Skip to content
سال 2024 دنیا فلسطینوں کے قتل عام کا تماشا دیکھتی رہی
ازقلم:شیخ سلیم
سال 2024 فلسطینی عوام کے لیے وحشت و بربریت کا سال رہا غزہ کی زمین اسرائیلی جارحیت اور مظالم سے لرزتی رہی، عورتیں بچے بموں سے ہلاک ہوتے رہے اور دنیا، مغربی دنیا اور مسلم ممالک خاموش تماشائی ثابت بنے رہے۔ اس سال، عالمی برادری کی بے حسی اور اقوام متحدہ کی بے عملی نے نہ صرف فلسطینی عوام کو تنہا چھوڑ دیا بلکہ طاقتور مغربی ممالک کی مسلسل اسرائیل نوازی نے انصاف کے سبھی دروازے بھی بند کر دیے۔
امریکہ، اسرائیل کا سب سے بڑا حامی رہا، جس نے اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی۔ 2023 میں بھی امریکہ نے 3.8 ارب ڈالر کی امداد دی، جو اسرائیل نے غزہ میں معصوم شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے میں استعمال کی۔ اس کے علاوہ، اقوام متحدہ میں بھی امریکہ نے ہر وہ قرارداد ویٹو کر دی جو اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے یا جنگ بندی کے لیے تھی۔ امریکی حکومت ہمیشہ یہ دلیل دیتی رہی کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، لیکن اس دفاع کی آڑ میں غزہ کے معصوم عوام پر قیامت برپا کی جاتی رہی۔
اقوام متحدہ اپنی تمام تر حیثیت کے باوجود فلسطینی عوام کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ غزہ کے محاصرے، انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں اور معصوم شہریوں پر بمباری کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ صرف رسمی تشویش کا اظہار کیا گیا جو مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ محاصرے نے انسانی امداد کی فراہمی کو تقریباً ناممکن بنا دیا، اور لاکھوں افراد خوراک، پانی اور طبی سہولیات سے محروم ہو گئے۔
مغربی ممالک کی خاموشی اور مغربی میڈیا کی جانبداری نے اسرائیل کو مزید شہہ دی۔ جہاں مغربی ممالک یا تو خاموش رہے یا اسرائیل کی حمایت کرتے رہے، وہیں میڈیا نے فلسطینی عوام کو اکثر جارح کے طور پر پیش کیا اور غزہ کے انسانی بحران کو مسلسل نظرانداز کیا۔ یہ رویہ دنیا کے دوہرے معیار اور انصاف کے نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
اس سب کے باوجود، غزہ کے مجاہدین نے بے پناہ قربانیوں کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ اسرائیلی حملوں میں 45 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن فلسطینی عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا جذبہ آزادی ان کے خون میں رواں دواں ہے۔ وہ نہ صرف اپنی زمین کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ اپنے ایمان اور مزاحمت کی مثال دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
یہ مظالم صرف اسرائیل کی جارحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی برادری کی خاموشی کا بھی شاخسانہ ہیں۔ یہ خاموشی اسرائیل کو مظالم جاری رکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ فلسطینی عوام کے قتل عام کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک اسرائیل کی حمایت ختم کریں، اقوام متحدہ مؤثر اقدامات کرے، اور اسرائیل پر معاشی پابندیاں عائد کی جائیں۔ خاص طور پر مسلم ممالک کو اس مسئلے میں مضبوط کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر اس پاس کے مسلم ممالک اسرائیل پر دباؤ بنائیں تو جنگ بندی ممکن ہے ۔
فلسطینی مجاہدین نے استقامت و ایمان کی جو مثال پیش کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی ،یہ جنگ فلسطینیوں کے لیے صرف ایک زمین کی نہیں بلکہ ان کے ایمان عقیدے اور بقاء کی جنگ ہے۔
اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقدام کرے، تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلائے جا سکیں اور ان پر ہونے والے مظالم کا خاتمہ ہو۔
Like this:
Like Loading...