Skip to content
شب ِ برأت میں عام معافی سے محروم لوگ
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
شعبان المعظم کی پندر ھو یں شب عاصیوں، گنہگاروں ،نافرمانوں اور اپنے اوپر زیادتی کرنے والوں کی بخشش و معافی کا ایک نادر موقع ہے ،اس شب میں انگنت بندوں کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دیا جاتا ہے ، شب برأت کی خصوصیت یہ ہے کہ اور راتوں میں تو دوتہائی شب گزر نے کے بعد ندا ئے مغفرت لگائی جاتی ہے لیکن اس مبارک رات میں غروب آ فتاب ہی سے اعلا ن ہونے لگتا ہے : ھل من مستغفر فاغفر لہ؟ ھل من سآئل فاعطیہ ؟فلا یسأل احد شیأ الا اعطی (شعب الایمان للبیہقی ۳؍۳۸۳) ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ میں اسکی مغفرت کر دوں؟ کوئی ہے مجھ سے مانگنے والا کہ میں اس کو دوں؟اس وقت خدا سے جو شخص بھی مانگتا ہے اس کو دیا جاتا ہے ، نبی ٔ رحمت ؐ نے اس رات کے متعلق ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھو یں رات اپنے بندوں پر نظر رحمت ڈال کر تمام ہی گنہگاروں کو معاف فرما دیتے ہیں(شعب الایمان للبیہقی ۳؍۳۸۰)، ام المؤمنین عائشہ ؓ صدیقہ کی روایت میں ہے کہ : اللہ تعالیٰ اس شب (شب برأت) میں بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر گنہگار بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں(مسند احمد ۶؍ ۲۳۸) ،خصوصی رحمت ، نزول مغفرت ، عمومی بخشش اور عام معافی کے باوجود بعض بد نصیب اور محروم القسمت لوگ وہ ہیں جن کے جرائم کی سنگینی کی وجہ سے اس رات بھی ان کی مغفرت اور معافی روک دی جاتی ہے ، وہ کون لوگ ہیں اور ان کے جرم کیا ہیں جس کی نحوست کی وجہ سے اس بابر کت رات میں بھی وہ سایہ ٔ رحمت سے دور کر دئیے جاتے ہیں ،مختلف روایات جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ آٹھ قسم کے ایسے لوگ ہیں جو اس رات میں بھی رحمت الٰہی سے محروم رہتے ہیں۔ ذیل میں وہ بد نصیب لوگ اور ان کے سنگین جرائم کا ذکر کیا جارہا ہے۔
(۱)مشرک: اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک کرنے والا ،شرک گناہوں میں سب سے بدترین گناہ ہے،ہر گناہ وہر جرم معافی کے قابل ہے لیکن شرک ایسا بدترین گناہ اور اس قدر بھیانک جرم ہے کہ جس کی معافی سوائے توبہ اور قبول اسلام کے ممکن ہی نہیں ، کیونکہ مشرک خدا کے ساتھ کسی کو شرک ٹہراتا ہے اور خدا اپنے ساتھ کسی کی شرکت کو ہر گز پسند نہیں فرماتا ،قرآن مجید میں شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے ،ارشاد خداوندی ہےإِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَائُ (نساء :۴۸)’’بیشک اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے‘‘،رسول اللہ ؐ نے اپنی نبوت ورسالت کے ذریعہ پوری انسانیت کو توحید اور وحدانیت کی تعلیم دی اور کفر و شرک سے بچنے کی سختی کے ساتھ ممانعت فرمائی،آپ ؐ نے نہ یہ کہ صرف شرک سے دور رہنے کی تعلیم دی بلکہ شرک کے شائبہ سے بھی بچنے کی تلقین فرمائی ،مرض الوفات کے و قت آپ ؐ نے اپنی امت کو جو چند اہم ترین وصیتیں ارشاد فرمائی ان میں سے ایک یہ بھی تھی :الا !وان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجد ،الا!فلا تتخذوا القبور مساجد ،انی انھاکم عن ذٰلک(مسلم : ۱۲۱۶)’’ خبردار! تم سے پہلی امتوں کے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیے تھے ،خبر دار! تم قبروں کو سجدہ گاہ مت بنانا ،میں تم کو اس کام سے روکتا ہوں۔ یہی وہ بھیانک اور گھناؤ نا جرم ہے جس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عام معافی کے باوجود اس کے مرتکب کو رحمت والی اس رات میں بھی مغفرت سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
(۲)کینہ پرور :دل میں کسی کے بارے میں بغض و کینہ رکھنے والا ، یہ بدترین قسم کا روحانی مرض ہے ،یہ ایسا مرض ہے جو روز بروز بڑھتا ہی جاتا ہے جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا شخص دنیوی اور دینی دونوں اعتبار سے نقصان اور پستی کا شکار ہوتا رہتا ہے ،بغض اور کینہ کی وجہ سے جہاں آپس میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں ،دن بدن اختلافات میں اضافہ ہوتا ہے اور آخر میں نوبت خون خرابے تک پہنچ جاتی ہے وہیں آدمی غیبتوں میں، بہتان تراشیوں میں ، آگے بڑھ کرحسد وجلن میں اور پھر طرح طرح کے الزام تراشیوں میں مبتلا ہوکر اپنے چین وسکون کو برباد ،دل کو سیاہ اور نیکیوں کو ضائع کرتا رہتا ہے،اس کی نحوست سے دعائیں قبول نہیں ہوتی ،رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : تعرض اعمال الناس فی کل جمعۃ مرتین یوم الاثنین ویوم الخمیس فیغفر اللہ لکل عبد مؤمن الا عبدا بینہ وبین اخیہ شحناء فیقال اترکوا ہذین حتی یفیئا(مسلم:۶۷۱۲)’’ ہر ہفتہ میں دومرتبہ پیر اور جمعرات کے دن (اللہ کے دربار میں)لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ،پس اللہ تعالیٰ ہر ایمان والے شخص کی مغفرت فرماتا ہے ،سوائے ایسے آدمی کے جس کی دوسرے سے دشمنی اور بغض ہو تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو ابھی چھوڑ دو یہاں تک کے یہ دونوں آپس میں صلح نہ کر لیں‘‘ بغض وکینہ اس قدر قبیح عمل اور ایسا ناپسندیدہ فعل ہے کہ جس کی نحوست دیگر نیک اعمال سے محرومی کا سبب بن جاتی ہے ،شب برأت جو اس امت کے لئے خدا کی طرف سے ایک بیش قیمت تحفہ ہے ،بڑی محرومی ہے اس شخص کے لئے جو اپنے جرم عظیم کی نحوست کی وجہ سے مغفرت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
(۳)قاتل ِ ناحق : کسی کو ناحق اور بلاکسی وجہ کے قتل کرنے والا،قتل ناحق بہت بڑا جرم اور اس کا مرتکب خدا کی نظر میں انتہائی مبغوض ہے ،کسی کا ناحق خون بہانا اور اس کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرنا انتہائی شقاوت ،سنگدلی اور بد بختی کی علامت ہے،سارے انسان ہی نہیں بلکہ ہر جاندار خدا ہی کی مخلوق اور اسی کی پیدا کردہ ہے ،کسی کو بلاوجہ ستانا ،اس پر ظلم کرنا اور بلاکسی وجہ کے اس کا خون بہانا انتہا ء درجہ کی درندگی اور بد ترین حیوانیت ہے، انسان تو بہرحال انسان ہے چاہے وہ جس خطہ کا باشندہ ہو ، انسانیت کا احترام اور اس کے ساتھ انسانیت کا برتاؤ اسلامی تعلیم کا اہم جزو ہے ،کسی انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے ، اور کسی مسلمان کا ناحق قتل تو اور بھی سنگین جرم ہے، ایسے شخص پر خداتعالیٰ غضبناک ہوتا ہے ،قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے :وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْما(نساء: ۹۳)’’اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے ،اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا،اس پر اللہ کا غضب ہے،اس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھاہے‘‘ ،ایک حدیث میں آپؐ نے مسلمان کے قتل کو کفر سے تعبیر فرماکر اس کی شناعت وقباحت کو واضح فرمادیا ،ارشاد فرمایا: سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر( بخاری:۶۰۴۴)’’مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کو قتل کرنا کفر ہے‘‘، یقینا قتل ناحق ایسا جرم ہے کہ جس کا مرتکب شب رحمت میں بھی خدا کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہتا ہے۔
(۴) زنا کار: بدکردار اور بازاری مرد و عورت، زنا، بدکاری اور فحاشی انتہا ء درجہ قبیح اور بُرا عمل ہے ،بد کار مرد وعورت جب تک بدکاری میں مبتلا رہتے ہیں اس وقت تک ان کا دل ایمان سے خالی رہتا ہے،قرآن مجید میں سختی کے ساتھ فحاشی وبدکاری سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ،ارشاد خداوندی ہے :وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَی إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَاء سَبِیْلاً(بنی اسرائیل :۳۲)’’ خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بُرا راستہ ہے‘‘ جس قوم میں بدکاری عام ہوجاتی ہے تو پھر وہ قوم قہر خداوندی کی لپیٹ میں آجاتی ہے، دنیا میں اس کی نحوست کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ان پر فقر وفاقہ مسلط ہوجاتا ہے ،دعائیں رد کردی جاتی ہیں ،نسلیں تباہ ہوجاتی ہیں اور خاندان مشتبہ ہوجاتا ہے ، اور قیامت کے دن انہیں جس سخت ترین عذاب سے دوچار کیا جائے گا اسے سن کر آدمی کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،رسول اللہ ؐ نے ایک طویل خواب میں زناکاروں کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’رات سوتے ہوئے خواب میں دوشخص میرے پاس آئے اور مجھے ساتھ لے کر چلے ،ہمارا کئی ایسے لوگوں پر گزر ہوا جنہیں طرح طرح کے عذاب دئے جارہے تھے،پھر ہم تنور جیسی جگہ پر آئے ،جس میں سے چیخ وپکار کی آوازیں آرہی تھیں ،جب ہم نے اس میں جھانکا تو اس میں ننگے مرد اور ننگی عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپیٹ آرہی تھی ،جب آگ کی لپیٹ آتی تو وہ لوگ شور مچاتے تھے ،آپ ؐ نے جب ان کے بارے میں جاننا چاہا تو ساتھ والوں نے بتایا کہ: اما الرجال والنساء العراۃ الذین ھم فی مثل بناء التنور فانھم الزناۃ والزوانی (شعب الایمان للبیہقی :۵۴۱۹)’’ وہ ننگے مرد وعورت جو تنور جیسی جگہ میں تھے وہ زناکار مرد اور عورتیں تھیں ‘‘ درحقیقت فحاشی وبدکاری کی اصل جڑ بے حیائی اور عریانیت ہے ،جس قوم کے مرد بے حیائی میں مبتلا ہوں گے اور ان کی عورتیں عریانیت کا شکار ہوجائیں گی تو وہاں بدکاری ضرور اپنا ڈیرہ ڈال کرکے ہی رہے گی، اگر قوم کو بدکاری اور اس کے جسمانی وروحانی مضر اثرات سے بچانا ہے تو اس قوم کو مرد وعورت کے اختلاط ،بے حجابی ،بے پردگی اور عریانیت سے بچانا ہوگا،بدکاری ایساجرم ہے کہ جس کا مرتکب شب برأت میں بھی معافی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
(۵)قاطع رحم: رشتے ناطے توڑنے والا اور اہل قرابت سے قطع تعلق رکھنے والا ، اہل قرابت اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور حسن سلوک کی بڑی اہمیت ہے ،قرآن مجید میں جہاں والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے وہیں اہل قرابت اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی حکم دیا گیا ہے ،ارشاد خداوندی ہے: یَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَیْْرٍ فَلِلْوَالِدَیْْنِ وَالأَقْرَبِیْن (البقرہ: ۲۱۵)’’ وہ آپ ؐ سے خرچ کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ ؐ بتادیں کہ جو مال تم خرچ کرو، وہ ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے ہو ‘‘ ایک دوسری آیت میں رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ان الفاظ کے ساتھ حکم دیا گیا ہے ،ارشاد خداوندی ہے:إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِیْتَائِ ذِیْ الْقُرْبٰی(النحل: ۹۰) ’’ اے مومنو! خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا حکم کرتا ہے‘‘ ،اللہ تعالیٰ نے رشہ داری اور قرابت داری کو اپنی صفت’’ الرحمن ‘‘سے جوڑ کر اس کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے،چنانچہ حدیث قدسی ہے :قال اللہ انا اللہ وانا الرحمن خلقت الرحم وشققت لھا من اسمی فمن وصلھا وصلتہ ومن قطع بتتہ( ترمذی:۲۰۳۱)’’ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اللہ ہوں ،میں الرحمن ہوں ،میں نے رشۂ قرابت کو پیدا کیا ہے ،اور اپنے نام رحمن کے مادہ سے نکال کر اس کو رحم کا نام دیا ہے ،پس جو اُسے جوڑے گا میں اس کو جوڑوں گا اور جو اس کو توڑے گا میں اس کو توڑوں گا‘‘ ،ایک حدیث میں آپ ؐ کا ارشاد ہے کہ جو کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں فراخی اور کشادگی ہواور اس کی عمر دراز ہو تو اسے چاہیے کہ اہل قرابت کے ساتھ صلہ رحمی کرے(بخاری: ۵۹۸۶)،اور ایک حدیث میں آپؐ نے قطع رحمی کو جنت میں داخل ہونے سے مانع بتا کر لوگوں کو قطع رحمی سے باز رہنے کی تلقین فرمائی ،ارشاد فرمایا :لا یدخل الجنۃ قاطع(بخاری:۵۹۸۴)’’ قطع رحمی کرنے والا (یعنی رشتہ داروں اور اہل قرابت کے ساتھ بُرا سلوک کرنے والا )جنت میں نہ جاسکے گا‘‘،اس قدر واضح ارشادات کے باوجود آج بہت سے لوگ معمولی باتوں کو بہانا بناکر قریب ترین رشتہ داری کو آن واحد میں قطع رحمی میں بدل دیتے ہیں اور آپس میں نفرت کی ایسی دیوار کھڑی کر دیتے ہیں جو سالہا سال گزرنے کے باوجود مزید مضبوط ہوتی جاتی ہے ،حالانکہ آپ ؐ نے ارشاد فرما یا کہ جو تم سے رشتہ توڑے تم اس سے رشتہ جوڑو اور جو تمہارے ساتھ بُرا سلوک کرے تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو،کاش اگر مسلمان اس ارشاد پر عمل کر تے تو مسلمانوں کاہر گھر جنت کا نقشہ پیش کرتا اور وہ اتحاد کی ایسی مضبوط دیوار بنتے جس پر دشمن نظر ڈال کر ہی پسینہ پسینہ ہو جاتے،قطع رحمی ایسا جرم اور ایسا گناہ ہے جو آدمی کو شب برأت کی رحمت ومغفرت سے محروم کر دیتا ہے۔
(۶) ٹخنوں سے نیچے ازار لٹکانے والا: ٹخنوں سے نیچے اپنا تہبند ،پاجامہ ،پائنٹ اور ازار لٹکانے والا ،بلا شبہ ا سلام دنیاکا ایسا واحد مذہب ہے جس نے اپنے ماننے والوں کو لباس وپوشاک کا تک طریقہ اور سلیقہ سکھایا ہے،ایسا لباس پہنے کی تلقین کی ہے جو صاف ستھرا ہو اور جس میں جسم پوری طرح ڈھنک جائے ،اس نے مردوں اور عورتوں کے لئے لباس کے حدود متعین کئے ہیں، ایک دوسرے کی مشابہت سے بچنے کا حکم دیا ہے ، عورتوں کو باریک کپڑا پہننے سے منع کیا ہے اور بطور تفاخر کے لباس پہننے کو سخت ناپسند قرار دیا ہے، رسول اللہ ؐ نے مردوں کو لباس پہننے کا طریقہ بتا تے ہوئے ارشاد فرمایا : ازرۃ المسلم الیٰ نصف ساق و لا جناح علیہ فیما بینہ وبین الکعبین ،ما کان اسفل من الکعبین فھو فی النار، من جر ازارہ بطرا ً لم ینظر اللہ الیہ(ابوداؤد :۴۰۹۳)مسلمان کے لئے تہبند باندھنے کا طریقہ نصف ساق (یعنی پنڈلی کے درمیانی حصہ تک ہو)اور نصف ساق اور ٹخنوں کے درمیان تک ہو تو یہ بھی گناہ نہیں ہے،یعنی جائز ہے،اور جو اس سے نیچے ہو تو وہ جہنم میں ہے (یعنی جہنم میں جائے گا) ،(اس کے بعد آپ ؐ نے فرمایا )اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف(قیامت کے دن) نگاہ اٹھاکر بھی نہ دیکھے گاجو اپنے ازار کو بطور تکبر گھسیٹ کر چلے گا‘‘ اس قدر صراحت کے باوجود اکثر مسلمان اپنا لباس ٹخنوں سے نیچے پہنتے ہیں ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں نہ اپنے نبی کے ارشاد کا پاس ولحاظ ہے اور نہ ہی جہنم کے عذاب کا خوف ہے ،بعضے حضرات تو ٹخنے کے نیچے پہننے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ،افسوس کہ انہیں فیشن کا تو پورا پاس ولحاظ ہے لیکن اپنے نبی ؐ کی سنت کا کوئی خیال نہیں ،یہ ایسا جرم اور ایسا گناہ ہے کہ جس کے مرتکب پر اللہ تعالیٰ قیامت میں نہ بات فرمائیں گے اور نہ ہی نظر رحمت فرمائیں گے ،ایسے نافرمان اور متکبر شخص برأت کی رات رحمتوں سے محروم کر دئے جاتے ہیں۔
(۷)والدین کا نافرمان: ماں باپ کی نافرمانی اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی برتنے والا، ماں باپ اولاد کے لئے عظیم نعمت ہیں،یہ اولاد کے دنیا میں لانے کا ذریعہ اور ان کی پرورش، نشو نمائی اور پروان چڑھانے کا بہترین زینہ ہیں،اپنی اولاد پرانتہائی شفیق اور مہربان ہیں ،کسی نے سچ کہا ہے کہ آدمی اپنی جان بچانے کے لئے مال قربان کر دیتا ہے مگر اولاد کی جان بچانے کے لئے اپنی جان قربان کر دیتا ہے،ان کے بے شماراحسانات ہی کا نتیجہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ان کی خدمت کا حکم دیا ہے ،ارشاد خداوندی ہے:وَقَضٰی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوْا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلاَہُمَا فَلاَ تَقُل لَّہُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْہَرْہُمَا وَقُل لَّہُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا(بنی اسرائیل:۲۳)’’اور تمہارے پروردگار نے صاف حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں ،اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کریں،اگر تمہاری موجود گی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہے ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرے، بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کریں‘‘، آگے آیت میں اولاد کو ان کا زمانہ بچپن یاد دلاتے ہوئے والدین کی خدمت کی طرف مزید توجہ دلا ئی گئی اور بتایا کہ جس طرح تمہارے والدین نے بچپن میں تمہارا مکمل خیال کیا اور ہر پل تمہاری خدمت کی ،اب موقع ہے کہ بڑھاپے میں تم بھی ان کی خد مت میں کوئی کسر باقی نہ رکھو ، ان کی خدمت واطاعت کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھو اور اپنے بازؤں کو نرم رکھتے ہوئے بڑے مشفقانہ انداز میں ان کی خدمت کرتے رہو ،ساتھ ہی ان کے حق میں دعائے خیر بھی کرتے رہو ،ارشاد خداوندی ہے :وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا(بنی اسرائیل: ۲۴)’’اور عجز ونیاز سے ان کے آگے جھکے رہو،اور ان کے حق میں دعا کروکہ اے پروردگارجیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں(شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی ان (کے حال)پر رحم فرما‘‘،رسول اللہ ؐ نے بھی بہت سی احادیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک،ان کی خدمت واطاعت اور ان کی کفالت کی طرف بھر پور انداز میں توجہ دلائی ہے ،ایک موقع پر کسی نے آپؐ سے والدین کے متعلق پوچھا تو جواب میں ارشاد فرمایا کہ:ھما جنتک ونارک(ابن ماجہ:۳۶۶۲)’’ وہ تمہاری جنت اور دوزخ ہیں‘‘ یعنی ان کی خدمت واطاعت سے تم جہاں جنت کے حقدار بن سکتے ہو وہیں ان کی نافرمانی وناراضگی سے جہنم میں بھی داخل ہوسکتے ہو، ایک حدیث میں آپؐ نے والد کی خوشنودی کو اللہ کی خوشنودی اور ان کی ناراضگی کو اللہ کی ناراضگی قرار دیا ہے،اور ایک حدیث میں خصوصیت کے ساتھ والدہ کاذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:الجنۃ تحت اقدام الامھات(کنز العمال:۴۵۴۳۹)’’ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت ہے‘‘ایک اور حدیث ہے جس میں آپ ؐ نے اس شخص کو بڑا بد نصیب بتایا ہے جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع گنواں کر جنت حاصل کرنے سے محروم ہوجاتا ہے، احادیث میں قرب قیامت کی جن علامات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ دوست واحباب کا تو بڑا پاس ولحاظ کریں گے لیکن والدین اور دیگر رشتے داروں سے اجنبیوں جیسا برتاؤ کریں گے،آج اگر معاشرہ پر نظر ڈالیں توآپﷺ کی پیشن گوئی سچ ہوتی نظر آرہی ہے،والدین کے ساتھ اولاد کی بے رخی اور بے پرواہی ہمارے معاشرہ کی علامت بن چکی ہے،اولاد کی جانب سے اپنے والدین کے ساتھ بد سلوکی کے آئے دن نئے نئے واقعات سننے اور پڑھنے میں آرہے ،جسے سن کر دل کانپ اُٹھتا ہے ،یہ بدترین گناہ او اس قدر خطر ناک جرم ہے جو آن واحد میں آدمی کی کشتی ڈبو دیتا ہے ، ایسا بدنصیب شب مغفرت میں بھی معافی سے دور کر دیا جاتا ہے ۔
(۸)نشے کا عادی :مئے نوشی اور شراب نوشی کرنے والا ، قرآن مجیدمیں بڑی صراحت کے ساتھ جن چیزوں کو حرام اور ناجائز قرار دیا گیا ہے ان میں سے ایک شراب بھی ہے ،بلکہ اسے ام الخبائث کہا گیا ہے ، شراب اور شیطان میں گہرا تعلق ہے ،اسی وجہ سے اسے عمل شیطان کہا گیا ہے اور شیطان اسی کا سہارا لے کر آپس میںجھگڑے ، فساداور خون خرابے کراتا ہے ، ارشاد خداوندی ہے یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَنْ یُّوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَائَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّٰہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ فَہَلْ أَنْتُمْ مُّنْتَہُوْن(المائدہ:۹۰،۹۱)’’اے ایمان والو! شراب پینا،جوا کھیلنا،بتوں(کے آستانوں پر جانا)اور پانسہ(پھینک کر چیزیں بانٹنا) سب شیطانی کام ہیں، ان سے بالکل الگ رہو، تاکہ تم فلاح پاسکو،شیطان تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعہ سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض پیدا کرے اور اللہ کی یاد سے اور نماز سے تم کو دور رکھے،تو(کیا تم ان سب چیزوں کو جاننے کے باوجود بھی) ان سے باز نہیں آؤ گے؟،رسول اللہ ؐ نے بھی ایک حدیث میں شراب کو ام الخبائث بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:الخمر جماع الاثم(مسند الشہاب للقضاعی:۱۱۹۰)’’شراب گناہوں کی جڑہے‘‘،حدیث میں جن تین لوگوں کے بارے میں کہا گیا کہ قیامت کے دن وہ خدا کی نظر رحمت سے دور ہوں گے ان میں سے ایک شرابی بھی ہے،افسوس کہ شراب مغرب کے مئے خانوں سے نکل کر مشرقی گھروں تک بھی پہنچ چکی ہے اور تہذیب جدید کے دلدادہ ،عیش پرستی کے جال میں مقید اور دین بیزاروں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا ہے،آج شراب بہت سے ناموں سے فروخت کی جارہی ہے ، بعض بد بخت مسلمان اپنی تقاریب میں بڑے فخر کے ساتھ اسے میز کی زینت بنارہے ہیں اور بڑی بے شرمی وبے حیائی کے ساتھ اسے زیر لب لگا کر جہنم کی گندگی کو اپنے منہ میں ڈھکیل رہے ہیں، شراب پیٹ میں پہنچ کر سب سے پہلے عقل پر قبضہ کر لیتی ہے ،جس کے اثر سے پورا جسم بے جان ہوکر رہ جاتا ہے ،آدمی اچھے اور بُرے کی تمیز کھو دیتا ہے اور پھر نہ جانے وہ کیا کیا گل کھلانے لگتا ہے،شرابی خدا کی نظر سے گر جاتا ہے ،اس کی رحمت سے دور چلاجاتا ہے ،حتی کہ شب برأت جسے مغفرت کی سوغات کہا گیا ہے اس میں بھی شرابی مغفرت سے محروم ہوجاتا ہے۔ بعض احادیث میں مذکورہ جرائم وگناہ کے علاوہ ’’جادوگراور کاہن‘‘ کا بھی ذکر ملتا ہے ۔
یہ وہ بدترین گناہ ہیں جن کے مرتکبین شب برأت جیسی مبارک اور رحمتوں وبرکتوں سے پُر رات میں بھی خدا کی رحمت ومغفرت سے محروم کر دئے جاتے ہیں ، لیکن یہ وعید ان بد بختوں کے لئے ہے جو اپنے جرموں اور گناہوں پر نہ شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ ہی بارگاہ رب العزت میں توبہ واستغفار کے ذریعہ معافی طلب کرتے ہیں ، جنہیں اپنے گناہ کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ احساس ندامت سے سرشار ہوکر بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوتے ہیں اور نہایت ندامت وشرمندگی کے ساتھ اپنے جرموں کی معافی طلب کرتے ہیں اور آئندہ ان سے بچنے کا عزم مصم کرتے ہیں تو خدائے رحمن ورحیم ان کا آگے بڑھ کر استقبال فرماتا ہے اور انہیں اپنی چادر رحمت میں ڈھانپ کر ان کے گناہوں پر قلم عفو پھیر دیتا ہے ،پھر وہ توبہ کے بعد ایسے ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے گناہ کئے ہی نہ تھے ،جرائم میں ملوث اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے لئے شب برأت معافی کا بہترین موقع ہے ، جن سے حقوق العباد وابستہ ہیں پہلے ان سے معافی مانگیں ،پھر رحمت خداوندی کی طرف دوڑ لگائیں اور اپنے رب کو منانے کی کوشش کریں ، دربار خداوندی میں حاضر ہوکر سر جھکائیں،ندامت کے آنسو بہائے اور دل سے پشیمانی کا اظہار کریں ،خدا ئے رحمن کی رحمت جوش میں آتی ہے اور اسے دامن رحمت میں لے لیا جاتا ہے۔
Like this:
Like Loading...
ماشاءاللہ بہت عمدہ باتیں سیکھنے کو ملیں ہیں ۔۔ اللہ تعالی ہمیں ان سب گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اور حضرت مفتی عبد المنعم فاروقی صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر قائم فرمائے صحت والی لمبی عمر عطا فرما ے آمین ثم آمین ۔۔