Skip to content
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ڈاکٹر منموہن سنگھ کی رحلت پر مداحوں کے علی الرغم وزیر اعظم نریندر مودی ، جے پی نڈا اور نیتن گڈکری تک نے اظہار تعزیت کیا مگر ان کے ہمعصر بلکہ پانچ سال بڑے لال کرشن اڈوانی کا کوئی پیغام نہیں آیا ۔ آج جب اڈوانی نے مڑ کر ماضی میں دیکھتے ہوں گے تو انہیں منموہن سنگھ کی زندگی پر رشک اور اپنے عرصۂ حیات پر افسوس ہوتا ہوگا۔ منموہن سنگھ کو 1991 میں نرسمہا راو نے وزیر خزانہ بنایا تو انہیں کوئی نہیں جانتا تھا مگر لال کرشن اڈوانی بی جے پی کے شعلہ بیان صدر تھے ۔ وزیر اعظم بننے کی خاطر وہ سومناتھ سے رام رتھ یاترا پر سوار ہوکر پورے ملک میں آگ اور خون کی ہولی کھیل رہے تھے ۔ وطن عزیز میں اتنے بڑے پیمانے پر نفرت انگیزی کسی نے نہیں کی ۔ اس ہنگامہ آرائی کے بعد بابری مسجد شہادت پر خاموش تماشائی بنے رہنے والے نرسمہا راو انتخاب ہار گئے ۔ منموہن سنگھ بھی سرکار دربار سے فارغ ہوگئے مگر لال کرشن اڈوانی وزیر اعظم نہیں بن سکے بلکہ اٹل جی وزارت اعظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوگئے ۔ اس کے ۶؍ سال بعد کانگریس پھر سے اقتدار میں آئی تو منموہن سنگھ کو ملک کا وزیر اعظم بنایا گیا ۔ انہوں نے کوئی دنگا فساد نہیں کروایا اس کے باوجود وہ پورے دس سال وزیر اعظم رہے اور اقتدار سے محروم ہونے کے بعداس طرح رخصت ہوئے کہ ان کی موت پر محمود رامپوری کا یہ شعر صادق آگیا؎
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دوست ملک راج آنند نے انہیں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے ملایا تو موصوف نے انہیں سیاست میں آنے دعوت دی ۔ اس پرپروفیسر منموہن سنگھ نے ملازمت کا بہانہ بناکر معذرت کرلی ۔ اس وقت وہ خود بھی نہیں جانتے تھے کہ ایک دن وزارت اعظمیٰ کے عہدے پر ان کی تاجپوشی ہوگی لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے؟ منموہن سنگھ وزیر خزانہ بننے کے بعد عوام کی توجہ مرکز بنے مگراس سے قبل 1970 سے 1980 تک ڈاکٹر سنگھ چیف اکنامک ایڈوائزر اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی ذمہ داری بھی نبھا چکے تھے ۔ 1982 اور1985 کے درمیان وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر بھی رہے ۔ 1990کی دہائی کا آغاز ہندوستانی سیاست کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا ۔ ملک کے طول عرض میں لال کرشن اڈوانی نے رام مندر کے نام پر زبردست سیاسی خلفشار برپا کررکھا تھا اور معیشت تباہی کے دہانے پرکھڑی تھی۔ اس وقت منموہن سنگھ کو ایک ٹربل شوٹر کے طور پر سامنےلایا گیا ۔ انہوں نے ایسی نازک گھڑی میں نہ صرف ہندوستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ آج یہ ملک جو دنیا کی پانچ اعلیٰ معیشتوں میں شامل ہے اس کی بناء اسی وقت ڈالی گئی۔
منموہن سنگھ کے کندھوں پر جب وزارت خزانہ کی ذمہ داری آئی تو ان کے سامنے لائسنس پرمٹ راج سب سے بڑی رکاوٹ یا چیلنج تھا۔ اُس طرزِ حکومت میں کون سا سامان تیار کیا جائے گا؟کتنی پیداوار ہو گی ؟اسے بنانے میں کتنے لوگ کام کریں گے؟ اور اس کی قیمت کیا ہو گی؟ ا یسے سارے فیصلے سرکار دربار میں ہوا کرتے تھے ۔ یہ لال فیتہ شاہی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑا روڈا بنی ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے سرکاری خزانے پر اس قدر بوجھ بڑھا کہ ملک دیوالیہ ہونے کی دہلیز پر پہنچ گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اپنے ضروری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ہندوستانی حکومت کو اپنا سونے کاذخیرہ بیرون ملک بنک آف انگلینڈ کورہن رکھنا پڑا تھا۔ ہندوستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے اخراجات پورے کرنے قابل بچ رہے تھے ۔ ایسے مشکل حالات میں وزیر خزانہ کے طور پر نئی تاریخ رقم کر دینے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے اندر 92 برس کی عمر میں کوچ کرگئے۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کی زندگی اور موت پر معروف شاعر گلزار کی نظم کے چند مصرعے یاد آتے ہیں؎
زندگی کیا ہے، جاننے کے لیے
زندہ رہنا بہت ضروری ہے
آج تک کوئی بھی رہا تو نہیں
ساری وادی اُداس بیٹھی ہے
موسمِ گُل نے خودکشی کر لی
ہندوستان کے پہلے سکھ وزیراعظم من موہن سنگھ 1932 میں پاکستان کے ضلع چکوال میں ایک گاؤں گاہ میں پیدا ہوئے جہاں انہوں نے چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان ہندوستان منتقل ہوگیا ۔ والدہ کا انتقال ہوا تو دادی نے پرورش کی ۔ ان کا بچپن کسمپرسی کی حالت میں گزرا مگر نہایت ذہین اور محنتی منموہن اپنی جماعت میں اول آتا رہا ۔ وہ غریب پروری کا زمانہ تھا ۔ مستحق بچوں کو سرکاری وظیفہ ملا کرتا تھا ۔ اس سے استفادہ کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی، ایم اے کرنے کے بعد ڈی لٹ بھی کیا، اس کے علاوہ کئی یونیورسٹیوں نے انہیں اعزازی طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا ۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات لکھنے والی نیرجا چودھری کو بتایا تھا کہ جو سوال انہیں معیشت کی دنیا میں لے گیا وہ تھا کہ یہ ملک اتنے طویل عرصے سے اتنا غریب کیوں ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ان کی سرمایہ دارانہ اصلاحات پر بھی ایک انسانی چہرا ہمیشہ رہا ۔ ان کے غریب بچپن انہیں غریبوں کے لیے ہمیشہ فکر مند رکھا ۔ 2004 سے 2014 کے درمیان وزیر اعظم کی حیثیت سے نافذ کردہ معاشی پالیسیوں کو ہندوستان کی معاشی ترقی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ کو بجا طور پر وزیر خزانہ کی حیثیت ہندوستان کی معاشی لبرلائزیشن کا بھیشما پتامہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں معیشت کو سرکاری کنٹرول کے شکنجے آزاد کیا اور اس کے بعد ہی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہوسکا ۔ اس کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو نافذ کرکے ہندوستانی معیشت کو عالمی منڈیوں میں کھول دیا۔ وزیر خزانہ منموہن سنگھ نے ہندوستانی حصص بازار پر عوام کے اعتماد میں بے شمار اضافہ کیا ۔ اس کے سبب ملک کے متوسط طبقے نے بڑے پیمانے پر اپنی جمع پونجی کو حصص بازار میں لگانا شروع کردیا ۔ یہ منموہن سنگھ کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس کے بعدکا نگریس انتخاب ہار گئی اور بی جے پی کے رہنما اٹل بہاری واجپائی ملک کے وزیر اعظم بنے ۔ 13؍ ماہ بعد ان کی سرکار گر گئی مگر کارگل کا تماشا دکھا کر وہ پھر سے اقتدار میں آگئے۔ انہوں نے ملک کی معیشت کو جاری و ساری رکھا اور انہیں یہ خوش فہمی ہوگئی کہ ملک میں خوشحالی آگئی ہے۔ اس لیے انہوں نے قبل از وقت شائننگ انڈیا کے نام الیکشن کروا دیا اور نریندر مودی کے گجرات فساد کی وجہ سے الیکشن ہار گئے ۔
سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا آبائی گاؤں ’گاہ‘ ضلع چکوال میں ہے۔ وہاں انہوں نے پرائمری ا سکول میں زمین پر بیٹھ کر ابتدائی تعلیم حاصل کی اور کچی گلیوں میں ہم جولیوں کے ساتھ اپنا بچپن گزارا۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے دس سالوں میں انہوں نے ایک مرتبہ بھی پاکستان کا دورہ نہیں کیا مگر اپنے گاوں محبت کو دل میں بسائے رکھا ۔ وہ جب وزیرِ اعظم تھے تو گاہ سے ان کے ایک پرانےہم جماعت راجہ محمد علی نے ہندوستان آ کر ان سے ملاقات کی اور ا سکول کا پرانا حاضری رجسٹر بھی دکھایا۔ اس طرح وہ ماضی کی یادوں میں کھو گئے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے تمام 17 کلاس فیلوز کے بارے میں پوچھا، جن کی اکثریت دارِ فانی سے کوچ کر چکی تھی۔اس کے بعد منموہن سنگھ نے حکومتِ ہند کے خرچ پر گاہ میں سولر سسٹم اور پورے گاؤں کے لیے روٹی پکانے کی مشین نصب کرائی۔ انسانوں اور جانوروں کے لیے دواخانے، ہائی سکول اور سڑک تعمیر کرائی جو ان کے قلبی کیفیات کا شاخسانہ تھی ۔
سابق بھارتی وزیراعظم نے ایک بار اپنے آبائی گاؤں جانے کی خواہش کا اظہار کیاتو حکومت پاکستان نے اس کے ابتدائی انتظامات بھی کردیئے لیکن مشیت کو منظور نہیں تھا۔2019میں منموہن سنگھ نے کرتارپورجانے والے زائرین کے پہلے قافلہ میں شامل تھے ۔ اس وقت پاکستان میں واقع دربار سنگھ گردوارہ میں حاضری کے بعد منموہن سنگھ نے کہا تھا آج بھی گاہ کا کوئی باشندہ مِل جائے تو وہ انہیں موہناہی کہتاہے۔ سچ تو یہ ہے کہ من موہن اپنے نام کی مصداق من کو موہ لینے والی شخصیت کے حامل تھے ۔ دفتر چھوڑنے سے چند ماہ قبل من موہن سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں اصرار کے ساتھ کہا تھا کہ ’میں دیانت داری سے یقین رکھتا ہوں میڈیا یا اس سے بھی بڑھ کر پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے بجائے تاریخ میرے ساتھ مہربانی کرے گی۔‘۔ ہندوستان کے لوگ ان کو ایک سادگی پسند، شریف النفس اور منکسرالمزاج وزیر اعظم کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ایک ایسے سیاستداں کے طور پر کہ جس نے اس دورِ پر فتن میں اپنے آپ کو دنگا فساد، مکرو فریب اور بدعنوانی و لوٹ کھسوٹ سے دور رکھا ۔ اس کے باوجود اقتدار پر فائز ہوکر عزت و وقار کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگیا ۔دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بے شمار مداحوں کی زبان پر آج یہ شعر ہے ؎
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
Like this:
Like Loading...