پولیس کی منفی رپورٹ سے آپ کا پاسپورٹ رک گیا ہے تو کیا کریں؟
از قلم عبدالواحد شیخ ممبئی
8108188098
آج ہم بات کریں گے راجستھان ہائی کورٹ جو جے پور میں واقع ہے اس کے ایک حالیہ فیصلے کے بارے میں جو 14 نومبر 2024 کا ہے۔ اس کیس کا نام ہے ساوتری شرما ورسز یونین آف انڈیا ۔ یہ فیصلہ جسٹس انوپ کمار دھانڈ نے دیا ہے ۔ معاملہ یہ ہے کہ ساویتری ہندوستانی شہری ہے ۔ جو برمپوری جے پور شہر، راجستھان میں رہتی ہیں۔ اس کا ویلیڈ (valid) پاسپورٹ ہے جو 2012 میں بنا اور 2022 تک valid رہا. اس نے پاسپورٹ آفس جے پور میں اس پاسپورٹ کی رینیول renewal کرنے کی عرضی دی ۔ قاعدے کے مطابق پاسپورٹ آفیسرز لوکل پولیس سے ساوتری کے بارے میں رپورٹ منگواتے ہیں۔ پولیس نے منفی رپورٹ (Adverse report) دی اور اس کی عرضی اس بنیاد پر مسترد کر د ی
گئی ۔ رپورٹ میں اس کی شہریت پر سوال اٹھائے گئے کہ وہ نیپالی ہیں۔ مگر اس بارے میں پولیس نے کوئی ثبوت نہیں دیا ۔ ساوتری نے ہائی کورٹ میں پٹیشن فائل کر دی۔
راجستھان ہائی کورٹ میں بحث کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ درست ہے کہ ساوتری 1990 میں تہاڑ جیل میں پیدا ہوئی تھی کیونکہ اس وقت اس کی ماں کسی معاملے میں تہاڑ جیل میں قید تھیں۔ اس نے سی بی ایس ای سے دسویں اور 12ویں کے امتحانات پاس کیے۔ اس کے نام پین کارڈ بھی جاری کیا گیا ، ساتھ ہی آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی جاری ہوئے۔ 2017 میں ارون پرساد نامی شخص کے ساتھ اس کی شادی ہو جاتی ہے اور میرج رجسٹریشن آفس جے پور میں اس بات کا اندراج بھی کیا گیا۔ اس کا شوہر اور والد دونوں ہندوستان کے مستقل شہری ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس اعتبار سے سٹیزن شپ ایکٹ 1955 کے لحاظ سے وہ اس ملک کی شہری ہے۔ اگر وہ بھارتی شہری نہ ہوتی تو 2012 میں اسے پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا ۔ بھارت میں رہنے والے ہر شخص کا دستوری حق ہے کہ وہ ملک سے باہر کا سفر کرے ، اور پاسپورٹ روک کر حکومت اس کا حق مار رہی ہے ۔ پولیس رپورٹ صرف اس لیے منگائی جاتی ہے تاکہ وہ طے کر سکے کہ پاسپورٹ جاری کرنا ہے یا انکار کر دینا ہے لیکن یہ فیصلہ پاسپورٹ اتھارٹی کو کرنا ہے۔ محض منفی رپورٹ پر انکار نہ کرے۔ اپنے دماغ کا بھی استعمال کرے۔ منفی رپورٹ بذات خود ایک شہری کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے قانونی حق سے محروم نہیں کرتی۔ پولیس کی منفی رپورٹ پاسپورٹ اتھارٹی پر پابند ، باؤنڈ نہیں ہے۔ اس لیے پاسپورٹ اتھارٹی آٹھ ہفتوں کے اندر عرض گزار کو پاسپورٹ جاری کرے ایسا حکم ہائی کورٹ نے دیا ۔ ا
گر آپ اس آرڈر کی کاپی دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے ہوئے لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔ اگر پاسپورٹ کے معاملے میں اپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کوئی واقعہ پیش آیا ہے یا آپ کے خلاف پولیس نے منفی رپورٹ دی ہے تو آپ پاسپورٹ اتھارٹی کو راجستھان ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے حوالے سے کہہ سکتے ہیں کہ منفی رپورٹ کی بنیاد پر پاسپورٹ دینے سے انکار نہ کیا جائے بلکہ اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے فیصلہ لے، اور صحیح فیصلہ کرتے ہوئے حقیقت کی بنیاد پر آرڈر پاس کرے۔ اور منفی رپورٹ کے ہونے کے باوجود بھی پاسپورٹ اتھارٹی آپ کو پاسپورٹ جاری کر سکتا ہے۔ اگر آپ اس فیصلے پر بنائی ہوئی ہماری ویڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے ہوئے لنک میں دیکھ سکتے ہیں .