Skip to content
کسٹم ڈیوٹی سے امریکیوں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں، ٹرمپ کا اقرار
واشنگٹن،3فروری (ایجنسیز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج کسی وقت کینیڈا کے مستعفی وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اور میکسیکو کی حکومت کے ساتھ بات کریں گے۔ یہ بیان امریکا کی جانب سے اتوار کو دونوں ملکوں کی مصنوعات پر 25% کسٹم ڈیوٹی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔فلوریڈا میں اپنی قیام گاہ کے لیے کوچ کرنے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ اپنے دونوں مرکزی تجارتی شراکت داروں پر عائد کی جانے والی کسٹم ڈیوٹی کے سبب امریکی شہریوں کو اقتصادی تکلیف محسوس ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی صدر کے مطابق امریکی مفاد کے تحفظ کی یہ قیمت بنتی ہے۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک فیصلے پر دستخط کیے جس کی رو سے میکسیکو اور کینیڈا پر 25% کسٹم ڈٰیوٹی عائد کر دی گئی اگرچہ واشنگٹن کا ان دونوں ممالک کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ بھی ہے۔ اسی طرح چین پر اضافی 10% کسٹم ڈیوٹی نافذ کر دی گئی ہے۔چین، میکسیکو اور کینیڈا کا شمار امریکا کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں ہوتا ہے۔ تینوں ممالک نے منگل کے روز سے کسٹم ڈیوٹی نافذ ہو جانے کے بعد انتقامی اقدامات کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کے روز باور کرایا کہ یورپی مصنوعات بھی ”بہت جلد” کسٹم ڈیوٹیوں کا ہدف ہوں گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا ”جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں وہ یقینا ہم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ہمارا 300 ارب ڈالر کا خسارہ ہے۔ وہ ہماری گاڑیاں نہیں لیتے اور نہ زراعتی مصنوعات لیتے ہیں، تقریبا کوئی چیز نہیں لیتے جب کہ ہم ہم ان سے ہر چیز لیتے ہیں، لاکھوں گاڑیاں اور زراعتی مصنوعات… میرے پاس کوئی تاریخ نہیں مگر ایسا بہت جلد ہو گا۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جنگ چھڑنے کے نتیجے میں غالبا امریکا میں نمو میں کمی آئے گی اور صارفین کے زیر استعمال اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کا کینیڈا، میکسیکو اور چین (اور تقریبا ہر ملک) کے ساتھ بڑا تجارتی قرض ہے جس نے امریکا کو 360 کھرب ڈالر کا مقروض بنا دیا ہے۔
تاہم آج کے بعد ہم احمق ملک نہیں رہیں گے۔سوشل میڈیا پر اپنی آخری پوسٹ میں ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ موقف دہرایا کہ کینیڈا پر لازم ہے کہ وہ ہماری 51 ویں ریاست بن جائے۔اعداد و شمار کے امریکی ادارے کے مطابق گذشتہ برس کینیڈا کے ساتھ تجارتی خسارہ 55 ارب ڈالر رہا۔کینیڈا کے ایک ذمے دار نے اتوار کے روز شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اوٹاوا حکومت امریکی کسٹم ڈیوٹی کے خلاف عالمی ادارہ تجارت WTO میں مقدمہ دائر کرے گی۔ اس کا مقصد کینیڈا، میکسیکو اور امریکا کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے کی رو سی زر تلافی حاصل کرنا ہے۔ ٹرمپ نے خود اس معاہدے پر 2018 میں دستخط کیے تھے۔
کینیڈا کے مستعفی وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کا ملک امریکی سامان پر 25% کی شرح سے ٹیکس عائد کرے گا، جس کی مالیت 155 ارب کینیڈین ڈالر (106.6 ارب امریکی ڈالر) بنتی ہے۔دوسری جانب میکسیکو کی خاتون صدر کلوڈیا شینباؤم نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے وزیر معیشت کو پلان B نافذ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس پلان میں ٹیکس عائد کرنے سمیت غیر معینہ تدابیر شامل ہیں۔یورپی یونین نے جس کو ٹرمپ نے ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، باور کرایا ہے کہ وہ بھرپور جواب دی گی۔
Like this:
Like Loading...