Skip to content
کیاکمبھ کا میلہ یوگی کو لے ڈوبے گا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
کمبھ میلے میں یوگی نے عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے خود بھی کئی بار ڈبکی پہ ڈبکی لگائی اور اپنی پوری کابینہ کو لگوا دی ۔ مونی اماوسیا کے دن میلے میں دس کروڈ لوگوں کی آمدکا ناقابلِ یقین جھوٹ پھیلا کر جب میڈیا یوگی جی کا قد بڑھا رہا تھا تو شاہ جی کو پریشانی ہوئی ہوگی ۔ اس دوران شاہ جی بذاتِ خود گنگا کے سنگم میں ڈبکی لگانے مع اہل عیال پہنچ گئے۔ ڈبکی کے وقت اپنے گھر کی خواتین کو ساتھ لے کر جانے میں انہیں بھی عار محسوس ہوئی کیونکہ تقریباً برہنہ سادھوآس پاس تھے۔ شاہ جی نے ڈبکی لگانے سے قبل سادھووں کو کنارے کیا تاکہ کیمرہ انہیں دیکھ سکے مگر ایسا کرتے وقت وہ بھول گئے کہ ان کی یہ حرکت بھی ریکارڈ ہورہی ہے۔ اس کے بعد سادھوں نے چلو کے پانی سے انہیں نہلایا جیسے اپنے دیوتاکو نہلاتے ہیں ۔ اہل خانہ نہانے گئے توکسی بدخواہ نے ان کی بھی ویڈیوبناکر بتا دیا کہ شاہانہ ٹھاٹ باٹ کے ساتھ گنگا اشنان کیسے ہوتا ہے۔ اس موقع ان کا وارث جئے شاہ غائب تھا ۔ اس کے بعد جب عام لوگوں کی پریشانیوں سے اس کا موازنہ ہونے لگا ۔ اس سے شاہ جی کے پاپ تو بھول گئے کیونکہ ان کی سیاسی گنگا اور بھی میلی ہوگئی۔
وزیر داخلہ کو آگے چل کر اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور بہت جلدحادثوں نے انہیں اپنے خسارے کی بھرپائی کا موقع بھی دے دیا۔ مودی جی اکثر’آپدا میں اوسر ‘ یعنی ’مشکلات میں مواقع‘ کی ترغیب دیتے ہیں اس لیے ان کے اولین شاگرد نے فوراً اس پر عمل کرنا شروع کردیا۔ کمبھ کے اندر یکے بعد رونما ہونے والے حادثات نے گودی میڈیا کے ذریعہ اس طرح اچھالا کہ اچانک یوگی سرکار غوطے کھانے لگی اور اب یہ عالم ہے کہ چہار جانب سے یوگی کے استعفیٰ کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ وہ میڈیا جو حادثے کے بعد ان واقعات کو چھپانے میں لگا ہوا تھا یا لیپا پوتی کررہا تھا اچانک انہیں اچھالنے لگا ۔ اس کی ابتداء حزب اختلاف کی تنقید سے ہوئی جسے نظر انداز کیا گیا ۔ ابتدا میں سوامی پریمانند اور پربھو آنند جیسے جن سادھو سنتوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا اس کی جانب بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی لیکن پھر اچانک وہ سارے سنت مہنت میڈیا کی آنکھ کا تارہ بن گئے جو یوگی کوسرکار سمیت الہ باد کے سنگم میں غرقاب کرنے پر تُل گئےتھے۔
مودی جی اپنے داخلی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کی خاطر سادھو سنتوں کو سپاری دے چکے ہیں ۔ اس کا پہلا نہایت کامیاب تجربہ سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کے خلاف کیاجا چکا ہے ۔ پچھلے انتخاب کے بعد وہ کچھ زیادہ ہی اچھل رہے تھے ۔ آئے دن مودی جی پر بلواسطہ یا بلا واسطہ کیچڑ اچھال دیتے تھے اور وہ ذرائع ابلاغ میں بحث و مباحثے کا موضوع بن جاتا تھا ۔ لوہے کو لوہے سے کاٹنے کی خاطر ان کے خلاف سادھو سنتوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ ہو ایہ کہ موہن بھاگوت نے اپنےایک تنظیمی اجتماع میں مراٹھی زبان کے اندر بقائے باہم کی خاطر نئے مندر مسجد تنازعات سے گریز کرنے کی تلقین کردی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ کچھ لوگ ایسے مسائل کو اٹھاکر ہندووں کےقائد بننا چاہتے ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس موقف کی تائید کی جاتی یا کم ازکم اسے نظر انداز کردیا جاتا مگر الٹا سادھو سنتوں کو ان کے خلاف ایسے محاذ کھولا کہ اب تک سرسنگھ چالک کی سٹی پٹی گم ہے۔ انہوں پوری طرح ہتھیار ڈال دئیے کیونکہ سنتوں کے خلاف اپنے سربراہ کی مدافعت کرنا سنگھیوں کے لیے بھی ممکن نہیں تھا ۔
مودی جی کی حریفائی موہن بھاگوت سے ہے تو شاہ جی کی آنکھوں کا کانٹا یوگی جی ہیں ۔ ماضی میں کانٹا نکالنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں کیونکہ ہر بار بی جے پی کو اپنے کسی نہ کسی مجبوری کے تحت انہیں ’جیون دان‘ دینا پڑتا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ شاہ جی کے لیے اب یوگی کی بلی چڑھا کر پارٹی کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی فائدہ اٹھانے کا صحیح وقت آپہنچا ہے۔ شاہ نے سادھو سنتوں کو یوگی کے پیچھے اسی طرح لگا دیا ہے جیسے مودی نے بھاگوت کو دوڑا دیا تھا ۔ وہ اس تجربے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام یہ وقت بتائے گا۔ بی جے پی جانتی ہے کہ عوام ٹیلی ویژن پر ایک ہی چہرا دیکھ دیکھ کر بور ہوجاتے ہیں اس لیے پچھلی بار سوامی بھدرا چاریہ کو میدان میں لاکر بھاگوت کی بھد پٹوائی گئی تھی مگر اس مرتبہ تیز طرار شنکر اچاریہ اوی مکتیشور آنند کو میدان میں اتار دیا۔ بی جے پی مخالف سیکولر میڈیا نے بغضِ یوگی میں مفت ہی شاہ جی کا کام آسان کردیا مگر بہت جلد یوگی کے اشارے پر کمبھ میلے کے حادثات کی پردہ پوشی کرنے والے گودی میڈیا بھی اس کام میں شامل ہو گیا ۔ اس کو بھی اوی مکتیشور آنند کے اشتعال انگیز بیانات مرچ مسالہ لگا کر پیش کرنےکی ہدایت دے دی گئی ۔ گودی میڈیا کے اندرآنے والی اس اچانک تبدیلی نےاس شک کویقین میں بدل دیا کہ ؎
چرخ کو کب یہ سلیقہ ہے ستم گاری میں
کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں
اترپردیش کا بچہ بچہ یوگی کے رقیبِ سیاست اورمعشوقِ اقتدار سے واقف ہے ۔ حادثے سے قبل شنکر اچاریہ اوی مکتیشور آنند وی آئی پی کلچر کے سبب زائرین کو ہونے والی پریشانیوں پر تنقید کرچکے تھے۔ حادثے کے بعد بھی انہوں نے نہایت ہلکے پھلکے انداز میں اپنے رنج و غم کااظہار کرتے ہوئے جان گنوانے والوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کیا تھا مگر ان کے لب لہجے میں کوئی خاص شدت نہیں تھی ۔ شنکر آچاریہ نے صرف انتظامیہ پر تنقید کرکے آئندہ ایسے حادثات کو ٹالنے پر زور دیا تھا ۔ ان کے بیان میں یوگی یا ان کی سرکار کی مذمت نہیں کی گئی تھی لیکن ایک دن بعد اے بی پی چینل پر جو انٹرویو نشر ہوا ہے اس میں رنگ ڈھنگ یکسر بدل گیا۔ پہلے تو وہ حادثے کی وجہ دریافت کرتے ہوئے بولےکہ چالیس کروڈ لوگوں کو انتظام کے بغیر کیوں بلایا گیا ؟ ان کے لیے ضروری اہتمام کیوں نہیں کیا گیا؟ اور جو انتظامات کیے گئے تھے وہ کہاں گئے؟ اس کے بعد حادثے کے دن تفصیل بتاتے ہوئےانہوں نے بتایا دوسرے دن صبح دس بجے سادھووں کے لیے کیے جانےوالےسارے انتظامات رد کردئیے گئے۔
شنکر اچاریہ کو سب سے زیادہ غصہ وزیر اعلیٰ کے بیان پرآیا جس میں بھگدڑسے کچھ لوگوں کے زخمی ہونے اور افواہوں پر توجہ نہیں دینے کی تلقین کی گئی تھی ۔یہ اعلان چونکہ زخمیوں کے علاج تک محدود تھااور اس میں کسی کے مرنے کا ذکر نہیں تھا اس لیے اویمکتیشور آنند نے اس حادثے کو یوگی کی بدنامی کے لیے اڑائی جانے والی افواہ سمجھا جو غکط تھا ۔ وہ اس طرح کتمانِ حق کو دھوکہ دھڑی گردانتے ہیں کیونکہ یوگی نے سب ٹھیک ہے کہہ کر سادھووں سے اسنان کروادیا ۔ ان کے مطابق ہندو روایت کے مطابق اس طرح کے حالات میں خاندان کے کسی فرد کی موت پرکوئی کھانا نہیں کھا سکتا ۔ انہیں اگر فریب نہیں دیا جاتا تو وہ اپواس رکھتے ۔ اس کے بعد مکتیشور آنند پھٹ پڑے انہوں نے کہا موت کے باوجود افواہ کہہ کر ا س کی پردہ پوشی سنتوں اور سناتنی عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ وہ پوچھتے ہیں ملک کے سامنے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا گیا؟جھوٹا وزیر اعلیٰ۔
ا وی مکتیشور آنند ہ سوال کرتے ہیں وزیر اعلیٰ اتنے بڑے حادثے کو کیوں چھپا رہے تھےجبکہ دنیا بتا رہی تھی ؟ وہ الزام لگاتے ہیں کہ جھوٹے وزیر اعلیٰ نے انہیں آنجہانی روحوں سے ہمدردی کے اظہار اوران کے لیے اپواس کرنے کے موقع سے محروم کر دیا۔ وزیر داخلہ کا آشیرواد نہ ہو تو کوئی بھی شنکر آچاریہ وزیر اعلی ٰ پر ا یسا الزام نہیں لگا سکتا اور نہ یوگی کی ناک کے نیچے یہ مطالبہ کرنے کی جرأت ہوسکتی ہے کہ وزیر اعظم مودی، امیت شاہ اور جے پی نڈا کسی بھی مناسب فرد کو یوگی جگہ وزیر اعلیٰ بنائیں۔ بیان کے آخری حصے میں بلی تھیلے سے باہر آگئی ۔ اس سے قبل یوگی کو اقتدار سے ہٹانے میں یہ خطرہ لاحق ہوتا تھا کہ ہندوتوا نواز رائے دہندگان بی جے پی سے ناراض ہوجائیں گے اور پارٹی کونقصان ہوگا۔ یوگی بغاوت کرکے اس آگ میں تیل ڈالیں گے لیکن اب ایک ایسی صورتحال بنی ہے کہ یوگی کی بلی چڑھانے سے پارٹی کا فائدہ ہوگا ۔
کمبھ کے سانحہ نے یوگی کے لیے بغاوت کرکے خود کو مظلوم بتانا اور عوام کی ہمدردی بٹورنا مشکل کردیا ہے۔ سادھو سنتوں سے آئے دن ان کے خلاف بیانات دلواکر میڈیا کے ذریعہ اس کی خوب تشہیر کرکے عوام کو یوگی کا دشمن بنا کر پیش کردینا مشکل نہیں ہے ۔ اوما بھارتی کا حشر سب کے سامنے ہے جن کو رام مندر پران پرتشٹھان میں بلانے کی زحمت بھی نہیں کی گئی تھی۔ ہائی کمان ڈر سے کر اگر یوگی ہتھیار ڈال دیں تو انہیں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان کی مانند نامعلوم مرکزی وزراء کے کوڑے دان کی نذر کردیا جائے گا ۔ یوگی کو ٹھکانے لگانا مشکل نہیں ہے کیونکہ اترپردیش کے مہا کمبھ میں ہزاروں کروڑ کے خرچ اور عالمی معیارکے انتظامات کےدعوؤں کی قلعی کھل چکی ہے۔ امیت شاہ کے اشارے پر سادھو سنت ہزاروں لوگوں کی ہلاکت کا الزام لگارہے ہیں ۔ ایک کے بعد ایک تین بھگدڑ اور خیموں کی آگ نے یوگی کے ارمانوں کو جلا کر خاک کردیا ہے ۔
Like this:
Like Loading...