Skip to content
عبادت گاہوں کا قانون 1991: کانگریس کا واضح موقف
ازقلم:شیخ سلیم
عبادت گاہوں کا قانون 1991 بنانے کا مقصد تاریخی مساجد کے بارے میں اٹھنے والے تنازعات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا تھا اس قانون کے تحت یہ طے کیا گیا کہ 15 اگست 1947 کو جو عبادت گاہیں جس حالت میں تھیں، ان کی نوعیت کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ یہ قانون مذہبی مقامات کے تنازعات کو ختم کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔یاد دلا دیں 1990 میں لال کرشن اڈوانی نے رتھ یاترا نکالی تھی پورے ملک میں فسادات بھڑک اٹھے تھے ماحول خراب ہوا تھا بعد میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کر دی گئی۔
تاہم، حالیہ دنوں میں اس قانون کو سنگھ پریوار اور بھاجپا سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے، اور سپریم کورٹ میں اس کے خلاف عرضی داخل کی گئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس معاملے میں واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے اپیل کی ہے کہ اس عرضی کو مسترد کیا جائے۔ کانگریس کا واضح موقف قابل تحسین اقدام ہے اور اسکا کریڈٹ راہول گاندھی کو دیا جانا چاہیے ۔دیگر علاقائی جماعتوں کو بھی کوئی واضح موقف اختیار کرنا چاہیے تھا مگر دیگر جماعتوں نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
سنبھل کے افسوس ناک واقعات اس قانون کی مخالفت کی وجہ سے رونما ہونے اگر نچلی عدالت اس قانون کے تحت سروے کی اجازت نہیں دیتی تو سروے نہیں ہوتا اور بعد کے افسوس ناک واقعات نہیں ہوتے جس میں پانچ مسلمانوں کی شہادت ہوئی مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا گیا اور مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے گئے اور مسلمانوں پر بجلی چوری کے الزام عائد کیے گئے۔
کانگریس کا مؤقف ہے کہ عبادت گاہوں کا قانون ملک کے سیکولر شناخت کا تحفظ فراہم کرتا ہے تنازعات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرتا ہے۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں ماحول ہمیشہ خراب رہے اور اسے الیکشن جیتنے کے لئے استعمال کیا جائے۔
اس کے خاتمے سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس قانون کو چھیڑنے کا مطلب مفروضوں کی بنیاد پر ماضی کے زخموں کو کریدنا اور عوام کے درمیان نفرت کو بڑھاوا دینا ہے۔ تاہم، بی جے پی نے کانگریس کے اس مؤقف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے "نئی مسلم لیگ” قرار دیا ہے۔
بی جے پی کے اس الزام کے پیچھے سیاسی حکمت عملی ہے۔ وہ کانگریس کو اقلیتوں کے حمایتی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ہندو ووٹ بینک کو متحد کیا جا سکے۔ یہ بیانیہ خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ اثر رکھتا ہے جہاں مذہبی تنازعات نے پہلے ہی عوامی جذبات کو متاثر کیا ہے۔ کانگریس کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ بی جے پی کی اس مہم سے ہندو ووٹرز کے درمیان اس کی حمایت کمزور ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب فرقہ وارانہ مسائل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبادت گاہوں کے قانون کی خلاف ورزی ملک کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ اگر اس قانون کو ختم کر دیا گیا تو ماضی کے تنازعات دوبارہ زندہ ہو جائیں گے، جو نہ صرف عوام کے درمیان نفرت پیدا کریں گے بلکہ امن و سکون کو بھی تہ و بالا کر دیں گے۔ عبادت گاہوں کی حیثیت کو چیلنج کرنا یا ان کی نوعیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ بھارت ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، جہاں تمام مذاہب کے ماننے والے مل جل کر رہتے ہیں۔ اگر اس ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا گیا تو اس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
کانگریس کے لیے یہ ایک مشکل سیاسی جنگ ہے۔ ایک طرف اسے اپنی سیکولر شناخت اور آئینی اصولوں کا دفاع کرنا ہے، اور دوسری طرف بی جے پی کے الزامات کا سامنا کرنا ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ عبادت گاہوں کا قانون صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مذہبی گروہوں کے حقوق اور امن و سکون کی حفاظت کے لیے ہے۔
کانگریس کو اس معاملے میں اپنے مؤقف پر قائم رہنا چاہیے، کیونکہ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے سیکولر تانے بانے اور آئینی اصولوں کا سوال ہے۔ اگر عبادت گاہوں کے قانون کو ختم کر دیا گیا تو یہ ملک کے اتحاد و یکجہتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہوگا، ایک پنڈورا باکس کھل جائیگا ہر مسجد مدرسہ کے نیچے مندر کی تلاش شروع ہو سکتی ہے اور بھارت کی شناخت ہی داؤ پر لگ جائے گی۔
Like this:
Like Loading...