Skip to content
مہاراشٹر کے اردو تعلیمی ادارے : منارِ نور یا ظلم کے قلعے ؟
ازقلم : ڈاکٹر فیروز خان فیروز (پاتور،اکولہ)
تعلیم وہ چراغ ہے جو قوموں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی سمت لے جاتا ہے، مگر اگر چراغ کے محافظ ہی اس کی لو بجھانے لگیں تو روشنی کی امید کس سے کی جائے؟ مہاراشٹر کے اقلیتی کمیشن کے صدر پیارے ضیاء خان کے حالیہ دورے میں جو کچھ سامنے آیا، وہ صرف ایک اسکول، ایک شہر، یا ایک ادارے کی بدنصیبی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام پر ایک ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج ہر اس شخص کو سننی چاہیے جو علم کو عبادت اور معلم کو معمارِ قوم سمجھتا ہے۔ پاتور کے اردو اسکولوں میں خواتین اساتذہ کی جو دہائی سننے کو ملی، وہ ہمارے سماج کے اس زخم کی چیخ تھی جسے ہم نے برسوں سے فراموش کر رکھا ہے۔ یہ محض ایک ادارے کی خرابی نہیں، یہ اس ڈھانچے کی شکست و ریخت ہے جس پر ہماری نسلوں کے مستقبل کی بنیادیں کھڑی ہونی تھیں۔
یہی وہ تعلیمی ادارے ہیں جن کے میناروں کو روشنی کی علامت ہونا تھا، مگر یہاں جہالت کا اندھیرا پنپ رہا ہے۔ یہی وہ درسگاہیں ہیں جنہیں تربیت گاہ بننا تھا، مگر یہاں استحصال کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ یہی وہ اسکول ہیں جہاں علم کی روشنی بانٹی جانی تھی، مگر یہاں خوف اور بے بسی کی زنجیریں پہنا دی گئی ہیں۔ معلم جو ہمیشہ عزت و وقار کی علامت رہا ہے، آج اسے اپنی محنت کی کمائی کے لیے در در بھٹکنا پڑ رہا ہے۔ خواتین اساتذہ، جو بچوں کے ذہنوں میں علم کے بیج بوتی ہیں، آج خود بے بسی کے ایسے عذاب میں گرفتار ہیں جہاں ان کی عزت اور روزگار دونوں داؤ پر لگے ہیں۔ ان سے زبردستی تنخواہوں کا بڑا حصہ وصول کیا جاتا ہے، ان کی تذلیل کی جاتی ہے، انہیں نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور جو سر اٹھانے کی جرأت کرے، اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ سب کچھ اس سماج میں ہو رہا ہے جو علم کو روشنی، استاد کو رہنما، اور مدرسے کو مینارِ ہدایت کہتا ہے۔ مگر کیا یہ مینار حقیقت میں ہدایت کے ہیں، یا استحصال کے؟ کیا یہ وہی تعلیمی مراکز ہیں جہاں قوموں کے معمار تیار ہوتے ہیں، یا یہ محض کرپشن، ناانصافی، اور بدعنوانی کے اڈے ہیں؟ اگر ایسے ہی اداروں میں علم کا سودا ہوتا رہا، اساتذہ کی تذلیل ہوتی رہی، اور تعلیمی نظام چند لٹیروں کے ہاتھوں یرغمال بنتا رہا، تو پھر اس قوم کے بچوں کے ہاتھ میں قلم کیسے آئے گا؟ وہ نسلیں جو ان اداروں سے نکل کر سماج کا حصہ بنیں گی، کیا وہ انصاف، سچائی، اور دیانت کے اصولوں پر یقین رکھیں گی؟ یا وہ بھی اسی کرپٹ نظام کا تسلسل بن کر رہ جائیں گی؟
یہ مسئلہ صرف پاتور یا آکولہ کے چند اسکولوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو مسلم سماج میں موجود سرکاری امداد یافتہ تعلیمی اداروں کی اکثریت میں پھیل چکا ہے۔ جہاں دیکھو، وہاں استاد ظلم سہ رہا ہے، جہاں جاؤ، وہاں تنخواہوں کی بندر بانٹ ہو رہی ہے، جہاں قدم رکھو، وہاں کرپشن کی دلدل موجود ہے۔ ان اداروں کو چلانے والے بیشتر منتظمین تعلیم کو عبادت نہیں، تجارت سمجھتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو تعلیمی فنڈز کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں، سرکاری امداد کو اپنی ملکیت جانتے ہیں، اور اساتذہ کو غلاموں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ وہ ملازمین جو برسوں کی محنت سے نسلوں کی آبیاری کرتے ہیں، ان کے حقوق کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ وہ خواتین اساتذہ جو دن رات بچوں کو سنوارنے میں مصروف ہیں، انہیں اپنی عزت اور روزگار میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
پیارے خان نے اس صورت حال پر سخت موقف اپناتے ہوئے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا یہ اعلان خوش آئند ضرور ہے، مگر کیا یہ محض ایک وقتی ردعمل ہوگا یا واقعی ان اداروں میں چھپے استحصال کے سوداگر اپنے انجام تک پہنچیں گے؟ کیا یہ اعلان ان ہزاروں معصوم اساتذہ کے لیے کسی امید کی کرن بنے گا، جو سالہا سال سے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں جٹا سکے؟ کیا یہ وہ لمحہ ہوگا جہاں ہمارے تعلیمی ادارے واقعی مینارِ ہدایت بنیں گے، یا یہ صرف ایک اور خبر بن کر رہ جائے گی جسے کچھ دنوں بعد بھلا دیا جائے گا؟
یہ وقت صرف بیانات کا نہیں، بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ اگر آج ان اداروں میں موجود بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی گئی، اگر آج اساتذہ کی عزتِ نفس بحال نہ کی گئی، اگر آج اس تعلیمی ڈھانچے میں اصلاح نہ کی گئی، تو پھر شاید کل کے اندھیرے اتنے گہرے ہو جائیں کہ کوئی چراغ انہیں روشن نہ کر سکے۔ یہ مسئلہ صرف چند لوگوں کا نہیں، بلکہ پوری قوم کا ہے۔ یہ جنگ صرف ان متاثرہ اساتذہ کی نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی ہے جو علم کو ایک مقدس امانت سمجھتا ہے۔ اگر ہم نے آج اس میدان میں خاموشی اختیار کی، تو کل ہمارے اپنے بچے بھی اسی استحصالی نظام کا شکار ہوں گے۔ پھر نہ ہمیں شکایت کا حق ہوگا، نہ کسی قسم کی اصلاح کی امید۔
یہ تعلیمی ادارے ہمارے مستقبل کے معماروں کی نرسریاں ہیں۔ اگر یہاں استحصال ہوگا، تو آنے والی نسلیں غلامی میں پروان چڑھیں گی۔ اگر یہاں انصاف اور دیانت کی جگہ دھونس اور کرپشن کا راج ہوگا، تو قوم کے مقدر میں ترقی نہیں، تباہی لکھی جائے گی۔ اب یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہمیں استحصال کے یہ قلعے گرانے ہیں یا انہیں مزید مضبوط کرنا ہے؟ ہمیں تعلیم کے ان اداروں کو علم کے حقیقی مینار بنانا ہے یا انہیں کرپشن اور ناانصافی کی تاریکی میں ڈھکیلنا ہے؟ اگر واقعی ہمیں روشنی کی ضرورت ہے، تو ہمیں ان اندھیروں سے لڑنا ہوگا۔ اور یہ جنگ آج ہی سے شروع کرنی ہوگی، ورنہ شاید کل بہت دیر ہو جائے۔
فارورڈ ضرور کیجئے
Like this:
Like Loading...