Skip to content
انصاف
—–
ازقلم: ڈاکٹرمحمّدعظیم الدین
—–
صحرا کی بےرحم دھوپ، افق کو دھندلا کیے دے رہی تھی۔ مسافر اپنے خستہ حال گھوڑے کے ساتھ ایک ایک قدم گھسیٹ رہا تھا۔ راستے میں اسے ریت میں دھنسا ایک شخص دکھائی دیا، جس کے ہونٹ خشکی سے چٹخ رہے تھے اور آنکھوں میں موت کا سایہ تھا۔
"پانی… بس ایک گھونٹ…” وہ سرگوشی میں بولا۔
مسافر نے اپنی چھاگل نکالی، جس میں چند آخری قطرے بچے تھے۔ لمحہ بھر کو وہ رکا، لیکن پھر رحم غالب آیا۔ چھاگل اس کے ہونٹوں سے لگا دی۔ پیاسے شخص نے پانی پیا اور گہرا سانس لیا۔
"شکریہ، تم نے میری جان بچائی۔ لیکن میرا گھوڑا بھاگ گیا ہے۔ مجھے اپنی سواری پر بٹھا لو، ورنہ میں مر جاؤں گا۔”
مسافر نے بے دلی سے اپنے گھوڑے سے اتر کر کہا، "آؤ، چڑھ جاؤ۔”
پیاسا شخص مشکل سے گھوڑے پر چڑھا، لیکن پھر اچانک، اس کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ چمک آئی۔ اس نے مسافر کو زور سے دھکا دے کر نیچے گرایا اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔
ریت پر گرتے ہوئے مسافر نے دیکھا کہ وہ شخص ہنستے ہوئے دور جا رہا ہے۔ "یہ دنیا کمزوروں کے لیے نہیں!” دھوکے باز نے چیخ کر کہا۔
مسافر نے ریت پر بے بسی سے لیٹے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے انصاف کا طلبگار ہو ۔ اسی لمحے، ہوا کی سرسراہٹ ایک خوفناک شور میں بدل گئی۔ دور سے ایک زرد ریت کا طوفان اٹھتا دکھائی دیا، جو صحرا کی حدوں کو چاٹتا ہوا قریب آ رہا تھا۔
وہ شخص، جو ابھی تک گھوڑے کی پیٹھ پر فاتحانہ انداز میں بیٹھا تھا، اچانک ہوا کی شدت سے آنکھیں نہ کھول سکا۔ ریت کے ذرات اس کے چہرے اور جسم کو زخمی کر رہے تھے۔ گھوڑا بدک کر بھاگ نکلا، اور دھوکے باز زمین پر جا گرا۔ وہ چیختا رہا، لیکن طوفان نے اس کی چیخوں کو نگل لیا۔
مسافر نے نیم وا آنکھوں سے اس منظر کو دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا،
"انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔”
ریت کا طوفان تھما تو وہاں صرف سکوت تھا۔اب وہ دھوکے باز ہمیشہ کے لیےریت میں دفن ہو چکا تھا۔ مسافر نے دھیرے سے اپنی آنکھیں موند لیں۔
======
Like this:
Like Loading...