Skip to content
جمعہ نامہ: یہ فتح مبیں، فتح مبیں، فتح مبیں ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: ’’ بیشک (اے نبی) ہم نے آپ کو ایک کھلم کھلا فتح دی ہے۔‘‘سیرت نبوی ﷺ میں غزوۂ بدر سے فتح مکہ اور آگے جنگ تبوک تک فتوحات کا ایک روشن سلسلہ نظر آتا ہے مگر مذکورہ بالا آیت ان میں سے کسی کے بعد نہیں بلکہ صلح حدیبیہ کے تناظر میں نازل ہوئی ۔ دیگر فتوحات کو تو لوگ کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے لیکن اس کامیابی کے مضمرات صحابہ ٔ کرام کی نظروں سے بھی اوجھل تھے اس لیے انہیں غیب سے خبر دی گئی کہ وہ جسے شکست سمجھ رہے ہیں اصل میں ایک عظیم کامیابی یعنی فتح مکہ کا پیش خیمہ ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمرؓ نے سوال کیا : ’’یا رسول اللہ، کیا یہ فتح ہے؟‘‘ اس کے جواب میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’ہاں‘‘۔ ایک اور صحابی حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی یہی پوچھا تو آپؐ نے فرمایا ۔’’ قسم ہےاس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے، یقیناً یہ فتح ہے‘‘۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے تعلق سے جن خدشات کا اظہار ہورہا ہے اسی طرح کی بے چینی صلح حدیبیہ کے بعد بھی تھی ۔
مدینہ پہنچ کر ایک اور صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’ یہ کیسی فتح ہے؟ ہم بیت اللہ جانے سےروک دیئے گئے، ہماری قربانی کے اونٹ بھی آگے نہ جا سکے، رسول اللہ ﷺ کو حدیبیہ ہی میں رک جانا پڑا ، اور اس صلح کی بدولت ہمارے دو مظلوم بھائیوں (ابو جندلؓ اور ابو بصیرؓ) کو ظالموں کے حوالہ کر دیا گیا‘‘۔ نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے کسی ناراضی کا اظہار کیے بغیر نہایت متانت کے ساتھ فرمایا’’ یہ بڑی غلط بات کہی گئی ہے ۔ حقیقت میں تو یہ بہت بڑی فتح ہے۔ تم مشرکوں کے عین گھر پر پہنچ گئے اور انہوں نے آئندہ سال عمرہ کرنے کی درخواست کر کے تمہیں واپس جانے پر راضی کیا ۔ انہوں نے تم سےخود جنگ بند کر دینے اور صلح کر لینے کی خواہش کی حالانکہ ان کے دلوں میں تمہارے لیے جیسا کچھ بغض ہے وہ معلوم ہے۔ اللہ نے تم کو ان پر غلبہ عطا کر دیا ہے‘‘۔
صلح حدیبیہ کی ان کامیابیوں کو تفصیل گنانے کے بعد نبی کریم ﷺ نے ماضی کے حالات سے موازنہ کرکے استفسار فرمایا :’’ کیا وہ دن بھول گئے جب احد میں تم بھاگے جا رہے تھے اور میں تمہیں پیچھے سے پکار رہا تھا ؟ کیا وہ دن بھول گئے جب جنگ احزاب میں ہر طرف سے دشمن چڑھ آئے تھے اور کلیجے منہ کو آ رہے تھے؟‘‘اپنے ساتھیوں کی دلجوئی کے اس دردمندانہ اور دلنشین انداز میں ان قائدینِ ملت کے لیے نمونہ ہے جو ذرا سے اختلاف پر منہ پھلا کر بیٹھ جاتے ہیں یا ناراض ہوکر پھٹ پڑتے ہیں۔ غزوۂ احزاب کے بغیر صلحِ حدیبیہ ممکن نہیں تھی اور وہ آزمائش ویسی ہی شدید تھی کہ جس سے غزہ کے حوصلہ مند لوگ پچھلے پندرہ ماہ میں گزرے ۔ قرآن حکیم میں اس کی منظر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ:’’جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے‘‘۔
غزہ سے ہزاروں میل دور خود ہماری بھی یہی کیفیت تھی کیونکہ فرمانِ ربانی ہے:’’ اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے ‘‘ لیکن اس ابتلاء و آزمائش میں بھی ان کا پائے ثبات متزلزل نہیں ہوا ۔ یہاں تک کہ جنگ بندی کے بعد ان کے چہروں پر خوشی پھیل گئی ۔ غزہ والوں کے اس صبرو استقامت کا مظاہرہ ممکن ہوسکا کیونکہ غزوۂ احزاب کے تناظرمیں نازل ہونے والی یہ آیت ان کے پیش نظرتھی: ’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے ‘‘، ایسی پاکیزہ نفوس کی صفت یہ ہوتی ہے کہ:’’وہ اللہ اور یوم آخر کا امیدوار اور کثرت سے اللہ کو یاد کرنے(والے ہوتے ہیں)‘‘۔قرآن حکیم میں ایسےصادق الایمان بندوں کا حال یوں بیان کیا گیا ہےکہ:’’سچے مومنوں نےجب حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ "یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی” اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا‘‘۔ اس کا اظہار معاہدۂ امن کے بعد جشن میں ہوا۔
حماس کے رہنما بسام بربندی نے شہیدانِ غزہ کی خدمت میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد اعلان کیا کہ 7 ؍ اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی مزاحمت آگے بھی جاری رہے گی۔ فرمان خداوندی :’’ ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی ‘‘۔ ۷؍ اکتوبر کا حملہ فلسطین کی تحریکِ آزادی میں اسی طرح کا ٹرننگ پوائنٹ تھا جیسے غزوۂ احزاب کے بعد صلح حدیبیہ اور اب جنگ بندی کا معاہدہ۔ غزوۂ احزاب کے بعد نبیٔ کریم ﷺ نے پیشنگوئی فرما ئی تھی کہ:’’ اس سال کے بعد قریش تم سے جنگ نہیں کریں گے بلکہ تم ان سے جنگ کرو گے‘‘ چناچہ یہی ہوایعنی مکہ فتح ہوگیا۔ فلسطین میں بھی اب مجاہدین اقدامی اور صہیونی مدافعت کی حالت میں آگئے ہیں۔
اہل فلسطین کی یہ عظیم کامیابی غزوۂ احزاب کے بعد نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان یاد دلاتی ہے:’’اللہ کی قوت کا مقابلہ بندے کے بس کا نہیں۔ اللہ کو کوئی مغلوب نہیں کرسکتا۔ اسی نے اپنی مدد وقوت سے ان بپھرے ہوئے اور بکھرے ہوئے لشکروں کو پسپا کیا۔ انہیں برائے نام بھی کوئی نفع نہ پہنچا۔ اس نے اسلام اور اہل اسلام کو غالب کیا اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور اپنے عبد و رسول (ﷺ) کی مدد فرمائی‘‘۔حضور (ﷺ) فرمایا کرتے تھے:’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنے وعدے کو سچا کیا۔ اپنے بندے کی مدد کی اپنے لشکر کی عزت کی تمام دشمنوں سے آپ ہی نمٹ لیا اور سب کو شکست دے دی۔ اس کے بعد اور کوئی بھی نہیں۔ حضوراکرم (ﷺ) نے جنگ احزاب کے موقعہ پر یہ دعا کی تھی :’’اے اللہ اے کتاب کے اتارنے والے جلد حساب لینے والے ان لشکروں کو شکست دے اور انہیں ہلا ڈال‘‘۔اس دعا کی مقبولیت کا ثمر فتح مکہ تھی اور اہل فلسطین کے حق میں بھی وہ بشارت پوری ہوگی ۔ ان شاء اللہ ۔
Like this:
Like Loading...