بسم اللہ الرحمن الرحیم
انصاف ہے کہ حکم عقوبت سے پیشتر
از قلم عبدالواحد شیخ ممبئی
8108188098
بینک اکاؤنٹ فریز اور ڈی فریز: پی ایف آئی اور یو اے پی اے کا غلط استعمال
آج ہم مدراس ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بارے میں بات کریں گے جس میں عرض گزار محمد اسماعیل اور محمد یوسف نے مدراس ہائی کورٹ میں پولیس کے ایک آرڈر کو چیلنج کیا ، اور عرض گزار نے سرٹیو ریریفائیڈ مینڈمس رٹ writ of Certiorarified mandamus فائل کی۔ یہ رٹ اس وقت فائل کی جاتی ہے جب نچلی عدالت / حاکم آرڈر پاس کرنے میں کوئی غلطی کرتے ہیں یا غلط جورسڈ یکیشن یعنی اپنے اختیار سے باہر آرڈر پاس کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ رٹ جب ہائی کورٹ میں فائل کی جاتی ہے تو ہائی کورٹ کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ سارے آرڈرز اور کاغذات ہائی کورٹ میں منگائے، ان کو دیکھے اور اس میں جو غلط آرڈر پاس ہوا ہے اس کو کینسل کرتے ہوئے درست آرڈر پاس کرے۔
کہا جاتا ہے کہ اے سی پی چنئی نے 4 نومبر 2022 کو ایک بینک اکاؤنٹ فریز( منجمد) کرنے کا آرڈر دیا تھا۔ عرض گزار کا ایک کھاتہ تھا جو انڈین بینک میں تھا جسے فریز کر دیا گیا ۔ عرض گزار ایک رجسٹر ٹرسٹ چلاتے ہیں جس کا نام ، تامل ناڈو ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن ٹرسٹ ہے۔ جو سماجی اور فلاحی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک ڈسٹرکٹ میں ان کا اریواگم نامی ادارہ ہے اور اسی ادارے کو چلانے کے لیے چنئ میں انڈین بینک میں ایک اکاؤنٹ بھی انہوں نے کھول رکھا تھا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ ایک اسلامک سینٹر ہے جو پی ایف آئی سے جڑا ہوا ہے، اور پی ایف آئی کو یو اے پی اے کے تحت بین (پابند)کیا گیا۔ اس لیے اس ادارے کے بینک اکاؤنٹ کو فروزن ( منجمد) کرنا ضروری ہے۔ دفاعی وکیلوں کا کہنا ہے کہ ادارہ ایک آزاد ادارہ ہے جس کا پی ایف آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کا کوئی فنڈ کبھی بھی پی ایف آئی کے استعمال میں نہیں رہا ۔ دفاعی وکیل کا کہنا یہ بھی ہے کہ اس پورے معاملے میں پولیس نے پرنسپل آف نیچرل جسٹس کا لحاظ نہیں کیا۔ عرض گزار کو کبھی نوٹس نہیں دی اور بینک فریز کرنے سے پہلے نہ ان کی بات سنی۔ اے سی پی کو بینک کھاتہ منجمد کرنے کے آرڈر دینے کا کوئی قانونی حق بھی حاصل نہیں ہے۔ اس کے برعکس پولیس کا کہنا ہے کہ کسی کے پاس پیسہ ہو جو کہ کسی غیر قانونی کاروائی میں استعمال ہوگا یا ہونے کا ارادہ ہو تو پولیس کو پورا اختیار ہے کہ وہ ایسے فنڈ کو استعمال ہونے سے روکے۔ اس لیے ان کے خلاف کوئی انکوائری یا پہلے سے اطلاع دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
میں وہ یوسف نہیں جو پاکئ دامن دیکھے
دور حاضر میں زلیخا کی بھی سرکار نہیں
آپ جانتے ہیں کہ حکومت ہند نے 27 ستمبر 2022 کو پی ایف آئی پر یو اے پی اے کے تحت پابندی لگائ۔ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے فنڈ کو فریز کرنے سے پہلے اس بارے میں انکوائری کرنا ضروری ہے۔ مگر اس کیس میں ایسی کوئی انکوائری نہیں کی گئی جو کہ ارٹیکل 14 اور 21 کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ اور یہ عمل پرنسپل آف نیچرل جسٹس کے خلاف ہے، ایسا کورٹ نے پایا۔ یہی نہیں بلکہ بینک اکاؤنٹ بند کرنے کے بعد اس آرڈر کی کوئی کاپی بینک ہو ہولڈر کو نہیں دی گئی۔ جبکہ قانون کہتا ہے کہ ایسی اطلاع پولیس کو متعلقہ فرد یا ادارے کو دینی چاہیے۔ قانون میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب کسی پر ایسی کاروائی ہو تو 15 دن کے اندر وہ اپنے ڈسٹرکٹ کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کر سکتا ہے لیکن اس کیس میں کاروائی کا کوئی آرڈر عرض گزار کو نہیں دیا تو وہ کیسے 15 دن میں اس کو چیلنج کریں گے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ارڈر کی کاپی نہ دینا بھی پرنسپل آف نیچرل جسٹس کے خلاف ہے۔ سپریم کورٹ کے کئی فیصلے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جب کسی آرڈر کے خلاف الٹرنیٹ ریمیڈی ہے اور وہ اسے چیلنج کرے تو ہائی کورٹ اس کو انٹرٹین نہ کرے۔ مگر اس میں یہ بات بھی ہے کہ جہاں پرنسپل آف نیچرل جسٹس کا وائلیشن ہوا ہو وہاں ہائی کورٹ اس معاملے پر سنوائی کرے ۔ اس لیے عدالت نے اس عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے حکم جاری کیا کہ بینک اکاؤنٹ کو جو فریز کیا تھا پولیس نے وہ غلط تھا اس لیے فل الفور بینک اکاؤنٹ ڈی فروزن کیا جائے۔ اور عرض گزاروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ کو استعمال کر سکتا ہے۔
آپ نے دیکھا کہ کس طرح سے پہلے ایک تنظیم پر پابندی لگائی گئی یو اے پی کے تحت اور یو اے پی اے کے تحت ہی کسی دوسری ادارے کے جڑے ہوئے بینک اکاؤنٹ کو پولیس نے فریز کر دیا ، نہ ان کو پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی کوئی آرڈر دیا گیا اور فریز کرنے کے بعد بھی ان کو کسی قسم کی کوئی کاپی نہیں دی گئی۔ قانون کا اصول یہ ہے کہ کسی بھی معاملے پر فیصلہ کرنے سے پہلے دونوں فریق کی باتوں کو سننا ضروری ہے جسے قانون audi alteram partem کہتا دیکھیے اسی لئے فیض احمد فیض نے کہا تھا :
انصاف ہے کہ حکم عقوبت سے پیشتر
اک بار سوئے دامن یوسف تو دیکھیے
خدانخواستہ اگر پولیس نے کسی کے بینک اکاؤنٹ کو فریز کیا ہے دہشت گردی کے کسی معاملے کو لے کر یا یو اے پی اے کے تحت اور انہیں اطلاع نہ دی انہیں اس کی کاپی نہ دی اور ان کی باتوں کو نہیں سنا گیا تو یہ پرنسپل آف نیچرل جسٹس کے خلاف ہے ۔ اور ایسی صورت میں متاثرہ شخص ہائی کورٹ میں اس رٹ اور اس آرڈر کا استعمال کر کے اپنا حق حاصل کر سکتا ہے ۔ اور اس بینک اکاؤنٹ کو ڈی فریز کروا سکتا ہے۔ اگر آپ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دیۓ ہوۓ ویڈیو کے لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔ شکریہ