Skip to content
جمعہ نامہ: بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے‘‘۔ نفسانی خواہشات کا بندہ بن جانے کا مطلب یہ ہے کہ شتر بے مہار کی مانند جومن میں آئے بولے اوردل چاہے کرگزرے۔ یہ نہ سوچے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ حق و ناحق کی تفریق سے بے نیاز ہوکر من مانی کرنے لگے۔ ایسے لوگ خود اپنے کرموں کے سبب جس عذابِ الٰہی کا شکار ہوتے ہیں اس کی بابت فرمانِ قرآنی ہے :’’ اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ٹھہرا دیا ہے اور اس کے کان اور اس کے دل پر مُہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے‘‘۔ ایسے لوگ اپنے آپ کو ابدی گمرہی کا مستحق بنا لیتے ہیں ۔امریکی صدر کی حرکات و سکنات دیکھنے والے اس آیت کا مطلب بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ کوئی عقل و ہوش کا حامل انسان وہ سب نہیں کرسکتا جو ٹرمپ کررہے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی بابت یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ:’’ پھر اُسے اللہ کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے؟سو کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے‘‘۔ اس لیے ان کا تو خیر اللہ ہی حافظ ہے مگر دیگر لوگوں کے لیے یہ سامانِ عبرت ہے کہ وہ نفس کی غلامی سے نکل کر پوری طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کی بندگی میں داخل ہو جائیں ۔
ارشادِ قرآنی ہے : ’’انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں‘‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب اپنی انتخابی مہم کے دوران غزہ کے اندر قتل و غارتگری بند کروانے کی بات کرتے تھے تو بہت اچھے لگتے تھے ۔ انتخاب جیتنے کے بعد جنگ بندی میں ان کی غیر معمولی دلچسپی نے دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں کا دل جیت لیا۔ ایساشخص :’’ اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خد ا کو گواہ ٹھیرا تا ہے، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن حق ہوتا ہے‘‘۔ یہ حقیقت سب سے پہلے تو اس وقت کھل کر سامنے آئی جبکہ انہوں نے مصر اور اردن سے کہا کہ وہ اپنے ملک میں غزہ والوں بسا لیں تاکہ تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نو ممکن ہوسکے ۔ اب آگے بڑھ کر وہ اسے اپنی ملکیت میں لے کروہاں مالکانہ حق چاہتے ہیں ۔ ٹرمپ کا وزیر خارجہ اپنے صدر کی تائید میں کہتاہے کہ ’میک غزہ بیوٹی فل اگین‘ کی خاطر ’غزہ کو حماس سے آزاد ہونا چاہیےلیکن بھول جاتا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سربراہ پال اوبرائن فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کو انہیں مٹانے کے مترادف قرار دیتے ہیں ۔ان کے مطابق ’غزہ ان(فلسطینیوں) کا گھر ہے۔ غزہ کی تباہی اور اموات اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں ہزاروں عام شہریوں کے قتل کا نتیجہ ہیں، جو اکثر امریکی بموں سے کیے جاتے ہیں۔‘امریکی سینیٹر کرس مرفی نے اس بیان کو ’برا اور گھٹیا مذاق‘ قرار دیا، انہوں نے لکھا کہ ’وہ (ٹرمپ) اپنے حواس کھو چکا ہے۔ غزہ پر امریکی حملہ ہزاروں امریکی فوجیوں کے قتل عام اور مشرق وسطیٰ میں دہائیوں تک جنگ کا سبب بنے گا۔‘ اس کے باوجود ساری دنیا ٹرمپ کی ان حرکتوں کو دیکھ رہی ہے جس کے بارے میں ارشادِ قرآنی ہے :’’ جب اُسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے، تو زمین میں اُس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل انسانی کو تباہ کرے حالاں کہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گناہ پر جما دیتا ہے‘‘۔ امریکی صدر اپنے اس مذموم ارادے کا یہ جواز پیش کررہے ہیں تاکہ ’ خطے میں تمام لوگوں کے لیے دیرپا امن قائم ہو۔‘
قرآنِ مجید میں بندگانِ نفس کی اصلاح کے حوالے یہ رہنمائی فرمائی گئی کہ: ’’ کبھی آپ نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہو ؟ کیا آپ ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہیں ؟‘‘ اس معاملے میں حائل مشکل کی بابت استفسار کیا گیا کہ : ’’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے‘‘۔ یہ بات عام حالات کے اندر سمجھ میں نہیں آتی مگر جب ڈونلڈ ٹرمپ کایہودی داماد جیرڈ کشنر سال بھرقبل کہہ دیتاہے کہ غزہ کی واٹر فرنٹ پراپرٹی بہت قیمتی ہو سکتی ہے۰۰۰لیکن میں اسرائیل کے نقطہ نظر سے سوچوں گا کہ لوگوں کو نکال کر علاقے کو صاف کر دینا چاہیے‘‘ تو اس آیت کے معنیٰ واضح ہوجاتے ہیں ۔ اول الذکر آیت کے آخر میں یہ وعید سنائی گئی کہ :’’ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے‘‘۔ قرآن حکیم میں قیامت کی منظرکشی اس طرح کی گئی ہے کہ:’’وہ دن جبکہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے؟‘‘
خواہشات کے بندے اس دنیا کو جنت بنانے کی کوشش میں لگےرہتے ہیں ۔ وہ زیادہ سے زیادہ دنیا کی طلب میں وہی سب کرتے ہیں جو غزہ کے اندرپچھلے پندرہ ماہ میں ہوا ۔ آگے ان کے کیا ارادے ہیں اس کا بھی اظہار ہورہا ہے لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا سابقہ حماس سے پڑا ہے۔ مجاہدینِ اسلام کی یہ صفات بیان کی گئی ہے کہ :’’ دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضا ئے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے‘‘۔ ان لوگوں کو شدید ترین آزمائش میں کیسی کامیابی حاصل ہوتی ہے اس کو ساری دنیا نے دیکھ لیا لیکن آخرت میں انہیں یہ بشارت دی گئی کہ :’’ اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہوگی ارشاد ہوگا "یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا‘‘۔ ان کا تعارف اس طرح کرایا گیا کہ :’’وہ بے دیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے‘‘۔ان کا ا ستقبال اس طرح کیا جائے گا:’’ داخل ہو جاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ‘‘ وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا۔ وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لیے ہے‘‘۔
Like this:
Like Loading...
Trump is absurd and des
آپ کا مضمون پڑھ کر اچھا لگا ۔آپ ایک ایماندار اور فرض شناس صحافی کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں