Skip to content
شامی مسلمانوں کا نقطہ نظر
ازقلم:شیخ سلیم،
عرب بہار مصر کے بعد شام پہنچی۔ چالیس سال سے ظلم و جبر کے سائے میں رہنے والے مسلمانوں نے پُرامن احتجاجات شروع کیے۔ شام کے سبھی بڑے شہروں میں احتجاجات شروع ہوئے۔ مطلق العنان حکمرانوں نے اس احتجاج کو اپنے خلاف بغاوت سمجھا اور اسے بری طرح کچلنے کی کوشش کی۔ ہزاروں افراد کو شہید کیا گیا، لاکھوں کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔ مگر اس نے جلتی پر آگ کا کام کیا اور احتجاج مسلح بغاوت میں تبدیل ہوگیا۔ شام کی اکثریت سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے، قریب 80 فیصد سے زائد سنی مسلمانوں کی آبادی ہے جبکہ باقی نصیری، دروز اور شیعہ آبادی ہے۔ مگر حکومت مکمل طور پر علویوں اور شیعوں کے ہاتھ میں تھی۔
شام میں جاری بحران کے دوران مسلمانوں نے بشار الاسد کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو ایک جائز مانگ اور آزادی کی تحریک کے طور پر دیکھا۔ ان کے لیے یہ جدوجہد صرف سیاسی آزادی کے لیے نہیں بلکہ اپنے مذہبی اور سماجی حقوق کی بحالی کے لیے بھی تھی، جنہیں عشروں سے اسد حکومت نے دبا رکھا تھا۔ 2011 میں جب عوام نے اسد کے خلاف آواز بلند کی تو یہ تحریک بنیادی انسانی حقوق، انصاف اور مساوی سلوک کی جدوجہد تھی۔ لیکن جیسے ہی اسد حکومت نے بغاوت کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، سنی عوام میں اس کے خلاف نفرت مزید گہری ہوگئی۔
ایران اور حزب اللہ کی مداخلت نے اسد کی حکومت کو سہارا دیا، لیکن شامی مسلمانوں کے دلوں میں ایک نئی تلخی اور ناامیدی بھی پیدا کی۔ ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں کی موجودگی نے فرقہ واریت کو مزید بڑھایا۔ ان ملیشیاؤں کی کارروائیوں کو شامی عوام نے اپنے مذہبی اور قومی تشخص پر حملہ سمجھا۔ اسی طرح روس اور صلیبی طاقتوں کی مداخلت نے بھی یہ تاثر دیا کہ عالمی طاقتیں شامی مسلمانوں کی اکثریت کی آواز دبانے کے لیے متحد ہیں۔ ادلب، حلب، اور دیگر شہروں میں بے گناہ سنی شہریوں کی اموات اور تباہی نے اسد حکومت کی بربریت کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔
بشار الاسد کے اقتدار میں رہنے والے سنی مسلمان ہمیشہ یہ محسوس کرتے رہے کہ وہ اپنے ملک میں غیرمحفوظ اور بے اختیار ہیں۔ اسد کا ایران کے ساتھ تعلق، جو بظاہر مضبوط نظر آتا تھا، شامی مسلمانوں کے نزدیک ایک استعماری قوت کی حمایت کی علامت تھا۔ پھر جب اسد نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کی، تو یہ سنی مسلمانوں کے لیے ایک مختصر امید کی کرن ثابت ہوئی کہ شاید عرب ممالک کی مدد سے شام میں حالات بہتر ہوسکیں۔ لیکن اس کوشش کی ناکامی نے یہ واضح کر دیا کہ اسد نہ ایران سے مکمل طور پر علیحدہ ہوسکتے ہیں، نہ ہی سنی اکثریت کے مطالبات پورے کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں نے ابتدا میں اس تحریک کو ایک عوامی انقلاب کے طور پر شروع کیا۔ ان کے نزدیک اسد حکومت کی کرپشن، ناانصافی، اور جبر نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا تھا کہ عوام کے پاس بغاوت کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ 2011 میں جب اس تحریک نے زور پکڑا تو باغیوں کو یہ یقین تھا کہ وہ جلد ہی اسد حکومت کو گرا کر ایک منصفانہ، جمہوری حکومت قائم کر لیں گے۔ مگر جب ایران کیل کانٹے سے لیس ہو کر جنگ میں کود پڑا اور حزب اللہ نے بھی اسد کی مدد کے لیے مداخلت کی تو صورتحال پیچیدہ ہوگئی۔
اھل شام کے لیے ایران اور شیعہ ملیشیاؤں کی موجودگی نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی جارحیت بھی تھی۔ ان کے نزدیک یہ ایک فرقہ وارانہ جنگ بن گئی تھی، جس میں وہ اپنی شناخت، آزادی اور عزت کے لیے لڑ رہے تھے۔ 2015 کے بعد روس کی فضائی بمباری نے باغیوں کی قوت کو مزید نقصان پہنچایا، لیکن ان کے حوصلے کم نہ ہوئے۔ ادلب میں باغیوں نے اپنی آخری پناہ گاہ بنائی اور وہاں سے اسد حکومت کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔
شامی باغیوں کو ترک حکومت کی حمایت نے ایک نئی امید دی۔ ترکی نے انہیں نہ صرف عسکری مدد فراہم کی بلکہ ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی بن گیا۔ ترکی نے شام کے شمال میں ایک بفر زون قائم کیا، اپنے ملک میں قریب چالیس لاکھ شامی مسلمانوں کو پناہ دی۔ ادلب میں ترکی کی موجودگی نے باغیوں کو حوصلہ دیا کہ شاید ایک دن وہ دمشق میں ایک آزاد حکومت قائم کر سکیں گے۔ تاہم، اسد کی مسلسل طاقت اور بین الاقوامی مداخلت نے ان کی اس امید کو بارہا چکناچور کیا۔
شام کے شمال مشرقی علاقوں میں بڑی تعداد میں کرد مسلمان آباد ہیں، اور وہ اپنی آزاد ریاست بنانے کے خواہاں ہیں۔ ترک حکومت کردوں کو دہشت گرد قرار دیتی ہے اور کرد ریاست کو اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ ان علاقوں میں تیل کے ذخائر ہیں، جہاں امریکی فوجیں قابض ہیں۔
ترکی نے شام کے بحران میں شروع سے ہی ایک مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ ترک حکومت کے نزدیک اسد کا اقتدار میں رہنا خطے میں عدم استحکام اور ترکی کے قومی مفادات کے لیے خطرہ تھا۔ رجب طیب اردوان نے اسد حکومت کے خلاف سنی باغیوں کی حمایت کو ایک مذہبی اور سیاسی ذمہ داری سمجھا۔ ترکی کو خدشہ تھا کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے اثرات اس کے اندرونی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر کرد باغیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے۔
جب ایران اور روس نے اسد کی حمایت میں مداخلت کی، تو ترکی نے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے باغیوں کی مدد کو مزید بڑھا دیا۔ ادلب ترکی کے لیے ایک اہم محاذ بن گیا۔ ترکی نے ادلب میں اپنی فوجی موجودگی کو یقینی بنایا تاکہ نہ صرف اسد حکومت کو روکا جا سکے بلکہ شامی پناہ گزینوں کی ایک نئی لہر کو بھی ترکی میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے، اس کی شام میں مطلق العنان حکمرانوں کی پشت پناہی کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ فلسطینی عوام کی مدد کرنا ٹھیک ہے مگر اس کے لیے کسی ملک میں اپنی عوام کے خلاف اکثریت پر ظلم کیسے کیا جا سکتا ہے؟ دس لاکھ سے زائد شامی مسلمانوں کو شہید کیا گیا ہے، تین سے چار لاکھ لاپتہ ہیں۔ ایسے قبرستان دریافت ہوئے ہیں جہاں ایک سے ڈیڑھ لاکھ شامی مسلمان دفن کیے گئے ہیں۔ آخر کس بنیاد پر شامی مسلمانوں پر ظلم کیا گیا؟ بشار الاسد کو بچانے کی کوششیں کیوں کی گئیں؟
شامی مسلمان کس کرب و اذیت سے گزرے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اسرائیل نے لگاتار حملے کیے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ مگر امید ہے کہ اہلِ شام اللہ تعالیٰ کی مدد سے اپنے ملک میں انصاف پر مبنی اسلامی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔
Like this:
Like Loading...