Skip to content
ایک ریپ کیس ایسا بھی !
کس طرح لوگ ایس سی ایس ٹی قانون کا بےجا استعمال کرتے ہیں۔
ازقلم:عبدالواحد شیخ، ممبئی
8108188098
آج ہم الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بارے میں بات کریں گے کہ کس طرح ایس سی ایس ٹی کمیونٹی کے لوگوں نے جاٹ کمیونٹی کے ایک شخص کو محض معاوضہ حاصل کرنے کے لیے ریپ کے ایک جھوٹے کیس میں جیل میں بند کروا دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کےجسٹس اشونی کمار مشرا اور ڈاکٹر گوتم چوہدری نے حال ہی میں یہ فیصلہ سنایا ہے۔ ائیے جانتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے اور فیصلہ کیا سنایا گیا ہے ۔ کیس کا نام ہے
Ankit Punia vs state of UP
یہ کہانی ہے دسمبر 2017 کی ایس سی ایس ٹی کمیونٹی کا ایک شخص پولیس میں شکایت کرتا ہے کہ انکت پنیا (Ankit punia ) نام کے ایک شخص نے اس کی 100 سالہ بوڑھی دادی ماں کے ساتھ ریپ کیا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بالمیکی ذاتی کا ہے۔ ایس سی ایس ٹی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس کمیونٹی کو ذلیل کرنے کے لیے انکت پنیا نے یہ عمل ان کے گھر میں گھس کر کیا ہے۔ وہ آگے اپنی شکایت میں کہتا ہے کہ رات کے وقت جب وہ اپنے گھر میں سو رہے تھے اور ایک کمرے میں ان کی بوڑھی بیمار دادی لیٹی ہوئی تھی اچانک انکت پنیا گھر کے اندر گھس آتا ہے اور اس کی دادی کا اریپ کرنے لگتا ہے۔ دادی کے کراہنے کی آواز سے یہ لوگ اپنے اپنے کمروں سے باہر آتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ انکت پنیا ننگی حالت میں ہے اور دادی کا ریپ کر رہا ہے۔ یہ لوگ شور مچاتے ہیں ۔ کسی طرح انکت پنیا کو دادی کے اوپر سے ہٹاتے ہیں ۔ پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انکت پنیا دھمکی دیتا ہوا کہ میں نے اس بوڑھی کا کام کر دیا ہے اور آگے جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے برہنہ حالت میں وہاں سے چلا جاتا ہے ۔ وہ لوگ اپنی بوڑھی دادی کو ایمبولنس میں ڈال کر پولیس اسٹیشن لے جاتے ہیں وہاں شکایت درج کی جاتی ہے اور سیکشن 458، 376, 302, 506 ائی پی سی اور سیکشن, , 5( 2 ) 3 ایس سی ایس ٹی ایکٹ 1989 کے تحت انکت پنیا کے خلاف کیس درج ہوتا ہے۔
پولیس معاملے کی تفتیش کرتی ہے دوسرے دن بوڑھی دادی کا انتقال ہو جاتا ہے۔ ملزم کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ چارج شیٹ آتی ہے۔ اور کل آٹھ گواہ عدالت میں لائے جاتے ہیں۔ گواہ جو دادی کے رشتہ دار ہیں، بیٹا، پوتا، پوتے کی بیوی یعنی بہو اور دیگر لوگ اور میڈیکل ایگزامینیشن کرنے والا ڈاکٹر اور پولیس والے ۔ دادی کے گھر والے یہ کہتے ہیں کہ اس نے ذات پات کی بنیاد پر یہ جرم کیا ہے ۔ دادی کا نام پھلو تھا۔ واردات کے وقت دادی کا بیٹا وہاں موجود تھا لیکن وہ بھی بوڑھا تھا اور اس کو اونچا سنائی دیتا تھا۔ دوسری طرف ملزم کا کہنا ہے کہ اس پر جھوٹا کیس بنایا گیا ہے ذاتی رنجش کی وجہ سے تاکہ ان کو حکومت سے مرنے والے کی بدولت معاوضہ(پیسہ) وصول ہو۔ دفاعی گواہ کی حیثیت سے کوئی بھی عدالت میں پیش نہیں
ہوتا ۔ ملزم کا یہ بھی کہنا ہے کہ شکایت کنندہ نے ملزم سے سور پالنے کے لیے ایک لاکھ روپے ادھار لیے تھے اور مطالبہ کرنے کے باوجود وہ لوٹا نہیں رہا تھا ۔ جب بھی وہ پیسوں کا مطالبہ کرتا تو اسے ٹال دیا جاتا۔ ادھار پیسے نہ دینے پڑے اور حکومت سے بھی مرحومہ کا معاوضہ ملے اس لیے جھوٹے کیس میں ملزم کو پھنسایا گیا ہے۔ سیشن کورٹ میں یعنی اسپیشل ایس سی ایس ٹی ایکٹ کورٹ میرٹھ یو پی،انڈیا میں سنوائی ہوتی ہے اور ملزم کو سزائے عمر قید سنا دی جاتی ہے۔ کچھ جرمانے بھی لگائے جاتے ہیں ۔
معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ پہنچتا ہے وہاں سنوائی ہوتی ہے ۔ تمام گواہوں کے بیانات اور ثبوتوں کو کھنگالا جاتا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے پایا کہ موقع واردات سے ملزم کے کوئی کپڑے برآمد نہیں ہوئے ہیں۔ حالانکہ گواہوں کا کہنا ہے کہ ملزم ننگا وہاں سے بھاگا تھا ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بوڑھی عورت کی شرمگاہ سے کوئی خون یا نطفے کے دھبے بھی نہیں ملے۔ بوڑھی بیمار تھی اور بیماری کی وجہ سے اس کی پیٹھ پر پھوڑے نکل ائے تھے جس کی تاب نہ لا کر وہ دوسرے دن مر گئی۔ گواہوں کے بیانات میں زبردست تضاد ہے۔ اس پر الزام یہ ہے کہ اس نے ریپ کیا، صدمے سے دادی کی موت ہوئی، وہ گھر میں گھس آیا، مارنے کی دھمکی دی، ذات پات کی بنیاد پر اس نے ایسا کیا ہے ۔ عدالت نے پایا کہ جب ان لوگوں نے شور مچایا تو اڑوس پڑوس کا کوئی گواہ نہیں آیا جبکہ سارے گواہ شور مچا رہے تھے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ شور مچانے کے بعد بھی اڑوس پڑوس کے کچھ لوگ سامنے نہ آئے ۔ میڈیکل رپورٹ میں جنسی ہراسانی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ شکایت کنندہ نے قبول کیا کہ دادی کی موت کے بعد سرکار نے مرنے والی خاتون کے تینوں بیٹوں کو سوا آٹھ لاکھ روپے معاوضہ دیا تھا۔ کسی بھی گواہ نے یہ نہیں کہا کہ ملزم نے ان کے خلاف کوئی ذات پات والی بات کہی تھی۔ خاتون کی موت صدمے ، ریب سے نہیں سیپٹک سمر ( سڑان) سے ہوئی تھی. پولیس ملزم کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہ کر سکی۔ اس لیے اسپیشل سیشن عدالت میرٹھ نے جو سزائے عمر قید اور جرمانہ دیا تھا اسے ختم (set aside ) کر دیا ۔آپ جانتے ہیں کہ ایس سی ایس ٹی ایکٹ کیوں بنایا گیا ہے اس کے ابجیکٹو یہ ہے :
The Scheduled Castes and Scheduled Tribes (Prevention of Atrocities) Act, 1989, also known as the SC/ST Act,
has the following objectives
Protect rights: Safeguard the rights of Scheduled Castes (SCs) and Scheduled Tribes (STs) from abuse, discrimination, and violence
Deliver justice: Ensure justice for SCs and STs through affirmative action
Enable dignity: Help SCs and STs live with dignity and self-esteem
Provide relief: Provide relief and rehabilitation to victims of caste-based atrocities
Establish Special Courts: Set up Special Courts to handle cases related to atrocities against SCs and STs
Define offenses: Define what constitutes an "atrocity” and list out various offenses that can be prosecuted under the law
Specify penalties: Specify penalties for those found guilty of committing atrocities
Outline procedures: Outline procedures for the investigation, trial, and prosecution of offenses
ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلنے کے بعد سنگین جرائم کے تحت جرم ثابت ہو جائے تو اتنی رقم اس حساب سے ملتی ہے اس کی ترتیب یہ ہے:
The Scheduled Caste and Scheduled Tribe (Prevention of Atrocities) Act, 1989 provides monetary relief to victims of atrocities committed by non-Scheduled Caste people. The relief amount is between ₹85,000 and ₹825,000, depending on the crime. The state and union governments share the cost equally, with each paying 50%.
The relief is paid in parts, depending on the stage of the case:
FIR: 25% of the relief is paid when the FIR is registered
Chargesheet: 50% of the relief is paid when the chargesheet is filed
Conviction: 25% of the relief is paid when the accused is convicted by the lower court
ہمارا کہنا یہ ہے کہ ایسی ایس ٹی کمیونٹی کے تحفظ کے لیے انٹچبلٹی ذات پات ختم کرنے کے لیے یہ قانون بنایا گیا ہے ۔ لیکن اگر اس کا غلط استعمال ہوتا ہے تو یہ اس کمیونٹی کے لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا ۔ کچھ لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہیں اور پوری کمیونٹی کو اس کا بھگتان کرنا پڑتا ہے ۔ کیا اچھا ہوتا کہ سارے انسان اپنے آپ کو خدا کے بندے تسلیم کرتے اور اپنے اندر موجود ذات پاک کو دل سے کھروچ کر نکال دیتے ۔ اگر الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ ہندی میں لکھا ججمنٹ آپ پڑھنا چاہتے ہیں اور اس فیصلے پر بنی ہماری ویڈیو ذیل کے لنک میں دیکھ سکتے ہیں شکریہ۔
https://www.youtube.com/watch?v=JNP4uz2rctw
Like this:
Like Loading...
اس پورے ایکٹ کو پھر سے بنایا جانا چاہئے۔اگر کوئی جھوٹی شکایت کرتا ہے تو اسے بھی سزا ملنی چاہئے۔۔۔۔مگر صحیح یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان تفریق کا خاتمہ ہو یہ ہمارا ٹارگٹ ہونا چاہئے۔۔افسوس کہ ہزار سال کی مسلم حکومتیں بھی یہ کام نہ کر سکیں