوں کی آبادی کو دوگنا کرنے کے منصوبے کی منظوری دے جس سے چند ہی دن قبل اس کے فوجیوں نے شام کی سرحد سے متصل اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی ایک بفر زون پر قبضہ کر لیا تھا۔
ترکی نے کہا، "اسرائیل کا یہ اقدام شدید تشویش کا باعث ہے جو 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علیحدگی کے علاقے میں اسرائیل کے داخلے، ملحقہ علاقوں میں اس کی پیش قدمی اور شام میں فضائی حملوں کے ہمراہ اٹھایا گیا ہے۔” ترکی نے خبردار کیا کہ یہ اقدام بشار الاسد کی معزولی کے بعد شام میں استحکام لانے کی کوششوں کو "تشویش ناک حد تک کمزور” کرے گا۔
گولان کی پہاڑیاں شام کے جنوب مغربی کنارے پر واقع ایک پہاڑی سطح مرتفع ہے جس کا بیشتر حصہ اسرائیل نے 1967 کی چھے روزہ جنگ کے دوران اپنے قبضے میں لے لیا اور بعد میں اس کا الحاق کر لیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے گشت والا بفر زون اسے شامی حصے سے الگ کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ یہ "سکیورٹی وجوہات” کی بنا پر ایک "محدود اور عارضی اقدام” تھا۔
Like this:
Like Loading...