Skip to content
ایرانی صدر پوتین کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیلئے ماسکو پہنچے
ماسکو،18جنوری (ایجنسیز)
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹاس نے اطلاع دی کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان تزویری شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کے لیے جمعے کو ماسکو پہنچے۔پیزشکیان کو ان کے پیش رو کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد گذشتہ جولائی میں صدارت ملی جس کے بعد وہ کریملن کے اولین دورے پر ہیں۔ معاہدے پر دستخط کرنے سے قبل وہ پوتین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور بین الاقوامی مسائل پر توجہ مرکوز کریں گے۔
روس نے یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران اور امریکہ کے مخالف شمالی کوریا جیسے دیگر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں اور پیانگ یانگ اور قریبی اتحادی بیلاروس کے ساتھ تزویری معاہدے کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ بھی ایسی ہی شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے۔20 سالہ روس-ایران معاہدہ جس میں قریبی دفاعی تعاون کی دفعات شامل ہوں گی، اس کی وجہ سے مغربی ممالک کے فکر مند ہونے کا امکان ہے جو دونوں ممالک کے اثر و رسوخ کو عالمی سطح پر خرابی کا باعث سمجھتے ہیں۔ماسکو اور تہران کہتے ہیں کہ ان کے بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات دوسرے ممالک کے خلاف نہیں ہیں۔
روس نے یوکرین جنگ کے دوران ایرانی ڈرونز کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا ہے اور امریکہ نے ستمبر میں تہران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یوکرین کے خلاف استعمال کے لیے روس کو قریب سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فراہم کر رہا تھا۔ تہران ڈرون یا میزائل فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے۔
کریملن نے اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ اسے ایرانی میزائل ملے ہیں لیکن اس نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کے تعاون میں ”انتہائی حساس معاملات” شامل ہیں۔پوٹن نے اکتوبر میں روس کے شہر کازان میں برکس سربراہی اجلاس اور اسی ماہ ترکمانستان میں ثقافتی فورم کے موقع پر پیزشکیان سے ملاقات کی۔پیزشکیان کے ساتھ ان کے وزیر برائے تیل ماسکو میں ہیں اور اس شعبے پر مغربی پابندیوں پر گفتگو کا امکان ہے۔
Like this:
Like Loading...