Skip to content
چانکیہ کا چکر ویوہ : لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آئین پر بحث کے دوران راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ 17 اکتوبر 2023 کو کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے کہا تھا، ’’آج کل امبیڈکر.. امبیڈکر.. امبیڈکر ایک فیشن بن گیا ہے اور اگر اتنا ہی بھگوان کا نام لیتے تو سات جنم تک سورگ ملتا‘‘۔ شاہ کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی، اور اپوزیشن نے ان کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن جماعتوں نے شاہ سے معافی کا مطالبہ کیا ۔اس سے بی جے پی دفاعی پوزیشن میں آ گئی یہاں تک کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو شاہ کے بیان کی وضاحت کرنی پڑی ۔ وزیر اعظم مودی نے کئی ٹویٹس کرکے امیت شاہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’ کانگریس کی بدنیتی پر مبنی مہم کا مقصد ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کرنا اور ان کے ماننے والوں کی دل آزاری کرنا ہے لیکن ہم کانگریس کو بے نقاب کرکے رہیں گے ۔‘‘ بات نہیں بنی تو مجبوراً وزیر داخلہ کو پریس کانفرنس کرکے صفائی پیش کرنی پڑی اور انہوں نےکانگریس پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگایا۔
امیت شاہ نے کہا کہ ’’میں ایسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہوںجو خواب میں بھی ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کے بارے میں نہیں سوچ سکتی ۔ یہ کانگریس پارٹی ہے جو آزادی کے پہلے سے ہی امبیڈکر مخالف رہی ہے ۔ اسی لئے میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے‘‘۔ شاہ بھول گئے کہ وہ جتنا چاہے جھوٹ بولیں ویڈیو جھوٹ نہیں بولتی ۔اسی لیے اسے ٹوئٹر سے ہٹانے کی ناکام کوشش کی گئی ۔ وہ خواب میں کیا سوچتے ہیں یہ تو کوئی نہیں جانتا مگر جیتے جاگتے ان کے اپنے من کی بات ساری دنیا نے دیکھی اور سنی ۔ حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس کے جواب میں کہا کہ ’’حکومت، خاص طور سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے بارے میں جو بھی بیان دے رہے ہیں، وہ بہت افسوسناک ہے اور انھوں نے (امیت شاہ) سچائی کو جانے بغیر ہی پریس کانفرنس کو خطاب کر دیا۔ جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر امبیڈکر کو گالی دینے سے پہلے انھیں حقیقت کا پتہ کرنا چاہیے تھا۔‘‘
کھڑگے نے پریس کانفرنس میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’امبیڈکر پر بیان بازی بہت افسوسناک ہے۔ بی جے پی نے نہرو-امبیڈکر کے تعلق سے صرف جھوٹ بولا ہے اور ان کی بے عزتی کی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ اپنی غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر داخلہ کو استعفیٰ دینا چاہیے اور ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘کانگریس اس معاملے کو بہت آگے تک لے جانا چاہتی ہے۔ پارلیمنٹ احاطہ میں ہونے والی دھکا مُکی معاملہ پر کھڑگے نے کہا کہ ’’ہم پارلیمنٹ میں ہر روز احتجاجی مظاہرہ کرتے تھے، کبھی تشدد نہیں ہوا۔ آج بھی ہم لوگ پرامن مظاہرہ کر رہے تھے۔ ہمیں ’مکر دوار‘ پر روک کر ہمارے اوپر حملہ کیا گیا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے مجھے دھکا دیا۔ ہماری خاتون اراکین پارلیمنٹ سے بھی بدسلوکی کی اور وہ لوگ ہمارا مذاق اڑا رہے تھے۔‘‘ ظاہر ہےایسا سنہری موقع کانگریس تو گنوانے سے رہی اس لیے ملک ارجن کھڑگے نے ملک گیر مظاہرے کے عزم کا اظہار کردیا ۔
اس پورے زلزلے کے مرکز راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’ بی جے پی چونکہ امبیڈکر مخالف نظریہ کی حامل ہے اس لیے اس نے بابا صاحب امبیڈکر کی توہین کی ہے۔ ایسے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ملک سے معافی مانگیں اور مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دیں۔‘‘ اپنے خطاب کی ابتداء ، میں وہ بولے کہ بی جے پی نے پارلیمنٹ میں اڈانی کے معاملے پر بحث کو روکنے کی کوشش کی۔ بی جے پی شروع سے ہی اس معاملے سے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب وزیر داخلہ کا امبیڈکر کو لے کر دیا گیا بیان اسی مذموم سلسلے کی ایک کڑی ہے۔راہل گاندھی کے سیدھے نشانے پر اب اڈانی کے ساتھ امیت شاہ بھی آگئے ہیں۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم کی کرسی پر رال ٹپکانے والے یوگی ادیتیہ ناتھ کو بے حد خوشی ہوئی ہوگی لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ایسا موقع آیا تو آر ایس ایس کی پہلی پسند نیتن گڈکری ہوں گے ۔
کانگریس کی نئی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی جنہوں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دانت کھٹے کردئیے بھی اس تنازع میں پیش پیش ہیں۔انہوں نے بی جے پی کو کٹہرے میں کھڑا کر تے ہوئے کہا کہ ’’یہ سب امیت شاہ کو بچانے کی سازش ہے۔‘‘ حملے والے دن کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وہ بولیں ’’ہم روزانہ صبح 10 بجے سے 11 بجے تک احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن اب تک کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ آج جو کچھ بھی ہوا ہے، وہ ایک سازش ہے۔ جو ہمیں روک رہے تھے، ہم نے ان سے کہا تھا کہ ’جئے بھیم‘ بول کر دکھائیں۔ ہم نے تو بس اپنے آئین کے لیے نعرہ لگایا۔‘‘ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’اگر اس ملک کے لوگ سوچتے ہیں کہ یہ لوگ (بی جے پی والے) آئین کی حفاظت کر رہے ہیں، تو انھیں غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔ کیونکہ امیت شاہ کی زبان نے ان کا حقیقی چہرہ ظاہر کر دیا ہے۔ وہ جئے بھیم بھی نہیں کہہ سکتے۔ میں انھیں چیلنج پیش کرتی ہوں کہ یہاں آ کر جئے بھیم بول کر دکھائیں۔‘‘
جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر اصرار کرنے والوں کے سامنے یہ مطالبہ بڑا دھرم سنکٹ کھڑا کررہا ہے۔ پرینکا گاندھی کے مطابق کھڑگے کو دھکا دیا گیا تو وہ گر گئےاور اس کے بعد ایک سی پی ایم کے ایک رکن پارلیمنٹ کو بھی دھکا دیا گیا جو کھڑگے پر گر گئےنیز ان کو چوٹ آئی ۔ بی جے پی ان الزامات کی تردید تو کرتی ہے مگر ایوان کے اندر اور باہر لگے کیمروں فلم کیوں نہیں ظاہر کرتی؟ ایسا کرنے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ بی جے پی نے یہ حماقت ایک ایسے وقت میں کی جب انڈیا محاذ کے اندر دراڑ پڑ رہی تھی ۔ ممتا بنرجی سے لے کر عمر عبداللہ تک سبھی کانگریس کے حوالے سے اپنی بے اطمینانی کا اظہار کررہے تھے ۔ اکھلیش یادو کے بارے میں بھی طرح طرح کی افواہیں گردش کررہی تھیں لیکن اب صورتحال بالکل بدل گئی اور پورا انڈیا محاذ راہل گاندھی اور کانگریس کے پیچھے متحد ہوچکا ہے ۔ کانگریس کو امیت شاہ کے اس احسان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے اپنی حماقت سے ایک گرتی ہوئی دیوار کو سنبھال دیا۔
پارلیمنٹ کے احاطہ میں دھکا مُکی معاملے میں میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے کانگریس اور راہل گاندھی پر لگائےجانے والے الزامات کو سرے سے خارج کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ راہل گاندھی کسی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے لکھا کہ ’’میں راہل گاندھی کو جانتا ہوں، وہ رکن پارلیمنٹ تو کیا کسی عام آدمی کو بھی دھکا نہیں دے سکتے ہیں۔ کسی کے ساتھ غلط یا بُرا سلوک کرنا ان کے مزاج میں ہے ہی نہیں۔‘‘ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے بی آر امبیڈکر سے متعلق تبصرہ کے لیے امت شاہ سے معافی کا مطالبہ کیا۔ انہوں بی جے پی کی سازش کو بے نقاب کیا کہ وہ پہلے توہین کرتی ہے اور پھر اپنے مخالفین کو ڈرانے کے لیے ان پر مقدمات درج کراتی ہے۔
ٹی ایم سی کے اوبرائن اور کیرتی آزاد نے بھی اس معاملے میں کانگریس سے اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر بی جے پی پر بھرپور تنقید کی ۔ امیت شاہ پر بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی نے بھی بی جے پی لیڈر امیت شاہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ ویسے انہوں نے ڈاکٹر امبیڈکر پر کی جارہی سیاست کے لیے کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کی تمام جماعتوں کو بھی نشانہ بنایا ۔ وہ بولیں نیلے کپڑے پہننے کا مطلب ڈاکٹر امبیڈکر کا احترام کرنا نہیں ہے ۔ کسی بھی پارٹی کو ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر پر سیاست کرنے کا حق نہیں ہے۔مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ دلتوں اور دیگر طبقات کے مسیحا ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے بارے میں بی جے پی لیڈر امیت شاہ نے پارلیمنٹ میں جو الفاظ استعمال کیے ہیں، اس سے ان طبقات کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ ایسی حالت میں انہیں ان الفاظ کو واپس لےکر رجوع کرلینا چاہیے۔
اس معاملےنے این ڈی اے میں شامل آر ایل ڈی کے ترجمان کو بھی بے چین کردیا ۔ انہوں نے امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کچھ لوگ ڈاکٹر امبیڈکر بھگوان مانتے ہیں ۔ امیت شاہ نے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی سنگین غلطی کی ہے اس لیے انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ آگے چل کر این ڈی اے کے دوسرے حامی بھی بی جے پی کی مخالفت پر مجبور ہوجائیں گے ۔سچائی تو یہ ہے ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کا یہ مسئلہ بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے اور حالت یہ ہے دل سےنفرت کرنے والوں کی زبان پر بھی تالا پڑا ہوا ہے۔ کوئی عام آر ایس ایس کارکن تو دور موہن بھاگوت میں بھی ہمت نہیں ہے کہ میدان میں آکر امیت شاہ کی حمایت کریں ۔ ایک بار پھر یہ حقیقت دنیا کے سامنے آگئی ہے کہ ساورکر اور گولوالکر کے یہ بھگت بہت بڑے ابن الوقت اور نہایت بزدل ہیں ۔ سچ تو یہ ہے فی الحال کل یگ کا چانکیہ اپنے خود ساختہ چکر ویوہ میں پھنس گیا ہے۔ ایسے میں مومن خاں مومن کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
Like this:
Like Loading...